"محبتوں کی حسین داستان ہے اردو ” شاعرہ عروبہ عدنان کا انٹرویو

"محبتوں کی حسین داستان ہے اردو ” شاعرہ عروبہ عدنان کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

عروبہ عدنان۔۔ظل آسیہ نورین

تفکر – قلمی نام؟

عروبہ عدنان۔۔عروبہ عدنان(ادبی دنیا میں اسی نام سے پہچان ہے ہماری )

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

عروبہ عدنان۔۔کوئٹہ میں,16 نومبر 1973 یومِ پیدائش

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

عروبہ عدنان۔۔گریجویشن کی ہے اورسائکالوجی میں ماسٹرز کر رہے تھے کہ رشتہءازدواج میں بندھ گئے

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

عروبہ عدنان۔۔سب سے پہلے ماں کی گود سے پھر اس کے بعد کھاریاں کینٹ میں قائم ایف جی اسکول سے

تفکر – اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

عروبہ عدنان۔۔گورنمنٹ گرلز کالج کوئٹہ سے

تفکر -پیشہ؟ 

عروبہ عدنان۔۔قلمکاری (کالم نگاری،شاعری،افسانہ نگاری،ڈرامہ نگاری،ناول نگاری نیز تبصرے بھی )

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

عروبہ عدنان۔۔ادبی سفر کا آغاز گیارہ سال کی عمر میں کیا۔ایک ماں کے عنوان سے نظم لکھی جو نوائے وقت کے بچوں کے صفحات میں چھپی۔باقاعدہ نویں جماعت میں لکھنا شروع کیا غالباً 15 سال کی عمر میں

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

عروبہ عدنان۔۔نظم اور غزل

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

عروبہ عدنان۔۔جی بہت سے شعراءاور شاعرات ہیں۔علامہ اقبال،میرتقی میر،فیض احمد فیض،ناصر کاظمی،پروین شاکر اور گلنار بانو

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

عروبہ عدنان۔۔جی نہیں ہم کتابوں کو اپنا استاد مانتے ہیں

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

عروبہ عدنان۔۔اردو ادب کی ہر صنف سے لگاؤ رکھتے ہیں۔نثر نگاری زیادہ کی بنسبت شاعری کے

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

عروبہ عدنان۔۔جی نثر نگاری میں

تفکر -شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

عروبہ عدنان۔۔معذرت خود کو اس قابل نہیں کبھی سمجھا

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

عروبہ عدنان۔۔انشاءاللہ جلد آ رہی ہے۔افسانوں کا مجموعہ ہے۔نام ابھی تجویز نہیں کیا

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

عروبہ عدنان۔۔ہمارے والد میجرامتیاز حسین ملک کا تعلق سرگودھا کے ایک گاوں ہڈالی سے ہے۔پیشے کے اعتبار سے فوجی تھے۔قلمکار ہیں،دو کتابیں لکھ چکے ہیں راہِ طلب اور حصار کے نام سے۔والدہ کا تعلق لکھنوء سے ہے۔ہم دو بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔شوہرِ نامدار کا نام سید عدنان مقصود ہے سید فیملی سے تعلق رکھتے ہیں

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

عروبہ عدنان۔۔جی ماشاءاللہ شادی شدہ ہیں

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

عروبہ عدنان۔۔ ہمارے دو بچے ہیں ایک بیٹا جو او لیول کر رہے ہیں اور ایک بیٹی ہیں جو کامرس کر رہی ہیں۔سرتاج ایک نامور کمپنی اورینٹ میں اعلی عہدے پہ فائز ہیں

