لاہور کے بارے میں نئے اشعار : ممتاز راشد ؔلاہوری

لاہور کے بارے میں صدیوں سے تحسینی اشعار کہے جارہے ہیں ۔ان اشعار یا نظموں کو جمع کیا جائے تو بلاشبہ کئی کتابیں تیار ہوجائیں۔خود میں نے بھی اپنے اس شہر کے بارے کچھ نظمیں اور اشعار کہے ہوئے ہیںاور وہ میرے اس شعری مجموعے میں شامل ہیں جو نظموں کا مجموعہ تھا اور’’ تیرا جادو بول رہا ہے ‘‘کے نام سے 2006ء میں شائع ہوا تھا۔
لاہور کے بارے میں بعد میں بھی مختلف شعراء کے اشعار پڑھنے اور سننے کو ملتے رہے۔ اپریل 2014ء میں جب قطر میں سینتیس سال گذارکر میں واپس لاہور آیا تو لاہور کے ادبی حلقوں میں شرکت کے بہت زیادہ مواقع ملے اور کئی مشاعروں میں مختلف شعراء سے لاہور کے حوالے سے بھی بہت اچھے اچھے اشعار سننے کو ملے ۔تبھی میں نے یہ مطلع کہا ؎
جس کو لاہور سے لگائو ہے
اس کے سینے میں کوئی گھائو ہے
2015ء میں ڈاکٹر فخر عباس نے کہا ؎
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
یہ شعربہت مشہور ہوا۔ ان کی پہچان بنا ۔پھر جنوری 2016ء میں ان کا شعری مجموعہ بھی اسی نام سے آیا اور اس کتاب میں لاہور کے حوالے سے ان کے اور بھی کئی اشعار تھے۔
2015ء ہی میں نامور ادیب وشاعر اورکالم نگار عطاء الحق قاسمی نے ایک طویل غزل کہی ،اس غزل میں انھوں نے گریز کے تحت بھی کچھ اشعار کہیجن کا پہلا شعر یہ تھا ؎
شہر لاہور تیری گلیوں میں

ایک سادہ مکان ہوتا تھا
اور پھر اُن کی اس غزل کے یہ چند اشعار غزل کا لطف دوبالا کر گئے۔
2015ء ہی میں بزرگ شاعر زاہد شمسی کا مجموعہ نعت ’’سبز خوشبو ‘ ‘ کے نام سے آیا ،اس میں ان کی ایک نعت کا مقطع یوں تھا ؎
ایسی زاہد نبی ﷺ سے ہے وابستگی

میں ہوں لاہور میں دل مدینے میں ہے
2015ء ہی میں نامور شاعر شعیب بن عزیز کا یہ دعائیہ شعر نظر نواز ہوا ؎

مِرے لاہور پر بھی اک نظر کر

تِرا مکہ رہے آباد مولا
2015ء میں نوجوان ،خوبرو اور مشہور شاعر رحمن فارس کا لاہور سے یہ خوبصورت شعر بھی سامنے آیا ؎

جب اس کی زندگی میں کوئی اور آگیا

تب میں بھی گائوں چھوڑ کے لاہور آ گیا
2015ء ہی میں لاہور کے بارے میں کسی کا یہ پُرتا ثیر شعر بھی نظر سے گذرا ؎
تکتے ہوئے ہر شے کو بڑے غور سے گذرے
ہم بعد ترے جب کبھی لاہور سے گذرے
فروری 2016ء میں ’’یوم کشمیر ‘‘منایا گیا تو نامور شاعر ناصر بشیر کی ایک نظم چار فروری کو روز نامہ ’’پاکستان ‘‘ لاہور میں شائع ہوئی جس میں کشمیر اور لاہور کے حوالے سے یہ شعر بھی تھا ؎
کشمیر ادھر تُوہے ہمارے لیے بے تاب
ہم لوگ ترے واسطے لاہور میں دل گیر
اسی ماہ لاہور کے ایک کہنہ مشق شاعر ندیم شیخ کی ایک اہم غزل میں لاہور کے حوالے سے یہ رومانی شعر سننے کو ملا ؎
وہاں پر اب اکیلے کیا کرو گے
یہیں لاہور ہی میں آبسو ، نا
16مارچ 2016ء کو فیس بک پر طارق چغتائی کا لاہور میں میرؔ کی صورت رہنے والا یہ شعر پڑھا ؎
کھینچا نہ کبھی ہاتھ روایات سے طارقؔ لاہور میں رہتا ہُوں مگر میرؔ کی صورت
26مارچ 2016کو فیس بک پر ڈاکٹر غافر شہزاد کے لاہور سے بیزاری کے یہ اشعار پڑھے حالانکہ وہ لاہور کے بارے میں متعدد کتب اور مضامین لکھ چکے ہیں ؎
اس شہر دل میں رہنے کو ، اب دل نہیں رہا لاہوراپنے رہنے کے قابل نہیں رہا
ہر غزنوی نے روندا ہے پائوں تلے اِسے رستہ رہا ہے یہ کبھی منزل نہیں رہا
27مارچ 2016ء کوگلشن اقبال (علامہ اقبال ٹائون لاہور ) کی سیر گاہ میں ایک خود کش دہشت گرد نے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 76مرد و زن اور بچے شہید ہوئے ۔ اس المناک واقعے پر بھی اگلے کچھ دنوں میں شعرائے کرام نے کافی نظمیں اور متفرق اشعار کہے جو میں اپنے الگ مضمون میں پیش کروں گا۔
اس مضمون کی تکمیل کے لمحوں میں ’’ منزل ِلاہور‘‘ اور’’ لاہور آغوشی‘‘ کے عنوان سے میں نے دوقطعات کہے ۔ وہ بھی نذر قارئین ہیں :
اِسی شہر سے ہیں فروزاں نگاہیں یہی میرا سینہ ، یہی ہے مِرا دِل
کسی کی سرائے ، کسی کا ہے رستہ مگر ہے یہ لاہور میری تومنزل
جس کو بھی لاہور کے جلوے مل جائیں اُس کا چہر ہ کیوں نہ خوشی سے کھِل جائے
اُس کی پھر لاہور سے دُوری مشکل ہے جس کو بھی ’’ لاہور آغوشی ‘‘ مل جائے

ممتاز راشد ؔلاہوری

Leave your vote

4 points
Upvote Downvote

Total votes: 4

Upvotes: 4

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…