جانے وہ کیسے لوگ تھے؟ سلسلہ وار (3)

 ایک دن کا ذکر ہے۔
پلاک میں کسی کتاب کی رونمائی تھی،اس تقریب کی صدارت جناب انتظار حسین نے کرنا تھی،ادبی تقریب حسب معمول تاخیر کا شکار تھی اور صاحب صدر خلاف معمول تشریف لا چکے تھے،اس وقت میں نوآموز کالم نگار تھا اور اس تقریب میں موجود تھا۔ تقریب کی تاخیر کے باعث سٹیج ویران تھا مگر حال میں کچھ لوگ موجود تھے،صاحب صدر اگلی قطار میں تشریف فرما تھے ،میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ انتظارحسین صاحب نے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟؟؟ میں نوارد کالم نگار تھا اور خود کو بڑی توپ قسم کی چیز سمجھتا تھا ،بڑے فخر بلکہ تھوڑا غرور سے کہا کہ اخبار میں کالم لکھتا ہوں۔ انتظار صاحب نے شاباش دی۔ انتظار حسین صاحب سے شناسائی نہیں تھی بلکہ ان کی ذات سے ناآشنا تھا اس لیے جوابی سوال داغا کہ آپ کیا کرتے ہیں ۔ انتظار صاحب نے انکساری سے جواب دیا کہ میں بھی لکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔ بعد ازاں جب ان کے بارے علم ہوا تو پشیمانی ہوئی اور سوچا کہ واقعی بڑے قد والے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
جیسا کہ ادبی دنیا میں چہ میگوئیاں سنائی دیتی ہیں کہ سینئر ادیب اپنے سے جونیئر کو منہ لگانا تو دور کی بات ان کی بات سننا تک گوارا نہیں کرتے ۔ یہ چند لوگ ایسے ہونگے جو "حادثاتی”ادیب ہونگے ورنہ ادب سے وابستہ لوگ تو سراپا محبت ہوتے ہیں ،ان کی شاعری مانند خوشبو ہوتی ہے ، ان کی نثر سے محبت ٹپکتی ہے ،وہ پیار کے ترانے لکھتے ہیں ،ان کے نغمے باہمی یگانگت کا نمونہ ہوتے ہیں۔ عرصہ ہوا کہ باغ جناح میں واک کرتے تھے ،ساتھ میں حافظ مظفر محسن صاحب،فرخ شہباز وڑائچ،عزیر الطاف،بدر سعید اور دیگر کئی دوست شامِ واک میں شریک ہوتے ،صحافت کی بات ہوتی ،کالم نگاری کے موضوعات ڈسکس کئے جاتے ،ادبی دنیا پر بھی مباحثہ ہوتا ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ بدر سعید اور میں واک کے بعد ادبی بیٹھک میں بیٹھ جاتے ،وہاں لیاقت کے ہاتھوں کی بنی چائے میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کرتے ،مرحوم خالد احمد صاحب سگریٹ کے مرغولے اڑاتے بڑی شفقت سے ہم نوآموز لکھاریوں کا حال احوال پوچھتے،مرحوم رفیق غوری صاحب منہ میں پائپ لگائے آتے تو بڑی گرمجوشی سے ملا کرتے۔ مرحومین خالد احمد اور رفیق غوری صاحب اتنی محبت سے ملتے کہ کبھی احساس نہیں ہوتا کہ سینئر اور جونیئر میں کوئی فاصلہ ہے ۔درحقیقت وہ عظیم لوگ اورخوبصورت ادیب تھے۔

جواب چھوڑیں