فتّوبھوکا ہے : دیوندر ستیارتھی

فتّوبھوکا ہے

بھوک مر رہی ہے۔ اب یہ بڑھ تو نہیں سکتی۔ پہلے تو سانپن کی طرح بڑھتی چلی آرہی تھی۔ چولھے میں آگ نظر نہیں آتی۔ آج آگ نہیں جلے گی۔ دو پہر تو کبھی کی ڈھل گئی۔ پتا جی بھوکے ہیں، چاچا بھوکا ہے، ماں بھی ،میں بھی،چھوٹا بھائی بھی اور فتّو بھی تو بھوکاہے ۔
فتّو نے کل بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ادھر سارے گھر میں بتایا تو یہی گیا کہ کسی نے کچھ نہیں کھایا۔ لیکن ایک ماں کو چھوڑ کر سب نے کچھ نہ کچھ ڈال ہی لیا تھا منھ میں چوری چھپے۔ غصّے سے جلا بھنا فتّو بھینسوں کے پاس کھاٹ ڈال کر سو گیا تھا۔ کئی برسوں سے وہ اسی جگہ سوتا آیا ہے۔
فتّومسلمان ہے۔ جی ہاں۔ ہم ہندو ہیں،ہوں گے۔لیکن فتّو ایک مدت سے ہماری بھینسوں کی سیوا کرتا آیا ہے۔ کم دودھ دینے والی بھینسیں ادِھک دینے لگیں،ناچ نچانے والی اڑیل بھینسیں سیدھی ہوگئیں۔ وہ ویتن (تنخواہ) بھی تو نہیں لیتا ۔ وہ توگھرکا آدمی ہے۔ جی ہاں، گھر کا آدمی۔سب اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ وہ بھینسوں کو سنبھالتا ہے۔ بھینسیں اسے چاہتی ہیں۔ ذرا کسی بھینس کے بدن پر ہاتھ پھیر دیا، بس وہ اس پر خوش ہو گئی۔ بھینس تو بھینس، ابھی پرسوں تک تو یہ حال تھا کہ وہ کسی بھینس کے بدن پر اپنا ہاتھ پھیرتا اور مجھے یوں لگتا کہ وہ میرے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔ ہاں تو آج فتّو بھوکاہے۔
بھینسیں بھی اداس نظرآتی ہیں۔ انھوں نے کیسے جان لیا کہ فتّو بھوکا ہے؟ گوما کا منھ تو اتر گیا ہے۔ ونتو منھ باندھے بیٹھی ہے۔ ریشما کی آنکھوں میں آنسو آیا چاہتے ہیں۔ بے زبان بھینسوں نے کیسے جان لیا کہ فتّو بھوکا ہے۔
کل فتّو بھوکا نہیں رہا ہوگا۔ کسی بھینس کا دودھ پی کر پڑ رہا ہوگا۔ نہیں نہیں، وہ ایسا آدمی۔ ضرور وہ کل بھی بھوکا رہا ہوگا ۔ اور وہ آج تو بھوکاہے ہی۔
ماں کہہ رہی ہے— ’’روٹی کھا لے، فتّو! پیٹ کے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ کل سے چولھا ٹھنڈا پڑا ہے۔ ابھی چولھے میں آگ جلائوں گی۔ بس تو ذراہاں کہہ دے، فتّو!‘‘
میں فتّو کے قریب کھڑا ہوں۔ادھر میری اداسی بڑھ رہی ہے۔ فتّوبھوکا ہے۔اس کی آنکھیں مندر کے دیوں کے سمان ٹمٹمارہی ہیں۔ منھ سے وہ کچھ نہیں بولتا۔
تم بھی ایک ہی غصیل ہو،فتّو! میں کہنا چاہتا ہوں، تمھارے کپڑوں سے تو گوبر کی بو آتی ہے، پھر بھی میں تمھارے پاس دوڑاآتا ہوں۔ تمھارا یہ غصہ مجھے سرے سے ناپسند ہے۔ پیٹ کے ساتھ کیا دشمنی؟ ماں سچ کہتی ہے۔ ابھی کل تک ہنسنے کھیلنے کے دن تھے، اب میں سمجھدار ہو رہاہوں۔ کیول ہنستا کھیلتا رہتا تو آٹھویں کی پرکشا میں سارے اسکول میں پرتھم کیسے رہتا؟ سب لڑکوں کے سامنے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے شاباشی دی تھی۔ کچھ دن اورہوں ادھر۔ ہائی اسکول میں بھرتی ہونے کے لیے باہر جا ناہوگا۔ پھر نہ وہاں فتّو ہوگا ، نہ گوما، نہ ونتو ، نہ ریشما۔ ہاں تو فتّوآج بھوکا ہے۔