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

عروبہ عدنان۔۔کراچی میں رہائش ہے

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

عروبہ عدنان۔۔ہمارے بچپن کے دن آج کل کے بچوں سے قطعاً مختلف تھے۔نماز وتلاوت کے بعد ناشتہ اور اسکے بعد اسکول،اسکول سے آ کر کھانے کے بعد کا وقت کھیل کود کا ہوتا۔کتابوں سے ہمیشہ بے انتہاء محبت رہی اکثر والد صاحب کی لائبریری سے کتابیں چراتے تھے۔جاسوسی ناول بے حد پسند تھے جس پر والد صاحب نے پڑھائی کی وجہ سے پابندی لگائی ہوئی تھی پر ہم پر جاسوسی ناولوں کو پڑھنے کا جنون سوار تھا۔ہم رات کو سب کے سونے کا انتظار کرتے جب تسلی کر لیتے کہ سب سو گئے تو دبے پاؤں والد صاحب کی لائبریری میں جا گھستے اور جلدی جلدی اپنے پسندیدہ قلمکاروں کی کتابیں اٹھا لیتے زیادہ تر( ابنِ صفی اور نسیم حجازی )کی تصانیف ہوتیں ہمارا نشانہ۔ایک بار پکڑ لیے گئے سب کے سامنے حاضری ہوئی عدالتِ عظمی کی کرسی پہ والد صاحب اور عدالتِ عالیہ کی کرسی پہ والدہ صاحبہ برجمان تھیں۔بطور وکیل صفائی بہن موجود تھیں۔ہماری پیشی ہوئی نیز ہمارےکمرےکی بھی تلاشی لی گئی جہاں سے مزید کتابیں بازیاب ہوئیں الماری سے۔والد صاحب نے سزا تجویز کی اور والدہ محترمہ کی منظوری کے بعد سزا کا اعلان کر دیا گیاچونکہ ہمیں ان کتابوں سے اسکول کی پڑھائی کے باعث کچھ عرصے کے لیے دور رہنے کو کہا گیا تھا اور ہم سےحکم عدولی ہوئی تھی لہذا اب پورے چار ماہ تک اس لائبریری کی صفائی اور خیال رکھنا ہمارے ذمہ لگا دیا گیا سزا کے طور پر  مزید یہ کہ شام کی چائے چار ماہ ہمیں والد محترم کے ساتھ لائبریری میں ہی پینی ہو گی۔یہ ہمارے جرم کی سزا تھی۔بے شمار یادوں سے ہمارا بچپن جڑا ہوا ہے

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

عروبہ عدنان۔۔گزشتہ سال  مورخہ 24جولائی 2016 کو ہم پاکستان قومی زبان تحریک کے زیرِ اہتمام "قومی نفاذِ اردو کانفرنس "میں شرکت کے لیے اسلام آباد گئے۔ جہاں ہماری ملاقات محسنِ ملت ڈاکٹر قدیر خان،عرفان ہاشمی (مشیرِ خاص وزیراعظم ),صدر پاکستان قومی زبان تحریک محترم عزیز ظفر آزاد صاحب,محترم پروفیسر سلیم ہاشمی صاحب اور دیگر اہم افراد سے ہوئی۔ بہت یادگار کانفرنس تھی جس میں دنیا بھر سے محبانِ اردو شریک ہوئے جن میں نامور شعراء اور ادیب نیز سیاستدان شامل تھے

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

عروبہ عدنان۔۔اشفاق احمد،بانو قدسیہ،نسیم حجازی،فاطمہ ثریا بجیا،قدرت اللہ شہاب،ابنِ صفی  ان کے علاوہ بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ماشاءاللہ اردو ادب کے حوالے سے ہم بہت خوش قسمت قوم ہیں

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

عروبہ عدنان۔۔بچوں کے رسائل کا ہم سب سے پہلے ذکر کریں گے۔ان میں آنکھ مچولی،نونہال،گوگو بچوں کا رسالہ شامل ہیں جن میں ہم نے لکھا۔اخبارات میں سے نوائے وقت،جسارت،روزنامہ ایکسپریس،روزنامہ جناح،روزنامہ سرزمین،روز نامہ اوصاف،روزنامہ اجداد،روزنامہ دیانت،روزنامہ پرنٹاس میں ہم نے لکھا۔رسائل میں سے اخبارِ جہاں،فیملی میگزین،ماہنامہ روابط انٹرنیشنل،میٹرولائف،لہریں،بتول میں ہم نے لکھا نیز ڈائجسٹس میں سچی کہانیاں،دوشیزہ،پاکیزہ،مون ،کرن،خواتین ڈائجسٹ میں بھی لکھا۔ضربِ سلیم کی ایڈیٹر ہوں۔روابط انٹرنیشنل اور پرنٹاس کی ادبی انچارج۔اب جلد اپنا میگزین نکال رہی ہوں

