یاد . رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کش…

یاد
.
رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس
چاند کشکولِ گدائی کی طرح نادم ہے
.
دل میں دہکے ہوئے ناسور لئے بیٹھا ہوں
یہی معصوم تصور جو ترا مجرم ہے
.
کون یہ وقت کے گھونگٹ سے بلاتا ہے مجھے
کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب
.
کون آیا ہے چڑھانے کو تمنّاؤں کے پھول
ان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے قریب
.
وہ تو طوفان تھی، سیلاب نے پالا تھا اسے
اس کی مدہوش امنگوں کا فسوں کیا کہیے
.
تھرتھراتے ہوئے سیماب کی تفسیر بھی کیا
رقص کرتے ہوئے شعلے کا جنوں کیا کہیے
.
رقص اب ختم ہوا موت کی وادی میں مگر
کسی پائل کی صدا روح میں پایندہ ہے
.
چھپ گیا اپنے نہاں خانے میں سورج لیکن
دل میں سورج کی اک آوارہ کرن زندہ ہے
.
کون جانے کہ یہ آوارہ کرن بھی چھپ جائے
کون جانے کہ اِدھر دھند کا بادل نہ چھٹے
.
کس کو معلوم کہ پائل کی صدا بھی کھو جائے
کس کو معلوم کہ یہ رات بھی کاٹے نہ کٹے
.
زندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرح
عہدِ رفتہ کے ہر اک بت کو لئے سوتی ہے
.
گھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریب
اب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے
.
مصطفیٰ زیدی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…