محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی بہار آئی ہے…

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی

بہار آئی ہے گلشن میں، اسیرِ باغباں ہم ہیں
زباں رکھتے ہوئے بھی وائے قسمت، بے زباں ہم ہیں

ابھی سے کیا کہیں، ناکام ہیں یا کامراں ہم ہیں
کہ یہ دورِ عبوری ہے، بقیدِ امتحاں ہم ہیں

بھٹکتے پھر رہے ہیں ہم نشاں منزل کا گُم کر کے
حیا آتی ہے اب کہتے، حرم کے پاسباں ہم ہیں

سُنے دُنیا تو حیرت ہو، اگر دیکھے تاسف ہو
وہ رودادِ جہاں ہم ہیں، وہ بربادِ جہاں ہم ہیں

تلاشِ کارواں کیوں ہو، تلاشِ راہبر کیوں ہو
کہ جب خود کارواں ہم، خود ہی میرِ کارواں ہم ہیں

جو گزرے گی، سو گزرے گی، کہ اس میں دخل کیا اپنا
خدا حافظ نظرؔ، رکھتے بنائے آشیاں ہم ہیں

المرسل: فیصل خورشید


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

3 تبصرے
  1. اردو کلاسک کہتے ہیں

    محمد تابش صدیقی

  2. گمنام کہتے ہیں

    زبردست

  3. گمنام کہتے ہیں

    بہت خوب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…