اک ستارہ جو کہکشاں ہو گیا – دوسری قسط

"سر یہ اُ س آئیریا کی ویڈیو ہے – یہ وہ پہاڑ ہے اور اِ س تقریباً بارہ کلومیٹر دورشمال کی جانب یہ کئی سال پرانی بلڈنگ ہے کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یہاں سکول ہوا کرتا تھا – مگر اب یہ بلکل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے – کسی بھی وقت گر سکتی ہے -اس بلڈنگ کے دو پورشنز ہیں – سر آبادی سے اِ س کا فاصلہ دو کلومیٹر ہے اِ س کے اردگرد جنگل کا علاقہ ہے اور ان میں یہ تقریباً چھپی ہوئی ہے” – میجر کاشف نے اُ ن کو مختصر سیچوئشن سے اگاہی دی –

"ہممممم ۔۔۔۔”- کرنل عباس نے ایک لمبا ہنکار بھرا –

” sir this is junaid khan.he is the head of territorist group.he is our first target.”

دیوار میں لگی سکرین پہ ایک تصویر دکھاتے ہوئے میجر کاشف نے اُ ن کو بتایا –

And this is shehryar khan,he is right hand of junaid khan,he is our second target.”

اِ س کا تعلق افغانستان سے ہے ، سر یہ پاکستان سے نوعمر بچوں کو افغانستان پہنچاتا ہے جہاں انہیں ٹرینگز دی جاتی ہیں اور پھر واپس پاکستان لایا جاتا ہے غلط کام کروانے کے لئے اِ س کے علاوہ یہ جنید خان کے ساتھ مل کے بلاسٹ پلانگز کرتا ہے یہ دونوں پچھلے پانچ سال سے ساتھ کام کر رہے ہیں ، اِ س دفعہ اِ ن کا ٹارگٹ سوات کا یہ آئیریا ہے اور جو بچے انہوں نے انہوں نے حراصت میں لئے ہیں جن کی تعداد تقریباً پچس کے قریب ہے اور کل شام یہ ان کو افغانستان لے کے جائے گا ہمیں جو بھی کرنا اس سے پہلے کرنا”-

Sir our third target is a shehroz ali.he is a mechanical engineer.

میجر کاشف سانس لینے کے لئے رکے –

سر یہ ان لوگوں کو تمام قسم کی انفارمیشن دیتا اس کی عمر ستائیس سال ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہی ہے یہ پچھلے دو سالوں سے ان کے ساتھ ہے

یہ لوگ ہماری ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے کیونکہ ایک زرا سی غلطی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے میجر کاشف نے وہ ساری انفارمیشن انہیں بتا دی جو لیفٹیننٹ شہریار کے ذریعے انہیں ملی تھی –

میں نے منع بھی کیا تھا آکاش کو مگر وہ کسی کی ہو تب نا ہمیشہ اپنی مرضی کرتا ہے- میجر بابر کاغصہ سوا نیزے پہ پہنچ گیا تھا اگر وہ سامنے ہوتا تو وہ ناجانے کیا کر دیتے –

سر آکاش اپنی مرضی صرف وہیں کرتا جہاں اُ سے امید ہو کہ وہ کر لے گا میرا خیال ہے کہ اگر اس نے ایسا کوئی فیصلہ لیا تو سوچ کر ہی لیا ہو گا اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ

He is a brave man.

کیپٹن علی نے کرنل عباس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو ناجانے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے چہرے پر فکر کی لہریں واضح تھیں-

Sir captain akash will handle the situation. I think you have to give him one chance.

کیپٹن علی دوبارہ بولے –

I think you are wright.

آکاش جیسے بہادر نوجوانوں سے ہم ایسی توقع کر سکتے ہیں کیپٹن علی کی بات سے میں اتفاق کرتا ہوں "-

کرنل عباس نے اپنی رائے کا اظہار کیا –

but sir,how that’s possible, without any guidness ,

میجر بابر ابھی بھی شش و پنج میں مبتلا تھے ناجانے انہیں کیوں یقین نہیں آرہا تھا –

Don’t worry sir Akash will handle the situation.

اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیتنے کے لئے گائیڈ نیس سے ذیادہ ہمت حوصلے اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے باہمت لوگ کبھی نہیں ہارتے نا زندگی کے میدان میں اور نا ہی جنگ کے میدان میں ۔۔۔آکاش کے پاس یہ سب ہیں سر انشااللہ وہ کامیاب ہو کے لوٹے گا ۔۔۔کیپٹن علی نے ان کو امید دلائی وہ پچھلے چھ سالوں سے کیپٹن آکاش کے ساتھ تھے وہ اچھی طرح جانتے تھے ان کو وہ اپنی جان دے سکتے تھے مگر ہار نہیں مان سکتے تھے انہیں پوری امید تھی کہ وہ کامیاب ہو کہ ہی لوٹیں گے

وار کرتے ہیں تو ہوش اُ ڑا دیتے ہیں

ہم نے سیکھا ہی نہیں دشمن کو سنبھلنے دینا

سر میرا خیال ہے کیپٹن علی کی بات درست ہے ہمیں آکاش کو یہ موقع دینا چاہئے ۔۔۔پچھلے سال بھی وہ ضد کر کے گیا تھا وزیر آباد اپریشن کے لئے اور المحد الله کامیاب ہو کہ واپس آیا تھا اب کی بار بھی یہی ہو گا انشا الله میجر کاشف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا

بٹ سر ۔۔۔۔میجر بابر کچھ بولنے ہی والے تھے مگر کرنل عباس نے ہاتھ اٹھا کہ ان کو روک دیا تو وہ خاموش ہو گئے

Can i see the live video of that area .

کرنل عباس نے میجر کاشف سے پوچھا

ok sir ,i try .

میجر بابر نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا

کرنل عباس نے میٹنگ ختم ہونے کا سگنل دیا تو سب باری باری اٹھ کہ باہر نکل گئے

         ***************

اداسیاں ہیں مگر وجہِ غم نہیں معلوم

دل پہ بوجھ ہے شاید بکھر گیا ہوں میں

لاہور میں دھماکا ۔۔۔۔پانچ افراد جاں بحق ۔۔۔۔پندرہ سے ذیادہ زخمی ۔۔۔ڈاکٹر آفتاب ربانی نے اخبار کھولا تو پہلے سرخی یہی پڑھنے کہ ملی-

"پتہ نہیں اس ملک کے حالات کب ٹھیک ہوں گے ۔۔۔”- انہیں یہ خبر پڑھ کہ سخت افسوس ہوا ۔۔۔۔ہر محب وطن کی طرح یہ خبر انہیں بھی صدمے سے دوچار کر گئی تھی -کیونکہ وہ خود بھی ایک محب وطن تھے- مگر یہ تو روز کا معمول ہے  اخبارات ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں-

کہیں خود کش دھماکے ۔۔۔۔

کہیں کھلے عام قتل و غارت ۔۔۔۔

اور کہیں دوسرے جرائم جو معاشرے کے امن و امان کو تباہ کرنے میں اپناکردار ادا کر رہے ہیں – افسوس تو اس بات کا کوئی بھی ان پر توجہ نہیں دے رہا جب کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا تو ایسی خبروں کو چند دن اخبارات کی زینت بنایا جاتا – میڈیا والوں کو ایک دلچسپ سا ٹاپک مل جاتا اور وہ اس کو خوب اچھالتے ہیں – اس کے منفی پہلووں کو خوب اجاگر کرتے ہیں-  کبھی بھی ان لوگوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو اس سارے فساد کی جڑ ہیں جن کی وجہ سے یہ سب ہو رہا-پولیس بھی کچھ دن کے لئے متحرک ہو جاتی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ جیسے ان جرائم کو واقعی روک لیا جائے گا -وہ اس کیس کو سٹڈی کرتے ہیں۔۔۔ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ۔۔۔مگر یہ سب بس وقتی ہوتا ،جونہی چار دن گزرتے ہیں اور بات زرا پرانی ہوتی ہے تو پھر تم کون اور میں کون والا حساب ۔۔۔۔وہی حالات۔۔۔۔

