اک ستارہ جو کہکشاں ہو گیا – ربیعہ امجد – قسط اول

یہ جو مسافر ہیں

انہیں گھر سے نکلے ہوئے

ایک زمانہ بیت گیا ہے

سرحد کی پگڈنڈیوں پر دوڑتے دوڑتے

ان کے پاوٴں گرد آلود ہیں

مگر ان کے پرُ  عزم چہرے

فرطِ  شوق سے چمک رہے ہیں

تھکن کے کوئی آثار نہیں

یوں دکھائی دیتا ہے کہ

زندگی اپنے جوبن پر ہے

اِ ک جستجو جو بیٹھنے نہیں دیتی

اِ ک طلب جو رگ و جاں کے

ہر ریشے میں سما گئی ہے

اس عجب موڑ پہ آکہ

موت بھی زندگی سے گھبرا گئی ہے

رات بھی جاگتے جاگتے سو جاتی ہے

مگر گردشِ  دوراں کی

نبض تھامے ہوئے یہ گمنام چہرے

برسوں سے جاگ رہے ہیں

وقت کوئی بھی کھیل کھیلے

بازی جو بھی رُ خ بدلے

اِ ک بات تو طے ہے

اگر اِ ن مسافروں کے چلتے قدم رُ ک گئے

اِ ن کا سفر تھم گیا

تو اِ س دھرتی پہ شاید

ہر ایک کو سفر پہ نکلنا ہو گا

کہیں یہ حادثہ نہ ہو

اِ سی لئے تو جاگ رہے ہیں

یہ جو مسافر ہیں

               *************

”  جب کسی انسان کے ارادے پختہ ہوں تو وہ پہاڑوں سے بھی ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہے اس کی راہ میں آنے والے وہ تمام پتھر جن کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے –

راستے پر قدم جتنے مضبوطی جمائے ہوں اتنا ہی منزل تک پہنچنے کے چانسز ذیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اس راستے میں آنے والی رکاوٹیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔۔۔۔۔ بہادر لوگ طوفانوں کو اپنے پیروں کی ٹھوکروں پر رکھتے ہیں وہ ان سے ڈر کے بیٹھ نہیں جاتے بلکہ ان کو روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں -جب طوفان آتا ہے تو ہمیشہ کمزور درخت زمین بوس ہوتے ہیں کیونکہ ان کی جڑیں اتنی گہری نہیں ہوتی اس لئے طوفان ان کو ایک ہی جھٹکے سے اکھاڑ دیتا ہے اور زمین بوس کر دیتا ہے ۔۔۔مگر جو درخت مضبوطی سے زمین میں اپنی جڑیں جمائے کھڑے ہوتے ہیں وہی طوفان ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے وہ طوفان کے جھٹکوں سے لڑکھڑاتے ضرور ہیں مگر گرتے نہیں ہیں بلکہ اپنے قدم اور مضبوطی سے جما لیتے ہیں ،اس طرح جب کسی کمزور ارادے والے انسان پر مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے خود کو جھکا لیتا ہے ۔۔۔۔اس کا مقابلہ نہیں کرتا ایسے لوگوں کو مصیبتوں کا ایک ہی طوفان ختم کر دیتا ہے ،مگر وہ انسان جن کے ارادے پختہ ہوتے ہیں وہ اسی مصیبت کہ ڈٹ کر سامنا کرتے ہیں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے رہتے ہیں کبھی ہار نہیں مانتے اور نا ہی اس کے سامنے ہتھیار ڈال کے بے موت مرتے ہیں بلکہ اپنے اندر مزید ہمت اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں –

وقت کسی کے لئے نہیں رکتا مگر لوگ وقت کے ساتھ رک جاتے ہیں ۔۔۔وہ تھک کرآرام کی  خاطر  سستانے بیٹھ جاتے ہیں اور ایسے میں وقت بہت آگے نکل جاتا ہے اور ان کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے زندگی اسی مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو اس کے ساتھ چلتا رہا کامیاب ہوا اور جو رک گیا وہ ناکام ہو گیا "-

زرتاش آفتاب ربانی کی خوبصورت آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا ہر کوئی تقریباً سانس روکے اس کی باتوں کو سن رہا تھا -وہ کچھ دیر سانس لینے کو رکی تھی –

” حالات ہی انسان کو کمزور بناتے ہیں اور حالات ہی انسان کو مظبوط بناتے ہیں -اگر حالات پر انسان کی گرفت کمزور ہوتو وہ ہار جاتا ہے اس کے اندر زندگی سے لڑنے کی طاقت ختم یو جاتی ہے -لیکن اگر حالات پر گرفت مضبوط ہو تو زہر اگلنے والے بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے -انسان بڑے سے بڑے طوفان کا بڑی بہادری سے مقابلہ کر سکتا ہے اس کے بلند حوصلے اسے کبھی بھی شکست نہیں کھانے دیتے-

زندگی میں ہمیشہ آگے کی جانب دیکھو -اس کی فکر کرو جو ہونے جا رہا ہے اس کی فکر میں مت گھلتے رہو جو ہو چکا ہے اور پیچھے گزر گیا -پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنے والوں کو اور جو ہو چکا اس کی فکر کرنے والوں کو زمانہ بہت پیچھے چھوڑ جاتا ہے -جو شکار چھوٹ گیا اس کا غم نا کرو بلکہ جو سامنے ہے اس پر فوکس رکھو کیونکہ وہ آج ہے اور جو گزر گیا وہ کل تھا اور کل کبھی لوٹ کر نہیں آتا ۔۔۔۔اگر انسان گزرے ہوئے کو دیکھتا رہے تو ہو سکتا ہے کہ جو آج ہے وہ بھی گزر جائے اور ایسا کرنے والے انسان ہمیشہ خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں ۔۔۔ان کے ہاتھ ناکامی اور ہار کے سوا کبھی کچھ نہیں آتا "- اس کی سپیچ ختم ہو چکی تھی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا – وہ بڑی تمکنت اور وقار سے سب کا شکریہ ادا کرتی ہوئی نیچے اتری – کئی لوگوں نے رشک اور کئی نے حسد بھری نگاہوں سے اس کا پیچھا کیا مگر وہ بنا کسی کی طرف دیکھے اپنی نشست پر آن بیٹھی –

  "ویل ڈن ذری ۔۔۔۔۔”- فاطمہ نے اس کے چمکتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ایک مدھم سی ہنسی اس کے ہونٹوں پر آئی –

                  *************

کبھی رنگوں کے کہکشاں میں

کبھی بہاروں کے موسم میں

مجھے بارش بلاتی ہے

مجھے ہر پل سناتی ہے

کسی نے یاد کیا تم کو

کوئی ہر پل بلاتا ہے

ہوا کی ہر ِاک شوخی میں

اس کی باتوں کی شرارت ہے

نرم بوندوں کی سنگت میں

اس کی چاہت کی آہٹ ہے

مجھ سے ہر پل ہر لمہے

حسین موسم یہ کہتا ہے

برستی بوندوں میں دیکھو

وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے

ابر رحمت کھل کے برس رہی تھی-آسمان آج زمین کی ساری پیاس بجھانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا- مگرزمین کی تشنگی تھی کہ بڑھتی جارہی تھی- اس کے سینے پر اگے درخت بھی جھوم جھوم کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے- ہرابھرا سبزہ دھل کر کسی نئی نویلی دلہن کی طرح نکھرتا جارہا تھا ٹہنیاں کسی نوخیز دوشیزہ کی طرح لہرا رہی تھیں- ہواکے چلنے سے پتوں کی سرسراہٹ اور گرتی بوندوں کے شور نے ایک عجیب سا ارتعاش برپا کر رکھا تھا-

فریال نے کھڑکی میں سے ہاتھ پھلا کر بارش کی بوندوں کو اپنی ہتھیلی پہ جمع کیا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی دل کو سکون دینے لگا اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اس سکون کو محسوس کرنے لگی اس کی چوٹی میں سے چند آوارہ لٹیں ہوا کی وجہ سے اڑنے لگیں، ہوا میں موجود نمی اس کے چہرےکو بگھونے لگی، اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی، مسکراتے وقت دونوں گالوں میں دو ننھے ننھے گھڑے ابھرے، صاف شفاف چہرہ یوں کھل گیا جیسے رات بھر اوس میں نہانے کے بعد گلاب کی کلی کھلتی ہے- ہوا نے یہ حسین منظر دیکھا تو مہبوت رہ گئی، وہ کھلی ہوئی کلی اس وقت ہر چیز سے ذیادہ حسین لگ رہی تھی- ہوا مسکراتے ہوئے کھلی کھڑکی سے دوبارہ اندر آئی اور اس کے چہرے سے اٹھکلیاں کرنے لگی ایک عجیب سا فسوں پیدا ہوتا جارہا تھا- جس میں ہر گزرتے لمہے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا تھا-

”فریال بیٹا ناشتہ کر لو آکے”-ماما کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ چونکی، جھٹ سے آنکھیں کھولیں ساتھ ہی ہاتھ بھی کھینچ کر کھڑکی سے اندر کر لیا، سارا فسوں ختم ہو چکا تھا- ہوا نے ناراضگی سے یہ منظر دیکھا- وہ اس فسوں سے نکل کر اداس نظر آرہی تھی- فریال نے کھڑکی کے دونوں پٹ بند کیے، اور دوپٹہ درست کرتی کمرے سے نکل آئی، ہوا غصے سے کھڑکی کے بند کواڑوں سے ٹکرائی تو فضا میں برپا شور میں اضافہ ہوا-

وہ نیچے لاوٴنج میں آ گئی –

"گڈ مارننگ پاپا”- فریال نے چہرے کے سامنے اخبار پھیلائے حسن صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور ڈائننگ ٹیبل کے گرد رکھی کرسی کھینچتےہوئے بیٹھ گئی-

"گڈ مارننگ ٹو یو ٹو پاپا کی جان”- حسن صاحب نے اس کی آواز پر فوراً اخبار چہرے کے آگے سے ہٹایا اور مسکراتے ہوئے بولے- لاڈلی بیٹی کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ان کا سیروں خون بڑھ گیا تھا -انہوں نے اخبار رول کر کے ایک طرف رکھ دیا اور مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوئے –

"کیسی ہے پاپا کی پری؟”- وہ دوبارہ محبت سے چور لہجے میں فریال سے مخاطب ہوئے، فریال اب مینگو جوس سے بھرے جگ میں سے جوس گلاس میں انڈیل رہی تھی- بچپن سے اس کی عادت تھی، کہ وہ ناشتہ کرنے سے پہلے جوس لیتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ عادت اس قدر پختہ ہو چکی تھی کہ اگر ٹیبل پر جوس نا ہوتا تو وہ منہ بنا کہ بیٹھ جاتی –

"اے ون پاپا”- وہ مسکراتے ہوئے بولی اور جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگا لیا حسن صاحب نے پیار سے اس کی طرف دیکھا

"اگئیں تم۔۔۔۔۔؟کتنی بار کہا کہ جلدی آیا کرو ناشتے کی ٹیبل پہ”-آسیہ بیگم کچن سے پراٹھوں والی ٹرے لیے برآمد ہوئیں تو اسے ناشتے سے پہلے جوس پیتے دیکھ کر ڈانٹ دیا- اُ ن کو اُ س کی یہ عادت سخت ناپسند تھی کہ وہ ناشتے سے پہلے جوس لیتی تھی -اب بھی  فریال نے مسکراتے ہوئے ان کی ڈانٹ پر کان کھجایا، انہوں نے الو والا گرم خستہ پراٹھا اس کے سامنے رکھا- پراٹھوں کی اشتہاانگیز مہک پورے لاوٴنج میں پھیل گئی تھی-

"ارے واہ بڑی اچھی خوشبوآرہی ہے "-حسن صاحب نے پراٹھوں کو دیکھ کر ایک دم خوشی کا اظہار کیا-

"آپ کے لئے نہی ہیں”-آسیہ بیگم نے ان کو مصنوعی گھوری سے نوازا تو وہ حیرت سے انکی طرف دیکھنے لگے-

"کیوں بھئی میں نے کیا غلطی کر دی؟”- حسن صاحب نے شرارت سے بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-

"کیوں کہ آپ کو ڈاکٹر نے منع کیا ہوا ہے”- آسیہ بیگم ان کے برابر ہی کرسی پر بیٹھ گئیں تو وہ منہ بنا کہ اپنے سامنے رکھے پرہیزی کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے فریال اس دوران خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مگن تھی، مگر سارا دیہان ماما پاپا کی باتوں پر تھا-

"گڈمارننگ اپی”- شبنم کچن سے جیم والی بوتل لے کے آئی تو فریال کو بیٹھا دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی ،اس نے جیم والی بوتل میز پررکھ دی اور اس کے سامنے ہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی-

"سیم ٹو یو جانی” فریال نے پراٹھے کا لقمہ توڑتے ہوئے منہ میں رکھاشبنم اب بریڈ پہ جیم لگانے میں مگن تھی-

"فریال بیٹا یونیورسٹی جانا ہے کہ نہی؟”- آسیہ بیگم نے چائے پیتے ہوئے پوچھا-

پوچھنے کی وجہ موسم کا خراب ہونا تھا –

"جانا ہے ماما مگر تھوڑا لیٹ جاوٴں گی اور شاید تب تک موسم بھی ٹھیک ہو جائے”-  وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ کیوں پوچھ رہی ہیں- اپنے سامنے رکھا الو والا پراٹھا وہ ختم کر چکی تھی ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی-

"چلو ٹھیک ہے لیکن اگر موسم ٹھیک نا ہو تو چھٹی کر لینا”- انہوں نے اسے ہدایت کرتے ہوئے کہا تو فریال نے اثبات میں سر ہلا دیا اور ٹیبل سے اٹھ گئی-

