"تمہاری جفائوں نے یہ دن دکھایا،تمہیں یاد رکھا تمہی نے بھلایا” شاعرہ ناہیدنیازی کا انٹرویو

"تمہاری جفائوں نے یہ دن دکھایا،تمہیں یاد رکھا تمہی نے بھلایا” شاعرہ ناہیدنیازی کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

ناہیدنیازی۔۔مجھےناہیدنیازی کہتے ہیں۔

تفکر – قلمی نام؟

ناہیدنیازی۔۔ایک زمانے میں(کنول)قلمی نام کے طور پر استعمال کرتی تھی۔

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

ناہیدنیازی۔۔میں لاہور میں پیدا ہوئی اور میری تار یخ پیدائش 3 اگست 1965ہے۔

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

ناہیدنیازی۔۔میں نے پہلا ماسٹرفلسفے میں گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور دوسرا اُردو لٹریچرمیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا ہے۔ اس کے بعد پروڈکشن سیکھی اور سکریپٹ رائیٹنگ میں ڈپلومہ کیا۔

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ناہیدنیازی۔۔ابتدائی تعلیم میں نے گورنمنٹ سکول بنات ا لمسلمین ہائی سکول لاہور سے حاصل کی۔

تفکر – پیشہ؟

ناہیدنیازی۔۔جرنلزم

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

ناہیدنیازی۔۔ادبی سفر کا آغاز تو میں نے سکول کے زمانے سے ہی کر دیا تھا۔

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

ناہیدنیازی۔۔میں نے شاعری سکول کے زمانے سے آزاد نظموں سے شروع کی تھی جن کی پہلی اصلاح محترمہ ناہید قاسمی نے کی تھی بھر یہ سلسلہ جاری تو رہا  اور جنگ کے ادبی صفحےمیں شائع ہوتی رہیں.مگر میں خود کو شاعرہ نہیں کہتی،بس اظہار خیال کر لیتی ہوں۔شاعروں میں میں فیض احمد فیض،مُنیر نیازی اور حبیب جالب سے متاثر ہوں۔

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

ناہیدنیازی۔۔یہ تو میں خود بھی نہیں جانتی ،پڑھنے والا بہتر بتا سکتا ہے۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

ناہیدنیازی۔۔افسانہ

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

ناہیدنیازی۔۔شاعری

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

ناہیدنیازی۔۔ابھی پہلی کتاب مراحل میں ہے۔

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

ناہیدنیازی۔۔کوئی نہیں مگر جلد لکھنے کا ارادہ ہے۔

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ناہیدنیازی۔۔میں اپنے والدین کی طرف سے ارائیں(ملک) ہوں اور میرے شوہرسید ہیں

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

ناہیدنیازی۔۔شادی شدہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

ناہیدنیازی۔۔میرا ایک بیٹا اسد ہارون اوردو بیٹیاں ثنا ہارون اورحناہارون ہیں

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

ناہیدنیازی۔۔آج کل میں لاہور میں رہائش پذیر ہوں

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

ناہیدنیازی۔۔میرے بچپن کی خوبصورت یاد وں میں گڑیوں کے ساتھ کھیلنا ،کانجی اور اچار چوری کر کے کھانا بہت یاد آتا ہے۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

