فاتح

 

’’ میں سکندر!
جسے میری ماں سکندر اعظم بنانا چاہتی تھی ۔
بہادر ، جری ، نڈر ، فاتح۔۔۔
میں اور تو کہیں بہادری نہ دکھا سکا، لیکن اپنے محلے اور خاص طور پر بیوی پر یہ بہادری بڑی آزماتا ۔ وہ میری مفتوح تھی اور میں فاتح بن کر اپنے گھر میں حاکم بنا رہتا ۔ میری ماں نے میرے لاڈ اٹھائے اور میں نے اس کی مامتاکا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خود سری دکھائی۔ پہلے بہن بھائیوں پر چلاتا اور مارتا، پھر بیوی آئی تو اس کمزور پر اپنی حاکمیت جتاتا ۔ ماں سمجھاتے سمجھاتے مر گئی لیکن مجھے عقل نہ آئی۔
لیکن پھر میری زندگی میں بھی ایک ایسا واقعہ آیا جس نے مجھے مکمل تو نہیں لیکن کافی حد تک بدلنے میں مد د کی۔
اصغر میرا بچپن کا یار تھا ۔ میں جتنا غصے کا تیز وہ اتنا ہی نرم خو ۔ ہم دونوں کے مزاجوں میں فرق کے باوجود دوستی بڑی گہری تھی ۔ شاید اس گہری دوستی میں اسی کی درگزر کی عادت کا دخل تھا ۔ تعلیم تو ہم دونوں کی واجبی تھی ۔ غم روز گار نے ہم دونوں کودور کر دیا ۔
پھر شادی کے بعد وہ دوسرے شہر منتقل ہوگیا اور یوں آہستہ آہستہ ہمارا فون پر رابطہ بھی کم ہوتا چلا گیا۔ چار ، چھ مہینے میں بات ہو جاتی ۔ اس کی گفتگو کا محور اس کا گھر اس کے بیوی بچے ہوتے ۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں سے بہت محبت کرتا تھا ۔ بلکہ میں اکثر ہی اسے ٹوکتا کہ بیوی کو اتنا سر نہ چڑھا ، وہ حاوی ہو جائے گی ، لیکن وہ ہمیشہ میری نفی کرتا ۔
چند مہینے پہلے اُس نے بتایا کہ اس کی بیوی کی طبیعت بجائے سنبھلنے کے مزید بگڑ رہی ہے ، لہٰذا اس کی بیوی چاہتی ہے کہ یہ لوگ واپس اپنے شہر ، اپنے رشتے داروں میںآجائیں اور علاج بھی یہیں کرائیں ۔
چنانچہ وہ واپس یہاں آگیا ۔ وہ بیک وقت بجلی اور پلمبر کا کام جانتا تھا ۔ اپنے ہاتھ کا ہنر تھا لہٰذا کام کا اسے کوئی مسئلہ نہ تھا اور یہاں اپنے بھائی کے پاس مکان لے کر رہنے لگا ۔
یہاں منتقل ہونے کے بعد ہماری ملاقاتوں میں دوبارہ پہلے جیسی گرمجوشی آگئی ۔ وہ تو اپنے کام اور پھر بیوی کی بیماری کی وجہ سے وقت نہ نکال پاتا ، لہٰذا میں ہی ہر تیسرے چوتھے دن اس سے ملنے چلا جاتا ۔ وہاں جا کر ایک حیرت انگیز منظر میرے سامنے ہوتا ۔ اس کی بیوی شروع سے ہی کچھ چڑ چڑی تھی لیکن وہ اس کی بڑی ناز برداری کرتا، اس سے مشورے لیتا ، اس کی اوربچوں کی فرمائشیں پوری کرتا ۔ بیوی بچوں کو چھٹی کے دن گھمانا لازمی تھا چاہے کچھ ہو جائے ۔ اس پر میں اسے زن مریدی کے طعنے دیتا تو وہ ہنس کر کہتا کہ ذرا مزاج کی ہی تو تیز ہے ورنہ دل کی بڑی اچھی ہے ، پھر میری وفا دار ہے میرے گھر بار کو اچھی طرح سنبھالتی ہے ، میرے پیچھے میرے گھر اورمیری عزت کی حفاظت کرتی ہے ، اور مجھے کیا چاہیے؟ایک ذرا سی خامی کی وجہ سے کیا میں اس کی اتنی ساری اچھائیاں نظر انداز کر دوں یہ تو پھر بڑی نا شکری ہو گی ۔
