چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں امام بخش ن…

چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں
امام بخش ناسخ

چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں
داغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیں

سر رہے یا جائے کچھ ہم میکشوں کو ڈر نہیں
کون سا مینائے مے اے محتسب بے سر نہیں

وہ بت شیریں ادا کرتا ہے مجھ کو سنگسار
یہ شکر پارے برستے ہیں جنوں پتھر نہیں

ہو رہا ہے ایک عالم تیرے ابرو پر نثار
کون گردن ہے جہاں میں جو تہ خنجر نہیں

دم نکلنے پر جو آتا ہے نہیں رکتا ہے پھر
دیکھ لو قصر حباب اے اہل غفلت در نہیں

آدمی تو کیا وہ کہتا ہے نشان پا سے بھی
کیوں پڑا ہے میرے کوچے میں ترا کیا گھر نہیں

اے تصور کیوں بتوں کو جمع کرتا ہے یہاں
دل مرا کعبہ ہے کچھ بت خانۂ آزر نہیں

شکوہ جو بے نوکری کا کرتے ہیں نادان ہیں
آپ آقا ہے کسی کا جو کوئی نوکر نہیں

ہے خرابات جہاں میں بھی وہ ساقی سے نفور
جو کہ اے ناسخؔ غلام ساقیٔ کوثر نہیں


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

  1. Mudassar Gujjar کہتے ہیں

    اچھی اردو استعمال کی ہے انہوں نے اپنے اشعار میں.

  2. Amir Zaib کہتے ہیں

    La jwab

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…