"چاہتوں کا خمار” کے شاعر شوکت علی ناز کا انٹرویو

"چاہتوں کا خمار” کے شاعر شوکت علی ناز کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

شوکت علی ناز۔۔شوکت علی ناز

تفکر – قلمی نام؟

شوکت علی ناز۔۔شوکت علی ناز

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

شوکت علی ناز۔۔مغل سٹریٹ شالیمار لنک روڈ باغبانپورہ میری جائے پیدائش ہے۔معروف صوفی شاعر و بزرگ حضرت مادھو لال حسین کے عرس پر لگنے والے میلہ شالامار باغ(میلہ چراغاں) 28مارچ اتوارکا دن

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

شوکت علی ناز۔۔کمرشل آرٹسٹ و ڈیزائنر

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

شوکت علی ناز۔۔ پانچویں جماعت تک کی تعلیم ایم سی بوائز پرائمری سکول (نزد مسجد تالاب والی) باغبانپورہ سے حاصل کی،6ستمبر1965پاک بھارت جنگ کی وجہ سے پبلک ہائی سکول باغبانپورہ بند ہو گیااور دوسال تک میرا تعلیمی سلسلہ بھی موقوف رہا۔اس دوران خطاطی کے شوق کو پورا کیا،بعد ازیں1967میں مسلم ہائی سکول باغبانپورہ(المعروف مندر والا سکول) میں داخلہ لیا،مڈل اور میٹرک کے امتحانات سکول کے تمام اساتذہ خصوصاً ہیڈ ماسٹر جناب سید محمد صدیق شاہ صاحب،عبدالحمید ملک،محمد اسحاق اور اصغر علی عسکری(جنہوں نے کلاس ہشتم میں مجھے نازؔکا تخلص دیا) کی خاص توجہ کی بدولت امتیازی نمبروں سے پاس کئے خطاطی اور آرٹ کی جانب لگاؤ نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کی راہ دکھائی مگر کچھ دیر ہو جانے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

شوکت علی ناز۔۔بڑے بھائی کی خواہش پرگورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ریلوے روڈ لاہور میں میکنیکل انجیئنرنگ کے شعبے کو اپنایا،میٹرک میں اچھے نمبروں کی وجہ سے وہاں مالی وظیفہ بھی ملنے لگا۔مگر بوجوہ یہ سلسلہء تعلیم 2یا3سیمیسٹر زسے آگے نہ چل سکا،خطاطی اور آرٹ اس پر سبقت لے گئے اور بندہ انجینئر کی بجائے کمرشل آرٹسٹ و ڈیزائنر بن گیا

تفکر – پیشہ؟

شوکت علی ناز۔۔ایسٹرن نیون سائن(لاہور)،قطر نیون لائٹ کمپنی(قطر) کمرشل آرٹسٹ،ڈیزائنر،سیلز ایگزیکٹیو۔کوالٹی کنٹرولر۔

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

شوکت علی ناز۔۔باقاعدہ 1996 سے،ادب سے رغبت سکول کی بزمِ ادب سے اور پھرکلاس ہشتم یا شاید پھر اس سے بھی پہلے سے،کیونکہ خوش خط ہونے کی وجہ سے سکول کے احاطے میں موجود تختہ سیاہ جن کا کوئی خاص مصرف نہ تھا،اُن پر معروف شعراء کے اشعار یا قطعات ہر ہفتے لکھنا میرے ذمے تھابلکہ اکثر سیکشن Aمیں اگر ڈرائنگ کے استاد کوئی اسکیچ یا ماڈل ڈرائنگ کرتے تو سیکشن Bمیں مجھے ڈرائنگ بنانے کو کہتے،اس کے علاوہ کلاس 6thسے10thتک ہر کلاس کے سکول چارٹ بنانے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی جاتی تھی۔استاد شعراء کے مشہورِ زمانہ اشعار،اقوالِ زریں،ادبی،علمی اورتاریخی شخصیات کے حالات زندگی اور نصاب میں پڑھائے جانے والے ادباء،شعراء کی سوانح حیات مع اشعار لکھنے سے ادب سے کافی لگاؤ ہوگیا تھا جسے تقویت اردو کے اساتذہ نے بخشی،جب وہ میر و غالب اور اقبال کو پڑھاتے تھے،ان کے اشعار کی تشریح و وضاحت فر ماتے تھے تو شاعری دل و دماغ پراثر انداز ہوتی اور ذہن پر نقش چھوڑتی تھی،حسنِ اتفاق یہ کہ میں کلاس 8thسے ہی دوستوں کے محبت ناموں میں جان ڈالنے کے لیے اپنے اُلٹے سیدھے اشعار لکھ کر دیتا تھا،تب ہی تو میرے اردو کے استادوں اصغر علی عسکری اور عبدالحمید صابر نے مجھے نازؔ کے تخلص سے نواز دیا تھاجو کہ اب بھی میرے نام کا حصہ ہے۔اور دوسرا ذریعہ ریڈیو اور ٹی وی تھا جس میں سُنائی جانے والی ہر اچھی غزل میں فوراً نوٹ کر لیتا تھا،PTVکے نامور کمپئر طارق عزیزکے معروف پروگرام نیلام گھر میں بیت بازی ہو یا پی ٹی وی کا کوئی مشاعرہ اِن میں پڑھے جانے والے اشعارنوٹ کرنے کی عادت سی بن گئی تھی اور اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی چیز مجھے یاد بھی رہ جاتی ہے چنانچہ اُن دنوں سینکڑوں اشعار ازبر بھی تھے

