"جھیل جھیل اداسی” کی شاعرہ شِبہ طراز کا انٹرویو

جھیل جھیل اداسی کی شاعرہ شِبہ طراز کا انٹرویو

   

تفکر – آپ کا پورا نام؟
شِبہ طراز۔۔شِبہ طراز

تفکر – قلمی نام؟
شِبہ طراز۔۔کوئی نہیں۔

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟
شِبہ طراز۔۔باغبان پورہ  ، لاہور  ۔  25 مئی

تفکر – تعلیمی قابلیت؟
شِبہ طراز۔۔بی۔ ایس ۔ سی ، ایم۔ اے ( اردو ) ، ڈی ۔ ایچ ۔ ایم ۔ ایس۔

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
شِبہ طراز۔۔جونئیر ماڈل سکول ، وحدت کالونی سے پرائمری ، گورنمنٹ پائلیٹ ہائی سکول، وحدت کالونی سے سیکنڈری اور لاہور کالج برائے خواتین سے بی ۔ ایس ۔ سی کیا۔

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
شِبہ طراز۔۔ایم ۔ اے اردو پنجاب پونیورسٹی سے ( پرائیویٹ )پھر این ۔ سی ۔ اے میں داخلہ لیا اورتیسرے سال میں ڈپلوما پورا ہونے سے پہلے شادی ہو گئی ۔ ڈی ۔ ایچ ۔ ایم ۔ ایس ( ہومیو پیتھک ) اسلام آباد ہومیو پیتھک کالج ۔ جی نائن مرکز سے کیا۔

تفکر – پیشہ؟
شِبہ طراز۔۔ہومیو پیتھک ڈاکٹر

تفکر – ادبی سفر کا آغاز کب ہوا؟
شِبہ طراز۔۔ پہلا آغاز ۸۰ کی دہائی سے پہلے ہوا جب ابھی میٹرک سے فراغت ہوئی تھی۔ کچھ نظمیں روزنامہ امروز کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوئی تھیں ۔ ایف ایس سی اور بی ایس سی میں سپورٹس میں شمولیت کے باعث شاعری سے دور دور کا رشتہ رہا ۔ این سی اے میں دورانِ تعلیم بولان سوسائٹی کے مشاعروں میں شمولیت ہوئی بالآخر شادی کے فوراً بعد شاعری کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور کچھ عرصے بعد جب والدہ نے اپنے جریدے ’’ تجدید ِ نو‘‘ کا اجراکیا تب یہ ٹوٹا ہوا سلسلہ دوبارہ جڑا ۔ یوں باقاعدہ آغاز ۸۷ء کی بات ہو گی۔

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟
شِبہ طراز۔۔  نظم گوئی سے شاعری کی ابتدا ہوئی اور پڑھنے میں بھی نظم زیادہ متاثر کرتی تھی ۔ بچپن میں ہمدرد کا نونہال ہر مہینے آتا تھا اور اس میں اسماعیل میرٹھی کی نظموں کا انتظار رہتا تھا اور ( اگر میں بھول نہیں رہی ) شاعر لکھنوی کی نظمیں متاثر کرتی تھیں، زبانی یاد ہو جاتی تھیں ۔ کلاسیکل شعراء میں نظیر اکبر آبادی اور پھر ن م راشد ، مجید امجد، فیض احمد فیض ۔ پھر ایک لمبی فہرست ہے جو آج کل کے شعراء تک آتی ہے ۔غزل میں میر تقی میر اور میر درد نے بہت متاثر کیا اور اب تازہ غزل متاثر کر رہی ہے۔

تفکر – کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟
شِبہ طراز۔۔نہیں ۔ گھر میں ادبی فضا ہونے اور ہر ہر قدم پر رہنمائی ہونے کی وجہ سے باہر کسی شاعر یا ادیب سے رہنمائی لینے کی ضرورت نہیں پڑی

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

شِبہ طراز۔۔شاعری۔

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

شِبہ طراز۔۔  شاعری کی مختلف اصناف میں کافی کام کیا ہے۔

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

شِبہ طراز۔۔

شعری تصانیف

شاعری کی چار کتابیں ہیں ۔  ’’ جگنو ہنستے ہیں ‘‘  ہائیکو ۔۔۔ ’’جھیل جھیل اداسی ‘‘ نظموں پر مشتمل ہے ، ’’ چاندنی میں رقص ‘‘ ہائیکو تراجم کی ہے اور ’’ ریپنزل ‘‘ میں نظمیں اور غزلیں دونوں شامل ہیں۔

نثری تصانیف

دو افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔’’ درد کا لمس‘‘اور ’’ آدھا خواب ‘‘۔

