"سوچوں کی تیز دھوپ میں چہرہ جھلس گیا” کے شاعر حفیظ شہزاد ہاشمی کا انٹرویو

"سوچوں کی تیز دھوپ میں چہرہ جھلس گیا” کے شاعر حفیظ شہزاد ہاشمی کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔حفیظ اللہ شاہ

تفکر – قلمی نام؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔حفیظ شہزاد ہاشمی

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔بستی علی دی گوٹھ خیر پور تامے والی ضلع ایک بہاولپور

ٍتفکر – تعلیمی قابلیت؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔میٹرک

ٍتفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔آبائی بستی میں

ٍتفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔میٹرک میلسی ضلع وہاڑی سے کیا ایک سیریس بیماری کی وجہ سے سالہا سال بیمار رہا تعلیم نہ حاصل کر سکا

ٍتفکر – پیشہ؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔فوٹو گرافی سے آغاز کیا پھر ڈیلی پاکستان کی 12 سال اپنے شہر میں رپورٹنگ کی۔پانچ بار صدر پریس کلب بنا چودہ سال پہلے لاہور شفٹ ہوا اپنا ویکلی نیوز پیپر آخرش نکالا جس کی اللہ کے کرم سے کامیاب اشاعت جاری ہے۔اس کے علاوہ ہاشمی گرافکس کے نام سے ادارہ بنا رکھا ہے دونوں کا آفس پونچھ روڈ سمن آباد پر ہے

ٍتفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔1995 سے

ٍتفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔میر و غالب

ٍتفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔نظیر اظفر مرحوم کے حلقہ تلمذہ میں شمولیت اختیار کی ہوئی ہے وہ میرے محسن اور استاد تھے۔اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔آمین

ٍتفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔غزل

ٍتفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔غزل اور گیت میں ایک ایسی غزل جس کی ردیف جھلس گئی ہے جو اردو ادب میں پہلی بار استعمال ہوئی۔

سوچوں کی تیز دھوپ میں چہرہ جھلس گیا

شب رنگ گیسوؤں سے سویرا جھلس گیا
اور یہ غزل 19133 میں انور رفیع کی آواز میں ریڈیو پاکستان لاہور پر ریکارڈ ہوئی اس کے علاوہ ٹی وی،فلمز اور ریڈیو کے لیے گیت لکھےے لیجنڈری میوزک ڈائریکٹر وجاہت عطرے صاحب،ذو الفقار علی عطرے اور دیگر نامور لوگوں کے ساتھ کام کیا۔نصیبو لال،انور رفیع،عطا اللہ خان عیسٰی خیلوی،فہیم مظہر،اعجاز گیلانی سمیت بہت سے سنگرز نے میرے گیت ریکارڈ کروائے۔ٹو وی سیریلز کے تھیم سونگز بھی لکھے اور اس وقت بھی الجھے دھاگے ٹی میکس پروڈکشنز کی ڈرامہ سیریل کا تھیم سونگ لکھ رہا ہوں۔

ٍتفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔تین۔اردو کی "ذرے تاباں”،”میری آنکھیں نم رہتی ہیں”،”غزل تمہاری عطا ہے جاناں” اور "تیرے بعد ایک پنجابی پیڑاں جاگ پیاں سرائیکی پیراں وچ جھانجراں ہے” یہ بھی ذرے تاباں ہیں۔کالم کی ایک کتاب ذرے تاباں دعا دوں گا

ٍتفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔میں مولانا شریف کی ایک بہت بزرگ ہستی حضرت بہاؤالدین زکریاؒ کی اولاد میں سے ہوں۔حضرت بخشاں شاہ سرکاردربارخیر پور تامے والی اور حضرت شیخ پیر محمدؒ دربار کی سجادہ نشین خاندان سے ہوں۔چار بھائی ہیں،حبیب اللہ شاہ،کلیم اللہ شاہ،عزیز اللہ شاہ اور میں حفیظ اللہ شاہ۔والدین انتقال کر چکے ہیں۔

ٍتفکر – ازدواجی حیثیت؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔شادی شدہ ہوں

ٍتفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔چار بیٹوں کا باپ ہوں،سید خالد حسن شاہ،سید دانش حسن شاہ،سید دانیال حسن شاہ اور سید دلشاد حسن شاہ۔بیوی کی چار سال پہلے وفات ہو چکی ہے۔

ٍتفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔سمن آباد لاہور

ٍتفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔بچپن کی سبھی یادیں خوبصورت ہیں،آج تک نہیں بھولیں

ٍتفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔دو سال قبل الحمرا پنجابی کمپلیکس گوالیار گھرانے کے نامور استاد طاہر اقبال میری نئی غزل پہلی بار گا رہے تھے۔
"تیری قاتل ادا نے مار ڈالا”
اور حال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا،لوگوں نے ان پر نوٹوں کی بارش کر دی اور غزل کے سات اشعار تھے سبھی کو مقرر سنا گیا،اور ہرشعر پرر تالیاں بجیں،غزل ختم ہوئی ہال نے کھڑے ہو کر تین منٹ تالیا بجائیں وہ میری زندگی کی خوبصورت ترین گھڑیاں تھیں۔

ٍتفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔اشفاق احمد اور محی الدین نواب

ٍتفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔جی میں 12 سال "ڈیلی پاکستان” لاہور سے اور ایک سال "نوائے وقت” ملتان سے وابستہ رہا اس کے علاوہ پنجابی اخبار "خبراں”،”بھلیکاں” وغیرہ سے بھی مختصرعرصہ منسلک رہا

ٍتفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔جی بالکل ہوا اور اگر نہ ہوتا تو شاید مجھےآگے بڑھنے کی تحریک کبھی نہ ملتی۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔حکومتی پالیسی کبھی بھی ادب نواز نہیں رہی کیونکہ حکمران غیر ادبی ہیں،ان کے لیے ایک شعر کہوں گا
کج آدائی کا منظر ہر طرف
کوڑھ مغزوں کی حکومت دیس پر

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ ایک دوسرے سے شاعرانہ چشمکبے شک رکھیں مگر دشمنی نہیں،مقابلہ اچھے اشعار سے کیا جائے

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔تفکر اور عمرانہ مشتاق جی وہ کام کر رہی ہیں جسے حکومت یا حکومتی ادارے اکادمی ادبیت نے کرنا تھا مگر وہ بیچارے تو حکمرانوں کی کٹھ پتلیاں اور تتلیاں ہیں اس کام پر آپ اور آپ کی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔اللہ پاک اس کار خیر کی انہیں جزا دے آمین۔

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

حفیظ شہزاد ہاشمی۔۔

 سوچوں کی تیز دھوپ میں چہرہ جھلس گیا

شب رنگ گیسوؤں سے سویرا جھلس گیا

کچھ لوگ اپنے خول سے باہر تو آگئے

لیکن وفاشعاری کاشیوہ جھلس گیا

ترک تعلقات کا نقصان ہو نہ ہو

گزرا ہوا وہ دور سنہرا جھلس گیا

وہ مستقل مزاج تھا سچ بولتا رہا

اس خود سری میں آخرش لہجہ جھلس گیا

غمناک صورتوں سے تو بچ بچ کہ ہم چلے

پھر بھی امید و بیم کا تارا جھلس گیا

راہ وفا میں چھوڑ کر تنہا چلے گئے

وہ خواب سنگ رہنے کا سارا جھلس گیا

شہزاد ہم تو نفرتوں کی بھینٹ چڑھ گئے

اپنا محبتوں کا وہ نعرہ جھلس گیا

جواب چھوڑیں