مجھے اس کی باتیں بڑی حیران کرتیں اور کبھی کبھی تو سوچنے پر مجبور بھی کر دیتیں ۔ پھر میں اس کا اور اپنا تقابل کرنے بیٹھ جاتا ۔عورت کے بارے میں میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتا تھا ، بلکہ مجھے اس کے خیالات مضحکہ خیز لگتے ۔ میرا خیال تھا کہ عورتوں کو یونہی ٹریٹ کیا جاتا ہے ۔ اس سے وہ اپنی اوقات میں رہتی ہیں ورنہ اصغر کی بیوی کی طرح مزاج دکھاتی ہیں ۔ میرا یقین تھا کہ میرے گھر کا نظام ٹھیک چلنے کی وجہ میری مضبوط شخصیت ہے ۔ تہمینہ کو اور کیا چاہیے ۔اسے سب کچھ تو مل رہا ہے ، وہ تو اپنی قسمت پر ناز کرتی ہو گی۔
اور پھر انہی دنوں ایک اور واقعہ ہوا۔
ایک دن میں حسب معمول تہمینہ پر چلاّ رہا تھا ، ساتھ ہاتھ بھی چل رہے تھے کہ اسی دوران اصغر کسی کام سے میرے پاس آیا ۔بچے نے دروازہ کھول دیا تھا لہٰذا وہ اندر بھی آگیا تھا اور اندر آ کر جو اس نے میرے وحشی پن کو دیکھا تو کتنی ہی دیر وہ مجھے نا قابل یقین نظروں سے دیکھتا رہا ۔ پھر کچھ کہے بغیر پلٹ گیا ۔
میں اس کے پیچھے گیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض تھا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں ایسا بھی کر سکتا ہوں ۔ پھر اس کے بعد اس نے مجھے کئی دفعہ سمجھایا ، لیکن میں کہاں اتنے جلدی اپنی پرانی عادت چھوڑنے والا تھا ۔
اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ ہی عرصے بعد اصغر کی بیوی اپنی بیماری کی وجہ سے چل بسی ۔ اصغر تو بیوی کے غم میں دنیا سے بے گانہ ہی ہو گیا ۔ کتنے ہی دن وہ خاموش خامو ش گھر میں بند رہا ۔ تھوڑا بہت کام کرتا اور پھر بچوں کے پاس گھر آجاتا ۔ مجھ سے بھی ملنابہت کم کر دیا تھا لیکن جب ملتا تو وہ مجھے اپنے گھر کی ویرانی دکھاتا اور بیوی کے وجود کی رونقیں یاد کرتا ۔
بس اس حادثے نے میرے دل پر بھی اثر کرنا شروع کر دیا ۔ پھر ایک دفعہ جب میں اصغر سے مل کر گھر آیا تو دروازے پر ہی ٹھٹک گیا ۔ اندر تہمینہ کی پرانی سہیلی بیٹھی اسے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہی تھی ۔ وہ نہ جانے کس نئے قانون کی بات کر رہی تھی جس میں میاں کی مار پیٹ پر بیوی حکومت میں شکایت کر سکتی ہے اور سزا بھی دلوا سکتی ہے ۔ دل تو چاہا کہ اس کی سہیلی کو چوٹی سے پکڑ کر گھر سے باہر کر دوں ۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ تہمینہ کا بھی جواب تو سن لو ں کہ وہ کیا کہتی ہے۔
وہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہہ رہی تھی:
میری جیسی عورت کے پاس کوئی راستہ نہیں نبیلہ ! جس معاشرے میں سکندر جیسے مرد ہوں کہ جن کی انا بات بات پر ہرٹ ہو جاتی ہو، جن کی طاقت کا سارا مظاہرہ کمزور عورت پر ہوتا ہو،جن کے لئے گھر کے اندر ذرا سا بھی اخلاق دکھا دینا حرام ہو ، جن کو کسی بھی طریقے سے یہ بتانا کہ وہ غلط ہیں ، بیوی کے لئے اور زیادہ مصیبتوں کا باعث بن جاتا ہو ، ان کے لئے کوئی قانون بھی بن جائے ، نقصان میں عورت ہی رہے گی ۔ میں اپنے بچوں کی وجہ سے بے حد مجبور ہوں او رسکندر میری ہرمجبوری اور کمزوری سے فائدہ اٹھانا خوب جانتا ہے ۔ کوئی قانون ایسا بھی تو بنے جس کا نقصان آخر کار مجھے نہ ہو ، ظالم شوہر کا ہاتھ تو روکا جائے مگر مظلوم بیوی کا گھر برباد نہ ہو ۔۔۔ مجھے کوئی سکندر کے رد عمل سے بچانے اور گھر بسا رہنے کی گارنٹی دے تو میں رپورٹ کرنے کی ہمت کروں ، ورنہ کیا فائدہ !

