جادو: قرآن و سنت کی روشنی میں

جادو: قرآن و سنت کی روشنی میں

رضیہ رحمن کی مدوّنہ کتاب

میری ملاقات رضیہ رحمن سے یاسمین کنول کے شعری مجموعے ’’آنکھ میں سمندر‘‘ کی تقریبِ پذیرائی میں ہوئی۔ اس تقریب کا انعقاد بزمِ تخلیق و تحقیق، بھارا کہو، اسلام آباد کے زیراہتمام ’’الودود کالج، بھارا کہو‘‘ میں ہواتھا۔ اس تقریب میں میرے علاوہ رضیہ رحمن نے بھی مقالہ پیش کیا تھا۔ اس تقریب کے کچھ دنوں بعد، حسبِ وعدہ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر پروفیسر محمد یحییٰ عزیز کی تحقیقی کاوش ’’جادو: قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ مجھے عنایت فرمائی۔ یہ کتاب دراصل پروفیسر صاحب کا تحقیقی مقالہ (عنوان: تحقیقِ علمِ سحر: قرآن و سنت کی روشنی میں) ہے جو انہوں نے مئی 1966ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور کو ایم اے کی ڈگری کے لیے پیش کیا تھا۔ رضیہ رحمن نے اپنے مرحوم شوہر کے اس علمی، فلاحی اور اصلاحی کام کی ترتیب و تدوین کر کے اُن سے اپنی محبت کا کماحقہ‘ اظہار کیا ہے۔

قابلِ مشاہدہ بات ہے کہ ہمارے سماج میں بیوی اپنے شوہر کے کاموں کوکم کم ہی سراہتی ہے۔ اور تصنیف و تالیف سے متعلق کاموں میں تو بہت مین میخ نکالتی ہے کیونکہ ان کاموں سے کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن اس عمومی رویّے کے برعکس، رضیہ رحمن نے اپنے شوہر کے مثبت کام کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اس مصروفیت کے دور میں جب پڑھنے لکھنے کا شغف مفقود ہوتا جا رہا ہے، لوگوں کی توجہ ایسے موضوع کی طرف مبذول کروائی جس کی طرف لوگوں کا دھیان کم ہی جاتا ہے۔ میں نے جب ’’جادو‘‘ کا مطالعہ شروع کیا تو اس نے مجھ پر بتدریج اثر کرنا شروع کر دیا۔ رضیہ رحمن نے ایک دن شکوہ کیا تھا، بلکہ اسے ان کا مشاہدہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لوگ کتاب منگوا لیتے ہیں لیکن پڑھتے نہیں۔ اکثر لوگوں کا مقصود ذاتی لائبریری میں اضافہ کرنا یا پھر شوبازی کرنا ہوتا ہے کہ وہ مطالعے کے بہت شوقین ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتاب کو شیلف میں سجا کر بھول جاتے ہیں۔ میں ان کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اپنے حوالے سے میں نے انہیں کہا تھا کہ میں ہر نئی ملنے والی کتاب کو شروع سے آخر تک ایک ہی نشست میں پڑھنے کا عادی ہوں۔ اس میں دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن ایک بار تومیں کتاب کو گھول کر پی جاتا ہوں۔ بعد میں بھلے یاد رہے یا نہ رہے، دماغ میں ٹھہرے نہ ٹھہرے۔ جو کتاب میرے ہتھے چڑھ جائے اسے پڑھتا ضرور ہوں۔ تبصرے لکھنے میں تھوڑا سست ہوں۔ ویسے بھی ہر کتاب تبصرہ کیے جانے کے لائق نہیں ہوتی۔ یہ درجہ اسی کتاب کو ملتا ہے جو قاری کو جکڑ لے۔
کتاب کے شروع میں رضیہ رحمن کی تحریر کا رنگ بھی میں نے دیکھا۔ جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ سادہ پیرائے میں، ہلکے پھلکے انداز میں، جیسے باتیں کر رہی ہوں۔ جو سمجھ میں بھی آتی ہیں اور دلچسپ بھی لگتی ہیں۔ میرے پاس صبح کے اوقات میں کچھ فراغت میسر ہوتی ہے جس میں مطالعہ کا کبھی نہ ختم ہونے والا شوق پورا کرتا ہوں۔ پہلے تو اس کتاب کو سرسری سا دیکھا تھا لیکن اب پڑھنا شروع کیا تو ’’عرضِ ناشر‘‘ جو محترمہ نے لکھا وہ اتنے دلچسپ پیرائے میں تھا کہ پڑھتے بنی۔ ’’پیش لفظ‘‘ عبدالرحمن چیمہ نے تحریر کیا۔ موصوف دوسرے پیرا میں اگر ’’ایک نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام‘‘ لکھنے کی بجائے پورا نام لکھتے تو تحریر واضح ہو جاتی۔ بہرحال جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی، انہوں نے بخوبی نبھائی۔ ’’مقدمہ‘‘ مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی نے لکھا اور اس کے بعد شاہد خیالوی کا تبصرہ بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ تمام احبابِ علم و دانش نے اپنے اپنے انداز میں کتاب کی وقعت و اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ شاہد خیالوی کی یہ سطریں کمال ہیں:
’’کسی مفکر کا قول ہے کہ انسان جب ایک اچھی کتاب پڑھتا ہے تو روشنی کی طرف ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اپنے قارئین پر علم و آگہی اور روشنی کے کئی دَر وا کرتے ہوئے خاص و عام میں مقبولیت حاصل کرے گی اور تشنگانِ علم کی پیاس بجھائے گی‘‘۔(صفحہ:17)
مقالہ جُوں جُوں پڑھتا گیا، آسان پیرائے میں ہونے کی وجہ سے سمجھ آنا شروع ہوا۔ صفحہ 22 پر درج ہے’’کلام کی ایسی لطافت جو جادو کا کام دے اور خیالات کو پلٹ دے اسے سحر کلامی کہا جاتا ہے‘‘۔ جیسے ارشاد نبوی ہے ’’بعض تقریریں جادو بھری ہوتی ہیں‘‘۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ اس کے ہر صفحے پر کچھ نہ کچھ لکھوں یا کوٹ کروں۔ لیکن پھر یوں ہو گا کہ ’’جادو‘‘ پوری کی پوری پھر سے تدوین ہو جائے گی۔ جو بہر صورت مناسب نہیں کہ ’’جس کا کام اسی کو ساجے، کوئی اور کرے تو ڈھینگا باجے‘‘۔