عوام اپنے کاموں میں مگن اور حکومت اپنے کاموں میں۔۔۔۔ اور ایسے حالات پیدا کرنے والے پھر ایسی سرگرمیوں میں میں لگ جاتے ہیں بس چند لوگ ایسے ہیں جو ایسے حالات پر کڑھتے رہتے ہیں- مگر وہ بھی کیا کر سکتے ہیں ان کے ہاتھ میں کونسا کچھ ہے وہ بس تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں –

” چھوڑیں ابو۔۔۔نا پڑھا کریں اخبار ۔۔۔ان میں ہوتا ہی کیا سوائے ایسی خبروں کے ۔۔”-

دانش ربانی نے ان کے گہری سوچ میں مبتلا افسردہ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

"یہ میڈیا والے ایسی خبریں ناجانے کیوں چھاپتے ہیں۔۔۔۔”-

"ان کا تو یہ بزنس ہے ۔۔۔وہ تو ہر حال میں چھاپیں گے ہی نا ۔۔”۔دانش کو ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی

"کیا بنے گا اس ملک کا ۔۔۔”-انہوں نے افسوس کا اظہار کیا-

"جو بننا ہو گا بن جائے گا ۔۔آپ ٹینشن نہ لیں ۔۔۔ناشتہ کریں آرام سے "-دانش نے ان کی بات کو چٹکیوں میں اڑاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا-وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ان فضول سی باتوں سے اپنا بی پی ہائی کریں-اُس نے اُن کے ہاتھ سے اخبار لے کے رول کر کے ٹیبل پر رکھ دیا-

ڈاکٹر ربانی خاموشی سے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئے

"کیا کر رہے ہو آج؟ "- انہوں نے ناشتے سے بھر پور انصاف کرتے دانش سےچھا

کچھ خاص نہیں ۔۔۔وہی روز والا معمول ۔۔۔دانیال نے سرسری سا جواب دیا اس کا سارا دیہان ناشتے پر تھا

"ابو آج جانے سے پہلے اماں کا چیک اپ کر کے جائے گا کل رات ان کا بی پی بہت لو ہو گیا ہوا تھا دانش کو اچانک یاد آیا تو فوراً بولا

ڈاکٹر ربانی نے ایک نظر خاموش بیٹھی بیوی پر ڈالی جو ناجانے سوچوں کے ساتھ کہاں محوِ  پرواز تھیں وہ جسمانی طور پر تو وہاں تھیں مگر دیہان ناجانے کہاں بھٹک رہا تھا آج کل وہ خلاف معمول کافی چپ چپ رہتی تھیں اور وجہ سے وہ کسی حد تک واقف ہی تھے

کیا ہوا بھئی ان کو ۔۔۔۔انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں دانش کو اشارہ کرتے ہوئے مدھم سے لہجے میں پوچھا وہ ان کی خاموشی کو ذیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے تھے

"اماں کو کاشی کی یاد آرہی ہے ۔۔۔ہیں نا اماں۔۔۔دانش نے شرارت سے پو چھتے ہوئے تصدیق  چاہی

آکاش سے بات ہوئی تمہاری ۔۔۔ڈاکٹر ربانی بھی بیٹے کی فکر ہوئی وہ بھی آکاش کو یاد کرتے تھے مگر کسی سے اظہار نہیں کرتے تھے انہیں اپنے جذبات چھپانا خوب آتا تھا مہینوں آنکھوں سے دور رہنے والا لاڈلا انہیں بھلا کب بھولتا تھا

