یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ، محمد شمس الحق

٭٭٭یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ،محمد شمس الحق٭٭٭

کسی بھی شعر کو درست حالت میں پڑھنا میراشوق ِ اولیں رہا ہے۔اس پر اگرشعر کے خالق کا نام بھی معلوم ہو تو پڑھنے کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے۔ہمارے ہاں اشعارکے معاملے میں کئی طرح کے مسائل موجود ہیں۔مثلاً کسی کا شعر کسی کے نام لگانا،کسی شعر کو غلط پڑھنا وغیرہ۔چار سال قبل نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد میں ’’پیمانۂ غزل (جلد اول) ‘‘نامی ایک کتاب پر نظر پڑی ۔کتاب کو اٹھا کر سرسری دیکھا اپنے مزاج پر پورا پایا تو خرید لی۔کتاب کے مؤلف محمد شمس الحق تھے۔ یہ میرا شمس الحق صاحب سے پہلا تعارف تھااس سے قبل یہ نام نہ ہی میری سماعت سے ٹکرایا اور نہ کی نظر سے گزرا۔اس بات کو گذرے کچھ ہی وقت ہوا کہ فیس بک پر ایک کتاب’’آوارہ گرد اشعار ‘‘دیکھی جس میں معروف محقق قاضی عبدالودود صاحب نے ایسے ہی کئی اشعار کی نشان دہی کی جن کے خالق سے لوگ نا آشنا تھے۔ اس کتاب کا تعارف معراج جامی ؔ نام کے ایک صاحب نے لگایا ۔نام سے یہ کتاب بھی میرے خاصے کی معلوم ہوئی تو کمنٹس میں لکھ دیا کہ اس کی فوٹو اسٹیٹ مل سکتی ہے؟ جامیؔ صاحب نے کمال شفقت اور محبت سے اثبات میں نہ صرف جواب دیا بلکہ کچھ روز میں میرے پتے پر ارسال بھی کر دی۔ یہاں سے محترم سید معراج جامیؔ صاحب سے تعارف ہوا جو رفتہ رفتہ مضبوط تعلق بن گیا۔ سید معراج جامیؔکی شخصیت اس قدر متاثر کن ہے کہ مجھے اپنا شعر
؎ نظر آتے ہیں پجاری تو بہت دولت کے
کوئی الفت کا طلب گار نہیں دیکھا ہے
غلط لگنے لگا۔جامی ؔصاحب ادب پرور، انسان دوست اور کتاب دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی ذات کئی طرح کی خصوصیات کی حامل ہے جس پر آئندہ کبھی بات ہو گی۔ ’’آوارہ گرد اشعار ‘‘ ملنے پر خوشی ہوئی جس کا اظہار اپنے دوست احمد وقار ؔ میر سے کیا۔وقار نے بتایا کہ اس موضوع پر بہترین کتاب ’’ضرب المثل اشعار‘‘ ہے جس کے مؤلف ،محمد شمس الحق ہیں۔اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے جو در نظر آیا وہ کراچی میں جامیؔ صاحب کا تھا ۔ جامی ؔ صاحب کو فون کیا تو انھوں نے ایک سال قبل چار مارچ ۲۰۱۶؁ء کو یہ کتاب بھجوا دی۔ ’’ضرب المثل اشعار‘‘ ادارہ یاد گار غالب کراچی نے پہلی مرتبہ ۲۰۰۳؁ء میں شائع کی۔ ۳۸۴ صفحات کی اس کتاب کی رفیق احمد نقش صاحب نے ترتیب و تہذیب کی۔اشعار کے حوالے سے کئی طرح کی تحقیق میرے سامنے سے گزری لیکن جو دقیق اور مستند کام محمد شمس الحق صاحب کا ہے وہ کسی اور کا نظر نہیں آیا۔’’ضرب المثل اشعار‘‘ میرے نزدیک شعر کی درستی کے لیے ایک سند کا درجہ رکھتی ہے۔
۴ ،دسمبر ۲۰۱۶؁ء کو میرے دوست آصف ؔاسحاق میرے پاس جب مظفرآباد تشریف لائے تو بہ طور تحفہ ’’پیمانۂ غزل ‘‘ کی تینوں جلدیں بھی لے آئے۔پیمانۂ غزل ہی کے ذریعے میں شمس الحق صاحب سے آشنا ہوا لیکن اس وقت صرف جلد اول دیکھ پایا۔ یہ کتاب بھی ادب کے قاری کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔ پہلی جلد ۴۳۴ صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی دفعہ ۲۰۰۸؁ء میں شائع ہوئی۔ دوسری جلد ۴۷۳ صفحات کی ہے جب کہ جلد سوم ۵۶۷ صفحات پر محیط ہے۔ جلد سوم کا انتساب سید معراج جامی ؔ کے نام ہے۔اس انتساب کو پڑھ کر جہاں خوشی ہوئی وہاں اس بات پر حیرانی بھی تھی کہ جامی ؔ صاحب نے خود کبھی ذکر نہیں کیا جو یقینا ان کی اعلیٰ ظرفی کا ثبوت ہے۔تینوں جلدیں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوئی ہیں جن کے سرِورق پر مشہور مصور صادقین کے خوب صورت فن پارے سجائے گئے ہیں۔کتاب میں قطب معانی قطب شاہ سے لے کر کوئٹہ کے نوجوان شاعر محسن چنگیزی تک قریباً ۱۲۶۷ شعرا کا تعارف مع نمونۂ کلام شامل کیا گیا ہے۔
۲۰۱۷ ؁ء کا ایک نادر تحفہ جو محمد شمس الحق صاحب کی طرف سے جامیؔ صاحب کے توسط سے موصول ہوا ’’غزل اس نے چھیڑی۔۔‘‘ ہے۔بہت ہی عمدہ اور دیدہ ذیب آرٹ پیپر پر شائع یہ کتاب ۳۶۲ صفحات کی ہے۔ اس کو شائع کرنے کا اہتمام مؤلف کے نواسوں ،عدنان رشید،نعمان رشیداور ریحان رشید نے کیا ہے۔۲۰۱۶؁ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کے مؤلف یکم مارچ ۱۹۲۰؁ء کو اتر پردیش کے ضلع بلیا کے ایک قصبے گروار میں پیدا ہوئے۔ یو ں یکم مارچ ۲۰۱۷؁ء کو وہ اپنی ستانوے ویں (۹۷) سال گرہ منائیں گے(ان شاء اللہ)۔زیِرنظر کتاب میں قریباً ۳۱۴ شعرا کا منتخب کلام جمع کرنے کے علاوہ کچھ ایسے اشعار بھی موجود ہیں جو اپنے خالق تک پہنچنے کے لیے محققین کو دعوتِ تحقیق دے رہے ہیں۔ صفحہ ۱۸۷کے بعد شیخ نجم الدین شاہ مبارک سے مرزا واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی تک کئی شعرا کا تعارف مختصر بیان کیا گیا ہے۔’’غزل اس نے چھیڑی۔۔‘‘محمد شمس الحق صاحب کی آخری کتاب ہے جس کے سرِ ورق پر صفی ؔ لکھنوی کا شعر درج ہے
؎ غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا
جس سے یہ نام اخذ کیا گیا۔ یاد رہے اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب پیمانۂ غزل کی جلد اول پر بھی یہی شعر درج ہے۔پسِ ورق پر صاحبِ کتاب کی تصویر بھی دی گئی ہے غالباً اس سے قبل ان کی کسی کتاب پر تصویر موجود نہیں ہے۔ انتساب پروفیسر نظیر صدیقی صاحب کے نام ہے۔میری لائبریری میں ’’غزل اس نے چھیڑی۔۔‘‘ ایک خوب صورت اضافہ ہے۔میرے لیے اس کتاب کی کتنی اہمیت ہے اس کا ادراک معراج جامیؔ صاحب کو بھی تھا جس کا ثبوت ان کا یہ اقتباس ہے جو کتاب پر درج تھا۔
’’ڈئیر فرہاد، محمد شمس الحق کی ایک نہایت اہم اور قیمتی کتاب خاص طور پر تمھارے لیے‘‘
میں ایک بہترین کتاب کی کامیاب اشاعت پر اپنے محترم محمد شمس الحق صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور مجھ تک پہنچانے کے لیے جامیؔ صاحب کی محبتوں کا شکریہ ادا کروں بھی تو حق ادا نہ ہو گا۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اردو ادبی تحقیق میں اہم مقام حاصل کرتے ہوئے میرے ایسے کئی طلبہ کی تشنگی کو کم کرے گی۔محمد شمس الحق صاحب کا کام ا س قدر وسیع ہے کہ اس پر بات کرنا میرے جیسے طفلِ مکتب کے لیے سہل نہیں۔ان کا کام اس سے کہیں زیادہ کا متقاضی ہے تاہم ان کے حوالے سے جوکچھ لکھا ایک سعادت سمجھ کر لکھا۔ دعا گو ہوں اللہ میرے مہربان سید معراج جامیؔ اور محمد شمس الحق صاحب کو عمرِ خضر عطا کرے اور دو جہاں کی خوشیوں سے نوازے (آمین) ؔ

فرہاد احمد فگار

مظفر آباد، آزاد کشمیر

جواب چھوڑیں