پہلے پہلے فتّواس گھر میں آیا تھا تو وہ مجھ سے ایک ہی سال بڑا تھا-ایک اناتھ لڑکا۔ کھلے شبدوں میں وہ ویتن مانگ سکتا تھا۔ اس نے تو گھر کا آدمی بننا ہی پسند کیا۔لوگوں نے اسے سوسو پٹّیاں پڑھائیں۔ پر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ ماں نے بھی بہت کہا، فتّوروپیے مانگ لے۔ پر وہ ہمیشہ اسے مذاق سمجھتارہا۔ بیٹا ماں کی تنخواہ لے، یہ تو نہ ہوگا۔ بس یہی اس کا گڑھاگڑھایا جواب تھا۔
چولھے میں آگ نہیں جلی۔ سارے گھر میں افرا-تفری پھیل رہی ہے۔فتوّ چپ ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اس کی کھاٹ کے گرد کوئی عجیب سا ناچ ناچوں اور اس گیت کے بول گنگنائوں جو مجھے بہت پسند ہے۔ فتّو کی پگڑی میں کویل کا گھونسلہ۔ پر اب تو ہوا بھی تھم گئی۔ مجھے بھی شانت ہوکر بیٹھ جانا چاہیے۔ٹکٹکی باندھے میں فتّو کی اور دیکھ رہا ہوں۔کتنا سوکھا-ساکھا سا آدمی ہے۔ پر وہ دودھ میں بستا ہے۔ریشما اور گوما کو دوہتے وقت شروع میں یا آخر میں ، ان کے تھنوں کو منھ لگا کر جتنا چاہے دود ھ پی سکتا ہے۔کوئی نگرانی تو نہیں کر سکتا ۔ پر نہیں نہیں، وہ اس طرح دودھ نہیں پیتا۔ گھر کا آدمی جو ٹھہرا۔ پورا دودھ دوہ کر لاتاہے۔ میری نگاہ میں تو وہ ایک مورکھ ہے۔اسے تو خوب دودھ پینا چاہیے۔ لاکھ کوئی جھک مارا کرے، چوری کا نام دیا کرے۔ میں تو اسے چوری نہیں کہوں گا۔ اپنے دودھ کی چوری، خوب انصاف ہے! جی ہاں، فتّو تو گھر کا آدمی ہے۔
چاچی نے آج بھی چوری -چھپے پنجیری کھا لی ہوگی۔ اوپر سے وہ فتّو کی منّت کیے جا رہی ہے -’’دیکھ فتّو بیٹا ، ریشما کتنی اداس ہو رہی ہے۔‘‘ ٹھیک تو ہے۔ ریشما کو فتّو سے پوری ہمدردی ہے— چاچی سے کہیں زیادہ۔
ریشما کی بڑی بڑی آنکھوں میں جھانک کر میں پوچھتا ہوں— کیاتم جانتی ہو ریشما، چاچاجی فتّو کی صلاح لیے بنا ہی تمھیں بیچ ڈالیں گے؟ اور اس کی بڑی بڑی آنکھیں جیسے آنسوئوں سے گیلی ہوگئیں۔ جیسے وہ کہنا چاہتی ہوفتّویہاں سے چلا گیا تومیں کیسے زندہ رہوں گی؟ اور میرے کارن وہ اس گھر کو تو چھوڑنے سے رہا۔
گوما الگ اداس بیٹھی ہے۔ جیسے کہنا چاہتی ہو -فتّویہاں سے چلا گیا تو میں کیسے زندہ رہوں گی۔ جب وہ مجھے نظر نہیں آتا تو مجھے بِنول بھی اچھے نہیں لگتے۔
ونتو نے اپنی تھوتھنی گوبر اور پیشاب سے لت پت زمین پر رکھ چھوڑی ہے۔ جیسے اب وہ اسی طرح بیٹھی رہے گی۔ اس کے بدن پر کبھی فتّو نے مالش نہیں کی۔ وہ جانتی ہے کہ اسے سب سے زیادہ پیار ریشما سے ہے۔ اسی کو وہ سب سے زیادہ بِنولے کھلایا کرتا ہے۔ پر وہ رشک میں پھنس کرفتّوسے نفرت نہیں کرتی۔
