ناول نگار،افسانہ نگار،سفرنامہ اور کالم نگار سلمیٰ اعوان کا انٹرویو

ناول نگار،افسانہ نگار،سفرنامہ اور کالم نگار سلمیٰ اعوان کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

سلمیٰ اعوان۔۔سلمیٰ اعوان

تفکر – قلمی نام؟

سلمیٰ اعوان۔۔کوئی نہیں

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

سلمیٰ اعوان۔۔سمیّ پور میں جو جالندھر انڈیا کا ایک مضافاتی گاؤں ہے۔ سال 1943ء ہے۔

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

سلمیٰ اعوان۔۔ایم اے۔بی ایڈ۔ایم ایڈ۔

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

سلمیٰ اعوان۔۔صدر بازارلاہور چھاؤنی کے ہائی اسکول سے۔

تفکر – اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

سلمیٰ اعوان۔۔پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے۔

تفکر -پیشہ؟ 

سلمیٰ اعوان۔۔لکھاری،درس وتدریس

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

سلمیٰ اعوان۔۔1967ء کے لگ بھگ

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

سلمیٰ اعوان۔۔شاعری نہیں کرتی مگر شاعری سننے اور پڑھنے کا شوق ضرور ہے

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

سلمیٰ اعوان۔۔بڑے اور چھوٹے ادیبوں کی کتابوں نے ہی تربیت کی۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

سلمیٰ اعوان۔۔مجھے تو افسانہ،ناول،سفرنامہ اور کالم سبھی پسند ہیں۔

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

سلمیٰ اعوان۔۔سفرنامے پر زیادہ کام ہوا۔گو اس میں بھی افسانہ اور ناول کی تکنیک چلی۔ناول بھی بہت لکھے اور افسانے بھی۔

تفکر -شاعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

سلمیٰ اعوان۔۔میں شاعرہ نہیں ہوں

تفکر -شاعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

سلمیٰ اعوان۔۔کل کتابیں ماشاء اللہ چوبیس ہیں

ناول
1۔ تنہا (بنگلہ دیش بننے تک کی داستان ناول کے رنگ میں)

2 ۔ لہو رنگ فلسطین

3۔یہ میرا بلتستان

4۔ ثاقب (1965ء کی جنگ کے پس منظر میں)

5۔ گھروندا اِک ریت کا(معاشرتی اور رومانوی ناول)

6۔ زرغونہ (معاشرتی اور رومانوی ناول)

7۔ شیبہ (معاشرتی اور رومانوی ناول)

افسانوی مجموعے
1۔ کہانیا ں دنیا کی (غیرملکی سفروں کے دوران ملنے والے بین الاقوامی طور پر سلگتے ہوئے مسائل پر اُن ملکوں کی تہذیب وثقافت
کے پس منظر میں لکھی جانے والی کہانیاں)
"The Sky Remained Silent” (کہانیاں دنیا کی کا انگریزی میں ترجمہ)
2۔ بیچ بچولن (معاشرتی کہانیاں)

3۔ خوابوں کے رنگ
4۔ برف میں دھنسی عورت کچھ کہتی ہے

5۔ ذرا سنو تو فسانہ میرا
سفر نامے
1۔ سندر چترال

2۔ میرا گلگت و ہنزہ

3۔ مصر میرا خواب

4۔ روس کی ایک جھلک
5۔ عراق اشک بار ہیں ہم

6۔ استنبول کہ عالم میں منتخب

7۔ سیلون کے ساحل،ہند کے میدان
8۔ اٹلی ہے دیکھنے کی چیز

9۔ بلا د الشام امن سے جنگ تک (زیر طبع)
کالموں کا مجموعہ
1۔ "باتیں دنیا اور دل کی”

2۔ عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

سلمیٰ اعوان۔۔پڑھالکھا خاندان،صاحب علم لوگ ہیں مگر ادیب نہیں۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

سلمیٰ اعوان۔۔شادی شدہ،تین بچوں کی ماں اور ایک شوہر کی بیوی

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

سلمیٰ اعوان۔۔دو بیٹے (غضنفر علی،ضیغم علی )۔بیٹی (سعدیہ عمران)