                ************************

وہ چاروں یونیورسٹی کے وسیع لان میں بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں- جابجا بکھری ہوئی کتابیں اور نوٹس اپنی بے قدری پر ماتم کناں تھے ان کی قدر صرف امتحانات کے دنوں میں ہوتی تھی تب ان کو ایسے سنبھال کر رکھا جاتا جیسے روئے زمین پر ان سے ذیادہ قیمتی کوئی دوسری شے ہو ہی نا مگر امتحانات ختم ہوتے ہی ان کے ساتھ پہلے والا سلوک کیا جاتا-

پاس ہی پڑے چپس اور نمکو کے کاغز جو کچھ دیر پہلے خالی کیے گئے تھے ہوا کے ساتھ ادھر ادھر اڑرہے تھے- یپسی کے کین البتہ انکے ہاتھوں میں ہی تھے جن سے وہ وقتاً فوقتاً گھونٹ بھر لیتیں چہروں سے بے فکری چھلک رہی تھی، کوئی پریشانی کوئی دکھ نہی تھاوہ ایک دوسرے کی باتوں پر بلند و بالا قہقہے لگا رہی تھیں- جن پر کبھی کبھی دوسرے سٹوڈنٹس حیرانگی سے انکی طرف دیکھتے ،مگر پھر اگلے ہی لمہے سر جھٹک کراپنی باتوں میں مگن ہو جاتے، ہر ایک کے پاس باتوں کا اتنا اسٹاک جمع تھا کہ کسی دوسرے کی طرف ذیادہ دیر متوجہ رہنے کا وقت ہی نہی تھا- ذیادہ تر سٹوڈنٹس لان میں ہی موجود تھے، جسکی وجہ موسم کا خوشگوار ہونا تھا-

"وجیہہ یہ سوال دیکھنا پلیز مجھے سمج نہیں آرہا کب سے سر کھپا رہی ہوں اس کے ساتھ "-فریال نے رجسٹر وجیہہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جو خود بھی سوال کرنے میں مصروف تھی –

فریال کے بلانے پر اس کی طرف متوجہ ہوئی-

"فری یہ سوال تو مجھے بھی سمجھ میں نہیں آرہا "- وجیہہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

” ایک کام کرتے ہیں ہلپینگ بک سے دیکھ لیتے ہیں "- اس نے زنیرہ کے سامنے کھلی ہلپینگ بک اٹھا لی –

وہ دونوں اب سر جوڑے سوال کرنے میں مصروف ہو گئیں –

"میتھ کا ٹیسٹ دینا آج کے نہیں "- افشاں نے زنیرہ سے پوچھا جو ہاتھ میں پکڑی بال پوائنٹ سے زمین پر کوئی نقش و نگار بنانے میں مگن تھی مگر گھاس کی وجہ سے وہ بن نہیں رہا تھا یا پھر اس کو نظر نہیں آرہا تھا –

"مجھے تو نہیں آتا ویسے "- وہ بنا اس کی طرف دیکھے بولی اپنے کام میں اس کی دلچسپی اس قدر ذیادہ ہوتی تھی ہمیشہ کہ  دورانِ  کام اسے کسی چیز کا ہوش نا رہتا خواہ وہ کام کتنا ہی غیر ضروری یا فضول کیوں نا ہو –

"تمہیں کبھی آتا بھی ہوتا ہے کچھ "- وجیہہ نے طنزیہ کہا اس کا کام ختم ہو چکا تھا فریال اب اس سوال کو دوبارہ سے حل کرنے میں لگ گئی تھی –

” میں نے پڑھ کہ کیا کرنا بھلا ۔۔۔ تم ہو نا مجھے چیٹنگ کروانے کے لئے ۔۔۔تمہاری طرف دیکھ کے کاپی کر لوں گی "- اس نے سنجیدگی سے جواب دیا دیکھنے کی زحمت اب بھی نہیں کی تھی اس کے لئے ہر چیز سے ذیادہ ضروری اس کا کام تھا –

وجیہہ نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا –

"نالائق عوام ۔۔۔۔۔”- وہ زیرِ  لب بڑبڑائی تو افشاں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی –

"ویسے آج تو میں بھی تمہاری طرف دیکھ کہ ہی لکھوں گی "- افشاں نے اسے چھیڑا تھا –

"ہاں پہلے تو جیسے بڑا تم خود لکھتی ہو ۔۔۔۔آج تو میں بلکل نہیں دکھاوں گی تم دونوں کو ۔۔۔۔خود پڑھ کے آیا کرو "- اس نے ان کو پہلے ہی وارنگ دے دی –

"میری پیاری بہن نہیں ہو پھر تم "- افشاں نے اسے مسکا لگایا تو اس نے ہاتھ میں پکڑا رجسٹر کھینچ کے اس کے بازو پہ دے مارا تو وہ غصے سے اسے گھورتی بازو سہلانے لگی تھی وجیہہ کے دو کلو بھارے رجسٹرنے اس کا کاندھا اچھا خاصہ ہلا ڈالا تھا –

"چلو اٹھو کمپیوٹر کی کلاس لینے چلیں صرف پانچ منٹ رہ گئے ہیں اور ابھی کلاس روم بھی ڈھونڈنا ہے پانچ منٹ تو اسی میں لگ جانے ہیں”-زنیرہ نے پیپسی کے کین میں سے آخری گھونٹ بھرا اور اسے دور اچھال دیا-

"یار تھوڑا سا ویٹ کر لو ابھی چلتے ہیں۔۔کلاس میں جا کر بھی تو بور ہی ہونا ہے سر ارسلان کی کونسا سمجھ اتی ہے”- افشاں نے منہ بناتے ہوئے کہا وہ شروع ہی سے پڑھائی کے معاملے میں چور تھی، کلاس سے ذیادہ اس کالان کیفے ٹیریا اور لائبریری میں دل لگتا تھا، وہ پڑھائی سے ذیادہ ہلے گلے کی شوقین تھی، جب کہ اس کی نسبت وجیہہ خاصی پڑھاکو تھی، اس کا دل کتابوں نوٹس اور رجسٹروں میں لگتا تھا زنیرہ کو بس لیکچر نوٹ کرنے کی جلدی ہوتی تھی-

"اٹھ جاوٴ نالائقو سر نے کلاس میں نہی آنے دینا۔۔۔ بعد میں ان کی منتیں کرنے سے بہتر ہے ابھی عقلمندی کا مظاہرہ کیا جائے”- فریال نے بکھرے نوٹس اور کتابیں سمیٹتے ہوئے کہا تو ان تینوں کو بھی چاروناچار اٹھنا پڑا-

         *********************

"چلو جلدی سے ہمیں ٹریٹ دو اور وہ بھی فائیو سٹار میں اور خبردار جو پیسوں کا بہانہ کیا اس دفعہ کوئی چولیں نا مارنا کیونکہ ہم تمہیں کسی بھی حال میں نہی بخشنے والے”- فارس نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

” بلکل اور بے شک اس دفعہ بھیک مانگ کہ پیسے اکھٹےکرو ہمیں کوئی کنسرن نہی کسی بات سے ہمیں بس ٹریٹ چاہئے تگڑی سی ” فرحان نے بھی لقمہ دیا-

"یار تم لوگ یہ بھی توبتاو نا کہ ٹریٹ کس بات کی دوں میں تم لوگوں کو، ایسا کونسا معرکہ میرے ہاتھوں انجام پایا ہے، جس کی خوشی میں تم لوگ مجھ جیسے غریب بندے کی جیب خالی کروانے کے چکروں میں ہو”- حیدر نے حیران ہونے کے ساتھ ساتھ ان دونوں کو غصے سے گھورا-

"اوئے گنجے خبردار جو خود کو غریب کہا تو پانچ سو روپے جس بندے کی روزانہ کی پاکٹ منی ہو وہ کس اینگل سے غریب ہے اور اگر معرکے کی بات کر رہے ہو تو وہ تین دن پہلے ہونے والی تمہاری منگنی ہے”- آکاش جو پہلے فون کے ساتھ لگا ہوا تھا، حیدر کے معصومیت سے کہنے پر پھٹ پڑا، اس کی اداکاری اسے ایک آنکھ نہی بھائی تھی –

"آکاش تم بھی ان کے ساتھ مل گئے ہو بہت افسوس ہوا دیکھ کہ "- حیدر نے آکاش کے بولنے پر مصنوعی افسوس کا اظہار کیا –

"بلکل میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔بلکہ یوں کہو کہ یہ میرا ہی مشورہ ہے "- آکاش نے اس کے علم میں مزید اضافہ کیا –

"اففف ظالم تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔تم مجھے دھوکا دے سکتے ہو یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا "-وہ آنکھوں میں شرارت سموئے بولا تھا انداز اسے تپانے والا تھا –

"چپ ابے ایکٹر ۔۔۔۔یہ فضول ڈائلاگز بھابی کے سامنے بولنا تاکہ کچھ اثر بھی ہو ۔۔۔۔یہاں بولنے کا کوئی فائدہ نہیں "- اس نے اس کی حیدر کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا –

"اور تم کنجوس انسان کبھی خوشی سے بھی ہاں کر دیا کرو ۔۔۔الله بخشے میری دادی کو کہا کرتی تھیں کہ کم بالوں والے لوگ بہت کنجوس ہوتے ہیں "- فارس نے اس کو چھڑتے ہوئے کہا جانتا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح بھڑک اٹھے گا –

"اوئے تمہاری یہ مرحوم دادی کتنےفرمان جاری کر کے گئیں تھی ایک ہی بار سنا دے ۔۔۔۔اور ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ ہر فرمان میرے حوالے سے ہی کیوں ہوتا ۔۔۔حالانکہ مجھے تو اتنی نیک روح سے ملنے کا کبھی اتفاق بھی نہیں ہوا "- حیدر نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا -آکاش اور فرحان کا ہنس ہنس کہ برا حال ہو گیا تھا ان دونوں کی کھٹی میٹھک باتوں پر وہ اور فرحان ہمیشہ ہنس ہنس کے بیک گراؤنڈ میوزک دیتے تھے بقول حیدر کے –

"بس یار اپنی اپنی قسمت ۔۔۔۔۔تمہاری قسمت اتنی اچھی نہیں ہے کہ تمہیں ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوتا  "- فارس نے مصنوعی افسوس کا اظہار کیا –

"مجھے ان سے ملنے کا کوئی شوق بھی نہیں تھا ۔۔۔۔مجھ سے ملے بغیر اتنا کچھ کہہ گئیں میرے بارے میں اگر ملاقات ہو جاتی تو ان کا کیا بھروسہ تھا مجھ پر دو تین کتابیں ہی لکھ جاتیں "- حیدر کا انداز صاف مزاق اُ ڑانے والا تھا –

الله بخشے میری دادی کو کہا کرتی تھیں کہ منہ پھٹ اور بدتمیزوں کے منہ کبھی مت لگا کرو اپنا ہی وقت ضائع ہوتا "- فارس بھی کہاں ہار ماننے والوں میں سےتھا وہ جب تک اُ س کو مکمل زچ نا کر لیتا تھا  اس کو چین نہیں ملتا تھا-

"تمہاری دادی اگر مر نا گئی ہوتی تو آج میں ان کا قتل ضرور کر دیتا ۔۔۔۔پھر چاہے مجھے پھانسی ہی کیوں نا ہو جاتی "- حیدر کی برداشت جواب دیتی جارہی تھی –

"بس کر دو یار کیا فضول کی ہانکتے رہتے ہو تم لوگ ۔۔۔۔ آکاش نے بمشکل اپنی ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے کہا-

"یہ ہانکتا ہمیشہ ۔۔۔میں تو بولتا بھی نہیں "-فارس نے حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

"تم پہلے بکواس کرت ہو تو میں بولتا ہوں نا”-حیدر نے فارس کے شانے پہ ایک مکا مارتے ہوئے کہا –

"یار تیرا ہاتھ ہے کہ ہتھوڑا ۔۔۔۔اتنی زور سے مارتے ہو ۔۔۔لگتا کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی "- فارس نے اسے گھورتے ہوئے اپنا شانہ سہلایا –

"چپ کرو تم لوگ ۔۔۔ہاں تم بتاو کب دے دی ہو ٹریٹ "- آکاش نے ان دونوں کو ڈپٹا اور حیدر سے پوچھا جو بڑے ریلکس انداز میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا –

"ابھی میں نے سوچا نہیں "- وہ شان بے نیازی سے کہتا ہوا وہاں سے اٹھنے لگا –

"بیٹھ ادھر چپ چاپ ۔۔ٹریٹ تو تیرا باپ بھی دے گا "- فارس نے اسے کھینچتے ہوئے پھر بیٹھا لیا –

حیدر نے ٹریٹ سے بچنے کے لئے ہزاروں عضر پیش کیے،مگر وہ تینوں بھی ایک نمبر کے ڈھیٹ تھے، انہوں نے اس سے ہاں کروا کر ہی دم لیا

"آکاش تم واپس کب جا رہے ہو؟”- فارس نے آچانک آکاش سے سوال کیا تو وہ چونک پڑا موبائل کی سکرین سے نظریں ہٹا کر دیکھا-

"پرسوں جا رہا ہوں” آکاش نے مختصر جواب دیا وہ کچھ افسردہ نظر آرہاتھا –

"تمہاری چھٹی اتنی مختصر کیوں ہوتی ہے یار؟ اور اس بار تو تم بس ایک ہفتے کے لئے آئے ہو”-  حیدر نے اس کے اداس چہرے کی طرف کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھتے پوچھا وہ خود بھی کچھ افسردہ ہو گیا تھا-

"بس ڈئیر حالات بہت خراب ہیں میجر صاحب کا فون آیا جانا تو پڑے گا،شاید کسی مشن پہ جانا ہے”- وہ فون کو پاکٹ میں رکھتے ہوئے بولا –

