خدا کی ہستی حسین ہے

خدا کی ہستی سے زیادہ حسین وجود کسی کا نہیں ۔ مگر اس کا یہ حسن اس کی صفات کی شکل میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ سورج اس کے جلال کا ایک ادنیٰ پرتو ہے ۔ بدر کامل اس کے جمال کا ایک حقیر نمونہ ہے ۔ آسمان اس کی عظمت کا ایک معمولی سا نشان ہے ۔ بارش اس کی رحمت کا محض ایک قطرہ ہے ۔ زندگی اس کی قدرت کا صرف ایک اشارہ ہے ۔
مخلوقات میں پائی جانے والی محبت اس کی شفقت کا بس ایک ذرہ ہے ۔ جب اللہ پاک نے ماں کا وجود اتنا محبت والا بنایا کہ وہ راتوں کو روتے بچے کو گود میں لے کر رات آنکھوں میں کاٹ دیتی ہے۔ بچہ روتا ہے تو تڑپ جاتی ہے، ہر لمحہ فکر میں رہتی ہے دنیا کے رشتوں میں بشک بغاوت آجائے مگر ماں کا دل کبھی بد ظن نہیں ہوتا وہی محبت رہتی ہے۔مرتے دم تک
اور پھر اللہ کہتا ہے وہ ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے ۔بشک وہی کرتا ہے۔
اللہ پاک پھر بھی دیتا ہے۔ ہمارے گناہوں کے باجود
محبت و عطا اللہ پاک کی اتنی ہے کہ خدا کی صفات کاملہ کا مخلوقات میں یہی ظہور وہ ذریعہ ہے جس سے بندۂ مومن یہ جانتا ہے کہ اس کا رب کیسا ہے ۔
وہ ذات بابرکت ہے کیسے کیسے نوازتا اپنے بندے کو
اور کہتا ہے ہے کوئی مانگنے والا؟
وہ دے کہ بھی آزمائش لیتا ہے اور لے کر بھی
جب دیتا ہے تو دیکھتا ہے میرا بندہ صدقہ و خیرات کرتا ہے دیتا ہے میری راہ میں میرے غریب بندوں کی مدد کرتا ہے۔۔۔ ؟
اور جس کو نہیں دیتا اس کو دیکھتا ہے کہ میرا بندہ صبر کرتا ہے؟ ذکر کرتا ہے میرا
اور یقین مانو وہ بے حد نوازتا ہے صبر کرنے والے کو
وہ تو ہر رنگ میں جلوہ گر ہے کبھی دھنک ، کبھی شبنم
تو کبھی جگنو جو رات میں دن کا تصور دیتا ہے۔
وہی خدا ہے ، بے حد خوبصورت ، بےحد نور وجمال کا سر چشمہ ۔
إن الله جميل يحب الجمال
(اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے)

تحریر* سماء چودھری

جواب چھوڑیں