آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے دیکھ لین…

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے
دیکھ لینا دور تک اڑ کر شرارے جائیں گے

موجِ طوفاں کو جنہوں نے چیرنا سیکھا نہیں
اس کنارے سے بھلا کیا اس کنارے جائیں گے

اتنی ہی رنگین ہوتی جائے گی اپنی نظر
جس قدر تیرے تصور کو سنوارے جائیں گے

کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا درد مندی کا مآل
جان کے دشمن تجھی کو ہم پکارے جائیں گے

خاک ہو کر بھی نہ آئے گا انہیں دم بھر قرار
اٹھ کے تیرے در سے جو آفت کے مارے جائیں گے

ایک حرف دل نشیں! یہ بھی نہیں تو اک نگاہ
دور جانے والے کیوں کر بے سہارے جائیں گے

بیٹھے ساحل پر گنا کرتے ہیں جو لہریں اثرؔ
وقت پڑنے پر بھلا کیا دھارے دھارے جائیں گے

اثرؔ لکھنوی

المرسل: فیصل خورشید


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…