"اللہ  ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور اسے دشمنوں کی بری نظر سے محفوظ رکھے”-  فارس نے کہا تو بے ساختہ ان تینوں کے منہ سے آمین نکلا –

             ******************

کچھ خاص دِ لوں کوعشق کے الہام ہوتے ہیں

محبت معجزہ ہے اور معجزے کب عام ہوتے ہیں

وہ سب اِ س وقت یونیورسٹی سے بنے کچھ فاصلے پر بنے ریسٹورنٹ میں جمع تھے- حیدر نے ان کو اپنی منگنی کی ٹریٹ دی تھی ، آکاش کے علاوہ وہ تینوں خوب ہلاگلا کر رہے تھے- آکاش کا سارا دیہان اپنے فون کی جانب تھا، جہاں وقفے وقفے سے فاطمہ کے مسجز آرہے تھے- فاطمہ اس کی کزن ہونے کے ساتھ ساتھ منگتر بھی تھی- چند مہینے پہلے گھر والوں کی رضا سے دونوں کی منگنی ہوئی تھی- فاطمہ اس کو پسند بھی کرتی تھی، مگر آکاش کے دل میں ابھی تک اس کے لئے کوئی خاص جزبہ نہیں تھا، مگر پھر بھی وہ سارا دن اس سے بات کرتا تھا، وہ اگر اسے پسند نہی تھی تو نا پسند بھی نہیں تھی-

اس وقت بھی وہ دونوں اِ سی بات پر بحث کر رہی تھی- فاطمہ اس سے بار بار بار پوچھ رہی تھی کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے کہ نہیں وہ اسے شادی کے لئے بھی فورس کر رہی تھی،مگر آکاش کا ابھی شادی کا کوئی پلان نہیں تھا- اس لیے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا، جس پر وہ ناراض ہو رہی تھی -آکاش کے پاس اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا-

"یار بس بھی کر دے چھوڑ بھی دے اِ س سیل فون کی جان جب دیکھو اِ سی میں گھسے رہتے ہو”- حیدر نے اس کے ہاتھ سے سیل فون چھینتے ہوئے کہا تو وہ جو بڑا مگن سا بیٹھا تھا ، ہڑبڑایا اور پھر اسے گھورنے لگا تو جواباً حیدر نے دانتوں کی نمائش کی، باقی دونوں بھی ہنسنے لگے تو آکاش نے ان کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی-

"چلو کیپٹن گانا سناو”- فارس نے نئی فرمائش کی تو باقی دونوں نے بھی اس کی تائید کی وہ اس کے فورس کرنے لگے مگر وہ ڈھیٹ بنا بیٹھا رہا-

"نا تنگ کرو پلیز میں پہلے ہی پریشان ہوں، مزید موڈ نا خراب کرو میرا”- وہ ان کو ٹالنے والے انداز میں بولا-

"خدا کے فضل سے آپ کا موڈ تو ہمیشہ ہی خراب رہتا یہ کونسی نئی بات ہے،اب شرافت سے سناو”- حیدر نے طنزیہ کہا مگر وہ زرا بھی ٹس سے مس نا ہوا –

"کیپٹن پلیز سناو”- حیدر نے ضدی لہجے میں کہا

"تمہاری شادی پر سناوں گا وعدہ رہا”- اس نے حیدر کو چھیڑتے ہوئے کہا اندازجان چھڑانے والا تھا-

"تم سنا رہے ہو یا نہی”- وہ تینوں غصے سے اس کی طرف بڑھے، تیور خاصے  جارجانہ تھے-

فریال نےشور کی آواز پر گردن موڑ کر ان کی طرف دیکھا، تو دیکھتی رہ گئی اپنے فرینڈز سے بچتا ہوا وہ بہت معصوم نظر آرہا تھا- وہ یک ٹک اس کی طرف دیکھنے لگی آکاش کو اپنے چہرے پر کسی کی نگاہوں کی تپش محسوس ہوئی تو وہ اس کی طرف دیکھنےلگا سامنے ہی وہ بیٹھی تھی ،دونوں کی نگاہیں ملی فریال گڑبڑا گئی، اگلے ہی لمہے وہ سیدھا ہو کہ بیٹھ گیا،فریال کو مکمل نظر انداز کر دیا فریال کتنی ہی دیر اس کی طرف دیکھتی رہی، اس کی سیاہرات سی گہری آنکھوں میں اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، محبت کے ننھے سے پودے نے زمین سے اپنا سر باہر نکالا اور اردگرد کی گیلی اور زرخیز زمین نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا- فریال نے خود کو ایک عجیب سے احساس سے دوچار پایا، اپنےاردگرد اسےجگنو چمکتے  ہوئے محسوس ہوئے،دل نے ایک الگ ہی لے میں دھڑکنا شروع کر دیا تھا ، محبت کے میٹھے احساس نے اسکے دل میں گدگدی کی جس سے ایک الگ ہی قسم کا سرور اور لطف حاصل ہوا-

فریال نے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑ کہ دیکھا تو ساکت رہ گئی، وہ ٹیبل خالی تھے جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ دیر پہلے  بیٹھا ہوا تھا- اس کے دل کو کچھ ہوا،ابھی تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، دل کو قرار بھی نہی ملا تھا، دل ملے بھی نہیں تھے اور جدا ہو گئے تھے، فاصلے کم ہونے سے پہلے ہی بڑھ گئے تھے- وہ چلا گیا تھا، ناجانے کہاں وہ کیسے ڈھونڈے گی اسے کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی اس کے بارے میں، کون تھا، کہاں سے آیا اور کہاں گیا-

” او ہیلو محترمہ کن مراقبوں میں گم ہو، اٹھو کلاس نہیں لینی کیا؟”- وہ جو سوچوں کی وادی میں ناجانے کہاں بھٹک رہی تھی، ایک دم چونکی افشاں نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا –

” چلو جلدی میم کلاس میں اگئی ہیں”- ابھی ندا کا میسج آیا زنیرہ نے سیل فون بیگ میں رکھتے ہوئے کہا، تو وہ بے دلی سے ان کے ساتھ چل پڑی-

” دو بج گئے ہیں بہن زرا جلدی چلو”- وجیہہ نے چلتے ہوئے اسے ٹوکا دیا تو وہ رک کر اسے دیکھنے لگی-

” اچھا کب ۔۔۔۔۔؟”- بے ساختہ ہی منہ سے نکلا-

” جب تم اپنے خیالوں کی دنیا میں لینڈ کر چکی تھی، اب جلدی چلو "- افشاں نے طنزاً  کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی –

           ***********************

اے چاند

جب وہ تیری طرف دیکھیں

توانہیں کچھ یاد دلانا

مدھر سے کچھ گیت سنانا

اور کہنا ۔۔۔۔۔!

تمہیں کوئی یاد کرتا ہے

تیری آرزو

تیری امید کرتا ہے

کوئی آج بھی تجھے دیکھ کر

سانس لیتا ہے

رات دھیرے دھیرے بھیگتی جا رہی تھی- وہ لان میں لگے جھولے پر بیٹھی سوچوں میں مگن تھی- دل میں دور دور تک یرانی اور یاسیت نے ڈھیرے جمائے ہوئے تھے- اسے ہر چیز بھی اپنی طرح اداس اور چپ چپ لگی اس نے پاوٴں گھاس پہ رکھے تو ایک عجیب سی ٹھنڈک کا احساس ہوا مگر دل میں جلتی بھڑکتی آگ پر اس ٹھنڈک نے کوئی اثر نا کیا- ایک انسو کا قطرہ چپکے سے پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آیا جسے اس نے بڑی بے دردی سے صاف کیا ابھی تو ٹھیک طرح محبت کو محسوس بھی نہی کیا تھا اور وہ اس سے ہمیشہ کے لئے دور چلا گیا –

کیا ایسا ہوتا کہ ایک انسان کو ہم ایک دفعہ دیکھیں اور اس کی محبت میں گرفتار ہو جائیں، ہر پل ہر لمہہ ہم اس کو یاد کریں اس کے سوا کسی اور کا خیال تک نا آئے مگر وہ انسان ان سب سے بلکل بے خبر ہو سے کچھ بھی پتہ نا ہو کتنے خوش نصیب ہوتا ہیں وہ لوگ جن سے کوئی پیار کرتا ہے، جن کو کوئی یاد کرتا ہے ہر پل ہر لمہہ ان کو سوچتا ہے اور وہ ہر پل ہی اس بے خبر رہتے ہیں، کس قدر بے بسی کا عالم ہوتا یہ انسان چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا وہ اپنے خیالات اپنے اظہارات اس سے شئیر بھی نہیں کر سکتا –

ہم تیرے وہم و گمان میں بھی نہی

اور تو لفظ لفظ ہمیں یاد ہے

فریال نے ایک نظر چاند پر ڈالی جو اپنے پورے بوبن پر تھا وشنی اس قدر تیز تھی کہ اس کی آنکھیں چندھیا گئیں ان میں پانی بھر آیا،چاند کتنا خوبصورت تھا، یا شاید پیار کرنے والوں کو چاند یونہی خوبصورت لگتا، وہ ان کے دل کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچاتا –

” پلیز اسے کہو کہ میں تمہیں بہت یاد کرتی ہوں، تم مجھے ایک بار بس ایک  بار مل جاوٴ،میں تم سے وہ ساری باتیں کروں گی جو میرے دل میں ہیں اور تمہیں بتاوں گی کہ میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں، میں تمہیں بتاوں گی کہ تمہاری سیاہ طلسمی آنکھوں نے مجھے تنا تڑپایا ہے، میرا چین قرار سب چھین لیا، تمہارے چہرے کی معصومیت نے مجھے دیوانہ بنا دیا اور تم سے ملنے کے بعد ایک بھی see ایسا نہیں جس میں تمہیں میں نے یاد نہیں کیا پلیزتم اس سے کہو” وہ چاند سےسے مخاطب تھی- اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ یہ سب یوں کہہ رہی تھی جیسے اسے لگا کہ چاند جا کہ یہ سب اس کو بتائے گا اور وہ واقعی اس سے ملنے آجائے گا

وہ کچھ دیرچاند سے اس کی باتیں کرتی رہی، اور پھر نا جانے کب نیند کی دیوی نے اسے اپنے بانہوں میں بھر لیاوہ وہیں جھولے سے ٹیک لگائے نیند کی آغوش میں خوابوں کی دنیا میں اتر گئی، جہاں وہ اس کے ساتھ تھا پلیکں بچھائے اس کا منتظر کتنا خوبصورت لگ رہا تھا- وہی سیاہ طلسمی آنکھیں جو مقابل کو زیر کرنے کا ہنر رکھتی تھیں- وہ بڑی محویت سے اسے تکنے لگی تو وہ ایک دم مسکرایا، مسکراتے ہوئے دائیں گال میں ایک ننھا سا گھڑا ابھرا سیاہ طلسمی آنکھوں کی چمک اور بڑھ گئی کتنی خوبصورت تھی اس کی ہنسی، وہ کھو سی گئی-

” تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے؟”- فریال نے اس کی سیاہ طلسمی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اداسی سے سوال کیا ،مگر وہ بنا کوئی جواب دئے  چپ چاپ اس کے صبیح چہرے کو تکتا رہا-

      **********************

آکاش نے گھڑی کی جانب دیکھا رات کے دو بج رہے تھے لیپ ٹاپ پر مسلسل کام کرنے سے اس کی آنکھیں درد کرنے لگیں تھی- اس نے زور سے ان کو میچا، اور ایک بھر پور انگڑائی لی

لیپ ٹاپ کشٹ ڈاوٴن کرنے کے بعد لائٹ آف کرنے لگا، تو ناجانے دل میں کیا آیا وہ بیڈ سے اتر کر کھڑکی کی طرف آیا، اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اس کا منتظرہو اس نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کا ایک پٹ وا کیا تو نظریں سیدھی چاند سے ٹکرائیں، اور کب سے اس کا منتظر چاند اسے دیکھ کر مسکرایا اور اس مسکراہٹ میں کسی کے کئی پیغامات تھے- ایک جاندار سی مسکراہٹ اس کے لبوں کو چھو گئی، آنکھوں کی چمک اس حد تک بڑھ گئی کہ یوں محسوس ہوا جیسے ان میں دیے جلائے ہوں کسی نے اسے یاد کیا تھا، دل کی گہرائیوں سے، کبھی کبھی ہم اس چیز کو حقیقت مان لیتے ہیں جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہی ہوتا اور جس کا وجود ہوتا وہ اس غیر حقیقی چیز کے پردے کے پیچھے چھپ جاتی ہے اور بظاہر اپنا وجود کھو جاتی ہے-

آکاش کے دل میں ایک خوشگوار سا خیال آیا اور ایک نام بڑے پیار سے اس کے ہونٹوں سے جدا ہوا تھا-

” فاطمہ ۔۔۔۔۔”-

فریال کی آنکھ کھلی اس کا تنفس تیز تیز چل رہا تھا- سارا جسم پسینہ پسینہ ہو رہا تھا دل کی دھڑکنیں بھی منتشر ہو چکی تھیں- ایک درد اٹھا تھا دل میں یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے نیزہ چھبو دیا ہو وہ حیران پریشان سی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ آخر کیا ہوا تھا-

      ***********************

"ہاں بھئی شہباز خان کیا بنا رہے ہو ہرطرف دھواں پھیلا رکھا ہے؟”- صوبیدار فاروق خیمے کے پچھلے حصے کی طرف آئے تو فضا میں چہار سو پھیلا دھواں دیکھ کر پوچھنے لگے- ان کو کھانسی شروع ہو گئی تھی- دھوئیں کے زہریلے مادے جونہی سانس کے ذریعے اندر گئے تو فوراً اپنا اثر دکھانے لگے- صوبیدار فاروق نے دھوئیں کے وسط میں لکڑیوں پر کچھ پکاتے شہباز خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا جو خود بھی مسلسل کھانس رہے تھے-