جی ہوئی تھی ۔۔۔کہہ رہا تھا کہ جلدی چکر لگاوں گا دانیال نے بڑے دھڑلے سے جھوٹ بولا تھا وہ ان کو مطمئن کرنا چاہتا تھا ورنہ سچ تو یہ تھا کہ وہ خود بھی اندر سے کافی پریشان تھا کئی دنوں سے اس کا آکاش کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا اس کی بات نہیں ہوئی تھی آکاش کا فون بند تھا اور وہ کہاں تھا یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا کیونکہ آکاش نے اسے بس اتنا بتایا تھا کہ وہ کہیں مشن پہ جا رہا واپس آکہ رابطہ کرے گا نیٹ ورک پرابلم کے وجہ سے شاید بات نا ہو سکے وہ یہ بات بتا کہ کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اِ س لئے جھوٹ بول گیا مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ اگر بیٹا سات سمندر پار بھی مصیبت میں ہو تو بھی ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے آکاش تو پھر اسی ملک میں تھا اسی فضا میں سانس لے رہا تھا ان کا دل ہر وقت اس کی یاد میں بے چین رہتا کچھ غلط ہونے کا احساس دل میں کنڈلی مارے بیٹھا رہتا مگر وہ کسی سے کچھ کہتی نہیں تھیں بس اندر ہی اندر گھلتی رہتیں

ہممممم۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ربانی نے ایک لمبا سا ہنکار بھرا

اب اس کا فون آیا تو میری بات کروانا اس سے وہ بیٹے کا جھوٹ جان گئے تھے مگر نظر انداز کر گئے جانتے تھے کہ اس نے کیوں جھوٹ بولا

جی ضرور کرواوں گا وہ سعادت مندی سے بولا کن آکھیوں سے ماں کی طرف دیکھا جو اب بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھی

"اماں لویل نظر نہیں آرہی آج ۔۔۔۔کہاں ہے یہ ؟ دانش نے اب کی بار براہ راست ان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا وہ کسی طرح ان کی چپ توڑنا چاہتا تھا ان کو باتوں میں لگا کر ان کا دیہان بٹانا چاہتا تھا

مسز ربانی نے ایک ایک نظر باری باری دونوں باپ بیٹے پر ڈالی ان نظروں میں سوائے اداسی اور خالی پن کے کچھ بھی نہیں تھا ایک تڑپ تھی پیاس تھی کسی کے دید کی پیاس  ۔۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ گئیں اس وقت وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں دل کی بے چینی حد سے بڑھ گئی تھی آکاش کی آواز سنے ناجان کتنے دن بیت گئے تھے کوئی اس وقت اس ماں سے پوچھتا اس کے دل کا حال جس نے کئی مہینوں سے اپنے بیٹے کی شکل تک نہیں دیکھی تھی کتنی مجبور ہوتی ہیں وہ مائیں جن کے بیٹے ان کی نظروں سے دور ہوتے ہیں وہ ان کو دیکھ نہیں سکتیں  ان سے بات نہیں کر سکتیں اپنے بیٹوں کو وطن کا محافظ بنا کر بڑے صبر اور حوصلے سے جیتی ہیں ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتی ہیں اور ایسا حوصلہ صرف میرے وطن کی ماووں کا ہی ہو سکتا ہے –

