Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
کیسا یہ گمان ہے - عالیہ چودھری - تفکر ڈاٹ کام

کیسا یہ گمان ہے – عالیہ چودھری

زندگی کو جتنا مرضی اپنے لیے آسان بنانے کی کوشش کی جائے یہ وقت آنے پر اپنا سیاہ رنگ ضرور دکھاتی ہے۔ وہ سیاہ رنگ جو زندگی کو اندھیرے کی طرف لے جاتا۔پوری زندگی اس نے خود کو سمیٹ کے رکھا تھا ، اپنے قدموں کو غلط رستے کی طرف بھٹکنے نہ دیا۔ اس کی ماں نے شروع سے ہی نصیحتوں کے دھاگے اس کی چادر کے ساتھ ٹانک دیے تھے اور ہمیشہ یہی کہا کہ کبھی انہیں چادر سے کھینچ کے نکالنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ چادر اوڑھنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اور اس نے بھی اس چادر کو اپنا قیمتی اثاثہ مان کر اس کی حفاظت کی۔ جاب کرتے وقت بھی اس نے خود کو کبھی نظر کےفریب کے چکر میں نہیں ڈالا۔وہ بہت سے ایسے سسکتے،بلکتے انجام دیکھ چکی تھی جہاں محبت برباد نہیں ہوتی مگر انسان کو بربا د کر کے رکھ دیتی ہے۔اور اب زندگی کو دوڑاتے وقت نے اپنا رنگ بدل لیا۔ تمام چہروں میں وہ چہرہ جسے پا کے وہ بہت خوش تھی ۔ جو اس کا مسیحا،اس کا نگہبان تھا۔ کوئی دوسری خامی نہ رکھتے ہوئے بھی اس کی لڑکیوں کے بارے میں رائے بہت عجیب تھی۔ وہ جسے اپنا حاصل سمجھتی تھی۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر وہ خود کو تہی دامن سمجھتی۔

زندگی میں کھاے دھوکے کو وہ اپنا تجربہ مانتا اور یہ غلط نہیں تھا مگر اس کی لپیٹ میں سب کو لے کے رکھنا یہ غلط تھا۔ وہ اپنے دلائل کو اس کے سامنے کبھی جتوا نہیں سکی،الٹا خود ہی سر جھکا دیتی۔ وہ کیسے اسے یقین دلاتی کہ ہر لڑکی ایک جیسی نہیں ہوتی ہے، ہر لڑکی کی زندگی میں وہ دور نہیں آتا جو ہوٹلنگ کرتے ہوئے کسی کا ہاتھ تھام کر گزار دیا جائے، ہر کوئی گھر سے باہر قدم صرف اس دھوکے کے پیچھے چلتے رہنے کی وجہ سے نہیں نکالتی۔۔۔ مگر اس کا یقین وہ کرنے پہ تیار نہیں تھا۔

بستر پہ پڑے اس کے وجود کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ دکھ یہ نہیں تھا کہ اس نے کبھی اس پہ انگلی اٹھائی ہو ، غم یہ تھا کہ وہ بھی اسے اسی نظر سے دیکھتا ہو گا۔ اس کے نزدیک اگر کبھی کچھ تھا بھی تو کوئی بات نہیں،آج کل یہ عام سی بات ہے۔ ہر کوئی ایسا ہی ہے۔ اور یہ خیال تکلیف دہ تھا ، اس کی باتوں کی گرفت میں وہ خود کو محسوس کرتی۔ پھر بے تحاشا اماں کی یاد آتی جو کہا کرتی تھیں ”بیٹا،مرد باہر کی گندی ہوا کھانے کا عادی ہو جائے پھر اسے اسی ہوا میں رہ کر ہی راحت محسوس ہوتی ہے۔ ایسے مرد کی نظر پاک نہیں رہتی۔ اس ہوا کے ساتھ ایسی گرد ہوتی جو اس مرد کے دل پر جمی رہتی اور پھر یہی گرد اسے ہر دوسرے پاک وجود پہ بھی پڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور یہی اس کا ” وہم “ اس کا ” شک “ ہے۔ مرد اتنا ظرف والا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے سے منسلک وجود کو ” پارسائی “ کا پیکر مانے اور عورت کے سامنے خود کو وہ کیڑا ثابت کرے جس نے پوری زندگی دلدل میں گزاری۔ جس نے ایسی سوسائٹی میں زندگی گزاری جہاں شہد کی مکھیوں کا جھنڈ اس کے اردگرد رہا ہو ۔ وہ مرد یہاں کسی کے سامنے ہار پھر کیسے مان سکتا۔۔۔وہ اپنے گھر کی عورت کو چادر میں چھپا کر کر ضرور رکھتا ہو گا۔مگر اس چادر پر بھی اسے داغ نظر آتے ہوں گئے۔ اور یہ سب اس کے اندر جمی ہوئی وہ گرد ہے جو اسے آنکھوں میں بھی چھبتی ہے۔ قصور مرد کا بھی نہیں جہاں عورت اس کےشک کا شکار ہے وہاں ایک عورت نے ہی اس شک کو مضبوط کیا ہے۔ “