ونچی نے گھاس کو منھ تک نہیں لگایا۔ پہلے فتّو کھائے گا۔ جی ہاں، پہلے تو فتّو کو ہی کھانا چاہیے اور جب تک فتّو اپنی زبان سے حکم نہیں دیتا ، ونچی اپنے پیٹ کی بات کبھی نہیں سنے گی۔
چاچی کہہ رہی ہے—’’ان غریب غریب بھینسوں کا ہی کچھ خیال کرو، فتّو! کیا کھائوگے؟ بولوتو۔ جو کھائو وہی پکا دوں۔ تیرے اللہ کا واسطہ غصے کو تھوک دو۔ میں دیکھوں گی کہ کس طرح تمھارے چاچا ریشما کو بیچ ڈالتے ہیں۔ انھیں آنے تو دو۔ میں خود ان کا ہاتھ پکڑ لوںگی۔ وہی ہوگا فتّوبیٹا جو تم چاہوگے۔ بس اب ضد نہ کرو۔ پہلے کچھ کھا لو۔‘‘
ریشما نے اپنی تھوتھنی فتّو کی کھاٹ پر رکھ دیاور اپنی بڑی-بڑی آنکھو ں سے اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ جیسے کہہ رہی ہو— ہاں -ہاں ، فتّو پہلے کچھ کھالو۔ چاچی کی بات رکھ لو، کب تک بھوکے رہوگے؟ اپنی بھوک کی تو مجھے کچھ چنتا نہیں تم ضرور میرے دودھ کی کھیر بنوا لواپنے لیے۔
میں سوچ رہا ہوں کہ چاچی سے کیسے سوال -جواب کروں۔تیرے اللہ کا واسطہ! تو کیا فتّو کا اللہ اور چاچی کا بھگوان دوہیں!دو تو نہ ہوں گے۔ فتّو کوئی غازی تو نہیں، لیکن اس کا اللہ اس پر خوش ضرورہے۔ اللہ نے ہی ریشما کا دودھ زیادہ سے زیادہ بڑھا دیا تھا۔ ایک بار نئی بیائی بھینس مر گئی تھی۔ فتّو سمجھ لیا کہ اللہ ناراض ہے۔ پر کچھ دن بعد فتّو نے مجھے سمجھایا تھاکہ اللہ اپنے بندوں کو سزا دے کر خوش نہیں ہوتا۔ تیرے اللہ کا واسطہ! یہ کیوں نہ کہا کہ میرے بھگوان کا واسطہ؟
کل جگدیش دکان پر چاچا سے کہہ رہا تھا— ’’ نہ کوئی اللہ ہے نہ کوئی بھگوان۔ اگر کوئی ایسی شکتی ہوتی تو پہلے امیری اور غریبی کی سیمائو ں کو اپنے وش میں رکھتی۔ امیروں کو خون چوسنے والی جونکیں نہ بننے دیتی اورغریبوں کو جنم جنم کے غلام اور پد دلت پشو بننے پر مجبور نہ کرتی۔ بلکہ اگر کوئی خدا ہوگا بھی تو ضرور کوئی ساہو کار ہوگاکیونکہ آج کل ساہوکاروں کی چاندی ہے۔
جگدیش نہ جانے کیوں ایسی باتیں کیا کرتا ہے؟ جی ہاں، اب وہ گریجویٹ ہے۔ نہ وہ فتّوکے اللہ کو مانتا ہے ، نہ چاچی کے بھگوان کو۔ کیا سب گریجویٹ ایسے ہی ہوتے ہیں؟ آج جب میں نے اسے بتایا کہ میں نے چاچی کو چوری -چھپے پنجیری کھاتے دیکھاہے تووہ گلا پکڑ کر ہنسنے لگا۔ بولا— ’’ میں بھگوان ہوتا توچاچی کو چار گھونسوں سے تو کیاکم سزا دیتا؟‘‘
ریشما اور گوما ، ونتواور ونچی— چاروں بھینسیں ایک -دوسرے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ شاید وہ مل کر فیصلہ کرنا چاہتی ہیں کہ فتّو کوکھانا کھا لینا چاہیے۔