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

سلمیٰ اعوان۔۔279-A نیومسلم ٹاؤن لاہور

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

سلمیٰ اعوان۔۔بہت آوارہ گرد تھی۔چار چوروں کی مار کھاتی تھی دادی سے۔رات کو محلے کی مسجد کے مؤذن کی بیٹی کے ساتھ چھپ چھپاتے نکل جاتی تھی۔مؤذن جی کو رات کا کھانا لوگوں کے گھروں سے ملتا تھا۔اس کی بیٹی کے ساتھ لوگوں کے گھروں کے تھڑے پر بیٹھ کربوٹیاں اور وَن سَونے کھانے کھانا معمول تھا۔ جب بھانڈا پھوٹا تو خوب چھترول ہوئی۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

سلمیٰ اعوان۔۔یہ بات ہے 1986ء کی۔شمالی علاقہ جات کے سفر پر تھی۔گلگت سے ہنزہ جانے کے لئے اڈے پر پہنچی تو ایک عمر رسید ڈرائیور کو اپنی نئی نویلی گاڑی کا شیشہ صاف کرتے ہوئے پایا۔میرے استفسار پر کہ ہنزہ جانا ہے اس نے ہاتھ روک کر مجھے دیکھا اور پوچھا۔
’’اکیلی ہیں کیا؟‘‘
میں نے جواب میں ’’ہاں‘‘ کہا تھا۔
’’میں دراصل ایک ہوٹل والے کا سامان لے جا رہا ہوں۔جگہ تو ہے مگر گاڑی اس نے بک کی ہوئی ہے۔‘‘
’’جگہ ہے تو مجھے بٹھا لینے میں کیا ہرج ہے‘‘۔
’’کوئی ہرج نہیں ہم آپ کو لے چلیں گے۔عقب سے ایک نحیف سی آواز میرے کانوں میں پڑی۔میں فی الفور گھومی اور دیکھا۔ساتھ ستر کے ہیر پھیر میں جو مرد مجھے نظر آیا تھا وہ قامت اور صحت کے اعتبار سے قابل رشک تھا۔
میں نے فی الفور شکریہ ادا کیا۔مگر کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ گو دونوں کے ساتھ قبر میں پاؤں لٹکانے والی صورت حال تو ہرگز نہیں ہے۔ویسے کناروں پر ضرور بیٹھے ہیں کہیں ایسا نہ ہو اپنے ساتھ میرا بھی پٹڑہ کر دیں۔میرے شعور کے کسی گوشے میں یہ بات برسوں سے گڑی ہوئی تھی کہ سفر ہمیشہ زیادہ لوگوں کی ہمراہی میں کرنا چاہیے۔بسا اوقات کوئی اللہ کا نیک بندہ بہت سے اوروں کی بھی سلامتی کا ضامن بن جاتا ہے۔
مجھے اپنے اس خدشے کے بھونڈے پن کا احساس بہت جلد ہو گیا۔
’’بھلا میں نے زندگی اور سلامتی کا کوئی پٹہ لکھوایا ہوا ہے‘‘۔
بہرحال دو بوڑھوں کی ہمراہی میں سفر شروع ہوا۔یہ بوڑھے ایسے باتونی ایسے چرب زبان ایسے گالڑی کہ ہنزہ تک ان کی زبانیں تالو سے نہ لگیں۔ہر مقام اور ہر بستی کی نشان دہی کرتے گئے۔
رحیم آبا دمیں انہوں نے گاڑی روکی اور مجھے علی شاہ کا کس کی مشہور خوبانیاں کھلائیں۔ایسی لذیذ اور ذائقہ دار کہ منہ میں رکھو اور گھلتی ہوئی پل میں عین حلق سے نیچے۔
اردگرد کے نظاروں سے مخطوظ ہونے کے ساتھ ساتھ میں ان دونوں بوڑھوں سے بھی باتیں کئے جاتی تھی جب دفعتاً ایک نے پوچھا۔
’’عمر کتنی ہو گی آپ؟‘‘
یہ سوال بڑا تیکھا اور چبھنے والا ہے کہ کوئی بھی خاتون خواہ وہ سچ گوئی کی کتنی بڑی دعویٰ دار کیوں نہ ہو اس سلسلے میں ضرور ڈنڈی ما ر جاتی ہے۔ چار پانچ سال کا ہیر پھیر تو میرے جیسی بھی سدا ہی کرتی ہے پر پتہ نہیں اس خاص لمحے میں سچ کا کوئی جن مجھے چمٹ گیا تھا۔ جس نے ماہ چھوڑ دن کی بھی ہیرا پھیری نہیں کرنے دی۔میرے جواب دینے پر اسی بوڑھے نے بغور میرے چہرے کو دیکھا اور قطعیت سے کہا۔