ناہیدنیازی۔۔مجھے اپنے ادبی سفر میں مس الطاف فاطمہ کی رہنمائی حاصل رہی تھی۔غزلوں اور نظموں کے لیے مس ناہید قاسمی اور نثر کے لیے مس الطاف فاطمہ،بات تو چھوٹی سی ہےمگر آج بھی یاد ہے۔اپنے کالج میگزین کے لیے بانو قدسیہ مرحومہ کا انٹرویو لینا تھا ،انٹرویوتو لے لیا مگر کچھ سوال پوچھنا باقی رہ گئے،اصل میں اکیلے کبھی کسی اور گھرمیں جانا نہیں ہوا تھا سو گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ دیر ہونے کی بھی پریشانی تھی،لہذا جلدی کام ختم کرنے کے چکر میں کام کو اور بڑھا لیا اس کا اندازہ بعد میں ہوا۔اگلے دن بڑے فخریہ انداز میں مس الطاف فاطمہ صاحبہ کے سامنے اپنے انٹرویو کی فائل رکھ دی تو پتہ چلا کہ کافی کچھ کم تھا خیر  اپنے پیاری اُستاد کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے اگلے دن دوبارہ جانے کا کہہ دیا۔اگلے دن پھر سے بانو قدسیہ مرحومہ کے گھر پہنچ گئے،جلدی سے کام مکمل کرنے کے بعد ہم قریب چھ بجے مس الطاف فاطمہ کے گھر پہنچ گئے۔ کہ یہ انٹرویو مکمل ہو گیا ہے بس بھر کیا تھا مس الطاف فاطمہ مرحومہ نے آؤ دیکھانہ تاؤ دیکھا نہ ہماری محنت نہ ہی گرمی سے شرابور ہوئےہم،بس غصہ سے بولیں تم ادھر کیا کر رہی ہو ابھی تک گھر کیوں نہیں گئی گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے ،جی مس گھر میں نے فون ،،،،،،،بات  منہ میں سانسیں بند جلدی سے گھر کو لوٹے جیسے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہو(اُس زمانے میں چھوٹی سی بات بھی بہت بڑی محسوس ہوتی تھی )خیر ایک فیصلہ کیا کہ یہ تو ابھی ادب سے لگاؤ کی شروعات ہے،یہیں سے واپس کو پلٹ جاتے ہیں آگے اس سے بھی زیادہ مشکلات آئیں گی،صبح مطمئن حالت میں کالج داخل ہوئے تو اطلاع ملی کہ فوری دفتر میں حاضری دی جائے،اُردو ڈیپاٹمنٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ آج پھر سے ایک انٹرویو کے لیے جانا ہے اور کالج ٹائم میں ہی واپس آنا ہے(یہ بات میں بتاتی چلوں کہ میں اسلامیہ کالج کوپڑ روڈ کی طالبہ تھی)یہ انٹرویو کے لیے مجھے اور میری ایک اور ایڈیٹر دوست کو ایف سی کالج میں میں جانا تھا خیر جلدی سے نکلے ۔عمران پیرزادہ کا انٹرویو اور عقیل روبی کا انٹرویو لیا تھا،دونوں کا انٹرویو بہت اچھا ہوا ،کالج واپس آئے تو مس الطاف فاطمہ کو منتظر پایا اُن کو بھی انٹرویو پسند آیا اور ساتھ ہی اُنہوں نے میرے اکلوتے افسانے کو پسند کرتے ہوئے کالج میگزین کے لیے منتخب کر لیا،تو دل کوسکون محسوس ہوا کہ کل کے حوالے سے کوئی بات یا ڈانٹ نہیں پڑی ورنہ ادبی سفر خواب و خیال ہوجاتا ۔ یوں میں نے آہستہ آہستہ مس الطاف فاطمہ سے اور نظموں اور غزلوں میں مس ناہید قاسمی سے راہنمائی لینا شروع کر دی اور جلد ہی میری غزلیں جنگ کے ادبی صفحہ پر نظر آنے لگی۔ہاں ایک بات مجھے سمجھ آ گئی کہ ادب سے وابستہ رہنے کے لیے ُا ستادوں کی بات کا بُرا نہیں منانا چاہیے ۔میرے ادب کا سفر چند قدمو ں کا تھا مگر میرے اُستادوں کی شاباش مجھے پالش کر گئی۔  میرا اکلوتا افسانہ آج بھی میرا اکلوتا ہی ہے ۔اس کے بعد نظم،آزاد نظم اور غزل لکھتی تو رہی مگر شائع نہیں کروائی۔کافی عرصے تک روزنامہ پاکستان میں (شعور کی باتیں) کے عنوان سے کالم لکھتی رہی ہوں اور آج بھی یہ سلسہ جاری ہے عنوانات  بدلتے رہتے ہیں۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

ناہیدنیازی۔۔حسینہ معین،بانو قدسیہ(مرحومہ)

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

ناہیدنیازی۔۔اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ان کو پڑھنا بہت ضروری ہے۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ناہیدنیازی۔۔ہوں،کبھی کبھار ایسے حالات سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ناہیدنیازی۔۔حکومت نے ادب کے لیے کافی کچھ کیا مگر اُتنا نہیں جتنا کرنا چاہیے تھا۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

ناہیدنیازی۔۔جتنا خوبصورت اُردو ادب ہے اُتنے ہی خوبصورت ادبی لوگ ہیں،ادب سے وابستہ لوگوں سے یہ التماس ہے کہ نئے آنے والوں کوبھی خوبصورت راستہ دیں تاکہ وہ خود کو اس ڈنیا میں اجنبی نہ سمجھیں

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

ناہیدنیازی۔۔یہ بہت اچھی کاوش ہے اس کو جاری رکھیں۔

تفکر – شعر یا تحریر؟

ناہیدنیازی۔۔پہلے طالب علمی کے زمانے میں میری پہچان غزلیں اور نظمیں تھیں مگر میری پہچان میر ے کالم کے ذریعے ہوئی۔1983میں (جنگ ) اخبار کے ادبی صفہے میں شائع ہوئی ایک غزل
تمہاری جفائوں نے یہ دن دکھایا،تمہیں یاد رکھا تمہی نے بھلایا
چراغ محبت جو مل کے جلایا،اُسی نے دیا حسرتوں کا بجھایا
جسے ہم نے سمجھا ،وفائوں کا پیکر،خبر کیا تھی وہ ہے فقط ایک سایہ
بڑے درد جھیلے ہیں دل کی لگی میں،محبت کا موسم کہاں راس آیا
عجب ھے یہ ترک تعلق بھی ناہید،کہ جس کو بھلایا وہی یاد آیا

جواب چھوڑیں