شاعری میں لفظوں کے داؤ پیچ آزمانے والے عمرخان سے انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟
عمرخان – عمر خان
تفکر – قلمی نام؟
عمرخان -عمر تنہا
تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟
عمرخان – 31 دسمبر 1986 ء کو پنجاب، پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر فتح پور ضلع لیّہ میں پیدا ھوا ۔
تفکر – تعلیمی قابلیت؟
عمرخان -ابتدائی سند کی حد تک
تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
عمرخان – ابتدائی تعلیم اول جماعت تک گورنمنٹ پرا ئمر ی سکول ۔اس کے بعد دوسری جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک ایک پرائیویٹ ادارہ فیصل پبلک ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں دسویں جماعت تک گور نمنٹ ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔
تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
عمرخان -اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا البتہ کالج کا منہ ضرور دیکھا۔ مگر بدقسمتی سے گیارہویں جماعت میں انگلش کی سپلی لگنے سے دلبر داشتہ ہو گیا اور پڑھائی کو خیر باد کھ دیا۔
تفکر – پیشہ؟
عمرخان – پرائیویٹ جاب کرتا ھوں۔

تفکر – ادبی سفر کا آغاز کب ہوا؟
عمرخان -شاعری کا شوق تو 2002 سے ہی ھے مگر باقاعدہ آغاز 2006میں کیا ۔
تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟
عمرخان -نظم میں محترم احمد فراز صاحب سے متاثر ھوں جن کا نام بلا شبہ ایک حوالہ ھے اور غزل میں اپنے استادِ محترم ریاض راہی صاحب سے متاثر ھوں۔
تفکر – کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟
عمرخان – جی، محترم پروفیسر ریاض راہی صاحب (گولڈ میڈلسٹ شعبہ اردو ) کی شاگردی اختیار کی۔
تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟
عمرخان – نظم کی صنف بہت پسند ہے۔
تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

عمرخان – غزل اور نظم ان دو اصناف میں کام کیا ۔

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

عمرخان – اب تک دو شعر ی مجمومے منظرِ عام پر آ چکے ھیں

شعری تصانیف

  • لفظ کرتے ہیں گفتگو تیری (2010 )
  • ابھی امکان باقی ھے (2016)

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟
عمرخان -میرا خاندان آج سے 40 سال قبل ڈیرہ اسمعیل خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں کھوئی پیور سے ہجرت کر کے پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر فتح پور میں آباد ہوا۔ ہم پشتو پٹھان ہیں اور ہماری ذات اسملزئی سید بخاری ہے۔ کھوئی پیور اور اس کے ساتھ منسلک چھوٹی چھوٹی آبادیو ں میں بسنے والے تمام پٹھانوں کا ایک کوڈ ورڈ ھے جس کو استرانہ کہا جاتا ہے۔ میرے دادا حضور محترم حاجی عجب شاہ فتح پور کے آباد کاروں میں سے تھے۔ وه انجمنِ تاجران بھی رہ چکے ھیں اور شہر کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت تھے۔ ان کے نام پر منسوب شہر کی سب سے بڑی مسجد ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟
عمرخان – میری شادی 2006 میں ہوئی جب میں 20 برس کا تھا۔

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟
عمرخان – فیملی ممبرز میں ہم 7 بہن بھائی ہیں اور میرے 2 بیٹے ہیں اور میرے بڑے بھائی کے 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ اس سے چھوٹے بھائی کی صرف ایک بیٹی ہے اور ایک بھائی کنوارا  ہے۔
تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟
عمرخان – جی فتح پور ضلع لیّہ،پنجاب پاکستان ہی میں رہائش پذیر ہوں ۔
تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟
عمرخان – بچپن کی یادیں تو بے شمار ہیں مگر و ه دن کبھی نہیں بھول سکتا جب مجھے سکول میں پہلی بار سٹیج پہ اعزازی شیلڈ دینے کے لیے بلایا گیا ۔
تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟
عمرخان – ایک مرتبہ مشاعرہ کی دعوت ہمیں کوٹ ادو شہر میں دی گئی لیکن میرے ایک دوست کی غلطی کی وجہ سے ہم مظفر گڑھ پہنچ گئے جس کی وجہ سے ہم کو 75 کلو میٹر اضافی کرنے پڑے۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