"سر جی چائے بنانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر ابھی تک قہوہ بھی نہیں بن پایا، لکڑیاں گیلی ہیں جس کی وجہ سے آگ جلانے میں دقت ہو رہی ہے”- شہباز خان نے اپنے مخصوص پٹھانوں والے لہجے میں جواب دیا- ان کا تعلق خیبر پختونخواہ تھا- اس لئے ان کا لہجہ اور ہلیہ دونوں پٹھانوں والے تھے- آرمی یونیفارم میں ان کا حلیہ تو چھپ گیا تھا مگر لہجہ چھپانے میں وہ ناکام تھے-

"خان صاحب اتنی دیر میں تو پائے بن جاتے ہیں جتنی دیر آپ چائے بنانے میں لگا رہے”- ہیں صوبیدار فاروق نے کھانستے ہوئے کہا شہباز خان اٹھ کر ان کے پاس آن کھڑے ہوئے-

"سر جی لکڑیاں گیلی تھیں سوکھی لکڑیاں نہیں مل رہی تھیں تو گیلی ہی کاٹ کر لانی پڑیں اسی لئے آگ نہیں جل رہی”_ شہباز خان صوبیدار فاروق کے ساتھ چلتے ہوئے خیمے کے اگلے حصے کی طرف اگئے، جہاں دوسرے سپاہی ٹولوں کی صورت میں ادھر ادھر خوش گپیوں میں مگن تھے-

"سر جی آپ چائے پئیں گے؟”- شہباز خان نے سر پر پہنی کیپ کو ہاتھ میں لیتے ہوئے صوبیدار فاروق سے پوچھا، جن کے ہاتھ میں دور بین تھی جس کی مدد سے وہ اردگرد کا جائزہ لے رہے تھے-

یہ سوات کا علاقہ تھا چاروں طرف بلند پہاڑوں میں گرا ہوا کیا، پتہ دشمن کہاں گھات لگائے بیٹھا ہو اور کسی بھی وقت حملہ آور ہو جائے اسی لئے چوکنّا رہنا ضروری تھا-

"ارے خان صاحب ہم چائے ضرورپئیں گے، مگر بنے تب نا اور ہم اکیلے نہی پئیں گے، کپتان صاحب کے ساتھ پئیں گے”- صوبیدار فاروق نے دور بین سے نظریں ہٹا کر مسکراتے ہوئے جواب –

ہاں سر جی کپتان سر کو بھی باہر بلائیں نا وہ تو ہر وقت اکیلے ہی رہتے ہیں، ویسے میں نے غور کیا جب سے ان کی منگنی ہوئی ہے وہ ایسے ہی چپ چپ رہتے ہیں کوئی ہلہ گلہ بھی نہی کرنے دیتے پتہ نہیں کیا بات ہے؟”- شہباز خان کو اچانک یاد آیا تو پوچھنے لگے-

” یہ بات تو میں نے بھی آبزرور کی ہے کہ کپتان صاحب منگنی کے بعد سے کچھ بدل گئے ہیں خیر تم چائے بناو میں دیکھتا ہوں ان کو”- صوبیدار فاروق نے ان کا دیہان چائے کی طرف مبزول کروایا تو وہ بھی چونکے چائے کو تو وہ بھول ہی گئے تھے چائے کے چکروں میں کہیں قہوے سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں وہ فوراً پیچھے کی طرف بھاگے- صوبیدار فاروق ان کی اس حالت پہ مسکرائے اور خیمے کا پردہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے سامنے ہی کیپٹن آکاش ربانی خیمے کی اندرونی دیوار سے ٹیک لگائے ٹانگیں پھلائے نیم دراز تھے- ہاتھ میں موبائل تھام رکھا تھا- جس پر انگلیاں بڑی تیزی سے متحرک تھیں- چہرے پر بڑی جاندار سی مسکراہٹ تھی ان کے پاس ہی چٹائی پر کارڈلیس رکھا تھا ساتھ ہی چند کتابیں اور موبائل کا چارجربھی پڑا ہوا تھا -صوبیدار فاروق نے شرارتی نظروں سے ان کی طرف دیکھا ہ سمجھ گئے تھے- کہ کپتان صاحب اس وقت کس سرگرمی میں مصروف ہیں –

” اسلام  و علیکم سر”-صوبیدار فاروق نے سلیوٹ مارتے ہوئے کہا تو کیپٹن آکاش نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا-

” وعلیکم سلام.! جی صاب کیا سیچوئشن ہے؟”- انہوں نے صوبیدار فاروق کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-

” سب ٹھیک ہے سر”-  وہ مودب لہجے میں بولے کچھ دیر تک دونوں طرف خاموشی چھائی رہی صوبیدار فاروق ان کی طرف دیکھتے رہے-

” آپ ایسے کیا دیکھ رہے ؟”- کیپٹن آکاش نے مصنوعی غصے سے پوچھا –

” سر میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ جب سے آپ کی منگنی ہوئی ہے آپ موبائل میں ہی گم ہو گئے بھلا آپ کی منگنی اور موبائل کا کیا کنکشن”- صوبیدار فاروق شرارتی لہجے میں بولے-

” صاب”- ۔۔۔۔ کیپٹن آکاش نے ان کو گھورا

” حاضر جناب”-۔۔۔ وہ فوراً مودب ہوئے نگاہیں جھک گئں مگر ان میں شرارت ہنوز قائم تھیکیپٹن آکاش نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی-

” باز اجائیں آپ ۔۔۔ میری منگنی اور فون کا کوئی کنکشن نہی ہے میں تو ویسے ہی گوگل پر کچھ سرچ کر رہا تھا”- کیپٹن آکاش نے فون کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے ان کو مطمئن کرنا چاہا-

” ویسے سر گوگل بھی فنی ایڈز بھی اتی ہیں کیا؟ جو آپ اتنا مسکرا رہے تھے”- ان کی رگ شرارت دوبارہ پھڑکی تو کپتان صاحب نے اب کی بار سچ میں ان کو گھورا جس پر وہ فوراً سر جھکا گئے –

” صوبیدار صاحب یہ باہر شور کیوں ہے اتنا کیا ہو رہا ؟”- کیپٹن آکاش کا اشارہ باہر سے آنے والی آوازوں کی طرف تھا –

"وہ سرآپ کی منگنی کی خبر ہمارے جوانوں کو کچھ دن پہلے ملی ہے تو وہ اس خوشی میں ہلا گلا کر رہے ہیں  "-

"اور یہ ڈھول کہاں  بج رہا ہے؟” وہ حیران ہوئے –

” وہ سر یہ ڈھول نہی صندوق بج رہا ہے”- صوبیدار فاروق نے مسکراتے ہوئے ان کو خبر دی-

"کون بجا رہایہ ؟”  انہوں نے دلچسپی سے پوچھا –

” لیفٹیننٹ شہریار بجا رہے ہیں”- سر صوبیدار فاروق نے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا

شہریار کو کوئی ایسا بھی کام ہے جو نہی آتا کیپٹن آکاش کے چہرے پر بہت گہری مسکراہٹ تھی-

"سر آپ بھی آئیں نا باہر کچھ انجوائے منٹ ہو جائے گی اور ساتھ ہی چائے بھی پئیں گے ، شہباز خان چائے بھی بنا رہا ہے”- صوبیدار فاروق نے ڈرتے ڈرتے پوچھا مبادا کپتان صاحب غصہ ہی نا ہو جائیں کیونکہ جب سے وہ واپس آئے تھے تنہائی پسند ہو گئے تھے، اور شورو غل سے چڑنے لگے تھے –

”ہاں ہاں کیوں نہیں میں بھی آ رہا ہوں”-  کیپٹن آکاش نے فون کو اٹھاتے ہوئے کہا جہاں بار بار بپ ہو رہی تھی-

"آجائیں سر جوان آپ کا انتظار کر رہے ہیں وہ آپ کو منگنی کی مبارک باد بھی دینا چاہتے ہیں”- صوبیدار فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا اور خود باہر نکل گئےجہاں محفل جمی ہوئی تھی –

کچھ دیر بعد کیپٹن آکاش بھی باہر نکل آئے تو سب جوانوں نے ان کو دیکھتے ہی ہوٹنگ کرنا شروع کر دی- ارے یہ کیا کپتان صاحب تو شرما رہے تھے- یہ معجزہ کب ہوا کپتان صاحب کو شرم بھی اتی تھی منگنی ہوتے ہی یہ کرشمہ ہو گیا شادی کے بعد اب پتہ نہی کیا کیا ہونا تھا –

          *********************

پہلے ماں سے کچھ پوچھا تھا

پاوٴں میں باپ کا جوتا تھا

کیا چال میں خوب روانی تھی

کاندھے پہ نئی جوانی تھی

جس کام سے چلے ہیں چہرے سے

وہ کام ضروری لگتا ہے

آنکھوں میں دیکھا جب اس نے

وہ پیغام ضروری لگتا ہے

کتنا پیارا ہو گا وہ بھی

جس کے لئے سارا کرتا ہے

تیرا ہی سہارا ہے اس کو

باقی کو سہارا کرتا ہے

یہ بندے مٹی کے بندے

یہ جھنڈے مٹی کے جھنڈے

یہ جائیں اونچے تارے تک

چاند کے پار کنارے تک

یہ بندے مٹی کے بندے

یہ جھنڈے مٹی کے جھنڈے

یہ بندے مٹی کے بندے

کیپٹن آکاش کانوں میں ہینڈ فری لگائے بڑے مگن انداز میں یی نغمہ سن رہے تھے- اس وقت ان کا دل وطن کی محبت سے لبریز تھا- ویسے تو وہ ہر وقت وطن کی محبت میں ڈوبا رہتا مگر اس وقت کچھ الگ ہی احساسات تھے- ان کا چہرہ جزبات کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا- وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اپنے وطن سے عشق تھا- وہ وطن سے محبت عبادت سمجھ کر کرتے تھے جن کی زندگی کا نصب العین ہی شہادت تھی- وہ غازی بن کر جینا چاہتے تھے یا شہید ہو کر مرنا چاہتے تھے-

باز پروں سے کب اڑتا ہے

باز کا دل ہے جو اڑتا ہے

تیزہوا سے ڈرنا کیسا

دل ہے ایسے کب مڑتا ہے

ان کا دل اب زور زور سے دھڑک رہا تھا- ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی پورے جسم، میں سچ ہے وطنی کی محبت سے بڑھ کر کسی اور محبت میں اتنا دم نہیں –

ان کے اپنے کوئی نام نہیں

اک نام کے سارے پکے ہیں

ہر گھر میں انکے رہتی ہے

اک ماں ہے جس کے بچے ہیں

جب رات اکیلی ہو آئی

یہ تب سورج کے ساتھ رہے

جب مشکل بھی ہو گھبرائی

ان کے ہاتھوں میں ہاتھ رہے

نغمے کے اگلے بول ان کے کانوں میں گونج رہے تھے

یہ بندے مٹی کے بندے

یہ جھنڈے مٹی کے جھنڈے

یہ جائیں اونچے تارے تک

چاند کے پار کنارے تک

یہ بندے مٹی کے بندے

یہ جھنڈے مٹی کے جھنڈے

نغمہ اب ختم ہو چکا تھا- انہوں نے ہینڈ فری اتار کر سائیڈ پر رکھ دیے- اس وقت وہ پسینہ پسینہ ہو رہے تھے شہادت کی خواہش ایک بار پھر شدت سے ان کے دل میں ابھری دور آسمانوں پر خدا اپنے بندے کے اس پاگل پن پر مسکرایا –

        **********************

فاصلوں کی فکر میں کیوں کروں بھلا

بہت دور رہ کر بھی میرے پاس ہے کوئی

اس سوچ میں ڈوبا ہے بہت دیر سے میرا دل

کیا اُ س کے دل میں بھی ایسا احساس ہے کوئی

اُ س کی نظروں سے بنا میری سانسوں کا تسلسل

اِ س طرح میری زندگی کی آس ہے کوئی

اُ س کا اگرجو پوچھنا تو بس اتنا ہی جان لو

بہت خاص بہت خاص ہے میرے لئے کوئی

جو جا رہا ہو تو یہ بھی اسے جا کہ کہنا کہ

اس کے بنا اس شہر میں بہت اداس ہے کوئی

وہ گم سم سی سامنے رکھی ڈائری پہ نظریں ٹکائے بیھٹی تھی-  دیہان ان لفظوں میں کہیں اٹک گیا تھا- جو کچھ دیر پہلے اس نے ڈائری پہ اتارے تھے- زنیرہ نے نوٹس بناتے ہوئے اچانک اس کی طرف دیکھا جو جسمانی طور پر تو وہیں تھی مگر اس کی سوچ کا پنچھی ناجانے کہاں محوِ  پرواز تھا-

"اے زندہ ہو کیا ۔۔۔۔؟”- زنیرہ نے اسے ہلایا تو وہ چونکی غائب دماغی سے اس کی طرف دیکھنے لگی-  کچھ دیر ایسے ہی دیکھنے کے بعد وہ بنا کچھ کہے نظریں پھر سے ڈائری پر جما لیں تو ان سب نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا- زنیرہ نے اس کے سامنے رکھی ڈائری اٹھا لی اور زیر لب اس پہ لکھی پوئٹری پڑھنے لگی وہ چپ چاپ میز کی چمکتی سطح کو گھورتی رہی-

"تو یہ پڑھائی ہو رہی ہے ۔۔۔؟”- زنیرہ کا اشارہ اس کی اس سرگرمی کی طرف تھا جس کو وہ کافی دیر سے انجام دے رہی تھی-

