رفوگر رفوگر دھیان سے یہ زخم خنجر کے نہیں ادھڑے ہ…

رفوگر

رفوگر
دھیان سے
یہ زخم خنجر کے نہیں
ادھڑے ہوئے وعدوں کی رسوائی کے ہیں
اِنھیں چھُونا نہیں
اِن کی تہوں میں جھانک کر
دردِ مسلسل کے دھڑکنے کو پرکھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے
دل ہے آخر
اور پھر زخموں سے چھلنی ہے
کہیں سے لاؤ اُس کے لمس کا اطلس
کہیں سے لاؤ اُس کا عکسِ مہ تابی
رفوگر!
اُس کے کُنجِ لب سے کوئی مسکراہٹ کا ذرا سا شائبہ
اک واہمہ
اُس کی گلابی انگلیوں کا رَس…مگر… بس
اب نہیں … اب کچھ نہیں … بے فائدہ ہے
کچے پکّے عشق کے مدِّ مقابل
تیسرے درجے کا کینسر
رفوگر!
زخم رہنے دو، یہ جیسے ہیں اِنھیں ویسا ہی رہنے دو
مگر…بہنے نہ دو
ایسا کرو
لوہے کی تاروں سے اِنھیں آہستگی کے ساتھ سِی دو
اور ملاقاتی کوئی آئے
تو باہر لکھ کے لٹکا دو
کہ چھوٹی عمر میں
اتنے بڑے اور بوڑھے زخموں والے پیشنٹ دیکھنا
اچھا نہیں ہوتا

ایوب خاور

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…