عمرخان – میرے استادِ محترم پروفیسر ریاض راہی صاحب،محسن نقوی صاحب،.احمد فراز صاحب، .ناصر کاظمی صاحب،اور  پروفیسر ڈاکٹر خیال امر و ہوی، نسیمِ لیّہ،ناصر ملک جو بلا شبہ ہمارے لیّہ کا حوالہ اور ہماری شنا خت ہیں ۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

عمرخان – جی میرا کلام ملک کے معروف ادبی پرچوں ارتفاع، الفانوس، پائلٹ آئینہ، سوجھلا، گلدستہ ادب، زربفت، تعمیرِادب، بچوں کا گلستان،اور طلو عِ اشک میں باقاعدگی سے شا ئع ہو رہا ہے۔
تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟
عمرخان – نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا  ۔
تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟
عمرخان – اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے کوئی خاطر خواه کام نہیں ہو رہا۔ اگر ہو بھی رہا ہے تو حقدار کو اس کا حق نہیں مل رہا۔ ہمارے معاشر ے میں موجود ہر قلمکار خواه وه کسی بھی صنف میں لکھنے والا ہو اس کا المیہ یہی ہے کہ اس کو اپنی تحریر قاری تک پہنچانے کے لیے کسی قسم کی حکومتی معاونت نہیں حاصل۔ حکومتِ وقت سے یہی مطالبہ ہے کہ ہر تخلیق کار کی مالی معاونت کی جائے اور ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے تا کہ قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ہر فرد معاشی حوالے سے بے فکر ھو کر ادب کی خدمت کر سکے۔۔
تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟
عمرخان – شعر و ادب کسی ایک شخص کی محبت میں مبتلا کا حالِ دل یا اپنی غربت پہ ماتم کنائی کا نام نہیں۔ شاعر یا ادیب دنیا میں بسنے والے ہر انسان سے محبت کرتا ھے۔ وه اپنی شا عری اور تحریر کے ذریعے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کو دیکھ کر اپنی قلم کو تلوار بنائے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سینہ سپر رہتا ہے اور یہی اس کا مقصد ہونا چاہیئے ۔ نہ کہ ظاہری نمود و نمائش یا وقتی واہ واہ۔ ایک شاعر یا ادیب کا مقصد اپنے جذبات و احساسات کو سب کے سامنے رکھنے کا مقصد، اپنے جلتے بلتے خوابوں کو عوام کی روح پر آشکار کرنا ہوتا ہے کہ اس نے اپنے اور اس سارے جہان کے بارے کتنے خوبصورت خواب دیکھے ہیں۔
تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟
عمرخان -آپ کی اس بے مثال و بے لوث ادبی خدمت سے ادب کو کافی فروغ  ملے گا۔ نئے لکھاریوں  کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ آپ کی یہ کاوش انتہائی خوش آئند ثابت ہو گی۔
تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

  • مجھے پیغام دیتے ہیں مرے ہاتھوں کے یہ چھالے

اسی محنت میں عظمت ہے یہ محنت رنگ لائے گی

  • میَں بچوں کو امیدوں کے اثاثے روز دیتا ہوں

کھلونے دے نہیں سکتا دلاسے روز دیتا ہوں

  • میَں نے خنجر اداس دیکھا ھہے

"آج مقتل میں کس کی باری ہے”

  • اک مزدور کی خالی جیبیں

دیکھ کے آنکھیں بھر آئی ھیں

  • روز کتنے جنازے اٹھتے ہیں

حشر پھر بھی بپا نہیں ہوتا

  • میَں تری عارضی ضرورت ہوں

تو مرا مستقل سہارا ہے

  • مجھ کو ہرحال میں دینی ھے انا ا لحق کی صدا

خود کو سولی پہ سجاؤں گا چلا جاؤں گا

  • چشمِ نمناک کی برسات میں خوش رہتا ہے

دل قلندر ہے اسی بات میں خوش رہتا ہے

  • حُسینی عزم سینے میں سدا بیدار رہتا ہے

یزیدِ وقت کی بعیت کبھی میں کر نہیں سکتا

  • حفاظت ہو سکی ہم سے، نہ جذبوں کی نہ سوچوں کی

کبھی تحریر بیچی ہے کبھی عنوان بیچا ہے

S N 04

جواب چھوڑیں