"ترا کیا بنا” کے شاعر تیمور حسن کا انٹرویو

"ترا کیا بنا کے” شاعر تیمور حسن کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

تیمور۔۔میرا پورا نام  تیمور حسن ہے

تفکر – قلمی نام؟

تیمور۔۔تخلص تیمور ہے

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

تیمور۔۔21 مارچ 1974  لاہور

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

تیمور۔۔ایم ۔اے ایف۔سی کالج لاہور
پی ۔ایچ۔ڈی پنجاب یونیورسٹی

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

تیمور۔۔گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ فار دا بلائنڈ شیراں والا لاہور

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

تیمور۔۔ایف۔اے اور بی اے   گورنمنٹ  کالج  آف سائنس لاہور

تفکر –ادبی سفر کا اآغاز کب ہوا؟

تیمور۔۔شاعری شروع سے ہی اچھی لگتی تھی، 1990 میں میٹرک کا امتحان دے کر تک بندی کا باقاعدہ آغاز کیا

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

تیمور۔۔سائنس کالج میں داخلہ لینے کے بعد جعفر بلوچ صاحب سے اصلاح  1991 سے لینا شروع کی۔ان سے عروض سیکھا۔اگر میری شاعری میں کوئی خوبی ہے تو اس کی بنیاد جعفر صاحب نے باندھی ہے اور جو بھی خامیاں ہیں وہ میری کوتاہیوں کے سبب ہیں۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

تیمور۔۔میری پسندیدہ صنف غزل ہے

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

تیمور۔۔غزل

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

تیمور۔۔میری دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ "غلط فہمی میں مت رہنا”  2003 میں آئی۔ "ترا کیا بنا”  2015 میں آئی۔دونوں مجموعے غزل کے ہیں۔

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

تیمور۔۔میرے والد محمد یونس مغل مرحوم بینک میں گریڈ ون کے آفیسر تھے۔میری تعلیم میں ان کا مرکزی کردار ہے۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

تیمور۔۔ مقالے کا عنوان ,”جدید غزل کے تشکیل اور شقب جلالی”

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

تیمور۔۔ادبی  گروہ بندیاں شروع سے ہیں،اگر اختلاف مثبت اثرات ڈالے تو اس سے اچھی کوئی چیز نہیں،مگر بد قسمتی سے کئی بار یہ اختلاف انتشار کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور رحمت کے بجائے زحمت بن جاتا ہے۔لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں اور دوسروں کو گرانے میں لگ جاتے ہیں جو نہایت افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔کسی کو تسلیم کر لینے سے ہمارا انکار نہیں ہو جاتا۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

تیمور۔۔اس مشینی دور میں ادب کی کسی طرح بھی خدمت کی جائے لائق تحسین ہے

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

تیمور۔۔آپ جو کام بھی کر رہے ہیں اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے

تفکر – شعر یا تحریر؟

تیمور۔۔

تم کوئی اس سے توقع نہ لگانا مرے دوست

یہ زمانہ ہے، زمانہ ہے، زمانہ مرے دوست

سامنے تو ہو تصور میں کہانی کوئی

اک حقیقت سے بڑا ایک فسانہ مرے دوست

میرے بیٹے میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں

تم بڑے ہو کے مجھے دنیا دکھانا مرے دوست

دیکھ سکتا بھی نہیں، مجھ کو ضرورت بھی نہیں

میری تصویر مگر اس کو دکھانا مرے دوست

کہنے والے نے کہا دیکھ کر چہرہ میرا

غم خزانہ ہےاسے سب سے چھپانا مرے دوست

تیری محفل کے لیے باعث برکت ہوگا

نا مرادانِ محبت کو بلانا مرے دوست

تم کو معلوم تو ہے مجھ پہ جو گزری تیمورؔ

پوچھ کر مجھ سے ضروری ہے رلانا مرے دوست

جواب چھوڑیں