بے مہر رفاقت تیرے میرے تعلّق کی اب آخری ساعتیں ہیں چلو اب حسابِ زیاں کر ہی لیں …

بے مہر رفاقت

تیرے میرے تعلّق کی اب
آخری ساعتیں ہیں
چلو اب حسابِ زیاں کر ہی لیں
جیت کس کی ہوئی
ہار کس کا مقدّر بنی
آرزوؤں کی بنجر زمیں پر کبھی
اک جو اُمید سی رینگتی رہتی تھی
(تیری چاہت کی، تیری وفاؤں کی امّید)
وہ ٹوٹنے کی گھڑی آ گئی ہے
مگر دل ابھی تک تری چاہ میں
خواب آلود پھرتا ہے
(ٹوٹتا ہے، بکھرتا ہے، جڑتا نہیں)
اپنے اشکوں کی
سرگوشیاں سنتی رہتی ہوں
پر خود کو اک چُپ کی چادر سے
ڈھانپے ہوئے بیٹھی ہوں
جانتی ہوں مرے خواب کا کوئی چہرہ نہیں
یہ زوالِ وفا کا ہی سب قصّہ ہے
(آرزو کا جو حصّہ ہے )
تُو جانتا ہے
نہ میں جانتی ہوں
رفاقت کے اس کھیل میں
جیت کس کی ہوئی
ہار کس کی ہوئی
پر مجھے تیری سنگت میں گزری ہوئی ساری
نا مہرباں ساعتوں کی قسم
میری سانسوں کی تاریں
تری دھڑکنوں سے ابھی تک جڑی ہوئی ہیں
میرے احساس کی اُنگلیاں
تیری دیوارِ جاں پر ابھی تک جمی ہوئی ہیں

ناہید ورک

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…