فرزانہ ناز کا خونِ ناحق کسی کی گردن پر

پاک چائنہ فرینڈ شپ کے زیر اہتمام کتاب میلہ کی اختتامی تقریب سے ہماری قبیلۂ شعرو نثر کی مایۂ ناز فرزانہ ناز شاعرہ کتاب میلے میں 12 فٹ کی بلندو بالا سٹیج سے گر گئی اور دنیا کے اس چار روزہ میلے سے ہمیشہ کے لئے ہم سے بچھڑ گئی۔ دنیا کے اس میلے سے تو ہم سب نے ایک ایک کر کے جانا ہی ہے مگر کتاب میلے سے اس کتابی چہرے کا اوجھل ہوجانا دنیائے ادب میں ایک نہ پُر ہونے والا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ فرزانہ ناز کی موت بالکل مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہے۔ فرزانہ ناز ہی اس ہال میں تختہ موت پر نہیں چڑھی ہے اس سے پہلے بھی کئی حادثات ہوچکے ہیں ۔ نیشنل بک فائوندیشن کا ایک ملازم بھی شامل ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے چیئرمین انعام الحق اور وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی کی موجودگی میں یہ حادثہ رونما ہوا ہے اوروہ وہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے اتنی بھی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا کہ مضروبہ کو ایمبولینس کی سہولت فراہم کرا دیتے۔ VIP لوگ اپنی گاڑیاں دوڑا کر بھاگ گئے اور فرزانہ کی موت کو اللہ کی مرضی قرار دے کر صبر جمیل کی تلقین کرتے رہے۔ کوئی بھی ذی عقل یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس کی موت لکھی ہوئی تھی ہم نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرنی اور ہر کا م کو اللہ کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے حالانکہ یہ ہماری کوتاہیوں اور نا لائقیوں کی سزا ہمیں دی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو رب العالمین ہے اور اس کی طرف سے رحمت ہی رحمت ہے ہم اپنے لئے زحمت کا سبب خود بنتے ہیں اور اللہ پر یہ ہم الزام دھرتے ہیں ۔ ہمارے سرکاری درباری قلم کاروں نے فرزانہ ناز کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے اور وہ ہماری اس احتجاجی آواز کو دبا نہ سکیں گے۔ ادبی اداروں میں اس نوع کی غفلت اور مفاد پرستانہ تصور پہلے کبھی نہ تھا ۔ فرزانہ ناز ایک شاعرہ، ادیبہ اور کسب کمال تنظیم کی جنرل سیکرٹری تھی وہ ہماری ادبی حلقوں کی متحرک شخصیت تھی اس کی موت جسے ارباب حل و عقد نے اللہ کی مرضی کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے مگر خون بولتا ہے اور وہ اپنے قاتل کو پہچانتا ہے۔ انتظامیہ کی اس شدید غفلت مجرمانہ طرزِ وضاحت پر جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ لینڈ کروزر کی موجودگی میں مضروبہ کو بروقت کسی ہسپتال نہ پہنچانا بہت بڑی زیادتی ہے۔ وہاں پر پولیس گاڑی کے ذریعے الشفا ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ بہت دیر کر دی آپ نے یہاں آتے آتے اگر جلد پہنچ جاتے تو بچنے کے امکانات روشن تھے مگر ہم نے ہر بات کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ کو ٹھہرا رکھا ہے۔ ادبی اداروں میں کیا ہورہا ہے جہاں ادب کو فروغ دینا چاہئے وہاں غیر ادبی سرگرمیوں اور مشترکہ مفادات کی دوڑ میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے میں سب سے آگے جارہے ہیں۔ اس حالت میں کوئی کسی کو کون پوچھتا ہے اور کسی کی زندگی سے انہیں کیا غرض ہے کہ کوئی جیئے یا مرے۔

کوئی مرے تے بھانویں جیوے
دینا گھول پتاشے پیوے

اگر مرنے والی اُن کی اپنی عزیزہ ہوتی یا اُن کی پسندیدہ شاعرہ ہوتی تو ایک گاڑی کی کیا بات ہے۔ گاڑیوں کی لائنیں لگ جاتیں۔ مجھے بڑے افسوس اور صدمے کے عالم میں یہ چند سطور اس لئے لکھنی پڑ رہی ہیں کہ کم از کم آئندہ منعقد ہونے والے کسی بھی کتاب میلہ میں کوئی ہماری ساتھی ہم سے نہ بچھڑ جائے دنیا بھی چار روزہ میلہ ہے اس بھیڑ میں کوئی ہماری ساتھی ہم سے نہ بچھڑ جائے اس بھیڑ میں بھی ہم اگر ایک دوسرے سے بچھڑ کر زندگی کرتے رہے تو انسانیت ہم پر ماتم کرے گی کہ یہ انسان ہیں جو خود غرضی اور اپنے مفادات کے سوا انہیں اور کوئی غرض ہی نہیں ہے۔ ادیب اور شاعر کو عہدہ مل جائے تو اس کی شاعری اور ادب کہاں چلا جاتا ہے اور اس کی شخصیت سے احساس رفو ہوجاتا ہے اور وہ بالکل نوکر شاہی کی طرح بن جاتے ہیں جن پر تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے۔ خدارا ادب کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ادیبوں، شاعروں، انشاپردازوں کی حقیقی خدمت کی جائے۔ فرزانہ ناز کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اس کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کا اعلان صرف اعلان ہی نہ ہو اس کے گھر جاکر معاملات کا جائزہ لیا جائے اس قتل کا خون بہا ادا کیا جائے ۔ پورے پاکستان کے شاعروں اور ادیبوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے اس احتجاج میں شامل ہوجانا چاہیے۔ درباری، سرکاری اور ادبی تاجروں کو میری یہ باتیں تلخ محسوس ہوں گی اور وہ کتنے ہیں میں تو دنیا بھر کے لاکھوں شاعروں اور ادیبوں کی بات کروں گی ۔ حبیب جالب کی زبان استعمال کرتے ہوئے اختتام کرتی ہوں :

فکر انجمن کسی کو کیسی انجمن پیارے
اپنا اپنا غم سب کو سوچئے تو سب تنہا
سن رکھو زمانے کی کل زبان پر ہوگی
ہم جو بات کرتے ہیں آج زیر لب تنہا
اپنی رہنمائی میں کی ہے زندگی ہم نے
ساتھ کون تھا پہلے ہوگئے جو اب تنہا
مہر و ماہ کی صورت مسکرا کے گزرے ہیں
خاکدانِ تیرہ سے ہم بھی روز و شب تنہا
کتنے لوگ آ بیٹھے پاس مہرباں ہو کر
ہم نے خود کو پایا ہے تھوڑی دیر جب تنہا
یاد بھی ہے ساتھ اُن کی اور غمِ زمانہ بھی
زندگی میں اے جالب ہم ہوئے ہیں کب تنہا

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق

جواب چھوڑیں