وجیہہ نے زنیرہ کے ہاتھ سے ڈائری لی اور پڑھنے لگی-

"تمہارا دماغ خراب ہو گیا یہ کیا فضول کام کر رہی ہو۔۔۔۔؟پیپر سر پہ ہیں اور یہ محترمہ شاعری کرنے میں مصروف ہیں حد ہوتی ہے لاپرواہی کی بھی یار ۔۔۔۔”- وجیہہ کو تو اس کی یہ حرکت گہرے صدمے میں مبتلا کر گئی تھی-بھلا پیپرز کے دنوں میں ایسے چونچلے کس کو سوجھتے ہیں-

اس نے کسی کی بات کا کوئی جواب نہی دیا تھا-اس کی پوزیشن میں بھی کوئی فرق نہی آیا تھا-نا ہی نگاہوں کا ارتکاز کہیں ادھر ادھر ہوا تھا- فرق بس اتنا تھا کہ اس کی آنکھوں سے انسو نکل کر ٹیبل کی چمکیلی سطح پر گر رہے تھے اور اس کو داغ دار کر رہے تھے- اس کا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا-

"فری کیا ہوا؟ ۔۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہو ۔۔۔؟”۔افشاں کو اسے روتے دیکھ کر فکر لاحق ہوئی باقی بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئیں-

وہ بنا کچھ کہے رونے لگی تو ان تینوں کے ہاتھ پاوٴں پھول گئے ،لائبریری میں موجود کچھ سٹوڈینٹس نےگردنیں موڑ کے ان کی طرف دیکھاتھا – تو زنیرہ کو ماحول کی گھمبیریت کا احساس ہوا اس نے فورا اٹھتے ہوفریال کا بازو پکڑا تو وہ حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ سمجھ گئی- اٹھ کہ اس کے ساتھ باہر اگئی باقی دونوں بھی اپنی چیزیں سمیٹ کہ ان کے پیچھے لپکیں-

"کیا ہو گیا تمہیں ۔۔۔ ؟کیوں اس طرح رو رہی ہو؟”- زنیرہ نے لان میں اتے ہی پوچھا تو وہ وہیں گھاس پر بیٹھ گئی رونے میں شدت اگئی-

"فری بتاو تو سہی ہوا کیا آخر اس طرح رونے کی کوئی تو وجہ ہو گی نا؟”- وہ پریشانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی-

"فری بولو بھی کیوں پریشان کر رہی ہو ہم سب؟”- کووجیہہ نے غصے سے پوچھا جو تب سے لب سئیے بیٹھی تھی-

"کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔”- وہ اتنی دیر بعد بولی بھی تھی تو کیا ان تینوں نے سر پیٹ لیے-

"تو رونے کا شغل کس خوشی میں فرما رہی ہیں؟”-آپ افشاں نے دانت پیستے ہوئے پوچھا- دل تو چاہ رہا تھا دو تین رکھ کے  لگائے

اور پھر اس نے ہچکیوں کے درمیان بمشکل جو بات ان کو بتائی اس نے ان تینوں کو سن کر دیا وہ ٹکرٹکر اس کا چہرہ دیکھ رہی تھیں جو اب ٹشو سے اپ ا چہرہ صاف کر رہی تھی انسو ایک تواتر سے اس کی آنکھوں سے رواں دوا ں تھے-

"لو کر لو بات یہ رہ گیا تھا”-  افشاں کی حیرت سب سے پہلے ٹوٹی تھی-وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوئی تو وہ مزید رونے لگی-

"چپ کرو پلیز ۔۔۔۔”-زنیرہ نے افشاں کو چپ رہنے کا اشارہ کیا-

"کون ہے وہ؟ کیا نام ہے اس کا؟کہاں رہتا ہے؟ سب کچھ تفصیل سے بتاو”-زنیرہ نے اس کی بھیگی پلکو ں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-

"مجھے کچھ بھی نہیں پتہ یار ۔۔۔۔”- وہ سر کو گھٹنوں میں رکھتے ہوئے بولی-

"تو دیکھا کدھر تھا کچھ تو کا بتاو  نا؟”- وجیہہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا- وہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگی اس کی آنکھوں میں ان گنت سوالات تھے جن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ بے بسی کی حدوں کو چھو رہی تھی-

"اس دن ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔”-وہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی-

"پھر۔۔۔ "-وجیہہ نے بے چینی سے پوچھا لہجے میں  اب اشتیاق بھی تھا

"پھر وہ چلا گیا ۔۔۔”-بتانے کا انداز اس قدر معصومیت لئے ہوئے تھا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ فدا ہو ں یا اسے دو لگائیں- کوئی اتنا بھولا اور معصوم کیسے ہو سکتا-

"حیرت ہے ویسے نا کوئی اتا پتامعلوم اور تو اور نام تک نہیں معلوم اور پیار ہو گیا ۔۔۔۔لو کر لو بات ۔۔۔۔۔”۔وہ تینوں جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھیں سارا جوش کہیں اڑن چھو ہو گیا تھا-

"اچھا چھوڑو اب یہ سب جو کارنامہ انجام دینا تھا وہ یہ محترمہ دے چکی ہیں اب یہ سوچو کہ اسے کیسے ڈھونڈنا ہے ۔۔۔”-زنیرہ کو نئی فکر لاحق ہوئی-

دیکھنے میں کیسا لگتا ہے؟”- ۔۔۔وجیہہ نے تجسس سے پوچھا-

"اس کی آنکھیں بہت ذیادہ بلیک تھیں ۔۔۔۔۔”-وہ اب تک اس کی آنکھوں کے سحر سے ہی نہیں نکل پائی تھی-

"یہ لو ۔۔۔۔۔او بہن پاکستان کی پچانوے فیصد عوام کی آنکھیں کالی ہی ہیں اب اس نشانی سے تو ہم ڈھونڈنے سے رہے ۔۔۔۔۔”-وجیہہ کا لہجہ صاف مزاق اڑانے والا تھا-

"کچھ اور بھی تو بتاو نا یار ۔۔۔۔۔”-زنیرہ کو اب کوفت ہوتی جا رہی تھی-

"اس کا رنگ سفید تھا ، ہائٹ بھی اچھی تھی فرنچ کٹ داڑھی رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔”-وہ اپنے حساب سے اندازہ لگاتے ہوئے ان کو بتانے لگی-

"فری ۔۔۔۔۔”-زنیرہ نے دانت پیسے-

"تو اور کیا بتاوں یہی دیکھا تھا میں نے ۔۔”۔معصومیت کی انتہا تھی-

"تم کچھ مت بتاو ۔۔۔۔۔بس چپ چاپ بھول جاو ۔۔۔۔۔۔”-افشاں نے آسان سا حل بتایا تو وہ اسے گھور کہ رہ گئی-

"یہ بتاو اس کی کس چیز کو دیکھ کہ پیار ہوا تمہیں؟”- زنیرہ نے دوبارہ پوچھا-

"یہ نہیں مجھے پتہ ۔۔۔۔۔”-ازلی معصومیت پھر اڑے اگئی-

” تو مرو پھر نہیں پتا تو ۔۔”-وہ از حد تنگ ہوتے ہوئے بولی-

"اچھا میری بات سنو اب ۔۔۔۔۔۔”-وجیہہ نے ان سب کو اپنی طرف متوجہ کیا –

” ہم اس ریسٹورنٹ کا گاہے بگاہے چکر لگاتے رہیں گے کیا پتہ وہ پھر آجائے۔۔۔۔۔۔”-اس کی بات بہت ذیادہ تو نہیں مگر کسی حد تک ٹھیک ہی تھی ۔وہ قائل ہو گئیں اب اور کوئی حل بھی نہیں تھا-

فریال چپ چاپ گھاس پہ نظریں جمائے بیٹھی رہی دل خون کے انسو رو رہا تھا-

       ***************

فریال یونیورسٹی سے گھر لوٹی تو سوا تین بج رہے تھے-آج دو کلاسز تھی اس لئے وہ جلدی آگئی تھی- ورنہ تو پانچ بجے سے پہلے آنا ناممکن تھا- اس نے اتے ہی کپڑے چینج کیے کیونکہ ماما کو اس کی یہ حرکت سخت ناپسند تھی کہ وہ اتے ہی کچن میں بنا چینج کئے گھس جاتی، بقول ان کے یہ اخلاقیات کے خلاف ہے- اس لئے اس نے اب اپنی روٹین بنا لی تھی شروع شروع میں اس کو غصہ اتا تھا مگر اب عادت بن چکی تھی- وہ چینج کر کے نیچے آئی تو لاوٴنج بلکل خالی تھا-ماما اور شبنم شاید کچن میں تھیں- کیونکہ وہاں سے کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھیں- وہ دوپٹے کو سنبھالتی کچن میں ہی چلی آئی- اسے دیکھتے ہی شبنم کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی اس نے اسے فوراً سلام کیا تو آسیہ بیگم بھی اس کی طرف متوجہ ہوئیں جو پہلے برتن دھونے میں مصروف تھیں-

"کتنی بار سمجایا کہ جو باہر سے آئے وہ سلام کرے مگر میری یہاں سنتا کون ہے ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے”-آسیہ بیگم کو ہمیشہ کی طرح شبنم کا سلام میں پہل کرنا سخت ناگوار گزرا تھا- اس لئے فوراً بول پڑیں تو فریال نے شرمندگی سے سر جھکا لیا- آسیہ بیگم بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں-

” آج بڑی جلدی آگئیں آپ ۔۔۔؟”-شبنم نے ایک مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتے ہوئے پوچھا تو وہ اسے گھورنے لگی-

” بدتمیزلڑکی ۔۔۔۔۔اتے ہی میری انسلٹ کروا دی ۔۔۔۔ کیا تھا اگر تم اپنی اخلاقیات اس وقت نا جھاڑتی”- فریال نے منہ بناتے ہوئے کہا شبنم ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی-

فریال شیلف پہ رکھے برتن دیکھنے لگی- برتنوں کے ڈھیر سے لگ رہا تھا کہ کافی کچھ بنا اس کے ذہن میں پہلا خیال کسی مہمان کا آیا-

” ویسے اگر میں نا سلام کرتی تو بھی کونسا آپ نے کر لینا تھا، ہمیشہ کی طرح آپ کو بھول جانا تھا”- شبنم نے اسے شرمندہ کرنا چاہا مگر وہ اس کی بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر گئی- شرمندہ تو کیا ہونا تھا-

” ویسے ماما کو کیا ہوا….؟اتنے غصے میں کیوں ہیں؟ خیر تو ہے نا”-فریال اچھل کر شیلف پہ ہی بیٹھ گئی- شبنم نے حیرت سے اس کی یہ بلیوں والی حرکت دیکھی مگر کچھ بولی نا-

"نبیلہ پھوپھو آئی تھیں دوپہر میں بمعہ اپنے لاڈلے سپوت”- شبنم نے اسے اطلاع دی تو اس کے چہرے کے زاویئے بگڑنے لگے-ماما کے خراب موڈ کی وجہ سمج میں اگیی تھی- شبنم نے اس کی بیزاریت صاف نوٹ کی وہ چپ چاپ اس کے لئے کھانا ناکالنے لگی-

"کیوں آئیں تھی وہ ؟”-فریال نے غصے سے پوچھا، تو شبنم نے ایک بے تاثر نگاہ اس پہ ڈالی- اس کی سمجھ میں نہیں اتا تھا کہ ماما اور فریال کو نبیلہ پھوپھو سے اتنی چڑ کیوں ہے وہ ہمیشہ ان کی آمد سے ناخوش کیوں ہوتی تھیں- اس نے کئی بار سوچا کہ وہ اس کی وجہ دریافت کرے مگر ہر بار فریال کے غصے سے خائف ہو جاتی جو ان کا نام سنتے ہی عود آتا تھا –

” پاپا سے ملنے آئیں تھی، مگر پاپا نہیں اسکے کسی میٹنگ میں تھے، شاید تو کچھ دیر رک کر چلی گئیں”- شبنم نے بریانی پلیٹ میں ڈال کر اس کی طرف بڑھائی جو کچھ دیر پہلے اس نے اوون میں رکھی تھی –

"کہہ رہی تھیں پھر آئیں گی کسی دن آج زرا جلدی میں ہیں”- شبنم اس کو مختصراً اگاہ کر کے خود کٹنگ بورڈ پہ رات کے لئے سبزیاں کاٹنے میں مصروف ہو گئی, ماما کی ہدایت تھی کہ آج سبزیوں کی بجیا پکا لے وہ, اس نے ساتھ ہی چولہے پہ چائے کے لئے پانی بھی رکھ دیا-اس کا سارا دیہان اب کٹنگ بورڈ کی جانب تھا- پانی کچھ ہی دیر میں ابلنے لگا مگر وہ اس کیطرف متوجہ نہیں تھی-

” ہونہہ ۔۔۔۔پھر آئیں گی”- فریال نے زور سے پلیٹ میں چمچ پھینکا- اس کا موڈ بری طرح تباہ ہو چکا تھا-شبنم نے حیرت سے بہن کی طرف دیکھا جس نے ابھی بمشکل چند ہی لقمے لئے تھے اور اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ مزید کھانے کا ارادہ نہیں رکھتی-اسے ملال نے آن گھیرا وہ اسے کیوں بتا بیٹھی تھی کم از کم وہ کھانا تو کھا لیتی-

” اپی پلیز ۔۔۔۔۔”- وہ کام چھوڑ کے بہن کی طرف متوجہ ہوئی جس کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا-

"ضرور کسی خطرناک ارادے سے آئی ہوں گی کیونکہ اُ ن کی آمد  کبھی بھی کسی مطلب کے بنا نہیں ہوتی”- وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئی کچن سے شبنم حیرت اور صدمے سے بت بنی دروازے کی طرف دیکھتی رہی جہاں سے وہ ابھی ابھی نکل کے گئی تھی-