وہ بستر سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔ آنکھوں کے آنسو صاف کیے اور سامنے کھڑے وجود پہ غور کیا۔ اسے لگا سامنے والے میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔۔۔ وہ جیسے اسے کسی امید کی کرن کی ڈور تھما رہا ہو۔۔۔اس کی بے بسی کو نفرت سے دیکھ رہا ہو۔۔۔ اس کے اندر کے خلا کو دکھوں کے حوالے کرنے پر شدید مخالفت کر رہا ہو۔۔۔ وہ قریب ہوئی اور اس کی آنکھیں پڑھنا شروع کیں۔۔۔ اندھیرے کے پیچھے چھپی روشنی کو دیکھا۔۔۔ سیاہ کے پیچھے سفید رنگ بھی نظر آیا۔۔۔ اور پھر سماعتوں نے اماں کی آواز اسے سنائی۔

”زندگی کو کبھی آسان مت سمجھنا بلکہ اسے آسانی سے گزارنا ۔اور یہ تبھی گزار سکو گی جب تمہیں اس کو گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ آتا ہو گا۔ ورنہ تمہاری عقل کے بغیر یہ زندگی پھوہڑ ہی تمہارے لیے ثابت ہو گی۔ تمہیں اسے برتنا آنا چاہیے۔ دینا کے ان رشتوں کی طرح جو اچھے اور برے ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ رہتے کیونکہ ہم انھیں کسی نہ کسی طرح ا پنی زندگی میں رکھنا چاہتے۔اور ہم انھیں اچھے طریقے سے برتنا شروع کر دیتے،ان کے ہر برے عمل کو نظرانداز کر کے۔ زندگی میں کبھی برا وقت آیا تو تمہیں ان لوگوں جیسا نہیں بننا جو ندی کے پانی کی کم گہرائی دیکھ کر جلدی سے پار ہو لیتے ۔ سمجھدار انسان ہر قدم انتہائی احتیاط سے رکھتا ہوا آگے بڑھتا ہے یہ دیکھتے ہوئے کہ نیچے کی مٹی نرم ہوئی تو پاؤں کہیں اندر دھنس نہ جائیں اس لیے وہ نیچے کی سطح کو بھی محسوس کرتے ہوئے چلتا ہے تا کہ وہ خود کو گرانے سے بچا لے۔ زندگی میں جب بھی ایسا وقت آئے کہ آپ کو اپنے راستے میں کوئی خطرہ نظر آ رہا ہو تو ہر قدم سنبھل کر رکھنا چاہیے۔ خدا نے ہمیں شعور دیا ہے۔ ہم چیزوں کو ٹھیک نہ سہی مگر بہتر ضرور کر سکتے ۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ ٹھیک بھی ہو سکتیں۔ “

اس نے خود کو سامنے کھڑے وجود سے دور کیا۔ پھر ایک نظر اسے دیکھا، اسے جیسے روشنی مل گئی ہو۔ وہ بہتر کرئے گی سب کیونکہ وہ کر سکتی ہے۔ وہ ان چھبتے نامعلوم احساسات کو اپنے اند ر پنپنے نہیں دے گی۔۔ وہ اپنی وفاداری اور محبت کو ہر طریقے ہر رنگ سے مزین کر کے اس کے سامنے خود کو پیش کرئے گی کہ وہ میرے وجود کو ایک دن دوسری کسی نظر سے دیکھنے پہ بھی راضی نہیں ہو گا۔ جب وہ اپنی سوچوں کو مجھ سے الگ کر کے دل کے فیصلوں پہ سر خم کرئے گا۔

عالیہ چودھری

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…