انکار – سماء چودھری

انکار

آج بہت سوچا کہ انکار الفت کر دوں
تیرے ہی سامنے اب
تیری یادوں سے بغاوت کر لوں
دہشت غم سے اب عدوات کرلوں
چھوڑ دوں____یہ گماں
کہ محبت دو طرفہ تھی
تحش میں یوں آوں کہ
جذبوں کو پابند کرلوں
آج تلخ ہو جاوں میں بھی
تیرے لہجے کی طرح
مڑ کہ نہ دیکھوں تم کو
دل پتھر ہے گماں کرلوں
تیرے فریب___
تیرے قرب پہ ہمشیہ بھاری رہے
تیرے وصل کے پل۔۔
تیرے ہجر پہ حاوی رہے سؔما
گم نام سی کہانی اختتام پہ ہے
طلب کیوں پھر اسی جام کی ہے
کیوں پلکوں کے سرہانے نیند جاگتی رہی
کیوں میری دھڑکن بے لگام بھاگتی رہی
ہوا کے دوش پہ رواں رہی ذات اپنی
پورا شہر جو جانتا تھا کہانی اپنی
اشک کی اس بوند پہ تیرا قصہ تمام ہے
قلم کی اس نوک پہ کہانی تمام شد۔
آج جو بہت سوچا __ہاں بہت سوچا

ازقلم*سماءچودھری

جواب چھوڑیں