متحدہ کے قائد کی ہرزہ سرائی ناقابلِ معافی

متحدہ کے قائد کی بد باطنی کا سیاہ ترین انسان کھل کر سامنے آگیا ہے اس نے ملت پاکستانیہ کی روح کو زخمی کیا ہے ۔ مودی سے زیادہ موذی مرض میں مبتلا الطاف حسین کو اپنے نام کی ہی لاج رکھ لینی چاہئے تھی۔ پاکستان کے الطافات اس پر جس طرح ابر رحمت بن کر برس رہے ہیں اس کا اندازہ وہ خود ہی لگالیں کہ اس ملک نے اسے وہ سب کچھ دیا ہے جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکتا تھا ۔ اس کی گزوں لمبی زبان جو بکواس کر تی ہے سب سنتے رہے مگر اسے ایک پاکستانی جلا وطن سیاسی راہنما کے طور پر عزت ملتی رہی مگر جب اس نے مودی سے بھی ایک قدم نہیں پوری چھلانگ لگا کر پاکستان کی سا لمیت اور پاکستانیوں کی روح کو زخمی کیا تو پورا پاکستان سراپا احتجاج بن گیا ۔ آج ہر پاکستانی کی زبان پر پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے ہیں ’’ را ‘‘کے اس مکروہ چہرے پر خود بخود نقاب سرک رہی ہے اور اس کا اصل مکروہ چہرہ خود بول اٹھا ہے ۔ پاکسان کو اس نے جس زبان سے گالی دی ہے وہ اس کے منہ میں اب نہیں رہنی چاہئے اسے گُدی سے کھینچ دینا چاہئے اسے پاکستان میں لاکر عبرت کا نشان بنا دینا ہوگا۔ اس کے ساتھی اور ہمنوا اپنے قائد کے منہ سے نکلنے والے دل آزار کلمات سے پہلے ہی شہر سے نکل گئے اور اُن کے ساتھ جو سلوک حکومت پاکستان نے روا رکھا ہے وہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر لیاقت دونوں کی لیاقت خاک میں مل گئی اور انہوں نے معذرت نامے پر دستخط کرکے ایسے غلیظ ترین حیوان سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا اور اپنی جانیں کسی عذاب میں ڈالنے کی بجائے ثواب میں شامل ہوگئے ۔ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ عوام کے دلوں کو اور روحوں کو زخمی کرنے والا خود بھی اپنی اس حرکت پر ندامت کا نہیں جرأت کا اظہار کر رہا ہے اور پوری قوم کو زخمی کرکے اُن سے اب معافیاں مانگ رہا ہے اس شخص پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ
کبھی حیات کی ضامن کبھی وسیلۂ مرگ
نگاہ ِ دوست تیرا کوئی اعتبار نہیں
ہماری خفیہ ایجنسیوں کو ایسے سماج دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ مودی نے ہمارے بدن کو زخمی کیا ہے متحدہ کے قائد نے روح کو مجروح کرکے اب اپنے زہر سے زیادہ زہر ناک جملے واپس لینے کی بات کرتا ہے ۔ ملکی سا لمیت پر آنچ ہمارے ملی وقار سے مذاق ہے ۔ غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے ۔ اس ہرزہ سرائی کی کوئی معافی نہیں ہے ۔اس سے پہلے یہ شخص معافیوں کے انبار لگا چکا ہے مگر ملک کی سا لمیت سے کھیلنے والا کسی قسم کی رعائت کا سزاوار نہیں ہے ۔و ہ غدار ہے وفادار نہیں ہے ۔ اس کی توبہ تو یوں ٹوٹتی ہے جس طرح ساغر ٹوٹتا ہے اور جب وہ جام لبریز دیکھتا ہے تو توبہ توڑ دیتا ہے ۔
توبہ میری، جام شکن، جام میراتوبہ شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیما نوں کا
متحدہ کے قائد کی ہرزہ سرائی ناقابلِ معافی ہے۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

جواب چھوڑیں