اپنے خاندان کے حوالے سے بتائیے؟
شِبہ طراز۔۔  ہم دو بہن بھائی ہیں ۔ بھائی بڑے ہیں اور مذہبی سکالر ہیں ۔ ان کی دو کتابیں انہی موضوعات پر شائع ہو چکی ہیں ۔ والدہ عذرا اصغر معروف افسانہ نگار ، ناول نگار ،کالم نگار اور کئی رسالوں کی مدیرہ کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہیں ۔ والداصغر مہدی غزل کے شاعر تھے اور کالم نگار اور انشائیہ نگار بھی تھے ۔ ان کی شاعری کی دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

  تفکر -ازدواجی حیثیت ؟

شِبہ طراز۔۔شادی شدہ۔

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

شِبہ طراز۔۔شوہر گورنمنٹ سروس میں ہیں ۔ تین بیٹیاں ہیں۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟
شِبہ طراز۔۔عسکری گیارہ میں جو ڈیفنس فیز ۵ کے ساتھ ہے۔

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟
شِبہ طراز۔۔
بچپن تو ہوتا ہی خوب صورت ہے اور لکھنے والوں کا سرمایا یادیں ہی یادیں ہوتی ہیں ۔ بچپن میں ددھیال جانا( جو ساہیوال میں تھا )اور تایا ، دادا اور پھوپھیوں کے لاڈ اور ان سے وابستہ بہت سی یادیں ہیں۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟
شِبہ طراز۔۔  دو تین سادہ سے، ڈرے ڈرے ادبی سفر کیے ہیں جن میں خوب صورتی کا کوئی احتمال نہیں تھا۔

۔تفکر – آپ کے پسندیدہ مصنفین؟

شِبہ طراز۔۔ایک فہرست ہے ۔۔۔ کرشن چندر ، قرۃ العین حیدر ، خلیل جبران ، ٹیگور ،ن م راشد ، امرتا پریتم ، سارہ شگفتہ ، مصطفی زیدی ، منیر نیازی ،محسن نقوی ،گلزار ، فیصل عجمی ،الطاف فاطمہ ، مستنصر حسین تارڑ ، اور بہت سارے مصنفین کا بہت سارا کام پسند ہے۔

  تفکر -اخبارات یا رسائل سے وابستگی ؟
شِبہ طراز۔۔اٹھارہ سال ماہنامہ تجدیدِ نو کی نائب مدیرہ اور پانچ سال سہ ماہی تجدیدِ نو کی مدیرہ کی حیثیت سے کام کیا ہے ۔ اخبارات میں افسانے ، تجزیاتی مضامین ، نظمیں اور منظوم تراجم شائع ہوتے رہتے ہیں۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟
شِبہ طراز۔۔وجودہ دور کی ادبی گروپ بندیاں تب شروع ہو چکی تھیں جب میں چھوٹی تھی اور ادب میں با قاعدہ وارد بھی نہیں ہوئی تھی ۔ والدہ کو بچپن میں نیوٹرل ہی دیکھا تھا ، ان کی پہلی کتاب ’’ پت جھڑ کا آخری پتّہ ‘‘ کا دیباچہ احمد ندیم قاسمی صاحب کا لکھا ہوا تھا اور میری ڈائری میں قاسمی صاحب کے شعر موجود تھے ۔ پھر والدہ کا نام وزیر آغا گروپ میں ڈال دیا گیا اور یوں مجھے وراثت میںیہی گروپ ملا ۔ ’’ تجدیدِ نو ‘‘ کی پانچ سالہ ایڈیٹر شپ میں میں نے نیوٹرل رہنے کی بہت کوشش کی جس کا اتناسا فائدہ ہوا کہ قاسمی گروپ کے کچھ لوگ محبت سے ملنے لگے ۔۔۔ اور بس ۔اب اس سے زیادہ کیا کہوں ۔ وزیر آغا گروپ سے بھی سلام دعا کی حد تک رابطہ ہے ۔ ادب میں صرف کام کرنے سے دلچسپی ہے لیکن گروپ بندیوں کی وجہ سے مایوسی ضرور ہوتی ہے۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟
شِبہ طراز۔۔  حکومت کی کسی پالیسی سے متفق اور مطمئن نہیں ہوں اور ادب کے سلسلے میں تو بالکل بھی نہیں کیونکہ خود حکومت اعتراف کرتی ہے کہ ادبی اداروں کے عہدوں کی کرسیاں اس نے اپنے خوشامدی عزیزوں کو خوش کرنے کے لئے رکھی ہوئی ہیں۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟
شِبہ طراز۔۔  اردہ ادب سے وابستہ لوگوں کو کہنا چاہوں گی کہ شہرت کے حصول کی تگ ودو سے زیادہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کاوش کریں کیونکہ شہرت چار دن کا نشہ ہے اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر مر کر امر ہوا جاتا ہے۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟
شِبہ طراز۔۔  ادب میں فعال رہنے ، بے لوث مثبت کوششیں کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔

تفکر –  شعر یا تحریر؟

شِبہ طراز۔۔

  ہائیکو پیشِ خدمت ہے

تنہائی کی رات
مچھر کتنا شور مچائیں
جگنو ہنستے ہیں

S N 24

جواب چھوڑیں