مجھے وشواس نہیں ہوتا کہ کوئی گریجویٹ بھی بھینسوں سے اتنا پیار کر سکتا ہے نہ مجھے یہی وشواس ہوتا کہ بھینسیں کسی گریجویٹ کو بھوک -ہڑتال کرتے دیکھ کر خود بھی ہڑتا ل میں شامل ہو سکتی ہیں۔ پر جگدیش تو ناستک ہے اور اس نے چاچا کو بھی ناستک بنا دیا ہے۔
جب سے فتّو ہمارے یہا ں آیا ہے، وہ اپنی بھینسوں کو اسی طرح پیار کرتا رہا ہے۔ ہر سال عید کے موقع پر وہ سویرے سویرے انھیں نہلاتا ہے اور پھر ایک-ایک کے کان میں کہتا جاتا ہے— کل عید ہے! اور رات کو نہرکے کنارے وہ اپنے ساتھ انھیں بھی عید کا چاند دکھا کر خوشی سے جھوم جھوم اٹھتا ہے۔ دیوالی کی رات آتی ہے توکھڑکیوں پر دیے جلا کر رکھ جاتا ہے۔ اس خوشی میں بھینس کا دودھ بڑھ جاتا ہے۔ اور پھر کارتک کی پورن ماسی پر وہ انھیں میلہ دکھانے لے جاتا ہے۔ کہتا ہے— انھیں بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ آج بابا نانک کا جنم دن ہے۔ جی ہاں ، بہت مزے دار آدمی ہے فتّو ۔ کہتا ہے آدمی اپنے تہوار منائے اور اپنے مویشیوں کو شامل نہ کرے، یہ تو بڑی مورکھتا ہوگی۔
کبھی کبھی فتّواپنے ہونٹ چوس لیتاہے۔ اب تو ضرور اسے کچھ کھا لینا چاہیے۔ شاید وہ سوچتاہے ،ریشمامیری ریشمامیرے پاس سے چلی گئی توکون اسے بِنولے دے گا؟ سوکھاساکھا سا بھونسا کھاتے ہوئے کہا کرے گی— کدھر گیا وہ میرا فتّو؟ اس کے سینگ تیل کی مالش کے بنا سوکھ جائیں گے ۔ اس کی نرم اور ملائم پیٹھ سیہی کی پیٹھ کی طرح کھردری ہو جائے گی۔ اس وقت وہ منھ اٹھا کر کسی کو ڈھونڈا کرے گی۔ لیکن اسے اس کا ٖفتّو کہیں نظر نہ آئے گا۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں سوچ سکتا ۔ سر کو ایک جھٹکا دے کر وہ اٹھ بیٹھاہے۔
ریشمااپنی بڑی بڑی آنکھوں سے فتّو کی اور دیکھتی ہوئی ایک بار پھر اپنی تھوتھنی کھاٹ کی پٹّی پر رکھ دیتی ہے۔جیسے کہنا چاہتی ہو— تم کھانا کھالو فتّو! چا چا ضرور چاچی کی بات رکھ لیں گے اور مجھے بیچیں گے نہیں اور اگر انھوں نے مجھے بیچ بھی دیا تو میں رسّہ توڑکر بھاگ آئوں گی۔ میں کسی بھی طرح اپنے نئے مالک کے گھر میں بندھ کر نہ رہوں گی۔ تم تو جانتے ہی ہو فتّو کہ تمھارے بنا مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ۔ تم دودھ دوہنے بیٹھتے ہو تو میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے گھنٹو ں دوہتے رہو۔ مجھے اس سمے ایک گدگدی سی ہوتی ہے اور یہ صرف تمھارے ہی ہاتھوں سے دوہے جانے پر۔
بھوکی آنکھوں سے فتّو ریشما کی طرف دیکھتا ہے۔ جیسے کہہ رہا ہو— بس چلتے تو تمھیں بکنے نہ دوں گا ، ریشما! مجھے معلوم ہے تم ہمیشہ میرے ہاتھوں سے دوہا جانا پسند کرتی ہو۔ بلکہ تم اس بات کے لیے ترس جاتی ہو کہ میں کبھی تمھارے تھن کو منھ میں لے کر دودھ پیوں۔
