مانا کہ جنوں زہر ہے کے شاعر ڈاکٹر فیصل ودود کا انٹرویو

مانا کہ جنوں زہر ہے کے شاعر ڈاکٹر فیصل ودود کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ ڈاکٹر فیصل ودود

تفکر – قلمی نام؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ کوئی نہیں

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ 26 جولائی 1972

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔BSMT, MD, MPH, MHA, MPPHA, DCP

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔آرمی برن ہال، ایبٹ آباد اور سر سید کالج واہ کینٹ

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔فلپائن

تفکر – پیشہ؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔طب، درس و تدریس

تفکر –ادبی سفر کا آغاز کب ہوا؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔بچپن سے لکھنے کا شوق تھا. پہلی نثری تصنیف "سنسان قلعہ” کی اشاعت کے وقت میری عمر دس سال تھی اور میں پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔استاد داغ دہلوی، میر تقی میر، غالب اور دورِ جدید کے شعرا میں فیض احمد فیض، قتیل شفائی اور جون ایلیا

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔غزل

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟
 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔غزل میں

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔پہلی شعری تصنیف "مانا کہ جنوں زہر ہے” 2010 دوسرا شعری مجموعہ زیرِ طباعت ہے

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔سنسان قلعہ، کالی وادی کا ہوّا (1984)

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟
ڈاکٹر فیصل ودود۔۔میرا تعلق خیبر پختونخوا کےایک اعلی تعلیم یافتہ خاندان سے ہے. والد مرحوم ایک اعلی تعلیم یافتہ سول انجنیئر تھے. والدہ ایم اے معاشیات ہیں. میرے بڑے بھائی پیشے کے لحاظ سے سرجن ہیں. ایک ہمشیرہ بے اردو اور انگلش میں ڈبل پی ایچ ڈی جبکہ دوسری ہمشیرہ بے ایچ آر اور آئی ٹی میں ڈبل ایم بی اے کیا ہوا ہے.

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ٹیکسلا کینٹ HIT

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔بچپن کی ہر ایک یاد انتہائی خوبصورت ہے

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ ہائی سکول میں سید ضمیر جعفری صاحب کے سامنے مشاعرہ پڑھا اور ان سے داد وصول کی. مشاعرے کے بعد جعفری صاحب نے بلایا اور میری پڑھی ہوئی نظم مجھ سے مانگی اور پھر اسی کاغذ پر، جو پہ وہ نظم لکھی تھی اپنا یہ شعر اپنے دستخط کے ساتھ لکھا

جتنا اونچا نصب العین
اتنی اونچی ہو گی جنگ

آج اس شعر کے مفہوم کو سمجھنے کے قابل ہوا ہوں…

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔اے حمید، اشفاق احمد

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ان دنوں نہیں

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

 ڈاکٹر فیصل ودود۔۔پہلے پہل ہوا. مگر کچھ بہت اچھے اور نفیس دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی. میرا یہ ماننا ہے کہ انسان کا کام اس کی راہ کو آسان بناتا ہے.

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔جی نہیں

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔ اپنی زبان سے محبت کیجئیے. یہی آپ کی پہچان اور تمام عالم میں آپ کا وقار ہے.

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔اردو ادب کے فروغ کے لیےایک بہت اچھا اقدام. اردو زبان کی اس گراں قدر خدمت پرتفکر مبارکباد کا مستحق ہے. ماشا الله

تفکر – شعر یا تحریر؟

ڈاکٹر فیصل ودود۔۔

بارِ جنوں اٹھاتے رہیں، کوئی اعتراض؟
زخمِ جگر دکھاتے رہیں، کوئی اعتراض؟
وہ بے رخی جتاتے رہیں، اور ہم یونہی
رسمِ وفا نبھاتے رہیں، کوئی اعتراض؟
مری شاعری میں جو رنگ ہے، وہ مرے جنون کی جنگ ہے
مجھے حرف حرف پہ ناز ہے، مجھے زخم زخم پہ ناز ہے

خدا کرے کہ محبت کی لاج رہ جائے
وہ آج غیر کو تکتے ہیں روبرو میرے!

اک وعدہء فردا کا مزہ خوب ہے لیکن
پابندئ الفت کا تقاضا بھی اگر ہو

چھوڑ وحشت اا فسانہ، دل لگی کی بات کر
چار دن کی زندگی ہے، زندگی کی بات کر

کیا کیجئے اقرارِ محبت بھی ہے لازم
کیا کیجئے مجبورئ فرقت بھی کڑی ہے!

سنا تھا زندگی بس ایک است ملتی ہے
غلط سنا تھا! ترے غم میں مر کے دیکھ لیا!

کسی کی آہ سن لی ہے خدا نے
کوئی تو آسماں تک آ چکا ہے!

لامکاں رستوں پہ چلنا چاہتا ہوں
وقت سے آگے نکلنا چاہتا ہوں

تم اب تلک مری تنہائیوں کی ساتھی ہو
تمہارا نام پکارا تھا آج بھی میں نے

اگر میں سینے پہ زخم کھانے اا منتظر ہوں
مرے عدو، چھپ کے وار کرنے میں راز کیا ہے؟
مری شاعری میں جو رنگ ہے، وہ مرے جنون کی جنگ ہے
مجھے حرف حرف پہ ناز ہے، مجھے زخم زخم پہ ناز ہے

خدا کرے کہ محبت کی لاج رہ جائے
وہ آج غیر کو تکتے ہیں روبرو میرے!

اک وعدہء فردا کا مزہ خوب ہے لیکن
پابندئ الفت کا تقاضا بھی اگر ہو

چھوڑ وحشت کا فسانہ، دل لگی کی بات کر
چار دن کی زندگی ہے، زندگی کی بات کر

کیا کیجئے اقرارِ محبت بھی ہے لازم
کیا کیجئے مجبورئ فرقت بھی کڑی ہے!

سنا تھا زندگی بس ایک ایک ملتی ہے
غلط سنا تھا! ترے غم میں مر کے دیکھ لیا!

کسی کی آہ سن لی ہے خدا نے
کوئی تو آسماں تک آ چکا ہے!

لامکاں رستوں پہ چلنا چاہتا ہوں
وقت سے آگے نکلنا چاہتا ہوں

تم اب تلک مری تنہائیوں کی ساتھی ہو
تمہارا نام پکارا تھا آج بھی میں نے

اگر میں سینے پہ زخم کھانے کا منتظر ہوں
مرے عدو، چھپ کے وار کرنے میں راز کیا ہے؟

 

جواب چھوڑیں