جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے بیکل اتساہی جب…

جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے
بیکل اتساہی
جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے
پردے بھی دریچوں کے سرکائے گئے ہوں گے
مے خانے میں جب زاہد پہنچائے گئے ہوں گے
خاطر کے سلیقے سب اپنائے گئے ہوں گے
جب سطوت شاہی کو کچھ ٹھیس لگی ہوگی
سولی پہ کئی سرمد لٹکائے گئے ہوں گے
چاندی کے گھروندوں کی جب بات چلی ہوگی
مٹی کے کھلونوں سے بہلائے گئے ہوں گے
جب شیش محل کوئی تعمیر ہوا ہوگا
دیواروں میں دیوانے چنوائے گئے ہوں گے
وہ کچھ بھی کہیں لیکن تنہائی کے عالم میں
کچھ گیت ترے بیکلؔ دہرائے گئے ہوں گے


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…