چاچا بھی آگئے۔فتّو کی طرف دیکھے بنا ہی وہ اندر چلے گئے۔ فتّو کی ناراضگی کے کارن چولھا ٹھنڈا پڑارہے یہ انھیں پسند نہیں۔ اصل میں وہ فتّو سے تنگ آچکے ہیں۔فتّو ہمیشہ خود ہی دوہتا ہے اور چاچا کہتا ہے کہ کوئی دیکھنے والا نہ ہو تو وہ بھینس کے تھن کو منھ میں لے کر جتنا چاہے اتنا دودھ پیا کرے ہر روز۔
پتا جی کہہ رہے ہیں— ’’ اب چھوڑو یہ بھوک ہڑتال،فتّوبیٹا! ریشما تمھاری ہے اور تمھاری ہی رہے گی۔وہ بکے گی نہیں، ہم گریں گے نہیں۔
اگرریشما سچ مچ بکے گی نہیں تو چاچا خود کیوں نہیں کہہ دیتا؟ نہ بھگوان کی قسم کھائیں نہ اللہ کی، کیول کہہ دیں کہ ریشما بکے گی نہیں۔ پر تعجب اس بات کا ہے کہ جب سے جگدیش ، چاچاکے پاس آنے لگا ہے، چاچا فتّو کی طرف اور بھی امید سے دیکھنے لگے ہیں۔
چاچی پرے بیٹھی قمیض سی رہی ہے۔ ضرور یہ چاچا کے لیے سل رہی ہوگی۔ پر میں سوچتا ہوں کہ چاچا کو یہ قمیض ہرگز نہیں ملنی چاہیے۔ فتّو کا چاچا کو ذرا بھی تو خیال نہیں۔ جی ہاں، اب تو فتّو کو بہت سخت بھوک لگ رہی ہوگی۔ بھوک سے اس کی جان نکل رہی ہوگی۔ لیکن وہ بھی ایک ہی ہٹیلاہے۔ اَڑ گیا تواَڑگیا ہمیشہ کے لیے۔ بس اب خدا بھی آکر کہے کہ بھوک ہڑتال بند کردو تو وہ ایک نہیں سننے کا۔
فتّوکی زبا ن پر برابر ٹانکا لگا ہے۔ اندر سے نکل کر چاچا اس کی کھاٹ کے پاس کھڑا ہو گیا ہے۔ دونو ں خاموش ہیں۔ ایسی بھی کیا خاموشی ہے؟ شاید چاچا جھکنے کو تیار ہے۔ لیکن بات منھ پر نہیں آتی۔ کتنا ضدی ہے چاچا بھی۔ آخر اس میں ضد کی کیا بات ہے؟ ریشما کو بیچنا اتنا ضروری کہاں سے ہو گیا؟ فتّو بھی آخر انسان ہے۔ اگر وہ سچ مچ ریشما کوبکنے نہیں دینا چاہتا تو فالتو میں چاچا کوہی ضد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
فتّو کے دل میں تو سارے گھر کا درد بھرا ہے، سب بھینسوںکا درد بھرا ہے۔ وہ بھی کتنا بھلا آدمی ہے— بالکل گھر کا آدمی۔ آج وہ کیسے پرایا ہو گیا؟ وہ اناتھ سہی، اس کا رکت مانس کسی اجنبی پریوار کا سہی، اس کا مذہب بھی الگ سہی، پر اس نے اپنا سارا جل اسی ندی میں ملا دیا ہے۔ اور اگر یہ سچ ہے تو اس کا ستیہ گرہ بھی ٹھیک ہے۔
کیا خون کا رشتہ ہی سب سے بڑا رشتہ ہے؟فتّو میرا بھائی ہے۔ اس کا اللہ میرا اللہ ہے۔ اس کے ساتھ میں بھی مسلمان ہوں۔ارے، ارے ! یہ میں کیا کہہ گیا؟ پر ایسی بھی کیا بات ہے ۔ فتّو میرا بھائی ہے۔ جی ہاں ،فتّو ہمیشہ میرا بھائی رہے گا۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میں ہمیشہ دل کی باتیں بھانپ سکتا ہوں۔اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر میں ہمیشہ کہہ سکتا ہوں — تم کبھی اتنے ناراض تو نہیں ہوجائوگے فتّوکہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جائو؟
