اسلوب حکمرانی اور رموزِ سیاست

یہ بات کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ جس حکومت کو مثبت حزب اختلاف مل جائے اس کی اصلاح ہوتی رہتی ہے ۔ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان کی ضد کہیں پورے نظام کو ہی نہ ڈھیر کر دے ۔ غیر ضروری تنقید کے اثرات منفی ردِ عمل کا اظہار ہوتے ہیں اور یہ اظہار باطن کی کدورتوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ بڑے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بڑے پن کا بھی بھرم رکھیں ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ عمران خان جب ایک جلسے سے خطاب سے قبل سٹیج سے گرے اور بُری طرح زخمی ہوئے اللہ نے انہیں سلامت رکھا اور وہ کچھ عرصہ ڈاکٹروں کے زیر علاج رہنے کے بعد دوبارہ انہوں نے وہیں سے سیاست کا آغاز کر دیا جہاں سے وہ گرے تھے۔ میاں نواز شریف نے اُن کی عیادت کی اور دونوں طرف چراغ وفا جاگتا ہوا لوگوں نے دیکھااور ملک میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ اب عمران خان کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ میاں محمد نواز شریف کی عیادت کے لئے جاتی عمرہ جائیں ۔ اس سے تبادلہ خیال بھی ہوگا اور اسلوب سیاست کے گُر بھی ملیں گے ۔ یہ وہ عقدہ ہے جو بڑے لوگوں کے ناخن تدبیر کا رہین منت ہے مگر بہت بڑے آدمی بہت چھوٹی باتوں پر اڑے ہوئے ہیں۔ یہ اڑنا لوگوں کو جوڑتا نہیں بلکہ توڑتا ہے ۔ جوڑ توڑ کی سیاست کا زور ٹوٹ گیا ہے وہ دن بیت گئے جب اپنے رفیقوں کو چھوڑ کر لوگ رقیبوں سے مل جاتے تھے اور پھر اُن کے حبیب کہتے تھے کہ ایسے رفیقوں سے تو رقیب ہی بھلے ہیں جن کی دشمنی ریاکاری سے پاک ہے اور پھر انہیں ایسے دشمنوں کی دشمنی بھی اچھی لگتی تھی۔ آج سیاست کی وادی میں وہ خار نہیں رہے جن پر چل کر آبلہ پائی کی شکایت کی جاتی تھی اور غالب کی ہمنوائی میں گنگنانا پڑتاتھا
کانٹوں کی زبان سوکھ گئی پیاس سے یا رب
کوئی تو آبلہ پا اس وادیٔ پُر خار میں آوے
اس وقت آزاد کشمیر میں ن لیگ کی کامیابی نیک شگون ہے اور اس کامیابی پر عمران خان کی مبارک باد بھی بڑے پن کا ثبوت ہے ۔ اس روش کو بڑی پذیرئی ملی ہے اور ایک سیاستدان کی سب سے بڑے خوبی یہی ہے کہ وہ اپنی ہار کو مان جائے جیتنے والوں کو کھلے دل و دماغ سے تسلیم کرے تو کام چلتے رہتے ہیں ۔
ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایک ماں کا بیٹا باہر محلے میں شرط لگا آیا کہ کوّا سفید ہوتا ہے اور میں یہ شرط جیت جائوں گا اس کی ماں نے کہا بیٹا تم ہار گئے ہو کیونکہ کوّا سفید نہیں ہوتا ۔ بیٹے نے ماں کو کہا یہ تو بات اس وقت ہوگی جب میں مان جائوں گا۔ میں نے تو کوے کو چٹا ہی کہنا ہے ۔ عمران خان کی ضد کے سامنے اب کیا کیا جائے وہ ایک رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ دھرنا دھرنا، ملک و ملت کا بہت نقصان ہوا۔ دھرنوں میں اور منفی سیاسی افراتفری میں۔ ملک تعمیر و ترقی کی سڑک پر چل نکلا ہے اس کے سامنے روڑے نہ اٹکائو۔ تعمیر ی کام ہونے دو۔ 2018کے بعد آپ کی بھی باری ضد پر نہیں کارکردگی پر آئے گی۔ ۔ مثبت اسلوب حکمرانی اور رموز سیاست کامیابی کے مضبوط ہتھیار ہیں ۔ ان ہتھیاروں کو تھام کر رکھو اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی ۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

جواب چھوڑیں