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

شوکت علی ناز۔۔ امجد علی سرورؔ،ملک مصیب الرحمٰن ابن الحبیب احقرؔ

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

شوکت علی ناز۔۔شاعری،حمد،نعت،سلام

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

شوکت علی ناز۔۔(ایک)چاہتوں کا خمار(شعری مجموعہ) 2009 (الحمد پبلیکیشنز) تکون (حمد، نعت،سلام) زیر طباعت

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

شوکت علی ناز۔۔والدِ محترم حاجی احمد دین کے پانچ بیٹوں میں آخری نمبر میرا ہے،سو سارے گھر کا لاڈلا بھی رہا۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

شوکت علی ناز۔۔دوحہ۔قطر

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

شوکت علی ناز۔۔بہت سی خوبصورت یادیں ہیں

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

شوکت علی ناز۔۔میرے اب تک کے یادگار مشاعروں میں مشاعرہ بیادِ جون ایلیا(دبئی) سب سے یاد گار مشاعرہ ہے اور وہ بھی کئی ایک حوالوں سے،اول یہ کہ قطر سے باہر کسی ملک میں یہ میری کسی بھی عالمی مشاعرہ میں پہلی شرکت تھی،دوم اس مشاعرے میں پاک و ہند کے علاوہ کئی ایک ممالک کے معروف شعراء بشمول جناب ندا فاضلی اور جناب احمد فراز موجود تھے

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

شوکت علی ناز۔۔دانشور،شعراء،نثر نگار،فلم اور ٹی وی کی شخصیات قابلِ ذکر ہیں،چند نام جو ذہن میں محفوظ ہیں اُن میں جناب احمد ندیم قاسمی،جناب اشفاق احمد،جناب انتظار حسین،جناب مختار مسعود،جناب کالی داس گپتا رضا،جناب گوپی چند نارنگ،محترمہ بانو قدسیہ ،جناب محمد خالد اختر،جناب جمیل جالبی،جناب شوکت صدیقی،جناب مستنصر حسین تارڑ،جناب عبداللہ حسین،جناب اسد محمد خان،جناب محمد منشا یاد،جناب مسعود مفتی،جناب سید محمد کاظم،جناب رتن سنگھ،محترمہ سیدہ جعفر،پروفیسر وارث علوی،پروفیسر مغنی تبسم،جناب قاضی عبدالستار،جناب نثار احمد فاروقی،جناب صلاح الدین پرویز،جناب احمد فراز،جناب شہزاد احمد،جناب امجد اسلام امجد،جناب انور شعور،جناب پیرزادہ قاسم جناب انور مسعود،جنا ب سر فراز شاہد،جناب ندا فاضلی،جناب عطاء الحق قاسمی،جناب جمیل الدین عالی،جناب منور رانا،جناب شموئل احمد معروفِ زمانہ آرٹسٹ جناب ایم ایف حسین اور مسٹر اینڈ مسز نصیرالدین شاہ قابلِ ذکر ہیں۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

