ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت​ احباب کی صُور…


ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صُورت​
احباب کی صُورت ہو کہ اغیار کی صُورت​

سینے میں اگر سوز سلامت ہو تو خود ہی​
اشعار میں ڈھل جاتی ہے افکار کی صُورت​

جس آنکھ نے دیکھا تُجھے اُس آنکھ کو دیکُھوں​
ہے اِس کے سِوا کیا تِرے دیدار کی صُورت​

پہچان لِیا تُجھ کو تِری شیشہ گری سے​
آتی ہے نظر فن ہی سے فنکار کی صُورت​

اشکوں نے بیاں کر ہی دیا رازِ تمنّا
ہم سوچ رہے تھے ابھی اِظہار کی صُورت​

اِس خاک میں پوشیدہ ہیں ہر رنگ کے خاکے​
مٹی سے نِکلتے ہیں جو گُلزار کی صُورت​

دِل ہاتھ پہ رکھا ہے کوئی ہے جو خریدے
دیکُھوں تو ذرا مَیں بھی خریدار کی صُورت​

صُورت مِری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی​
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار کی صُورت​

واصف کو سرِ دار پُکارا ہے کِسی نے​
اِنکار کی صُورت ہے نہ اِقرار کی صُورت​۔۔۔!

کلام حضرت واصف علی واصفؔ
آواز اُستاد نصرت فتح علیخاں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

7 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    سبحان اللہ اور جزاک اللہ !
    کلام و آواز کی شان کو نصرت فتح علی خان کہتے ہیں۔
    حضرت ِواصف کے صوفیانہ خیالات کی پرواز کو فن کا شاہین ہی پا سکتا ہے۔
    اللہ کریم قلم کار اور لے کار کو محمدﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین

  2. گمنام کہتے ہیں

    Wah g wah

  3. گمنام کہتے ہیں

    Haq hy

  4. گمنام کہتے ہیں

    Beautiful.

  5. گمنام کہتے ہیں

    واصف علی واصف ❤️

  6. گمنام کہتے ہیں

    Classic 👍

  7. گمنام کہتے ہیں

    Nice

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…