یہ سب سن کر میں سناٹے میں آگیا تھا ۔ مجھے لگا میری مضبوط شخصیت چٹخ کر ریزہ ریزہ ہونے کو ہے ۔ میں جس عورت کو سمجھتا تھا کہ اپنی خوش نصیبی پر ناز کرتی ہو گی ، وہ خود کو کس قدر بد نصیب سمجھتی ہے ، یہ آج پتہ چلا ۔ وہ میرے ساتھ اس لئے دن گزار رہی ہے کہ اپنے بچوں کو برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔ میری انا کا بت دھڑام سے گر پڑا تھا ۔ میرے اندر شور ہی شور تھا ۔ میں نے آنکھیں ڈھانپ لیں اور دالان سے گزر کر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
پھر میں نے تہیہ کیا کہ اب میں اپنے اوپر کنٹرول کرنا شروع کر دوں گا ۔ چنانچہ یہی میری تبدیلی کا آغاز تھا ۔بالکل تو نہیں لیکن کسی حد تک میں نے اس مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش ضرور کی ۔
دوسری طرف تہمینہ کے رویے میں بے حد مثبت تبدیلی آئی ۔ وہ حیران سی رہتی تھی ، مگر پہلے کی طرح گم سم رہنے کی بجائے اب خوش باش رہنے لگی تھی اور میرا پہلے سے زیادہ خیال کرنے لگی تھی ۔مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ گھر والی خوش ہو تو گھر کیسا روشن ہوتا ہے ۔ میں اکثر سوچتا کہ تہمینہ اگر میری شکایت لگائے تو وہ حق بجانب ہو گی ، مگر مجھ سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایک غلطی کو درست کرنے کی بجائے دوسری اس سے بھی بڑی غلطی کر گزرے ، صرف انتقام کی خاطر ۔۔۔ جس سے نہ صرف اپنی ، بلکہ اپنے ساتھ کئی اور زندگیاں بھی جیتے جی جہنم بن جائیں ۔ تہمینہ کو طلاق کا خوف ہے اس لئے وہ چپ ہے مگر یہ کوئی زندگی ہے جو ہم جی رہے ہیں ؟ کیارفاقت اسی کا نام ہے؟ کیا گھر کا نظام اسے کہتے ہیں ؟
آپ کچھ بھی کہیں لیکن اصل بات تو اصغر کی بیوی کے مرنے سے شروع ہوئی ۔ واقعی اگر تہمینہ بھی نہ رہی تو پھر میرا اور میرے گھر ، بچوں کا تو بہت بڑا نقصان ہو جائے گا او ریہ سب میری برداشت سے باہر ہو گا ۔ جو بھی ہے ۔تہمینہ میری بیوی ، میرے بچوں کی ماں ، میری عزت کی محافظ ، اور میرے گھر کے سائبان کو قائم رکھنے میں میری مدد گار ہے ۔
آج سکندر دلوں کا فاتح ہے جس کا گھر خوشیوں کی چہکار سے گونجتا ہے

فرحی نعیم

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…