پتا جی کہہ رہے ہیں— ’’اب ضد چھوڑدو ، فتّو بیٹا! تم دیکھوگے کہ ریشما تمھارے پاس ہی رہے گی۔‘‘
چاچا اب بھی خاموش ہے۔ نہ جانے چاچا کیوں خاموش ہے؟ چاچا چاہے تو ایک ہی شبد سے فتّو کو خوش کرسکتا ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ہو سکتا ہے کہ چاچا ضد چھوڑ کر سیدھے منھ بات کرے۔ فتّو میں ایسی کیا برائی ہے کہ چاچا فالتو ہی اسے ناراض کرنے پر تل گیا ہے۔آخر چاچا اپناارادہ ظاہر کیوں نہیں کردیتا؟ کیوں ریشما کو بیچنے کی ضد بہت ضروری ہے؟ ریشما تو اچھی بھینس ہے۔ اس سے تو مجھے بھی پیار ہے۔ اب میں کیسے کہوں کہ چاچا جی، فتّو کے لیے نہیں تو میرے لیے ہی ریشما کو رکھ لو۔
جس دن امتحان کا رزلٹ نکلا تھا ، میں نے فتّوکو چودہ امرود دیے تھے۔ وہ کتنا خوش نظر آتا تھا۔ کیمرہ ہوتا تو میں اس کا فوٹو لے لیتا۔اس دن اس نے میرے پاس ہوجانے کی خوشی میں ایک نیا گیت بنا ڈالاتھا۔ جب وہ گا رہا تھا تو مجھے ایسا لگا کہ امتحان میں تو فتّو پاس ہواہے اور میں صرف ایک چرواہا ہوں۔ فتّو کی پگڑی میں کویل کا گھونسلہ— اس نے مجھے کان سے پکڑ لیا۔ اس کی انگلیوں نے چمٹی کا روپ دھارن کرلیاتھا۔میری چیخ نکل گئی۔ پھر کہیں اس نے مجھے چھوڑااور دھمکی دی— اب مت کہنا کویل کا گھونسلہ فتّو کی پگڑی میں۔آٹھویں پاس کر لی پر پرانی شرارتیں نہیں گئیں۔ میں اس کے آگے آگے دوڑاجارہا تھا۔ میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ کویل کا گھونسلہ اس نے کبھی دیکھا بھی ہے یا نہیں؟ اس وقت میں نے سوچا کہ اپنے گیت کابول بدل کر گائوں— ریشما کی سینگوں پر کویل کا گھونسلہ۔ لیکن یہ ظاہر تھاکہ وہ اسے بھی پسند نہیں کرے گا۔ اس کی عمر چودہ برس کی ہے اور میری تیرہ برس کی۔ اسی لیے تو میں نے تیرہ امرود لیے تھے اور اسے دیے تھے پورے چودہ کے چودہ۔
ماں کہہ رہی ہے— ’’تیرا چاچا تجھے ناراض نہیں کرے گا، فتّو بیٹا! منھ سے نہ بول اشارے سے کہہ دے ۔ بول آگ جلائوں چولھے میں؟‘‘
چاچا کہہ اٹھتا— ’’ہاں ہاں، جلائو آگ ۔ ارے فتّو تو بہت سمجھدار لڑکا ہے۔‘‘
میں خوشی سے اچھل کر پرے کو سرک جاتا ہوں۔ جی میں تو آتا ہے کہ فتّو کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہوں — دیکھو اب یہ تمھاری بھوک ہڑتال نہیں چل سکتی، فتّو بھیا۔
چاچی نے قمیض پوری کر لی۔ وہ مشین سے اٹھ کر چولھے کے پاس جا بیٹھی اور آگ سلگا رہی ہے۔آج بھی آگ نہ جلاتی تو وہ ضرور چوری-چھپے چاچاکو پنجیری کھلادیتی اور آپ بھی کھا لیتی۔
میں کہتا ہوں— ’’ فتّو کے لیے بھی آج ایک نئی قمیض ہونی چاہیے۔‘‘
چاچا اور پتاجی ایک آواز ہو کر کہتے ہیں— ’’ ایک کیوں ، پانچ۔‘‘
فتّو اٹھ بیٹھا ہے۔ سارا گھر خوش نظر آتا ہے۔ اب تو معلوم ہوتا ہے جیسے فتّو کا اپنے اللہ پر ایمان ہے ویسے ہی چاچا کا اپنے بھگوان پر وشواس ہے۔ ہے بھی ٹھیک۔جگدیش کا اثر اتنی جلدی کیسے ہو سکتا ہے؟