شوکت علی ناز۔۔عالمی مشاعرہ مجلس فروغِ اردو(قطر) 2002،عالمی مشاعرہ بیادِ جون ایلیا2003(دوبئی) ، عالمی مشاعرہ بیادِ مصیب مجلس فروغِ اردو(قطر) 2007،عالمی مشاعرہ مجلس فروغِ اردو(قطر) 2008،عالمی مشاعرہ انجمن محبانِ اردو (قطر)2009 عالمی مشاعرہ بحرین 2009، عالمی مشاعرہ مجلس فروغِ اردوادب۔(قطر) 2013،بزمِ اردو قطر کے کئی سالانہ مشاعر ے ، تنظیم ہائے ابنائے علیگڑھ قدیم (قطر)کے مشاعرے اورپاکستان میں کئی ایک مشاعرے۔
ادبی تنظیموں سے وابستگی:مجلس فروغِ اردوادب۔قطر، شائقینِ فن دوحہ( سابق صدر) ،بزمِ اردو قطر( چئیرمین)،ادارہء خیال وفن (جنرل سیکرٹری)،دبستانِ ادب قطر(رکن اساسی)،پاکستان رائٹرز کونسل۔قطر،تنظیمِ اربابِ قلم میسعید۔ پاکستان ایسوسی ایشن ۔قطر( چیف ایڈوائزر) ، اوجِ ادب (رکن)۔
ادبی مجلات واخبارات سے وابستگی : دنیائے ادب (کراچی)،تارکینِ وطن(لاہور۔لندن)،اردو نیٹ جاپان، انقلاب ڈیلی، ڈیلی پکار ،بلادی (جنگ گروپ)۔ میڈیا ٹوڈے (یو ایس اے)، پنج ریڈیو USA۔سیاست (مڈل ایسٹ )اور دیگر کئی ایک نیوز ویب سائٹس۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟

شوکت علی ناز۔۔بہت ہی روشن مستقبل کی امید اور خواہش ہے،ہم لاکھ نئی نسل کو انگریزی سکولوں میں تعلیم دلوائیں وہ اردو سے نا بلد نہیں ہیں
احباب کی محفلوں میں، گھرکے ماحول میں،ٹی وی اور سنیما کی سکرین پر،ریڈیو پہ بجنے والے فلمی و غیر فلمی نغموں،اساتذہ کی لکھی غزلوں سے اور دلکش و مسحور آوازوں کے سنگم سے اردو ہر نسل کے دل اور روح میں سراعیت کرتی رہے گی اور کبھی زوال پذیر نہ ہوگی۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

شوکت علی ناز۔۔بہت عمدہ کاوش ہے

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

شوکت علی ناز۔۔دو غزلیں اور ایک قطعہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے
غزل
کتنا سادہ ہے فسانہ مری تنہائی کا
اِس میں کردار ہے تنہا مری تنہائی کا
یوں اکیلے میں ملا کر نہ مجھے اے دنیا
تجھ پہ پڑ جائے نہ سایہ مری تنہائی کا
مانگتی پھرتی ہیں خیرات کسی محفل کی
میری آنکھوں میں ہے کاسہ مری تنہائی کا
شاخ در شاخ وہ چرچے نہیں پروازوں کے
ہر پرندہ ہوا تنہا مری تنہائی کا
ایک مدت ہوئی ، پر یاد ہے اب تک مجھ کو
میری دہلیز پہ سجدہ مری تنہائی کا
حبس اتنا ہے کہ مر جائے نہ تنہائی مری
کوئی تو کھولے دریچہ مری تنہائی کا
اے فلک! تیری بھری بزم بھی خالی ہو جائے
ٹوٹ جائے جو ستارہ مری تنہائی کا
کوئی تو بات ہے شوکتؔ مری تنہائی میں
معتقد ہے جو زمانہ مری تنہائی کا
غزل
کون روتا ہے سرِشام سرہانے میرے
آ گیا کون یہ غم اور بڑھانے میرے

کوئی خاموش کرے شور مچاتی سرگم
توڑنے آئی ہے کیوںخواب سہانے میرے

دن میں تتلی ، شبِ تاریک پکڑنا جگنو
کاش لوٹادے کوئی گزرے زمانے میرے

ہے تعاقب میں مرے پھر سے اُداسی کیونکر
کِس نے بتلائے بھلا اس کو ٹھکانے میرے

فکر و قرطاس و قلم کے ہیں احاطوں سے اُدھر
جتنے احسان کئے مجھ پہ خدا نے میرے

نازؔ یہ لمحہء غم ہے کہ گھڑی راحت کی
یاد آنے لگے احباب پرُانے میرے

قطعہ (ماں)
یکلخت اڑا بام سے جب طائرِ ہستی
آ بیٹھے منڈیروں پہ قضاؤں کے پرندے
وہ پیڑ میرے صحن کا جس دن سے گرا ہے
چہکے نہیں اس دن سے دعاؤں کے پرندے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…