               **************

جب سازسلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے

وہ ریت ابھی تک باقی ہے وہ رسم ابھی تک جاری ہے

ہر طرف ایک سناٹا قایم تھا -اندھیرے میں درخت کسی دیو ہیکل کی طرح معلوم ہو رہے تھے پاس جانے پر یوں لگتا تھا کہ ابھی نگل لیں گے – وہ مرد مجاہد آگے بڑھ رہے تھے – ان کے قدموں میں راستے میں انے والی رکاوٹوں نے بھی کوئی خلل نہیں ڈالا تھا – یہ وہ مسافر تھے جو ہمیشہ سفر میں رہتے …..ہر وقت جدو جہد کرتے رہتے -کئی زمانے بیت گئیے تھے ان کو اس سفر کو شروع ہوئےمگر یہ سفر اختتام کو نہیں پہنچ رہا ےتھا – یہ وہ سفر تھا جو ازل سے شروع تھا اور ابد تک رہنا تھا – کچھ مسافر اس دوران راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملتے – شہادت کے رتبے پر فائز ہو کر بڑی شان سے مقتل کو چھوڑ جاتے مگر جاتے جاتے اپنے خون سے اس راستے میں ایسے شجر اگا جاتے جو تاقیامت مہکتے رہنے تھے جن کہ خوشبو ہمیشہ قائم رہنی تھی -جن  کی تازگی کبھی ختم نہیں ہونی تھی –                              رات کے وقت بھی دن بھر کی تھکن کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے – ان کے چہرے عزم اور فرط شوق سے چمک رہے تھے -,زندگی کی رمق صاف دکھائی دے رہی تھی – حالانکہ وہ لمحہ بہ لمحہ موت کے منہ میں جارہے تھے -ان سے چند قدم کے فاصلے پہ کھڑی موت بھی حیرانی سے ان نوجوانوں کو دیکھ رہی تھی – جو اس کے سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے تھے حتی کہ موت بھی ایسی زندگی سے گھبرا گئی تھی – زندگی موت کو شکست دے رہی تھی –

لمحوں بعد کیا ہونے والا تھا کوئی نہیں جانتا تھا …..بازی کیا رخ پلٹنے والی تھی …..وقت کیا کھیل کھیلنے والا تھا …..سب ہی اس سے انجان تھے – جو بھی ہونے والا تھا انہیں اس سے مطلب نہیں تھا انہیں بس چلتے جانا تھا اپنے سفر پر گامزن رہنا تھا ….اپنی منزل کو پانا تھا – اس سفر پر انے والی تمام رکاوٹوں کا بہادری سے سامنا کرنا تھا-

"Sher yar every thing is fine or not ?”

کیپٹن آکاش نے وائر لیس کے ذریعے لیفٹیننٹ شہریار سے رابطہ کیا -ان کی آواز اتنی مدھم  تھی کہ دوسری جانب بمشکل سنا ئی دی تھی –

"yes sir every thing is fine” .

شہریار نے بھی جوابا اسی مدھم لہجے میں جواب دیا – وہ پہاڑسے نیچے اتر چکے تھے اور اس وقت ایک درخت کی اوٹ میں کھڑے اردگرد کا جائزہ لے رہا تھے مگر اندھیرے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا آگے دیکھنے میں بہت مشکل ہو رہی تھی –

"OK fine”

رابطہ منطقع ہو چکا تھا-

            ***********

وہ تینوں اردو کی کلاس لے کہ لان میں آگئیے – ایک گھنٹے کی کلاس نے ہی تھکا دیا تھا-صبح سے یہ تیسری کلاس تھی –

"فارس تم نے اس لڑکی کی ڈائیری واپس کر دی ہے "- حیدر نے گھاس پر چوکڑی مار کر بیٹھتے ہوئے فارس سے پوچھا جو اس سے زرا فاصلے پر بیٹھ گیا تھا -ہوا چل رہی تھی- موسم خوشگوار تھا -اس لئے وہ کینٹین جانے کی بجائے لان میں آگئے تھے-

"افففف یار یہ مرزا غالب کا لیکچر کتنا بورنگ تھا- توبہ میں نے تو پورا گھنٹہ جمائیاں لیتے اور اونگھتے ہوئے گزارا- مجال ہے میں نے لیکچر کا ایک لفظ بھی سنا ہو "- فرحان حیدر کے اوپر ہی گرگیا – اس نے بڑے فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ سنایا –

"پرے مرو تم "- حیدر نے اسے دھکا دیتے ہوئے پرے دھکیکا تو وہ گرتے گرتے بچا -حیدر کے اس فعل پر ایک گھوری سے اس کو نوازا مگر مقابل زرا برابر بھی اثر نا ہوا –

