حکمرانوں کے لیے ضرورت و سہولت…عوام کے لئے مصائب و مشکلات : ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

افسوس ناک خبر یہ ہے کہ وطنِ عزیز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کے لیے جلاوطنوں کے لیے سہولت ہی سہولت ہے ۔ منی لانڈرنگ میںبرطانیہ کی عدالت نے الطاف حسین کو باعزت بری کر دیا اور اس پر ہمارے سیاستدانوں نے بالکل چپ سادھ لی ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب فرما رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کے بانی پر منی لانڈرنگ کیس ختم ہونے پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اب پاک فوج وطن عزیز کے جغرافیائی دفاع کے ساتھ ساتھ اس کی دولت کے تحفظ کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرے کیوںکہ سیاستدانوں میں سے ایک نے بھی اس بات پر اظہارِ مذمت تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ لوٹ مار پر سب کا اتفاق ہے اور غریب عوام کاقافیہ حیات پوری طرح تنگ کردینے پر متفق ہیں ۔ اربوں روپے ٹیکس وصول کرنے کے لئے سوئی گیس کے بلوں میں اضافہ غریب عوام کا معاشی قتل ہے اور اس قتل میں ہمارے حکمران پوری طرح ملوث ہیں۔ پاکستان کے اداروں کو گروی رکھ کر حکومت چلانے کے کامیاب دعوؤں کی کارکردگی سب کے سامنے آگئی ہے ۔ پاکستان کے وزیر خزانہ کو بہترین وزیر خزانہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے لئے اس سے بہتر وزیر خزانہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے وزیر خزانہ ہیں ۔ خدا کا خوف تو ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں رہا ہی نہیں ہے اس لئے کہ وہ اپنی سہولت اور ضرورت کے لیے ہر وہ قدم اٹھا رہے ہیں جو غلط منزل کی طرف اٹھ رہا ہے ۔ متحدہ کے بانی کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کیس مکمل طور پر ختم کیوں ہوا اس لئے سکاٹ لینڈ یارڈ کو پیسوں کے غلط استعمال کا ثبوت نہیں مل سکا۔ دراصل یہ سارا پیسہ تو برطانیہ کے بنکوں میں ہے اگر یہ پیسہ پاکستان کے بنکوں میں ہوتا تو پھر غلط استعمال کے ثبوت مل جاتے۔ برطانیہ نے جو قوانین ہمارے لیے بنائے ہوئے ہیں اُن کے معیار مختلف ہیں۔ کسی ایک بھی سیاستدان نے لب کشائی کی زحمت گوارا نہیں کی ہے ۔ پیسوں کا غیر قانونی آنے کا بھی سراغ نہیں ملا۔ سرفراز مرچنٹ اور محمد انور کے خلاف مقدمہ بھی داخل دفتر ہوگیا ہے۔ ہم جس نظام میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ صرف ایک ہی نظام ہے اور وہ قرآنی نظام ہے جس میں بکری کا بچہ بھی بھوکا نہیں رہتا اور عوام کو سہولت اور ضرورت کے سامان فراہم کرتا ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے ۔ عوام کو کھڑے ہوجانا چاہئے ہماری عوام میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو سچ اور حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ذاتی مفادات پر اجتماعی مفادات پر قربان کرنے والے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کرسکتے۔ ہمارے حکمرانوں کے گُن گانے والے سیاسی کارکنوں کی تعداد بھی نالاں ہے کہ ہم خوشامد اور تعریف کر کرکے تھک گئے ہیں مگر ہماری طرف بھی ہمارے محبوب راہنمائوں کی نگہ التفات نہیں پڑتی ہے۔ اس وقت عوام معاشی بدحالی کا شکار ہیں ۔ بجلی کے بلوں نے کمر توڑ دی اور رہی سہی کسر سوئی گیس کے بلوں میں اضافے کی خبر بد سن کر دل میں ایک لرزش سی محسوس ہورہی ہے۔ یہ کیسا نظام ہے جو امرا کی تجوریاں غریبوں کی جیبیں کاٹ کر بھرتا ہے اور عوام کو اٹھنے نہیں دیتا۔ کاش ہمارے حکمرانوں کو اس بات کی خبر ہو کہ عوام آپ سے تنگ آچکے ہیں آپ عوام کے دلوں کو فتح کرنے کے لئے اُن کے مصائب و آلام کو اگر ختم نہیں کرسکتے ، اُن میں اضافہ تو نہ کریں۔ مسلم لیگ جو پاکستان کی بانی جماعت ہے اس پر ذمہ داری آتی ہے کہ وہ اپنے پرائمری یونٹ سے لے کر مرکز تک عوام کی صورت حال سے مطلع رہیں کیونکہ آج کا عہد جدید صورتحال کا متقاضی ہے ۔ مرکز میں اور ہر صوبے میں بیس کروڑ عوام کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ اپنی ذاتی تشہیر کی بجائے وہ پیسہ گراس روٹ تک رسائی کے لیے صرف کریں۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

جواب چھوڑیں