ردی والا از سماءچودھری

گزشتہ روز والدہ کے ساتھ بازار جانے کا اتفاق ہوا ۔ رمضان المبارک کی آمد آمد تھی تو پورا بازار بھرا ہوا تھا۔ شور و گل ہر دکان میں خواتین کا رش تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔ مرد حضرات بھی اپنی خریداری میں بھرپور حصہ لے رہے تھے ۔ظاہر ہے گھر کا  راشن مہنگا ہو رہا تھا  (بلکہ ہو چکا تھا) تو سب کی کوشش تھی وہ جلدی جلدی اپنی خریداری کر لیں۔
لوگوں کی لمبی قطاریں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی ۔ اور دھکم دہکا اپنے عروج پہ تھا ۔
ہر طرف رنگوں کا ماحول تھا ۔ ہر طبقہ کے لوگ  ایک ریل گاڑی کی طرح تھے جو آہستہ آہستہ چل رہی تھی مگر ہر رنگ نمایاں تھا ۔
گرمی کی شدت اتنی کہ دو قدم چلنے پہ پانی کی طلب ہوتی ۔ ہم اب جس دکان کہ باہر کھڑے تھے۔ وہاں پاس ہی املی کے شربت والا آدمی اپنی ریڑھی لگائے پرجوش آواز میں نعرہ بازی کر رہا تھا ۔۔بھائیوں اور بہنوں شربت پی لو۔ آو آو ٹھنڈا شربت ،پندرہ روپے کا ایک گلاس شربت
اور چوں کہ گرمی تھی اور پندرہ روپے عام آدمی کی پہنچ میں بھی تھے اس لیے لوگ املی کا ٹھنڈا شربت پی رہے تھے۔! اور اس طرح شربت والے کی ریڑھی خوب چل رہی تھی۔
اسی ماحول میں ایک آدمی تپتی دھوپ میں کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا ۔
وہ کبھی ان شربت پیتے لوگوں کو دیکھتا تو کبھی اس ریڑھی والےکے منہ کو ۔۔ کبھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا اور پھر پیچھے ہو جاتا ۔
میری نظریں بار بار اس کے اس عمل پہ جا رہی تھی کہ وہ  کیا کر رہا ہے۔
غور کرنے پہ نظر آیا کہ اس کے ایک پاوں میں جوتا تھا دوسرا پاوں وہ کبھی اپنے جوتے والے پاوں پہ رکھتا تو کبھی زمیں پہ ۔
زمین گرم تھی تو وہ پاوں ہاتھ میں پکڑے لگتا اور گر جاتا
میں حیران تھی اس کے یہ سب کرنے پہ ۔۔
اس کے کپڑے بہت بری حالت میں تھے پورا جسم آلودہ پانی سے بھرا ہوا ۔۔ ہاتھوں میں کاغذ کی ردی جو وہ کبھی اپنی قمیض میں ڈالتا تو گر جاتی ۔ کیوں کہ قمیض جابجا پھٹی ہوئی تھی ۔
بالوں میں مٹی ، ہاتھوں پاوں کے ناخن کالے، اور آنکھیں اس قدر لال  کہ غور سے دیکھنے پہ خوف و ہراس میں انسان مبتلا ہو جائے ۔۔۔ وہ آدمی سگریٹ کا کش لگتا بنا جلی سگریٹ بڑی مہارت سے منہ میں لیے وہ گھوما رہا تھا ۔ اور دو ٹوٹے کان میں لیے اپنی دھن میں مگن وہ حسرت سے دیکھ رہا تھا ۔
شربت والا اپنی ریڑھی لے کر ذرا آگے بڑھ گیا تو وہ بھاگ کے آیا مجھے لگا وہ شاید املی کا شربت پینا چاہتا ہے ۔مگر وہ زمین پہ پڑے کاغذ اور پلاسٹک کے لفافے پہ لپکا اور جلدی جلدی ہاتھوں میں جمع کرنے لگا۔ اتنے میں وہاں لوگوں کا ہجوم گزار اور وہ گر گیا۔ اس کا جمع کیا سامان اب پوری سڑک پہ تھا وہ اتنی پر دکھ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
سارے لوگ اس پہ ہنس رہے تھے کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ اس کو اٹھا کر سہارا دیتا۔
یہ تھی انسانیت جو میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی۔ اس کی جو پھٹی قمیض تھی اب اور پھٹ چکی تھی۔۔ اضافہ یہ ہوا کہ اب اس کے پاوں میں دوسرا جوتا نہیں رہا۔۔۔
اب اس کے جسم پہ جو کپڑے تھے وہ نہ ہونے کے برابر تھے ۔ آنسو تھے یا خون اب آنکھوں  پہ رقت طاری تھی ۔۔ وہ کبھی آنسو صاف کرتا تو کبھی وہ گرے ہوئی ردی دوبارہ اٹھانے کی کوشش کرتا۔۔۔
نوجوان کھڑے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے کیا یہ ہمارا وہ معاشرہ ہے جہاں غریب کے حق کی بات ہوتی ہے مگر ادا کوئی نہیں کرتا۔ ۔
ہم انسان ہو کر انسان پہ ہی ہنستے ہیں۔۔
جہاں لوگ رمضان کی آمد پہ دکانوں میں خریداری کر رہے تھے ۔۔ کیا پتہ وہ آدمی یہ ردی بچ کر اپنی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہو۔۔۔ مگر وہ بھی لوگوں کے قدموں کی نظر ہوگی ۔۔
کیا سوچتا ہوگا۔۔ کیا کہتا ہوگا ۔ یہی کہ
~ اے اللہ پاک تیرے ہوتے ہوئے بھی
ہر شخص نے مجھ پہ حکومت کی

پھر وہ آنکھ سے اوجھل ہوگیا ۔۔ کہاں گیا نہیں پتہ  ۔۔۔۔۔۔۔ ردی ابھی زمیں پہ تھی بکھری ہوئی  بے جاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر سماءچودھری

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…