"کیا ہوا اسے اتنے غصے میں کیوں گئی ہے؟”- آسیہ بیگم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے ہقا بقا کھڑی شبنم کو مخاطب کیا وہ بھی شاید اسے جاتے ہوئے دیکھ چکی تھیں-

"وہ پھوپھو کا سن کے ۔۔۔”-شبنم نے لڑکھڑاتی زبان میں بتایا وہ خود کو مجرم تصور کر رہی تھی کیا تھا اگر وہ اتے ہی اُ سے یہ بات نا بتاتی-

"پاگل ہے وہ کہہ دو اس کو کہ اب یہ آمد اور روز روز ہونے والی ہے، عادت ڈال لے اب”-آسیہ بیگم نا جانے کیا کہہ رہی تھیں- مگر شبنم کا دیہان روز روز میں ہی اٹک گیا تھا- وہ ماما سے پوچھنا چاہتی تھی کہ ایسا کیوں ہے،ان سب کے پیچھے کیا وجہ ہے مگر ماما کے پتھریلے تاثرات دیکھتے ہوئے کچھ کہنے کی بجائے لب سئیے کھڑی رہی-چولہے پہ رکھا پانی اب باپ بن کر اُ ڑ چکا تھا-وہ بے دلی سے اس کی طرف متوجہ ہوئی ماما دوبارہ کچن سے جا چکی تھیں –

                 ***************

"ایکسکیوز می سر ۔۔۔”- زنیرہ نے میز کو ہاتھ سے بجاتے ہوئے لائبریرین کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا-

"جی فرمائے ۔۔۔”- لائبریرین نے ہاتھ میں پکڑی کتاب جو پہلے چہرے کے سامنے تھی نیچے کی اور ساتھ ہی ناک پہ آیا چشمہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگی کی مدد سے زرا اوپر کسکایا اور سوالیہ نظروں سے اُ ن کی طرف دیکھنے لگے-

"سر کل ہماری ڈائیری لائبریری میں ہی رہ گئی تھی اگر آپ کو ملی ہو تو کائنڈلی ہمیں دے دیں ۔۔۔”-زنیرہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا- کیونکہ ان سے کوئی بعید نا تھا کہ وہ انسلٹ ہی کر دیتے- وہ کم ہی کسی کی سنتے تھے- پوری یونیورسٹی میں کسی کی بھی اتنی ہمت نا تھی کہ وہ ان سے کانفیڈینٹلی بات کر سکتا- سٹوڈینٹس تو سٹوڈینٹس ٹیچرز بھی اُ ن سے دبتے تھے- ان کی پرسنالٹی تھی ہی ایسی رعب والی اور اوپر سے چہرے پہ بڑی بڑی مونچھیں اُ ن کو کسی حد تک خوفناک بھی بناتی تھیں-جب اپنی بڑی بڑی اندر کو دھنسی آنکھوں سے وہ کسی کو گھورتے تو سامنے والے کی جان ہلق تک آجاتی-

"مجھے یہاں کوئی ڈائری نہیں ملی”- انہوں نے کہتے ساتھ ہی کتاب دوبارہ سے چہرے کے سامنے کر لی- صاف مطلب تھا کہ تم لوگ اب دفعہ ہو جاوٴزنیرہ کو شدید انسلٹ فیل ہوئی- اس کا دل چاہا کہ ہاتھ میں پکڑی ساری کتابیں اس گنجے لائبریرین کے سر پہ دے مارے جو کسی کی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتا تھا -وہ خون کے گھونٹ بھر کے رہ گئی بمشکل خود کو روکا-

"چلو آو چلتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ نہی ملنے والی اب ۔۔۔”۔فریال نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کا بازو کھینچا-

چپ چاپ کھڑی رہو ادھر ہی سمجھی تم ۔۔۔۔۔،پہلے چیزیں گم کر لیتی ہو اور بعد میں روتی ہو بیٹھ کہ”- زنیرہ نے کھا جانے والی نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئےاسے کہنی ماری تو وہ کراہ کر رہ گئی-

وہ فریال کی لاپرواہ طبیعت سے سخت نالاں تھی- وہ اپنی کسی بھی چیز کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی -جہاں جاتی کچھ نا کچھ وہیں چھوڑ آتی جس میں سے ذیادہ تر چیزیں بعد میں نہیں ملتی تھیں-

"سر پلیز آپ ایک دفعہ دوبارہ چیک کر لیں”- زنیرہ نے ہمت کر کے پھر کہا اندر ہی اندر ڈر بھی رہی تھی اگر وہ غصے میں اگئے سب کے سامنے ہی شروع ہو جائیں گے کسی کا لحاظ تو وہ کرتے نہیں تھے-

” بی بی آپ کو ایک دفعہ کا کہا سمجھ میں نہیں آتا کیا میں کہہ رہا ہوں نا کہ مجھے کوئی ڈائری نہیں ملی تو کیوں بحث کر رہی ہیں، پہلے اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا سیکھیں بعد میں آکہ ہمارا سر کھائے گا”-حسبِ  توقع وہ بھڑک چکے تھے –

"سوری سر ۔۔۔لیکن ایک دفعہ آپ دوبارہ دیکھ لیتے تو۔۔وہ ہماری بہت اہم ڈائری تھی ۔۔۔”-زنیرہ نے اتنی عزت افزائی کے بعد دوبارہ پھر ڈھیٹوں کی طرح کہا تو فریال اس کی ہمت پر عش عش کر اُ ٹھی وہ واقی شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈال سکتی تھی-

” چھا ٹھیک ہے کر لوں گا چیک ۔۔۔ شام کو پتہ کر لئجیے گا ۔۔۔۔”-اب کی بار شاید ان کو ترس ا ہی گیا تھا اس لئے جان چھڑانے والے انداز میں بولے-

"تھینک یو سو مچ سر ۔۔۔۔”-ان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنے آرام سے کہہ رہے تھے- چلو جو بھی تھا دوبارہ دیکھنے کی حامی تو بھری تھی یہی غنیمت تھا-

وہ ان کا شکریہ ادا کرتی ہوئی باہر نکل آئیں-

فری تم اپنی چیزوں کو سنبھال کر نہیں رکھ سکتی جب دیکھو کچھ نا کچھ گم کر دیتی ہو اور بعد میں ہم پاگلوں کی طرح اِ دھر اُ دھر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں آج تمہاری وجہ سے اُ س گنجے لائبریرین کے منہ بھی لگنا پڑا”-زنیرہ نے اُ س کے ساتھ چلتے ہوئے کہا-

"زونی اگر ڈائری نا ملی تو ۔۔۔۔ "-فریال کی سوئی اب وہیں اٹک گئی تھی- کل رات جب اُ سے پتہ چلا تھا کہ ڈائری بیگ میں نہیں ہے تو وہ رونے کو ہو گئی تھی پھر یاد آیا کہ وہ تو وہیں لائبریری میں ہی رہ گئی تھی اور اب وہ صبح صبح یہاں موجود تھیں –

"تو اچھا ہے نا کہ نا ملے اور تمہیں بھی زرا عقل آئے ۔۔۔۔کس نے کہا تھا کہ اُ سے ہر وقت ساتھ لئے گھومتی رہو ۔۔۔۔”-زنیرہ غصے سے بولی-

"آئندہ نہیں رکھوں گی ۔۔۔۔ اب کی بار مل جائے بس ۔۔۔۔”-فریال از حد پریشان تھی اور اس کی پریشانی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی-

” اچھا چل ٹینشن نا لے مل جائے گی انشااللہ ۔۔۔۔”-زونیرہ کو اس کی اداس شکل دیکھ کر ترس آیا تو اسے تسلی دینے لگی- فریال نے اس کی بات پر سر اثبات میں ہلا دیا مگر پریشانی جوں کی توں تھی –

"زونی اس میں تمہارا سیل نمبر بھی لکھا ہوا تھا "-فریال نے ڈرتے ڈرتے بتایا –

"شاباش ہے تم پہ یار ۔۔۔میں تمہیں اتنی بری لگتی تھی تو صاف صاف بتا دیتی یہ ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی "-زنیرہ کو اس کی بات سن کے گہرا شاک لگا تھا -ناجانے کس کے ہاتھ لگی تھی –

"آئی ایم سوری ۔۔۔۔لیکن میں نے جان بوجھ کہ ایسا نہیں کیا "- وہ شرمندگی سے بولی اس کو اصل ٹینشن بھی اسی بات کی تھی –

"اب اگر ڈائری نا ملی نہ تو پھر دیکھنا تم "- کچھ دیر پہلے والی ہمدردی کہیں اُ ڑن چھو ہو گئی تھی اب صرف اسے غصہ آرہا تھا –

           **************

اِ ک عہد کیا تھا لاکھوں نے

اِ س پاک وطن کی مٹی سے

وہ عہد ہمیں پھر کرنا ہے

اِ س دیس کی خاطر  جینا ہے

اِ س دیس کی خاطر مرنا ہے

وہ عہد ہمیں پھر کرنا ہے

سوات کو الله تعالیٰ نے بے پناہ خوبصورتی سے نوازا ہے یہ علاقہ جہاں پہاڑوں وادیوں اور آبشاروں سے گرا ہوا ہے وہیں قدرتی پھلوں کا بھی ذریعہ ہے ہر طرف پھیلے پھلوں کے درخت اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ اتنا گنجان آباد نہیں ہے مگر اس کا رقبہ بہت بڑا ہے

کیپٹن آکاش کی پسندیدہ جگہ تھی سوات،، وہ یہاں آکر عجیب سا سکون محسوس کرتے تھے اِ س دفعہ بھی وہ سوات آپریشن کے سلسلے میں یہاں موجود تھے

یہ دوپہر کا وقت تھا سورج سوا نیزے پر تھا مگر اس کی تپش اتنی ذیادہ نہیں تھی اوائل سردیوں کے دن تھے سردیوں کی آمد آمد تھی وہ دوربین ہاتھ میں لئے سامنے کئی مربع کلومیٹر پھیلے پہاڑ کا جائزہ لینے میں مصروف تھے کتنی ہی دیر یونہی گزر گئی ووہ ٹہلتے رہے اور ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کرتے رہے پھر تھک ہار کر ایک پتھر پر بیٹھ گئے دوربین گلے میں لٹکا لی آج اُ ن کو یہاں آئے دو مہینے اور چار دن ہو گئے تھے

"السلام عليكم سر ۔۔۔۔!”-لیفٹیننٹ شہریار نے اُ ن کو سلام کیا-

"وعلیکم السلام ۔۔۔! "-کیپٹن آکاش نے پیچھے مڑ کے اُ ن کو دیکھا-

"Sir I have a bad news "

لیفٹیننٹ شہریار کے چہرے پر ہوائیاں اُ ڑی ہوئی تھیں-

What happened shehr yar ?

کیپٹن آکاش کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ فوراً کھڑے ہو گئے –

"سر ابھی ابھی ہمیں خبر ملی ہے کہ وہ جو سامنے پہاڑ ہے اس کے پیچھے تقریباً دس بارہ کلومیٹر دور دہشت گردوں کا گرو ہے انہیں ہماری پوزیشن کی بھی خبر مل چکی ہے ۔۔”۔لیفٹیننٹ شہریار نے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کو بتایا-

کیپٹن آکاش نے فوراً دوربین کی مدد سے جائزہ لیا –

"سر پہاڑ کے پیچھے جو ائیریا ہے وہ اُ ن کے انڈر ہے وہاں کے سارے بچوں کو انہوں نے حراصت میں لے رکھا ہے "-لیفٹیننٹ شہریار دوبارہ بولے –

"او مائی گاڈ ۔۔۔۔ تم نے ہیڈ کوارٹر اطلاع کی "

کیپٹن آکاش فوراً پریشان ہو کراٹھے –

"یس سر !۔۔۔۔ اور میجر بابر آن لائن ہیں وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں” ۔۔۔

"اوکے تم جاوٴ” ۔۔۔

وہ تقریباً بھاگتے ہوئے خیمے تک آئے

"Helo sir Akash speaking "

فون اٹھاتے ہی وہ بے تابی سے بولے –

"آکاش آئی تھنک تمہیں خبر مل چکی ہے "

۔۔۔آئیرپیس میں میجر بابر کی بھاری کرخت آواز گونجی –

"Yes sir,and I am leaving my position”

انہوں نے ٹیبل پہ رکھی اپنی کیپ پہن لی –

"No Akash no, "

"تم ایسی کوئی بے وقوفی نہیں کرو گے ‘

میجر بابر کو اُ س کی بات فوراًغصہ دلا گئی

"سوری سر ۔!۔۔ بٹ ہم ان کے حملہ آور ہونے کا ویٹ نہیں کر سکتے "

"Sir we have to stop them "

انہوں نے اونچی آواز میں کہا –

"آکاش تم ایسا کچھ نہیں کرو گے”

"I am sending you some instructions ,just follow them”.

