مدد : عالیہ چودھری

[dropcap]ح[/dropcap]بس زدہ گرمی میں سورج کی تپش جسم سے زیادہ دماغ پر اثر کرتی ہے۔ ٹریفک میں پھنسی ارمینہ پہ بھی اس وقت گرمی کا اثر پوری طرح ہو رہا تھا۔ معاذ کی ضد کے سامنے ہار مانتے ہوے وہ تپتی دوپہر میں اس کو ساتھ لیے شاپنگ کے لیے نکلی تھی۔مگر ٹریفک کے ہجوم میں اس وقت گرمی کے ساتھ اس کا غصے کا بھی گراف بڑھ چکا تھا۔

"مما۔۔۔ شاپنگ کے بعد ہم پارک بھی چلیں گے۔ ” معاذ کی اگلی نئی فرمائش۔ "

بلکل بھی نہیں، آپ دیکھ نہیں رہے کتنی زیادہ گرمی ہے۔ پارک پھر کسی دن شام کے وقت آپ کو لے چلوں گی۔

"نہیں۔۔۔ ہم آج ہی جائیں گے۔ ” معاذ نے منہ بنایا۔

” معاذ ! ضد مت کرو، اچھا چلو میں آپ کو شاپنگ کے بعد ایک اچھے سے ریستوران سے آپ کا پسندیدہ اٹالین فوڈ کھلاوں گی، ٹھیک ہے۔

” ٹھیک ہے مما” معاذ کے لیے یہی خوشی کی بات تھی کہ وہ باہر زیادہ سے زیادہ گھومے۔

"باجی گاڑی صاف کرواؤ گی ؟” ایک بچہ تپتی دھوپ میں بھاگتا ہوا اس کی گاڑی کے پاس آیا۔

” نہیں۔۔۔ جاؤ یہاں سے ۔”ارمینہ نے غصے سے کہا اور گاڑی کا شیشہ اوپر چڑھا دیا۔ بچہ مسکراتے ہوے دوسری گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔

” مما ! یہ بچہ اسکول نہیں جاتا کیا۔۔۔۔ یہ کام کیوں کر رہا ہے ؟ ” معاذ نے اس کی طرف دیکھا۔

” کیونکہ اسے کام کرنا ہے۔ "

” مگر میں تو اسکول جاتا ہوں اور کوئی کام بھی نہیں کرتا۔ اسے بھی پہلے اسکول جانا چاہئے جب بڑا ہو تو کام کرے ۔

"وہ جان بوجھ کے نہیں جاتا۔۔۔ اس کا دل نہیں کرتا ہو گا۔ آپ اس بچے کا نہ سوچو اس نے جانا ہوتا تو اس کے پیرنٹس اسے اسکول بھیجتے۔ "ارمینہ نے اسے سمجھایا۔ معاذ سمجھا یا نہیں مگر وہ سامنے دیکھنے لگا جہاں سبز لائٹ روشن ہو چکی تھی۔
مال کی پارکنگ میں جگہ نہ ہونے کے باعث اس نے گاڑی روڈ کے پار کھڑی کی۔ گاڑی سے نکلتے ہی دو ہاتھ اس کے سامنے پھیلائے گئے۔

"باجی مجھے بھوک لگی ہے، کچھ پیسے دے دو ۔ ” بھوک مٹانے کی خواہش لیے بچہ حسرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

"تم اسکول کیوں نہیں جاتے۔۔۔۔۔ یہاں بھکاری بنے پھر رہے ہو۔ ” ارمینہ نے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوے پوچھا ۔

"امی، ابو کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ” معاذ نے اسے دیکھا ۔

"جھوٹ بولتے ہو، اللہ نے ہاتھ پاؤں دیے ہیں تو کوئی کام کرو، یہ کیا بھکاری بن جاتے ہو تم لوگ اپنے شوق کے لیے۔ ” بچہ تھوڑا ھنسا یہ ہنسی شاید اسے لفظ ” شوق ” پہ آئی ہو۔ اور دوبارہ اس کے آگے ہاتھ پھیلا دئے۔ جیسے کہہ رہا ہو ان پڑھ ہوں مگر تم تو پڑھی لکھی اعلیٰ ظرف کی ہو ۔

"مما، اسے پڑھنے کے لیے پیسے دیں نا۔۔۔۔ اس کے پیرنٹس کے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لئے تو اسکول نہیں جا رہا۔ ” معاذ ارمینہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔

"جھوٹ بولتا ہے بیٹا یہ۔۔۔۔ اور تم پیچھے ہٹو یہاں سے، میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ لائن میں لگے رہتے ہو تم لوگ یہاں مانگنے کے لئے۔ "ارمینہ نے غصے سے اسے پرے دھکیلتے ہوے کہا اور بیٹے کو لئے آگے بڑھنے لگی۔

"باجی دے دو نہ۔۔۔۔ مجھے سچ میں بھوک لگی ہے۔ اللہ تمہیں بہت خوش رکھے گا اور زیادہ دے گا تمہیں۔۔۔۔ اور تمہارے بچے کی بھی لمبی زندگی ہو۔ ” معصوم آنکھیں التجا کرنے لگیں ۔

"کوئی ضرورت نہیں تمہاری دعاؤں کی۔ کہا نا کوئی نہیں ہیں پیسے۔ارمینہ کا غصہ بڑھ گیا۔

"چلو معاذ۔۔۔” بیٹے کو لئے آگے بڑھنے لگی جبکہ معاذ کی نظریں جاتے وقت بھی بچے پہ ہی تھیں، جیسے اسکی مدد نہ کر کے افسوس ہو رہا ہو۔ پیچھے دیکھتے ہوے ہی روڈ کراس کرتے وقت اس نے سامنے سے آتے بائیک کو نہیں دیکھا۔ ارمینہ آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ معاذ کو بائیک کی ٹکر سے نیچے گرتے دیکھا۔

رش بڑھنے لگا اور پار سامنے کھڑا وہ معصوم بچہ اس عورت کو دیکھ رہا تھا جس کو دعا کی ضرورت نہیں تھی اور جو خود اس وقت لوگوں سے مدد کی بھیک مانگ رہی تھی۔
[ads1][ads2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…