شاکر شجاع آبادی کے ساتھ شام

شعرو ادب کی دیوار کو سنبھالا دو

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے قومی المیہ پر اپنی آخری تقریر میں یوں ماتم کیا تھا کہ جہاں چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا ہو وہاں ڈوبتے ہوئے آفتاب کو کون پوچھتا ہے۔ جنوبی پنجاب کا عظیم شاعر شاکر شجاع آبادی کی جسمانی کیفیت بالکل مایوس کُن ہے مگر اس ناتواں جسم میں اس کی روح بڑی توانا ہے اور وہ انقلابی، عوامی ، سماجی حالات پر نوحہ کناں ہے۔ معاشرے میں عدل و انصاف اور مساوات کی صورت حال اسے بے چین کیے ہوئے ہے وہ غریب آدمی ہے مگر غریبوں کا ترجمان ہے۔ اس کی زبان جواب دے گئی ہے مگر اس کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوئے ۔ وہ اس عہد کا جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا شاعر ہے جو مصائب و آلام سے نبرد آزما ہے ۔ گذشتہ روز پاکستان ادب ورثہ کے زیر اہتمام شاکر شجاع آبادی کے ساتھ شام منائی گئی۔ لودھراں روڈ شجاع آباد میں شاکر کا بجپن گزراا ور چھٹی جماعت میں ہی اس پر قیامت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے وہ اپنی بیمار والدہ کی خدمت کے لئے سبزی کی دوکان کرتا تھا اور فکر معاش کی تلخیوں سے نبرد آزما ہوگیا۔ آٹھ سال کی عمر میں وہ ایک ایسی اعصابی موذی مرض کا شکار ہوگیا جس کے ساتھ ابھی تک وہ لڑ رہا ہے ۔ کچھ عرصہ بہاول پور چلا گیا۔ شادی بھی کی 4 بچیاں جن میں دو بیماریوں سے لڑتی لڑتی جان کی بازی ہار گئیں اوردو ابھی شاکر کے ساتھ بیماریوں کی جنگوں میں شامل ہیں اور اپنی قوت ارادی اور عزم بالجزم سے لڑائی لڑرہی ہیں۔ شاکر شجاع آبادی کو زبان پر فالج کا حملہ ہوا ہے اور اب وہ زبان غیرسے شرح آرزو کرنے پر مجبور ہیں ۔ اکیسویں صدی کے اس مجبور و بے کس شاعر کی طاقت و قوت اس کے مضبوط خیالات ہیں جن کے سہارے وہ زندہ ہے۔ اگر مولائے کریم نے اس نعمت سے بھی محروم کر دیا ہوتا تو اس کے لئے جینے کی پھر شاید ضرورت ہی نہ رہتی ۔ اس وقت وہ جن حالات سے دو چار ہے اس کی پذیرائی ہی اس کی روح کی غذا ہے ۔ڈوبتے تاروںکی لَو میں اپنے دل کو منور کرنے والا شاکر شجاع آبادی حکومت پنجاب کے وظیفے پر زندگی کی سانسیں لے رہا ہے اور اس حالت میں بھی وہ بقول غالب
نغمۂ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
بے صدا ہوجائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
شاکر اپنے ساز ہستی کے ہر تار سے پیار کرتا ہے اور زندہ رہنے اور زندگی کی تمام تر رعنائیوں سے فیض یاب ہونے کا متمنی ہے۔ وہ اس حالت میں بھی خدائے بزرگ و برتر کا شکر گزار ہے وہ جس حال میں بھی رکھے اس کاشکر ادا ہی کیا جائے۔ زبان پر فالج، جگر خراب، اعصاب لرزاں براندا م، لرزاں لرزاں اس حالت میں بھی روح کی توانائی اسے شاعری کی لذت سے آشنا کرتی ہے۔ اس کے لب آزاد ہیں مگر بول نہیں سکتا اور جو بول سکتے ہیں اُن کے لب آزاد نہیں ہیں۔ حکومت پاکستان اور پنجاب کو شاکر شجاع آبادی کے موجودہ کرب ناک حالات کو دیکھتے ہوئے اس کا وظیفہ چار گنا بڑھا دینا چاہئے۔ شاعری کی یہ گرتی ہوئی دیوار کو اگر حکومت تھام لے تو تاریخ میں ان کا نام ایسے درویش صفت شاعر کی مشکلات کو آسانیوں میں بدلنے سے نیک نامیوں میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان ادب ورثہ کے بانی شاعر جمیل ارشد کی ایک مرتبہ دوبارہ شکر گزار ہوں کہ جن کی استدعا پر اس حالت میں بھی شجاع آباد سے بڑا طویل سفر کرکے لاہور کے ثقافتی مرکز میں لے کر آئے اور اُن کے ساتھ خیالات کا خاموش تبادلہ ہوا اور انہیں احساس دلایا کہ آپ کے قدر دان ابھی زندہ ہیں۔ اس مشاعرہ میں جن شعرا نے اپنا کلام سنایا اُن میں جمیل ارشاد شاکر کا منہ بولا بیٹا فرید نذر نے اُن کا کلام سنایا۔ اس کے علاوہ جناب ناصر بشیر،ڈاکٹر اختر شمار، افضل عاجز باقی احمد پوری، ڈاکٹر صغریٰ صدف ، شیریں گل رانا، شاہینہ کشور، فاطمہ رضوی، عالیہ بخاری آسناتھ کنول شامل ہیں ۔
آخر میں شاکر شجاع آبادی کے اشعار کے ساتھ
خدا یا خدا حفاظت کر، تیڈا فرمان وِکدا پے
کتھائیں ہے دین دا سودا، کتھائیں ایمان وِکدا پئے
کتھائیں مُلاں دی ہٹی تے، کتھائیں پیراں دے شوکیس اِچ
میڈا ایمان بدلیا نی مگر قرآن وِکدا پئے
اتھاں لیڈر وپاری ہن، سیاست کارخانہ ہے
اتھاں ممبر وکائو مال اِن، اِتھاں ایوان وِکدا پئے
میڈے ملک اِچ خدا ڈالر، میڈے ملک اِچ نبی پیسہ
اِتھاں ایمل نہ کئی آوے، اِتھا مہمان وِکدا پے
نی ساہ دا کئی وِسا شاکر، وَلا وی کیوں خدا جانے
ترقی دی حوس دے وچ، ہر ہک انسان وِکدا پے

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

جواب چھوڑیں