ضرورت : نمرہ فرقان

ﷲ کرے آج کوئی بات بن جائے۔” وہ روز کی طرح آج بھی امید باندھ رہی تھی اور میں آج بھی ناامیدی سے آئینے کے سامنے کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ آج بھی خالی ہاتھ گھر لوٹا تو اماں اور صوفیہ کیا کریں گی۔ میں ان ہی سوچوں میں گم تھا اور صوفیہ مجھے یہ بتانے میں مشغول تھی کہ نوکری لگنے کے بعد میری پہلی تنغواہ سے گھر کی کون کون سی ضرورتیں پوری ہونی ہیں۔ "آپ سن رہے ہیں نا؟” اس نے کندھا بجاتے ھوئے پوچھا۔ میں نے خیالوں سے باھر آ کر اقرار میں سر ہلایا۔ "آپ کے چہرے کی ناامیدی تو کچھ اور ہی پتہ دے رہی ہے۔ کیا مطلب۔ ۔ کیا آج بھی۔۔۔۔” میں نے پلٹ کر صوفیہ کو دیکھا اور وہ پیر پٹختی کچھ بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔ میں بھاری قدموں سے اماں کے پاس جا بیٹھا۔ اماں کی آنکھوں میں آس دیکھ کر جی بھر آیا۔ دل چاہا انھیں سب بتادوں کہ یہ مذاق تو آٹھ مہینے سے قسمت میرے ساتھ کر رہی تھی مگر خاموش رہا۔ "دیکھ اس بیچاری کی سلائی مشین بھی خراب ہو گئ ہے ورنہ اسی سے خرچہ پانی نکل جاتا۔اس ساری مشکل میں سارا زیور بک گیا اس کا۔کل چھوٹے کے اسکول سے جو فیس کے لیے مہلت لی تھی وہ بھی ختم ھو جائے گی۔ گھر کا راشن بھی ختم ہونے کو ہے۔ بہو بھی تیری طرح پریشان ہے نا۔اس دفعہ تو اس کے پاس بھی پیسے نہیں ہیں۔” میں اماں کی باتیں خاموشی سے سن رہا تھا۔وہ کچھ غلط بھی نہیں تھیں۔ صوفیہ ناشتہ لے کر آئی اور میں دیر ہونے کا بہانہ کر کے اٹھ گیا۔ میں اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ ایک کڑوی حقیقت تھی کہ میں خود کو ایک اچھا شوھر ثابت کرنے میں ھمیشہ ناکام رہا تھا۔ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ خالی ہاتھ گھر نہیں لوٹوں گا۔ ۔ ۔ ۔ میں انٹرویو دے کر دفتر سے باہر نکل رہا تھا اور حسب توقع یہ انٹرویو بھی ایک مذاق ثابت ہوا تھا۔ نوکری تو پہلے ہی کسی اور کو مل چکی تھی۔ میں رستے بھر اپنی فائل کھول کر اپنی ڈگریوں کو دیکھتا رہا اور اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں اپنی قسمت کو ڈھونڈتا رہا۔ کئی دفتروں میں جا کر چپڑاسی اور چوکیدار کی نوکری کے لیے معلوم کیا مگر سب بےسود۔ تھک ہار کر ایک چائے کے ڈھابے پر جا بیٹھا۔ سامنے والی میز پر چند لوگ چائے اور کھانے کی بہت سی اشیاء کے مزے لوٹ رہے تھے۔ انھیں دیکھ کر میرا بھی کچھ کھانے کا دل چاہنے لگا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف چائے کے پیسے برآمد ہوئے۔میں نے چائے منگائی اور انتظار کرنے لگا۔ سامنے والی میز کے گاہک بھی اٹھ چکے تھے۔ مگر ان میں سے ایک گاہک شاید اپنا بٹوا وہیں بھول گیا تھا۔ میں اٹھا اور جا کر بٹوا اٹھا لیا۔”وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے۔” میں یہ سوچ کر تیز قدموں سے ڈھابے سے باہر نکلا تاکہ ان کی امانت لوٹا سکوں مگر وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ میں واپس پلٹا کہ بٹوا ڈھابے والے کے حوالے کردوں لیکن اسی پہل مجھے خود سے کیا وعدہ یاد آگیا۔ "میں خالی ہاتھ گھر نہیں جا سکتا۔” میں نے جلدی سے بٹوا کھولا اس میں کافی رقم موجود تھی۔ میں نے رقم جیب میں رکھی اور گھر کی طرف چل دیا۔ ۔ ۔ اماں صوفیہ اور چھوٹا بہت خوش تھے۔ ان کے چہروں کے سکون دیکھ کر میں بھی بہت خوش ہو رہا تھا مگر کہیں نہ کہیں پچھتا بھی رہا تھا۔ کیا میں نے ٹھیک کیا؟ میرا ضمیر بار بار مجھے ملامت کر رہا تھا۔ رات کو کھانے سے فارغ ہو کر اماں کے پاس جا بیٹھا۔ اماں نے بڑی محبت سے سر پہ ہاتھ پھیرا اور کہا "بیٹا! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ کبھی ضرورت کو ضمیر پر غالب نہ آنے دینا۔ ضمیر کبھی غلط نہیں ہوتا۔” میں نے ٹھٹھک کر اماں کی طرف دیکھا. یوں لگا جیسے میرا ضمیر میرے سامنے موجود ہو۔ "ارے اماں بھروسہ رکھ۔ میں ایسا نہیں ہوں۔” میں نے ایک بار پھر اپنے ضمیر کو جھٹکا اور تیز قدموں سے اپنے کمرے میں چلا آیا

نمرہ فرقان

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…