عجب سی بے قراری ہے” کے شاعر ارشد محمود ارشد کا انٹرویو”

عجب سی بے قراری ہے کے شاعر ارشد محمود ارشد کا انٹرویو 

تفکر – آپ کا پورا نام؟
ارشد۔ ارشدمحمود
تفکر – قلمی نام؟
ارشد: ارشد محمود ارشد
تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

ارشد: یکم فروری 1975 سرگودھا
تفکر – تعلیمی قابلیت؟
ارشد: میں نے 1992 میں میٹرک کیا لیکن ایف اے بوجہ انگلش مکمل نہ کر سکا بعدازاں چارسالہ ہومیوپیتھک ڈپلومہ D.H.M.S کیا اور پھر 2016 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی مدد سے انگریز کو شکست فاش دے کر ایف۔ اے مکمل کرنے میں کامیاب ہوا اور اب بی۔اے کا طالبِ علم ہوں۔
تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
ارشد: تیسری جماعت تک تعلیم گورنمنٹ سکول مجاہد کالونی سرگودھا ، کلاس چہارم سے ہفتم تک ، ندیم اکیڈمی اسکول سرگودھا اور اور پھر ہشتم سے میڑک گورنمنٹ ایم۔ سی ہائی سکول سرگودھا
تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
ارشد: دعا کریں کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو
تفکر – پیشہ؟
ارشد: تجارت

تفکر – ادبی سفر کا آغاز کب ہوا؟

ارشد: شعر کہنے کا آغاز تو میٹرک سے ہی کیا لیکن باقاعدہ طور پر 2006 میں ادبی دنیا سے وابستہ ہوا
تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟
ارشد: شکیب جلالی ، احمد فراز اور محسن نقوی

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

ارشد: شاعری اور شاعری میں غزل
تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

ارشد: غزل

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

ارشد: ۱: عجب سی بے قراری ہے ( ۲۰۰۷)
۲: کبھی میں یاد آؤں تو ۔۔۔۔( ۲۰۰۹)
۳: شام کی دہلیز پر ۔۔۔ ( ۲۰۱۴)
۴: بساطِ زیست ( زیرِ طباعت)
ان کے علاوہ چار انتخاب مرتب کیے اور شائع ہوئے
۱: محبت بانٹ لیتے ہیں
۲: تمہاری یاد کا موسم
۳: نبیﷺ کا قصیدہ
۴: کوئی تعبیر دو مجھ کو
اب ۵۰۵ شعراء کا تعارف اور کلام ایک کتاب مرتب کر رہا ہوں جس سلسلے میں فیس بک پر بھی ،، پزیرائی ،، کے نام سے ایک گروپ بنایا ھے جہاں روزانہ ایک شاعر کا تعارف اور کلام لگایا جاتا ہے

تفکر۔نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

ارشد: نثر بہت کم لکھتا ہوں کچھ کتابوں پر مضامین اور شعراء و ادباء کے انٹرویوز کیے ہیں جو مختلف رسائل میں شائع ہوئے ہیں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انہیں کتابی شکل دی جائے۔

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ارشد: میرے آباء و اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا جو قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کرکے پہلے گجرات اور بعدازاں سرگودھا آ گئے

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

ارشد: شادی شدہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

ارشد: ہم چار بھائی ہیں اور ہماری تین بہنیں ہیں جو کہ سب اپنے اپنے گھر والے ہیں
میری ایک بیوی ،ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

ارشد: سرگودھا
تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

ارشد : زندگی کا سب سے خوبصورت دور تو بچپن کا ہی ہوتا ھے جس کا ہر لمحہ خوبصورت ہوتا ھے
تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

ارشد: بہت سے واقعیات ہیں جو یادگار بھی ہیں اور خوبصورت بھی

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

ارشد: اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، مستنصر حسین تارڈ

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

ارشد: لکھنے اور پڑھنے کی حد تک تو بے شمار رسائل اور میگزین سے وابستہ ہوں
ماہنامہ ،، ریشم ،، کا رنگِ خیال (شاعری) کئی سالوں تک انتخاب و ترتیب دیتا رہا ہوں آج کل ماہنامہ ، عکسِ جمہور میں ایک سلسلہ ، دیارِ غیر سے بادِ سخن ، کے نام سے ترتیب دیتا ہوں جس میں بیرونِ ممالک میں بسنے والے شعراء کا کلام لگایا جاتا ہے
تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ارشد: یہ تو ہر دور کا المیہ ہے
تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ارشد: یقین جانیے مجھے اس بارے کچھ علم نہیں ہے کہ حکومت بھی ادب کے لیے کچھ کرتی ہے۔
تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

ارشد: میرا پیغام یہی ھے جو کام کر رہا ہو اس کا حوصلہ بڑھائیں
تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

ارشد: آپ نے اپنے حصے کی شمع جلائی ہے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام بغیر کسی ذاتی مفاد اور گروہ بندی کرتے رہنا چاہیے

ارشد محمود ارشد کے خوبصورت اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پڑتی نہیں ہے آنکھ کے ساحل پہ سرخ دھوپ
کرتا میں آرزؤں کے لاشے حنوط کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی آپ سکھاتی ہے قرینے سارے
زخم ملتے ہیں تو جینے کا ہنر آتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے
وہ اس کے بعد پرندوں کے پر نکالتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بینائی کا فیصلہ ہونے والا ہے
میں نے اک سورج سے آنکھ ملا لی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انگلی پکڑ کے یاد تری لے گئی مجھے
لیتا رہا ھے کروٹیں بستر تمام رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجانے کیا بنانا چاہتے ہو
ہمیں پھر چاک پر رکھا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مٹی پاؤں مرے چھوڑتی نہیں ورنہ
فلک کا راستہ بھی سامنے پڑا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوزہ گر نے پہلے کیا تخلیق کیا
سارا کھیل تماشا ہے اندازے کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھنے درخت کے سائے میں جب قیام ھوا
میں پہلی بار پرندوں سے ہمکلام ھوا

بنانے والے نے سوچا یہ دل بناتے ہوئے
کہیں تو اپنے بھی رہنے کا انتظام ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدلتے موسموں کے تیوروں کا
ہمیں ادراک ہونا چاہئیے تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوڑھے پیڑ کی چھاؤں کیسے بانٹو گے
آنگن میں دیوار اٹھانا ٹھیک نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمودِ ذات کے اس مرحلے سے پہلے بھی
تو میری سوچ میں تھا رابطے سے پہلے بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی انتہا تک آ گئی ھے
کہیں آیا نہیں کردار میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دستِ قضا بڑھا ھے مری سمت الوداع
اے اعتکافِ عشق عبادت تمام شد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کارزارِ زیست میں ہم نے تمام عمر
ارشد کسی کا عشق کمایا بھا اور بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدن کی ریت اڑنا چاہتی تھی
میں صحرا آنسوؤں سے بھر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فسانہ پھر ادھورا رہ گیا تھا
کہانی وقت کو دہرا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

S N 08

 

 

جواب چھوڑیں