چاچا فتّو سے گلے مل رہے ہیں۔ پتا جی کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔وہ اب کچھ نہ بولیں گے۔ فتّو کہتا ہے— ’’ریشما کا کیا فیصلہ ہوا، یہ تو کہو چاچا؟‘‘
چاچا پہلے خاموش رہتا ہے۔پھر بڑے وشواس سے کہتا ہے— ’’میں ریشما کوکہیں باہر نہ لے جائوں گا۔ یہ تم وشواس رکھو ۔‘‘
چولھے پر کھیر پک رہی ہے۔ چھوٹا بھائی باہر سے آکر کہتا ہے— ’’ ماں ، پہلے مجھے دینا کھیر۔‘‘
پتا جی کہہ رہے ہیں — ’’آنچ اور تیز کردو۔‘‘
نہ جانے کھیر کب تک تیار ہوگی؟ مری ہوئی بھوک پھر چمک اٹھی ہے۔بھوک تو آدمی کو باولا بنا دیتی ہے۔سب سوارتھوں کی ماں ہے یہ بھوک۔اگلے ہی روز جگدیش دکان پر چاچا سے کہہ رہا تھا— جس نے بھوک کی فلسفے کو سمجھ لیا۔ پھر نہ کوئی اللہ رہ جاتا ہے نہ بھگوان۔ نہ انسان ، نہ حیوان۔ مطلب یہ ہے کہ پھر امیرغریب کا فرق نہ ر ہے گا۔ نہ کوئی نوکر ہوگا ، نہ کوئی مالک۔ آدمی آدمی سب برابر ہوں گے۔
کھیر تیار ہوگئی۔ چھوٹا بھائی کہتا ہے— ’’ماں ، پہلے مجھے دینا کھیر۔‘‘
ماں ڈانٹ کر چھوٹے بھائی کو چپ کرا دیتی ہے اور میں خود ہی شرمندہ ہو جاتا ہوں۔ ماں چمک کر کہتی ہے— ’’پہلے فتّو کھائے گا ، فتّو بھوکا ہے۔‘‘
تھالی میں کھیر بھر کر چاچی فتّو کے سامنے لا رکھتی ہے اور کہتی ہے— ’’یہ لو ریشما کے دودھ کی کھیر فتّو بیٹا! باسمتی چاول ، ریشما کا دودھ اور گنے کا رس۔ ایسی کھیر تم نے پہلے کبھی نہ کھائی ہوگی۔‘‘
فتّو کھیر کھارہا ہے اور سوچتا ہے کہ سچ مچ ایسی کھیر اس نے پہلے کبھی نہیں کھائی تھی۔ چھوٹا بھائی الگ چمچہ بھربھر کر کھیر کھا رہاہے۔
سب نے آج کھیر ہی کھائی ہے— ریشما کے دودھ کی کھیر۔
رات کے سایے بڑھ رہے ہیں۔ ریشما اور گوما، ونتو اور ونچی— چاروں بھینسیں بڑی بڑی آنکھوں سے فتّو کی اور دیکھ رہی ہیں۔ جیسے کہہ رہی ہوں— تمھاری جیت تو ہماری جیت ہے۔
رات کا اندھکار گہرا ہو رہاہے۔ریشما کا گراہک بھی آپہنچتا ہے۔پتا جی خاموش ہیں۔ چاچاخاموش ہیں۔ فتّو بھی خاموش ہے۔
اماوس کی رات کے ننھے ٹمٹماتے دیے کے سمان فتّو بڑے گَرو سے سر اونچا کیے بیٹھا ہے۔ کیونکہ اسے بھروسہ ہے کہ چاچااپنا وعدہ نہیں بھولے گا اور ریشما کو ہر گز نہیں بیچے گا۔
ادھر چاچا ریشما کے گراہک کی طرف سرک جاتا ہے اور ان کی کانا پھوسی اور بھی پیچیدہ ہورہی ہے۔
فتّو سوچتا ہے کہ ریشما کبھی نہیں بِک سکتی۔ آخر چاچا اپنے وعدے کا پکا آدمی جو ٹھہرا۔
ہوا کے زبردست جھونکے کو دیے کی لَو کی کیا پرواہ؟ جی ہاں، ریشما کا گراہک بھی ایک بار آکر خالی کیسے جا سکتا ہے۔
بشکریہ : عبدالسمیع اور ادبی دنیا

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…