میجر بابر کی آواز دوبارہ آئیرپیس میں گونجی –

"سر اتنا ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس ہمیں اُ ن کے پاوٴں جلد سے جلد اکھاڑنا ہوں گے”

‘آکاش! تم بھول رہے ہو کہ ہمارا ایک فیوچر اُ ن کے ہاتھ میں ہے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔تمہاری ایک چھوٹی سی بے وقوفی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے”

میجر بابر کا اشارہ ان بچوں کی طرف تھا جو ان دہشت گردوں کے قبضے میں تھے –

"سر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں اپنی جان پر کھیل کر بھی اُ ن کو بچاؤں گا آپ بس مجھے پرمیشن دیں”

۔۔۔کیپٹن آکاش بضد تھے وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھے ان کے ارادے پختہ تھے وہ پرعزم تھے اور ڈٹ جانے والوں میں سے  انہیں اپنے خدا پر پورا بھروسہ تھا اور جب انسان اپنے خدا کا بھروسے کوئی کام کرتا ہے تو وہ ضرور کامیاب ہوتا کیونکہ خدا کبھی بھی اپنے بندوں کو ناامید نہیں کرتا –

"آکاش پلیز ٹرائ ٹو انڈر سٹینڈ ۔۔آگے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے "

۔۔۔میجر بابر نے آکاش کو سمجھانا چاہا وہ ناجانے کیوں ڈر رہے تھے –

"سر خطروں کا سامنا تو ہمیں ہر قدم پر کرنا پڑتا ہے اُ ن کے ڈر سے ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے سر آپ مجھ پہ ٹرسٹ رکھیں میں ضرور کامیاب ہوں گا میں اُ ن تمام ناپاک قدموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر آوٴں گا جنہوں نے میرے وطن کی پاک سر زمین کو گندا کرنے کی جرات کی ہے میں انہیں یہ بات بتا کر آوٴں گا کہ اس وطن پر بری نظر ڈالنے والوں کی ہم آنکھیں نکال لیا کرتے ہیں سر آپ بس مجھے آگے جانے کی پرمیشن دیں پلیز سر ۔”

۔۔۔کیپٹن آکاش بضد تھے اُ ن کی آواز میں جوش تھا لہجہ پرعزم تھا

No Akash no,I can’t give you permission

"ہم پہلے سِئچوئشن کو دیکھیں گے اس کے بعد کوئی فیصلہ لیں گے میں تم سے کچھ دیر بعد دوبارہ کانٹیکٹ کرتا ہوں” میجر بابر نے صاف انکار کر دیا-

"Sorry sir,but I can’t wait. I am leaving .”

کہتے ساتھ ہی کیپٹن آکاش نے فون بند کر دیا

"Akash no .”

میجر بابر چلائے مگر رابطہ منتقع ہو چکا تھا انہوں نے غصے سے ٹیبل پہ مکا دے مارا –

                  **********

زندگی جینا ہے تو پھر حالات سے ڈرنا کیسا

جنگ جو لازم ہو تو مقابل نہیں دیکھا کرتے

کیپٹن آکاش ریڈی ہو کہ باہر آئے سب جوان تیار کھڑے تھے- لیفٹیننٹ شہریار کے ذریعے سب کو خبر مل چکی تھی- اور اصلی مجاہد وہی ہوتا جو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو جس کا مقصد صرف الله کی رضا حاصل کرنا ہو- ہمیں فخر ہے اپنے پاک وطن کے محافظوں پہ جو اُ س کی خاطر ہر وقت لڑنے پر تیار رہتے ہیں وہ اس کی خاطر بخوشی اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر کے اپنا نام شہدا کی فہرست میں لکھواتے ہیں-اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو الله اپنی راہ میں قربان ہونے کے لئے چنتا ہے- کیونکہ الله کے ہاں سلیکشن ہوتا الیکشن نہیں وہ جس کو مرضی اس کام کے لئے منتخب کر لیتا ہے-

"Are you ready guiz?”

کیپٹن آکاش نےاُ ن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو ایک ہی صف میں کھڑے تھے-

"Yes sir we all are ready”  .

سب جوانوں نے بیک زبان کہا-

"نعرہ تکبیر ۔۔۔”-صوبیدار فاروق نے بلند آواز میں کہا-

"اللهُ اکبر ۔۔۔”۔یہ نعرہ جوش و خروش سے ایک ساتھ لگایا گیا تھا جس میں کیپٹن آکاش کی آواز بھی شامل تھی-

"میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔”۔کیپٹن آکاش نے کہا تو سب جی جان سے ان کی بات کے منتظر ہو گئے- ان کا رواں رواں اپنے بہادر سپہ سلار کی بات سننے کے لئے کان بن گیا-

"ہم جس میدان میں قدم رکھنے جا رہے ہیں یہ ضروری نہیں کہ وہاں سے ہم سب کی واپسی ہو بلکہ خوشنصیب ہیں وہ لوگ جو واپس نہیں آئیں گے اور الله کی جنت کے مہمان بنیں گے ۔۔۔۔۔اور جو واپس آئیں گے ہو سکتا ہے الله نے اُ ن کو کسی ضروری کام سے روک لیا ہو ۔۔۔۔ہمیں ہر حال میں ثابت قدم رہنا ہے دشمن کو نیست و نابود کر کے لوٹنا ہے تا کہ وہ آئندہ ایسی جرات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے دشمن نے ہمیں للکارا ہے اور ہمیں اس کو منہ توڑ جواب دینا ہے ۔۔۔۔میں امید کرتا ہوں کے آپ سب اپنے وطن کی حفاظت کے لئے آخری حد تک جائیں گے اور انشااللہ کامیاب ہو کے لوٹیں گے ۔۔۔۔”۔کیپٹن آکاش سانس لینے کو رکے تھے-

"دشمن کبھی بھی طاقتور نہیں ہوتا اس لئے وہ موقع تلاش کر کے پیچھے سے وار کرتا اور یہ سب سے بڑی بذدلی ہے مگر ہم سب بہادر ہیں ہم سامنے سے وار کریں گے اور ان کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی اگلی کئی نسلیں یہ یاد رکھیں گے ۔۔۔آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں اس بات کا کہ آگے جانے کا فیصلہ میں نے اپنی مرضی سے لیا ہے مجھے باربار کہنے پر بھی اس بات کی اجازت نہیں دی گئی مجھے نہیں پتہ کہ اس بات کا کیا انجام ہو گا مگر مجھے آپ سب کے ساتھ ہوتے ہوئے پوری امید ہے کہ میں کامیاب ہو کہ واپس آوں گا اور اپنے الله پہ پورا بھروسہ کہ وہ اس میں میری مدد کرے گا ۔۔۔۔”-کیپٹن آکاش کی آواز جوش سے بھرپور تھی-

"سر آپ ہر قدم پر ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے انشااللہ ۔۔۔۔”-شہباز خان نے اُ ن کو امید دلائی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی-

"اوکے لیفٹیننٹ شہریار آپ اور صوبیدار فاروق اس آییریا پر پیچھے سے اٹیک کریں گے اور میں آگے سے جاوٴں گا لیفٹیننٹ عبداللہ آپ میرے ساتھ آئیں گے اس کے علاوہ چند لوگ اور ہمارے ساتھ آجائیں  اور باقی اُ ن کے ساتھ جائیں گے ۔۔۔”- انہوں نے سب کو باری باری ہدایت کیں سب کے سر اثبات میں ہل گئے-

” ور ہاں ہمارے پہنچنے تک اِ س بات کی خبر اُ ن کو نہی ہونی چاہئے ۔۔۔۔”-وہ دوبارہ بولے-

” لیفٹیننٹ شہریار آپ مجھ سے کانٹیکٹ میں رہیں گے اور سئچوئشن سے باخبر کرتے رہیں گے ۔۔”- اُ نہوں نے آخر میں لیفٹیننٹ شہریار کو ہدایت کی-

"رائٹ سر ۔۔۔۔”-شہریار نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا-

” Best of luck you all brave peoples”

            ************

         ************

"کتنی دیر ہے ابھی کھانے میں ۔۔۔ بھوک کی وجہ سے چوہوں نے میرے پیٹ میں فائنل بھی کھیل لیا ۔۔۔ مگر آپ کا کھانا ابھی تک تیارنہیں ہوا ۔۔۔۔”-حیدر کچن میں داخل ہوتے ہی فارس پر برس پڑا جو صبح سے کچن میں گھسا ناجانے کونسے پائے گلانے میں مصروف تھا –

"کھانا ضرور ملے گا لیکن تب جب بنے گا ۔۔۔”۔فارس نے ایک نظر اُ س کی طرف مڑ کے ڈالی لیکن پھر اپنے کام میں مگن ہو گیا –

"کیا مطلب ۔۔۔؟”- ابھی کھانا نہیں بنا کیا حیدر کی آواز معمول سے ذیادہ اونچی تھی- اس نے صدمے اور حیرت کے ملے جلے جذبات لہجے میں سموئے پوچھا –

"نہیں  ۔۔۔۔”-بڑے آرام سے جواب آیا تھا –

” ہاہ ۔۔۔۔۔ تو تم صبح سے کیا ر رہے ہو کچن میں ۔۔۔۔”-حیدر کی آنکھیں اور منہ دونوں کھل گئے-

” میں بیسن کے لڈو بنا رہا ہوں ۔۔۔”-فارس ہنوز اپنے کام میں لگا ہوا تھا حیدر کی جانب اُ س کی پشت تھی اِ س لئے حیدر ابھی تک یہ نہیں دیکھ پایا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے-

” کیوں تمہارے کونسے سسرالی تشریف لا رہے ہیں؟ جن کو پیش کرنے ہیں ۔۔”-حیدر نے چبا چبا کر لفظ ادا کئے تھے –

” یہ میرے نہیں تمہارے سسرال والوں کے لئے ہیں ۔۔۔”-جوابی کاروائی فوراً ہوئی تھی

فارس ۔۔۔۔ حیدر چیخا تھا –

” کمینوں صبح سے پورے گھر کی صفائی کی ہے میں نے تم دونوں تو گدھے گھوڑے بیچ کر اللہ کو پیارے ہو گئے تھے تو پھر کسی نے تو کام کرنا تھا نا ۔۔۔۔۔ اور کچن کی جو حالت رات کو کر کے سوئے تھے وہ تمہارے باپ نے سمیٹنی تھی جانوروں کی طرح تو کھاتے ہو ۔۔۔۔بے ہودہ لوگ ۔۔۔۔ اب آکہ مجھ پہ چڑ رہے ہو ۔۔۔۔کوئی کھانا نہیں بنا خود بناو اور کھاو میں نوکر نہیں ہوں تم لوگوں کا ۔۔۔۔”- فارس تو پھٹ ہی پڑا تھا ایک دم سے پریشر کوکر کی سیٹی کی طرح جو صبح سے گیس بنا رہی تھی اور اب گیس ذیادہ ہونے پر پھٹ ہی گئی تھی اور اس کی باتیں سن کے حیدر کا تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا- وہ منہ کھولے  حیرت سے اُ س کی شعلے اُ گلتی زبان کو دیکھ  رہا تھا یہ صدمہ ہی اُ س کی بولتی بند کروا گیا تھا کہ کھانا نہیں بنا-

” کوئی بات نہیں بچو آنے دو میری باری گِن گِن کے بدلے لوں گا ۔۔۔ "-وہ اُ س پر ایک کٹیلی نگاہ ڈال کہ آگے بڑھا-

” ہنہہہہ ۔۔۔۔۔ پہلے تو جیسے کبھی نہیں لئے تم نے ۔۔۔۔”-فارس نے بڑبڑاتے ہوئے اُ سے جگہ دی وہ خود سائیڈ پہ ہو گیا تھا –

حیدر اب سارا غصہ برتنوں کو پٹخ پٹخ کے نکال رہا تھا فارس نے مزید پیچھے ہوتے ہوئے کانوں پہ ہاتھ رکھ لئے –

” وہ الله میاں کی گائے بھی اٹھی ہے کہ نہیں ابھی ۔۔۔؟”- وہ کچھ ہلکا ہوا تو فارس نے آگے اتے ہوئے پوچھا اُ س کا اشارہ فرحان کی طرف تھا-

” ٹھ گیا ہے اور اب تمہاری ڈائری حفظ کرنے میں لگا ہوا ۔۔۔۔ "-حیدر نے انڈے توڑ کے باول میں ڈالتے ہوئے اُ سے اطلاع دی-

” اِ س کی تو ۔۔۔۔۔”-وہ کچھ غلط بولتے بولتے رہ گیا تھا حیدر کی گھوری پر اُ س نے اگلی بات منہ میں ہی دبا لی-

” ویسے تم نے ڈائری کب سے لکھنا شروع کر دی ہے ۔۔۔۔”-حیدر نے سرسری انداز میں پوچھا اور ساتھ ہی چولہے پر فرائنگ پین میں آئل ڈال کے گرم ہونے کے لئے رکھ دیا-

” وہ میری نہیں ہے یار ۔۔۔ تین دن پہلے مجھے لائبریری میں ملی تھی فزکس ڈیپارٹمنٹ کی کوئی لڑکی ہے فریال حسن اُ سکی ہے ۔۔۔۔”- فارس نے دوسرے چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا –

” تم نےابھی تک واپس نہیں کی ۔۔۔۔؟”-حیدر نے پھینٹے ہوئے انڈے فرائنگ پین میں ڈالتے ہوئے پوچھا آئل گرم ہو چکا تھا کچھ چھینٹے باہر اُ ڑے –

” یاد نہیں رہا ۔۔۔ کل تو چھٹی ہے پرسوں دے دوں گا ۔۔۔۔”- پانی اُ بل رہا تھا اُ س نے پتی ڈالی-

” ہمممم ۔۔۔۔۔پڑھی ہے تم نے ڈائری ۔۔۔۔۔؟”-حیدر نے ایک لمبا ہنکار بھرتے ہوئے پوچھا-

” پاگل ہوں میں ۔۔۔۔۔کسی کی پرسنل ڈائری ہے وہ میں کیسے پڑھ سکتا ہوں ۔۔۔۔”- وہ اُس کو گھورتے ہوئے بولا-

” خود نہیں پڑھی تو دوسروں کے پڑھنے کے لئے کیوں چھوڑی ہے ۔۔۔۔”- سنبھال کے نہیں رکھ سکتے تھے کیا –

