2018ء تک انتظار اور دھرنے

دل کی بات از ڈاکٹرعمرانہ مشتاق

دھرنوں کا زمانہ اب لد گیا۔ گو دھرنوں کی تاریخ کوئی زیادہ قدیم نہیں ہے۔ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان نے دھرنوں کی تاریخ مرتب کی اور دھرنوں کی سیاست کو متعارف کروایا۔ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کا اسلام آباد کا دھرنا طویل ترین دھرنا تھا، جس کی ابتداء ایک پرجوش ریلی سے ہوئی، جو صوبائی دارالحکومت لاہور سے شروع ہو کر اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے میں بدل گئی، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ آج نہیں تو کل حکومت گئی، کیونکہ اشتعال انگیز تقریریں، باغیانہ احتجاجی نعرے، دھرنے کی سیاسی دھمکیوں کے گولے بارود کا کام دے رہے تھے۔ بنی گالہ کی رہائش گاہ دن کو خواب گاہ اور رات کو ویران ہو جاتی اور عمران خان تازہ دم دھرنے میں پہنچ جاتے تھے۔ دھرنے میں شریک کارکنوں کی کثیر تعداد، جن میں صنفِ نازک کی بھی کمی نہ تھی، وہ بھی شام ہوتے ہی دھرنے میں گو نواز گو کے نعروں کے شور میں زور اور زر کی قوت سے بڑی دلجمعی سے موجود ہوتی تھیں۔ طاہر القادری، جن کا رشتہ عمران خان سے ایک کزن کا تخلیق کیا گیا تھا، وہ بھی شب و روز دھرنے میں اپنے کنٹینر پہ آرام اور آزار، دونوں حالتوں سے گزرتے رہے۔ پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ پارلیمنٹ کی حدود سے آگے نکل کر ایک دفعہ حکومت کا تختہ الٹنے کے قریب پہنچ جانا، یہ سب کچھ دنیا نے دیکھامگر اب تو 2016ء کا بھی اختتام ہونے والا ہے۔ اگست شروع ہو گیا ہے۔ دسمبر کا مہینہ یاد آرہا ہے اور ستمبر اپنے ستم سمیت بھی گزر جائے گا مگر حکومت کے ایوانوں میں بدستور کام ہو رہا ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری اگر عوام کی زبان بولتے تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ پہلے روز کا ہی دھرنا حکومت کو دھڑام کر دیتا۔مگر منصوبہ ساز ذہن عقب میں موجود تھے۔ اب بھی حکومت کو مسمار کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ اس سے چائنہ راہداری کی راہ میں روڑے اٹکانے کی بہت کوشش کی جا رہی ہے، جو کبھی بھی کامیاب نہ ہو گی۔ اس سازش کے ڈانڈے جہاں ملتے ہیں وہاں سے ہی دھرنوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اب پاکستانی قوم سمجھ گئی ہے کہ خوشحال معاشرے کی تشکیل کی راہ میں حائل قوتیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ طاہرالقادری اور عمران خان کا ایجنڈا ایک ہی ہے اور وہ بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ گوادر سے لے کر گلگت تک، پوری قوم تعمیروترقی کے سفر میں نواز یا شہباز کے ساتھ نہیںہے بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے۔ نواز اور شہباز تعمیروترقی کی شاہراہ پر چل نکلے ہیں۔ انہوں نے 2018ء تک کے تعمیری منصوبوں کے اہداف مقرر کرکے جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس عمل کو غارت کرنے والوں کو پاکستانی قوم جان گئی ہے۔ طاہرالقادری اور عمران خان کا پورا زور اور زر نواز اور شہباز کی مسماری پر لگا ہوا ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے قوم و ملک کی تعمیر سے ان کو دلچسپی نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو آزاد کشمیر سے دوہری کامرانی ملی ہے۔ یہ بھی نیک شگون ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو ہر شے میں برائی نظر آتی ہے انہیں اپنی فطرت پر غور کرنا ہو گا۔ بری فطرت کے انسان سے پناہ مانگنی چاہیے۔ کاش عمران خان اور طاہرالقادری کی تنقید سے ملک و ملت کو فائدہ ہوتا تو پوری عوام ان کی پشت پر ہوتی، مگر عوامی سوچ اور ملی فکر سے عاری قیادت پاکستانی عوام کی امامت کی اہل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے
اپنی تعمیر اٹھاتے تو کوئی بات بھی تھی
تم نے اک عمر گنوا دی مری مسماری میں
تصویر کا ایک رخ تو یہ تھا۔ دوسرا رخ حکومتی کارکردگی کے حوالے سے خوش کن نہیں ہے۔ انہیں بھی اپنے حریفوں کی سازشوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن کے پرائمری یونٹس اگر اپنی سطح پر علاقے کے مسائل حل کرنے میں بااختیار ہوں تو موجودہ حکومت 2018ء کیا، اس سے بھی آگے جا سکتی ہے۔ جس جماعت میں صفیہ اسحاق، ذکیہ شاہنواز اور فرزانہ نذیرجیسی بے باک، بہادر، نڈر، بے غرض اور بے لوث خواتین کارکن ہوں اسے کون شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔ ان سب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور ان کی کارکردگی بہت عیاں ہے۔ میرِ کاررواں کو اپنے مخلص کارکنوں کی خبرگیری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔
برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں
کچھ بھی ہو، اہتمامِ گلستاں کریں گے ہم

ڈاکٹرعمرانہ مشتاق

جواب چھوڑیں