’’نہیں بھئی۔ اتنی عمر نہیں ہے آپ کی‘‘۔
مجھے عجب سی خوشی کا احساس ہوا۔شاید ہر عورت کے اندر کم عمر نظر آنے کا فطری رجحان ہوتا ہے۔اسی لئے میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’آپ کے خیال میں کتنی ہو سکتی ہے‘‘؟
بھئی آپ پینتالیس سے کم تو ہرگز نہیں۔
میرے تن میں جیسے آگ لگ گئی۔جی چاہا گردن سے پکڑ کر سڑک پر پھینک دوں۔ ’’کمبخت کہیں کا‘‘۔ یہ درست تھا کہ میں نے اپنا حلیہ بگاڑا ہوا تھا۔ بال سفید ہو رہے تھے۔انہیں رنگا نہیں تھا۔موٹی سی چادر سے سر کو ڈھانپا ہوا تھا۔چہرے پر کوئی لیپا پوتی نہیں تھی۔پر اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ میں اپنی عمر سے نوسال بڑی نظر آؤں۔
مجھے شدید قسم کی چُبھن ہو رہی تھی۔سچ بھی بولا اور جھوٹی بھی بنی۔
پر میں بھی اول درجے کی کمینی ہوں۔اب اس کی عمر کا پوچھ بیٹھی۔جاننے پر اتنا ہنسی کہ آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔
’’آپ سمجھتی ہیں میں پچاس سال کا نہیں‘‘۔ قدرے خفگی سے کہا گیا۔
’’ارے بھئی آپ کہاں پھرتے ہیں؟ کسی طوربھی ستر بہتر سے کم نہیں‘‘
میں نے بھی اپنے پھپھولے پھوڑ دئیے تھے۔
’’آپ نے بہت غلط انداز ہ لگایا ہے‘‘۔ وہ غصے سے بولا۔
’’واہ غلط کیسے ہے؟ آپ کی گردن کی لکیریں ہاتھوں کی بیرونی سطح اور آنکھوں کے گرد پیدا شدہ لکیریں سب بول رہی ہیں۔آپ نے کیا مجھے احمق اور گاؤدی سمجھاہے؟
’’دیکھئے خاتون آپ زیادتی کر رہی ہیں‘‘۔
بیچارا تلملا رہا تھا۔ میں نے محظوظ ہوتے ہوئے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔وہ بھی ہماری اس نوک جھونک سے لطف اٹھا رہا تھا۔
جب تکرار بڑھی میں نے دونوں ہاتھ اس کی طرف جوڑ دئیے۔
’’ارے بھائی کوئی بیاہ رچانا ہے ہم نے۔چلو ستر کے نہیں پچاس کے سہی۔اب تو خوش ہیں نا‘‘۔
بعض مردوں کو بھی عورتوں کی طرح کم عمر بننے کا کتنا خبط ہوتا ہے۔ میں نے سوچا۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

سلمیٰ اعوان۔۔سب بڑے لکھنے والے۔چھوٹے اور خوبصورت لکھنے والے

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

سلمیٰ اعوان۔۔جنون کی حد تک پڑھنے کی شوقین ہوں۔ہر رسالہ خواہ ادبی ہو یا غیر ادبی

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

سلمیٰ اعوان۔۔مجھے چڑ ہے ادبی حد بندیوں سے

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

سلمیٰ اعوان۔۔ہرگز نہیں۔بڑی ناانصافیاں ہیں

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

سلمیٰ اعوان۔۔کتاب سے محبت کرنے کی ضرورت ہے

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

سلمیٰ اعوان۔۔بہت اچھی کاوش۔ادب کی ترویج میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

Leave your vote

2 points
Upvote Downvote

Total votes: 2

Upvotes: 2

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…