انڈے فرائی ہو چکے تھے حیدر نے فریج سے جیم کی بوتل نکالی اور بریڈ پہ لگانے لگا- فارس حیرت سے اُ س کی یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا کسی سگھڑ خاتون کی طرح وہ ناشتہ تیار کرنے میں لگا ہوا تھا –

” میں نے اُ س دن تکیے کے نیچے رکھی تھی تو پھر بھول گیا ۔۔۔۔ اِ س فرحان کے بچے کو تو میں پوچھتا ہوں ۔۔۔”-اس نے فرحان کے نام کو دانتوں تلے چبایا اور اگر وہ سامنے ہوتا تو وہ شاید اسے ہی چبا ڈالتا-

” ویسے اُ س لڑکی نے پوئٹری بہت اچھی لکھی ہوئی ہے ۔۔۔کتنا خوش نصیب ہے وہ بندہ جس کے ہجر میں وہ بیچاری تڑپ رہی ہے ۔۔۔”- حیدر نے ایک اور انکشاف کیا ناشتہ تیار ہو چکا تھا –

” کیا ۔۔۔۔۔ ؟تم بھی پڑھ چکے ہو ۔۔۔۔حد ہے یار آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ۔۔۔۔کچھ تو شرم کی ہوتی ۔۔۔”-حیدر کی بات پہ فارس نے اپنا سر پیٹ لیا –

” سوری لیکن میں نے ایک دو پیج ہی پڑھے ہیں البتہ فرحان اُ سے حفظ کر کے ہی اُ ٹھے گا ۔۔۔۔۔ "-حیدر نے تیار کی ہوئی چائے کو کپوں میں انڈیلتے ہوئے کہا کیونکہ فارس کا دیہان چائے سے ہٹ چکا تھا اُ س نے برنر آف کر دیا –

” اور آجاو اب ناشتہ کر ہو ۔۔۔۔تم نے تو بنا کہ دیا نہیں۔۔۔۔ اور یہ سب بعد میں سوچ لینا پورا دن پڑا ہوا ۔۔۔۔”- وہ اپنا کام ختم کر کے کچن سے نکل گیا اور جاتے جاتے فارس کو ناشتے کی دعوت بھی دے ڈالی مگر طعنہ مارنا نہیں بھولا تھا –

فارس کتنی ہی دیر پرسُوچ انداز میں دروازے کو دیکھتا رہا اُ س نے ابھی یہ یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ خود بھی اُ س ڈائری کا ایک ایک لفظ پڑھ چکا ہے –

          ********

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں تھیں

میں اب تک محوِ  حیرت ہوں

عجب شیشہ گری تھیں وہ

عجب جادو گری تھیں وہ

بڑی حیرت سے تکتے تھے

یہ میری ذات کے ذرے

کہ اُ س کی ایک نگاہ خاص نے

ایسی تجلی کی

کہ میری ذات جو کوہِ  گراں تھی

ریزہ ہو گئی

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں تھیں

سیاہ طلسمی آنکھوں کے سحر نے کچھ اِ س طرح سے جھکڑا تھا اُ س کی ذات کو کہ وہ چاہ کر بھی پیچھا نہیں چھڑا پارہی تھی- عجیب بے بسی کا عالم تھا  اس کو  ہر وقت لگتا کہ وہ ان طلسمی آنکھوں کے حسار میں ہے وہ جانتی تھی کہ یہ صرف اس کا وہم ہے مگردل کو کون سمجھائے جو بلاوجہ ہی خوش فہمیاں پال لیتا ہے اور پھر ان سے باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا

کیا وہ کبھی دوبارہ اسے دیکھ پائے گی

کیا اس سے کبھی بات کر پائے گی

پیار ہوا بھی تو کس سے تھا

جس کو جانتی ہی نہی تھی وہ

جس کا نام تک نہیں پتہ تھا

وہ ہر وقت اس کے خیالوں میں کھوئی رہتی ہمہ تن وہ اس کی سوچ کے ساتھ پرواز کرتا تھا جہاں جاتی وہ ساتھ ہوتا تو اس کے سوا اسے کچھ اور سوجھتا ہی نا وہ اس سے ڈھیروں باتیں کرتی مگر وہ آگے سے کبھی جواب نہیں دیتا تھا بس چپ چاپ اس کو سنتا –

وہ آج کل ہر کام سے منہ موڑے ہوئے تھی حتیٰ کہ نماز کا بھی دیہان نہیں رہتا تھا آذان ہوتی وقت گزر جاتا مگر وہ پڑھتی نہیں تھی اگر کبھی بھولے سے پڑنے لگ بھی جاتی تو دیہان پھر اس کی طرف چلا جاتا اور وہ بھول جاتی کہ کیا پڑھا تھا اور کیا پڑھنا تھا کئی گھنٹے یونہی گزر جاتے –

"اس نے فیل ہو جانا اس دفعہ لکھوا لو مجھ سے بے شک ۔۔۔۔”-وجیہہ کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لے کے آئی –

"مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ۔۔۔۔”-افشاں نے بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے اظہار ِ  خیال کیا-

"فری کیوں اپنا فیوچر تباہ کر رہی ہو ۔۔۔۔۔”- زنیرہ نے افسوس سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

"مجھ سے نہیں پڑھا جاتا تو کیا کروں ۔۔۔۔زبردستی کیسے کچھ یاد کروں ۔۔۔”-وہ اپنے بارے میں ان کے کمنٹس سن کے پھٹ پڑی-

‘اتنی کوشش کرتی ہوں نہیں پڑھا جاتا ۔۔۔۔اس میں میرا کیا قصور ہے ۔۔۔”-آنکھوں سے موٹے موٹے انسو نکل آئے –

$تو ایسے کیسے اور کب تک چلے گا پھر ۔۔۔”۔وجیہہ کو اس کی حالت دیکھ کر گہرا صدمہ لگا وہ واقعی بہت ذیادہ سیریس تھی –

"پتا نہیں ۔۔۔۔ "-انسووں کی ندیاں گالوں پہ رواں دواں تھی-

"اچھا کچھ تو بتاو نا کہ کیا چاہتی ہو ۔۔۔؟”- وجیہہ نے سامنے کھولی کتاب بند کرتے ہوئے پوچھا وہ اب مکمل اس کی طرف متوجہ تھی-

"مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔” اس نے انسو صاف کرتے ہوئے کہا

"کیسے ۔۔۔۔؟”-وجیہہ نے الٹا اسی سے پوچھا –

"جیسے مرضی لیکن مجھے بات کرنی ہے ۔۔”۔  "اگر میں نے بات نا کی تو میں گھٹ گھٹ کر ہی مر جاوٴں گی ۔۔۔۔”-وہ ضدی لہجے میں بولی –

” کوئی اتاپتہ نمبر وغیرہ ہے اس کا ۔۔۔۔۔؟”-زنیرہ نے طنزیہ پوچھا –

"نہیں ۔۔۔۔”-  اس کے پاس ہر بات کا بس یہی جواب تھا –

” تو پھر کیسے کرو گی بات ۔۔۔؟”- وجیہہ نے اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کی طرف دیکھا جو بار بار انسو صاف کرنے سے ہو گئیں تھی-

” مجھے نہیں پتا ۔۔۔”-پھر وہی جواب-

” کچھ پتا بھی ہے تمہیں ۔۔۔؟”- افشاں نے اب کی بار زچ ہوتے ہوئے اسے گھورا –

” نہیں ۔۔۔۔”-افف پھر وہی جواب وہ تینوں سخت عاجز آگئیں اس کے نہیں والے ڈرامے سے-

” اچھی بات ہے روتی رہو پھر بیٹھ کہ ۔۔۔”۔وجیہہ نے کہتے ساتھ ہی دوبارہ کتاب کھول لی –

       *************

   ” Sir Akash has left his position” 

میجر بابر نے کرنل عباس کو اطلاع دی-

"واٹ یہ کیا بے وقوفی کی آکاش نے آپ نے منع کیوں نہیں کیا اُ س کو ۔۔۔۔”-کرنل عباس کو حیرت ہوئی اُ نہیں آکاش سے اِ س پاگل پن کی اُ مید ہرگز نہیں تھی- وہ اُ س کی جزباتی طبیعت سے واقف تھے مگر وہ ایسی کوئی بے وقوفی کر سکتا اُ نہیں ہر گز اُ مید نہیں تھی-

"سر میں نے بہت منع کیا تھا مگر آکاش نے میری بات سُنے بغیر ہی فون کاٹ دیا”- میجر بابر پہلے سے ہی آکاش سے سخت نالاں تھے –

” او نو ۔۔۔یہ کیا کر دیا اُ س نے۔۔۔ وہ بہت بڑا گرو ہے وہ پورا آئیریا اُ ن کے انڈر ہے وہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں آکاش نے ہم سب کے لئے بہت بڑا پرابل کری ایٹ کیا ۔۔۔آپ فوراً بات کریں اُ س سے اور اُ سے کہیں کہ وہ واپس آئے ۔۔۔”-کرنل عباس کو شدید غصہ آرہا تھا-

” سر اُ س سے کانٹیکٹ نہیں ہو پارہا میں نے لیفٹیننٹ شہریار سے بھی کرنے کی کوشش کی ہے مگر کامیاب نہیں ہوا”-

” او مائی گاڈ ۔۔۔۔اب کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔”-کرنل عباس سخت پریشان ہو گئے تھے-

"سر میٹنگ فائنل کر کے کوئی فیصلہ لیتے ہیں ۔۔۔”-میجر بابر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-

” اوکے فائن ۔۔۔بٹ جو بھی کرنا جلدی کریں ذیادہ ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس ۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ آکاش سے کانٹیکٹ کرنے کی بھی کوشش کریں ۔۔۔چاہے جیسے بھی اور میری بات کروائیں اُ س سے ۔۔۔۔”-کرنل عباس کی ہدایات پر میجر بابر سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے- کرنل عباس پریشانی سے پیچھے کمرے میں ٹہلنے لگے –

          ***********

نبیلہ آپا آئیں تھی ۔۔تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں "-حسن صاحب سونے کے لئے کمرے میں آئے تو دھلے ہوئے کپڑے تہہ کرتی آسیہ بیگم کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا –

آسیہ بیگم کے کام کرتے ہاتھ ایک لمہے کے لئے تھمے تھے مگر اگلے ہی پل وہ دوبارہ سے اپنے کام میں مشغول ہو گئیں –

"یاد نہیں رہا مجھے آپ کو بتانا "- انہوں نے سرسری سا جواب دیا اور تہہ شدہ کپڑوں کو آلماری میں رکھنے کی نیت سے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آگے بڑھیں –

"یاد نہیں رہا یا بتانا نہیں چاہتی تھی تم "- انہوں نے اپنا چشمہ اور گھڑی اتار کر میز پر رکھتے ہوئے کہا –

$جو مرضی سمجھ لیں آپ "-وہ بے نیازی سے کہتی ہوئی کپڑے آلماری میں رکھنے لگیں –

"تم عورتوں کا یہی تو مسئلہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات کو دل میں رکھ کے بغض پال کے بیٹھ جاتی ہو اور پھر قسم کھا لیتی ہو کہ مرتے دم تک اس بات کو دل سے نہیں نکالنا چالے کچھ ہو جائے "- حسن صاحب کو ان کے روئیے سے کافی دکھ پہنچا تھا –

"آپ کے لئے وہ چھوٹی بات ہو گی اور آپ اسے بھول سکتے ہیں ۔۔۔۔مگر میری لئے نا تو وہ بات چھوٹی ہے اور نا ہی میں اسے بھول سکتا ہوں "- وہ تمام کپڑوں کو آلماری میں رکھ چکی تھیں –

"انہوں نے ہاتھ جوڑ کہ تم سے معافی مانگی تھی ۔۔۔حالانکہ وہ بڑی ہیں تم سے ۔۔۔۔پھر بھی تمہارے دل سے وہ بات نہیں جاتی "- وہ بستر پر نیم دراز ہوتے ہوئے بولے –

"معافی غلطیوں کی دی جاتی ہے گناہوں کی نہیں دی جاتی "- وہ ان کے برابر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولیں -کھلے لمبے بالوں کو کیچر میں جکڑ کر ان کو سمیٹا –

"الله معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنے بندوں کے بڑے بڑے گناہ بھی معاف کر دیتا ہے تو ہم تو پھر اس کے گناہ  گار سے معمولی بندے ہیں ہماری کیا اوقات پھر ۔۔۔۔۔اب تک تو وہ بھی ان کو معاف کر چکا ہو گا ۔۔۔اور الله نے رشتہ داروں سے صلح رحمی کا حکم دیا "- انہوں نے ٹھرے ہوئے لہجے میں رسان سے ان کو سمجھایا –

"اللہ حقوق اللہ ضرور معاف کر دیتا ہے مگر حقوق العباد نہیں معاف کرتا "- وہ ان کی بات کے جواب میں بولیں تو حسن صاحب کتنے ہی لمہے ان کی طرف دیکھتے رہے –

"کب تک چلے گا یہ سب ۔۔۔”- وہ ان کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ بولے –

"جب تک میری میرے جسم میں جان ہے تب تک میں ان کو معاف نہیں کروں گی کبھی بھی ۔۔۔۔۔”- انہوں نے کہتے ساتھ ہی لائٹ آف کردی-حسن صاحب نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور ان کی طرف سے رخ موڑ کے لیٹ گئے – یہ ان کی طرف سے ناراضگی کا اظہار تھا مگر آسیہ بیگم کو اس کی پروا نہیں تھی -وہ چپ چاپ لیٹی رہیں دوبارہ انہیں مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی – وہ سونے کی ناکام سعی کرنے لگیں مگر دونوں نفوس میں سے اب نیند کسے آنی تھی – دونوں کی نیندیں اڑ چکی تھیں –

             **************

جاری ہے ….

ربیعہ امجد

جواب چھوڑیں