آلودگی اور بڑھے گی؟ ممتاز راشد ؔ لاہوری

’’ معاشرت ‘‘

ترقی پذیر ملکوں کا ایک بڑا مسئلہ کئی طرح کی آلودگی کا بڑھنا ہے ۔ انہی میں ہمارا پیارا وطن بھی شامل ہے جس کے اکثر شہروں میں آلودگی کا تناسب عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ہمہ وقت کسی نہ کسی منصوبے کے تحت لمبی چوڑی اور گہری کھدائیاں جاری رہتی ہیں اورا ن کی وجہ سے گرد وغبارکا طوفان برپا رہتا ہے ۔حکومتیں ٹھیکیداروں سے کام کراتی ہیں مگر انھیں ان پہلوئوں کاپابند نہیں بناتیں کہ جن کی وجہ سے کھدائیاں آلودگی بڑھانے کا سبب نہ بنیں ۔ کھدائیوں کی وجہ سے جو پکی سڑکیں زدمیں آکر کھڈے کھائیاں بنی رہتی ہیں اور کئی کئی مہینوں بلکہ سال دو سال تک وہ آلودگی پھیلانے کا منبع بنی رہتی ہیں، ان کو دوبارہ پکا کرنا ٹھیکیدار بھی بھُولے ہوتے ہیں اور ان منصوبوں کے نگرا ن بھی ۔ اس وجہ سے ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، ٹریفک پھنسی رہتی ہے ، گاڑیوں کا پٹرول ٹریفک میں پھنسے رہنے یا ان کھڈے کھائیوں کے جھٹکے کھانے سے سبھی ڈرائیوروں اور سواریوں کے وقت کا جوزیاں ہوتا ہے اس کو تو گویا کسی کھاتے ہی میں نہیں گنا جاتا ۔ ہمارے پیارے شہر لاہور میں کئی سڑکیں اسی طرح کی ابتری کاشکار ہیں۔ 22اپریل 2017ء کی اخباری رپورٹوں کے مطابق لاہور میں آلودگی کی مقدار عالمی معیار سے دگنا ہوچکی ہے ۔ دنیا مین معیارکی شرح 150مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ہے جبکہ لاہور کے کئی مصروف چوکوں میں یہ مقدار 300مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ریکارڈ کی گئی ہے ۔ لاہور کے ان چوگوں میں مرکزی ریلوے اسٹیشن کا چوک ، راوی پل کے پاس بتی چوک ، مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد کے پاس آزادی چوک ، ملتان روڈ پرچوبرجی چوک ، شالامار باغ کے پاس جی ٹی روڈ کا شالیمار چوک اور لاہور میں گزرنے والی نہر کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ چلنے والی کینال روڈ کے بعض بے حد مصروف حصے شامل ہیں۔ حکومت پنجاب بھی ہمہ وقت کوئی نہ کوئی بڑا منصوبہ شروع کیے رکھتی ہے جس کی وجہ سے کئی کئی کلومیٹر کھدائیاں آلودگی پھیلا رہی ہوتی ہیں مثلاً 2010ء کے بعد 27کلومیٹر طویل میٹروبس کے روٹ کی تیاری کی وجہ سے دوتین سال تک یہ کھدائیاں آلودگی بڑھاتی رہیں۔ خدا خدا کر کے یہ منصوبہ مکمل ہوا تو اور نج ٹرین کے روٹ کی تیاری شروع ہوگئی اور تقریباً میٹروبس کے روٹ کی لمبائی جتنا یہ منصوبہ دو سال سے لمبی چوڑی اور گہری کھدائیاں کی وجہ سے کئی سڑکوں اور چوکوں میں بے پناہ آلودگی بڑھانے کا سبب بنا ہوا ہے ۔ اعتراض ان منصوبوں پر نہیں بلکہ ان کی وجہ سے ہونے والی کھدائیاں کو ساتھ ساتھ بروقت نہ بھرنے اور دوبارہ پکی سڑک وغیرہ کی صورت نہ دینے پر ہے اور ان پہلوئوں پر ٹھیکیداروں اور ان منصوبوں کے نگرانوں کی توجہ مجرمانہ غفلت کی حد تک بڑھی ہوئی ہے ۔ سڑکوں پرا ن کھدائیوں اور کھڈوں کو کام مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ ہی بھر دیا جائے اور بغیر تاخیر کے فوری طور پر وہاں کچی جگہوں پر سڑک پکی کرنے والا مواد بچھا دیا جائے تو آلودگی کے مسائل بہت کم ہو سکتے ہیں اور گرد وغبار کا بڑی حد تک ازالہ ہوسکتا ہے مگر ان جگہوں کو بروقت پکی کرنے کا اہتمام کوئی کرتا ہی نہیں۔
رائیونڈروڈ سے براستہ ملتان روڈ ، میکلو ڈ روڈ اور جی ٹی روڈ ، اور نج ٹرین کے منصوبے کو ابھی سات ماہ بعد دسمبر 2017ء میں مکمل ہونا ہے اور ابھی تک اس کی کھدائیوں سے بننے والی کھائیاں کھڈے کئی جگہ آلودگی پھیلا رہے ہیں، اندازہ تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد لاہور کے شہری آلودگی کے حوالے سے سکون کا لمبا سانس لیں گے مگر اب 8مئی 2017ء کو حکومت پنجاب نے لاہور میں ایک نیا طویل مدتی منصوبہ ’’پرپل ٹرین ‘‘ شروع کرنے کااعلان کر دیا ہے جوکہ مکمل طور پر زیر زمین ہوگی۔ یعنی ’’پرپل ٹرین ‘‘ کی کھدائیاں اور زیادہ گردوغبار کا طوفان اٹھائیں گی۔ اس ’’پرپل ٹرین ‘‘ کاروٹ پتہ نہیں کیا ہو گا مگر ساتھ ہی حکومت پنجاب نے شاہدرہ سے جی ٹی روڈ پر رانا ٹائون تک ایک چھ سات کلو میٹر طویل پل بنانے کا اعلان بھی کر دیا ہے ، گویا وہاں بھی کھدائیاں کی وجہ سے گردوغبار کا طوفان برپا ہونے والا ہے ۔ یہ سات کلومیٹر طویل پل آٹھ لین کا ہوگا۔ درمیان کی دولین میٹر وبس کے لیے ہوں گی ، گویا میٹروبس اب گجومتہ (فیروز پورہ روڈ ) سے شاہدرہ تک نہیں رہے گی بلکہ شاہدرہ سے شمال میںمزید سات کلومیٹر روڈرانا ٹائون تک جایا کر ے گی۔ اس کی تکمیل پر اسکے فوائد او ر فیوض و برکات سے کوئی انکار نہیں، سوال صرف ان کی تکمیل کے دوران گردوغبار سے بہتر سے بہتر انداز میں نہ نمٹنے کا ہے ۔ ان منصوبوں کے نگران اس طرف پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دیں گے تو دعا ہی لیں گے ورنہ تو ان کے لیے متاثرہ عوام کی بددعائیں اور گالیاں ہی مقدر ہونگی ۔

ممتاز راشد ؔ لاہوری

جواب چھوڑیں