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

عروبہ عدنان۔۔الحمداللہ کبھی بھی نہیں۔ہمیں ہر جگہ پیار وعزت ملی

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

عروبہ عدنان۔۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اردو ادب کے حوالے سے حکومت نے ہمیشہ عدم دلچسپی کا ثبوت دیا ہے۔ادب کی کوئی بھی صنف ہو حکومت کی عدم دلچسپی کا شکار رہی ہے۔حکومت وقت کو چاہیئے کہ اردو ادب کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں بنائیں اور پرانی پالیسیوں میں نئی ترامیم کر کے انہیں فعال بنائیں نیز ادباء،شعراء اورادب سے وابسطہ افراد کے لیے وظائف مقرر کیے جائیں تاکہ وہ مطمئن ہو کر فروغِ ادب کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

عروبہ عدنان۔۔ہماری تجربہ کار قلمکاروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے سے چھوٹے ناتجربہ کار قلمکاروں کی ہر ممکن رہنمائی فرمائیں تاکہ وہ ادب کی دنیا میں نام پیدا کر سکیں۔ان کے لیے راہیں ہموار کریں اور ہر ممکن طریقے سے ان کو  منزلِ مقصود تک پہنچانے  کے لیے ان کی مدد و رہنمائی کریں

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

عروبہ عدنان۔۔آپ احباب کی طرف سے یہ سلسلہ ایک بہترین اقدام ہے۔اسے جاری رہنا چاہیے۔یہ ایک بہترین کاوش ہے۔ہماری نیک تمنائیں اور ڈھیروں دعائیں آپ کےساتھ ہیں

تفکر – شعر یا تحریر؟

عروبہ عدنان۔۔ اردو کی محبت میں لکھی ہماری ایک غزل آپ احباب کی نذر
غزل
محبتوں کی حسین داستان ہے اردو
کہ حیراتوں کا یہ کوئی جہاں ہے اردو
خیال و خواب پہ چھائی ہوئی ہے میری زباں
یقین ہے مرا اردو،گماں ہے اردو
بلوچی ،سندھی نہ پشتو نہ کوئی پنجابی
مرے لیے تو یہ پاکستان ہے اردو
اسی سے میری تو پہچان ہے جہاں بھر میں
مرا مقام ،مرا سائبان ہے اردو
اسی لیے میں عروبہ عزیز ہوں سب کو
کہ میرا لہجہ محبت ،زبان ہے اردو

ہمارے ایک افسانے”امیدوں کے سوداگر” سے انتخاب

سنو مہر!

تم پوچھتی ہو آخر ہم کیوں ملے

تو سنو!

آشاؤں کی دنیا میں دو چیزیں اہم ہیں۔ایک قضا اور دوسری رضا۔جو نہ ہو وہ قضا اور جو ہو جائے وہ رضا۔ہم ملے یہ اللہ پاک کی رضا تھی اس میں نہ تمہارا قصور نہ میرا قصور۔بس اتنا کہ محبت ہے اور بے پناہ ہے۔ایک عجیب محبت ما حاصل اور لا حاصل کے درمیان۔

دیکھو مہر!

وقت کے ہاتھوں ہم بکھرے ہوئے وہ مسافر ہیں جو وقت سے سمجھوتے کرتے ہوئے امیدوں کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دیکھو آخر ہم نے ایک دوسرے کو پا لیا نا!

کیا پا لیا عادل!!!!!!!

(مہر تڑپ کر عادل کا کندھا جھنجوڑ ڈالا)

عادل نے جلتی آنکھوں کو بے دردی سے مسلتے ہوئے کہا

دیکھو مہرو!

انسان اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہے پر وہ اتنا سنگدل اور بے رحم ہو کر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہے،کمزور پڑ جاتا ہے۔

تم رو رہی ہو مہرو۔۔۔۔۔

گھبراؤ نہیں،اس دنیا میں،میں نے شدید محبت کے باوجود تمہیں اللہ سے نہیں مانگا،پر یہ کہ میں تمہیں بھول جاؤں یہ میرے بس میں نہیں۔مہرو ہو سکے تو میرے اس فعل کے لیے مجھے معاف کر دینا۔

لکھاری عروبہ عدنان

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…