القصہ، جادو ایک حقیقت ہے اور قرآن و سنت کی رُو سے ثابت ہے۔ پروفیسر یحییٰ مرحوم کا مقالہ، عملی حیثیت رکھتا ہے۔ جسے رضیہ رحمن نے کمال ہنرمندی کے ساتھ قارئین کے ذوق اور جادو کے توڑ کے لیے پیش کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف مرحوم کے کام کو دوبارہ سے زندہ کیا اور ان کی علمی خدمت کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ بلکہ اپنے شوہر سے سچی قلبی وابستگی کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ ورنہ تو عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ مصنفین کی بیگمات اپنے شوہروں کے کام کو نہ سراہتی ہیں، نہ سنبھالتی ہیں اور نہ ہی شوہر کی وفات کے بعد اسے منظرعام پر لانے کی سعی کرتی ہیں۔ رضیہ رحمن نے نہ صرف اپنے شوہر کے کام کو آگے بڑھایا بلکہ علمی و ادبی حلقوں میں اپنا قد بھی اونچا کر لیا۔ یہ محبت کا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولا اور کتاب کی صورت میں اب قدردانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ صفحہ 18 سے 25 تک سحر کی تعریف مختلف انداز میں پیش کی گئی ہے۔ صفحہ 25 پر اقسامِ سحر بیان ہوئیں۔ صفحہ 33 پر خرق عادات اور معجزہ کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ صفحہ 31 پر آخری سطر میں تحریر ہے کہ ’’سلف صالحین فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو ہر کسی کا معتقد نہیں ہو جانا چاہیے‘‘۔ کمال کی بات کہی گئی۔
اس مقالے میں جہاں جہاں سے مدد لی گئی ہے، تحریروں کے ساتھ اُن کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ تاکہ تحقیق مصدقہ اور وقیع صورت میں پیش کی جا سکے۔ البتہ یہ بھی ضرور ہے کہ یہ تحقیق کسی قسم کی تصدیق کی محتاج نہیں۔ صفحہ 33 پر خرق عادت اور معجزہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں پروفیسر یحییٰ نے لکھا ہے کہ ’’اس طرح خالقِ کائنات اس بے جان عالمِ کائنات سے جس طرح چاہتا ہے کام لیتا ہے‘‘۔ یہ ایک غور طلب جملہ ہے۔ صفحہ 35 پر جہاں پروفیسر نے ریڈیو، ٹیلی فون اور تار کی مثال پیش کی رابطے کے ذرائع کے حوالے سے، وہاں رضیہ رحمن نے انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کا حوالہ دے کر اس 1966ء کے مقالے کو 2017ء کے لوگوں کے کے لیے قابلِ مطالعہ بنا دیا ہے۔ شروع میں جو باتیں قابلِ فہم نہ تھیں، عجیب تھیں جب ان کی افادیت ثابت ہوئی تو اُن کو پذیرائی ملی۔
صفحہ 37 سے معجزہ اور مسمریزم میں خالصتاً معجزے کو اللہ کی طرف سے نبی کی نبوت کا ثبوت ثابت کرنے کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ اور وہ خارق عادت ہوتا ہے۔ جس کا علم نبی کو نہیں ہوتا۔ ورنہ جب موسیٰ نے عسا پھینکا وہ اژدھا بنا تو وہ پیچھے نہ ہٹتے۔ ثابت ہوا کہ معجزہ اللہ کا خاصا ہے۔ صفحہ نمبر 41 پر معجزہ اور سحر کا فرق دونوں ایک دوسرے کی ضِد ہیں۔ معجزہ پاکیزہ لوگوں کے لیے جیسے نبی ہیں۔ اُن کی نبوت کا اظہار ہے اور سحر بدقماش لوگوں کا انسانوں کو نقصان پہنچانے کا حیلہ۔ صفحہ 44 پر معجزہ اور کرامت کو بیان کیا گیا ہے۔ معجزہ اللہ کا نبی کے ہاتھوں ظہور ہونا ہوتا ہے اور کرامت ولی کی نشانی ہے اگر وہ شریعت کا پابند ہو گا۔ فاسق و فاجر، تارک الصلوٰۃ، بھنگ کھانے والے، افیمی جو بھی کریں وہ جادو کے زُمرے میں آئے گا جو گناہ ہے۔ ان صفحات میں انہیں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ صفحہ 48 ، حکم ساحر: جادوگر کافر اور واجب القتل ہے یا نہیں۔ اس کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کا ساحر واجب القتل ہے لیکن نظربندی کچھ اور ہے۔ جس میں اختلاف ہے۔ صفحہ نمبر 53 پر سحرِ بابل کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ صفحہ 81 پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونے کا واقعہ صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ پروفیسر یحییٰ نے اس کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ جس چیز پر جادو ہوا، جس نے کیا، وہ سب اس میں درج ہے۔ جس میں نبیوں کے امتحان کا ذکر بھی ہے۔ استقامت اور صبر کا بھی۔
صفحہ 93 پر سحرِ بابل ، قصہ ہاروت و ماروت، ستارہ زھرہ کی حقیقت احادیث کی روشنی میں۔ اس میں زنا، شراب سے منع کیا گیا ہے۔ صفحہ 97 آثارِ صحابہؓ و تابعین اس باب کو بہت تفصیلاً بیان کیا گیا ہے۔ احادیث اور فقہا کے اقوال اور اُن کی آراء کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔ زھرہ کے ہاتھوں دو فرشتوں کا بہکنا۔ زھرہ کا ستارہ بننا۔ بظاہر اس باب کا جادو یا سحر سے کوئی تعلق بنتا نظر نہیں آتا۔ البتہ علم کے فروغ اور حقائق تک پہنچنے کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ صفحہ 105 پر ’’حاصلِ تحقیق‘‘کے عنوان کے تحت جادو اور اس سے پہنچنے والے نقصانات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ جادو کرنے والا مشرک قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی نے گرہ لگی چیز گلے میں لٹکائی گویا اس نے شرک کیا۔ خود کو اس کے سپرد کیا۔ سنت وعید بیان کی گئی ہے۔ حساب کتاب کروانے والے کی چالیس دن کی نمازیں ضائع اور ایسا کرنا شریعتِ محمدی سے انکار ہے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ ہر مشکل، بیماری اور مسائل میں صرف اللہ ہی کی ذات کو پکارا جائے۔
صفحہ 110 ’’جادو کا علاج‘‘ کے باب میں اذکار سے، قرآن مجید سے، شہد سے، صدقہ سے، بیری کے پتوں سے، عجوہ کھجور سے، معوذتین سے علاج ثابت کیا گیا ہے۔ صفحہ 115 سے مصنف کے حالاتِ زندگی اور احباب کی طرف سے ان کی شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب بہت دلچسپ پیرائے میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کی مدوّن رضیہ رحمن نے کتاب کی اصل روح کو برقرار رکھا ہے۔ بے جا دخل اندازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ کتاب زندہ علوم کے زُمرے میں آتی ہے جس سے مختلف ابہام کا خاتمہ ہوتاہے۔ پروفیسر محمد یحییٰ عزیز کے احباب کی آراء بھی بہت مقدم ہیں جن میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
’’جادو: قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ کی مدوّن رضیہ رحمن کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں نے اس کتاب کو تفصیلاً پڑھا اور اسے ریفرنس بُک کے طور پر بہت مفید پایا۔ یہ کتاب مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جادو یا سحر سے متعلق ہر مسئلے میں اس سے مدد لی جا سکتی ہے کیوں کہ بیماری اور اُس کا تدارک دونوں اس میں موجود ہیں۔

ڈاکٹر شکیل کاسیروی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…