” اور بدتمیز انسان کبھی سر کا نام سیدھا بھی لے لیا  کرو – اچھے خاصے بندے کے نام کا ستیاناس مار کہ رکھ دیتے ہو تم -مرزا فردوس نام ہے ان کا انسانوں کی طرح یہ نام لیا کرو ….میرے فیورٹ سبجیکٹ کے فیورٹ سر ہیں "- حیدر نے غصے سے کہا- مرزا فردوس اردو کے پروفیسر تھے – وہ کافی سنجیدہ مزاج کے تھے – حیدر کے پسندیدہ اساتزہ میں ان کا شمار ہوتا تھا – اس کی برعکس فرحان کو وہ اتنے ہی برے لگتے جتنے اس کو اچھے لگتے – اسی لئیے فرحان ان کی شان میں ایسے قصیدے پڑھتا رہتا جس پر حیدر خوب زچ ہوتا – وہ اپنے پسندیدہ سر کی بے عزتی بلکل برداشت نہیں کر سکتا تھا-

"یہ لو بول پڑا سر کا چمچہ …..ویسے تمہیں اردو کے سوا اور پسند بھی کیا ….مرزا غالب کا شاگرد ….ہاہاہاہا –"- وہ اپنی بات کے اختتام پہ خود ہی ہنسا – اس کا لہجہ صاف مزاق اڑانے والا تھا- فارس چپ چاپ ان دونوں کی بحث سن رہا تھا- اس کا سارا دیہان اس وقت آکاش کی جانب تھا جسکا فون آجکل بند تھا- کتنے دن سے اس کا میسج بھی نہیں ایا تھا -وہ کافی پریشان تھا- وہ چاروں بیسٹ فرینڈ تھے ایک دوسرے پہ جان چھڑکنے والے ….بظاہر لڑجگھڑ لیتے مگر ایک دوسرے کی زرا سی پریشانی پر سب بے چین ہو جاتے – وہ بچپن سے ساتھ تھے پھر ایف ایس کے بعد آکاش ارمی میں چلا گیا اور ان تینوں نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا – مگر پڑھنے سے ذیادہ وہ ہلا گلا کرتے تھے چاروں ہوسٹل کی بجائے ایک فلیٹ لے کے اس میں رہتے تھے – اب آکاش کے بعد وہ تینوں رہ گیے تھے بس –

” او ہیلو ….! تم کہاں کھوئے ہو ….کہیں کسی حسینہ کا چکر تو نہیں ….دیکھو اگر ایسا ہے تو مجھے بتاو میں مدد کر دوں گا ….ہو سکتا اسی بہانے تیرے والی کی کسی سکھی سے میرا ٹانکا بھی فٹ ہو جائے گا ….اہسے تو کسی نے گھاس ڈالنی نہیں ہم جیسوں کو …..غضب خدا کا تین سال ہو گئیے ابھی تک ایک گرل فرینڈ نہیں بنی "- فرحان نے مصنوعی اہیں بھرتے ہوئے کہا – اس کے الگ ہی دکھڑے تھے –

” شٹ اپ …کبھی سیریس بھی ہو جایا کرو ….ہر وقت بکواس کرتے رہتے ہو تم لوگ "- فارس نے غصے سے اسے ڈپٹا اس کا موڈ اف دیکھ کہ وہ دونوں فورا سنجیدہ ہو گئیے تھے – فرحان نے خود کو کوئی فضول بات کہنے سے باز رکھا –

” تجھے کیا ہوا "- حیدر نے حیرت سے استفسار کیا –

” یار آکاش کا نمبر اف ہے ….کافی دن سے اس کا کوئی میسج نہیں ایا….پتا نہیں کہاں مصروف ہے ”- فارس نے تشویش ذدہ لہجے میں کہا –

” اوہو ….آکاش کی ٹینشن چھوڑ بھائی ….وہ مصروف بندہ ہماری طرح ویلا تھوڑی ہے……وہ نوکری کرتا ….اب ہر وقت تو فارغ نہیں ہوتا نا ….کہیں بزی ہو گا تو فون بند کر دیا ….تو اس کی اتنی ٹینشن کیوں لیتا ….بیوی  ہو کیا تم اس کی …”- حیدر نے بات کو مزاح کا رخ دیتے ہوئے کہا اس کا لہجا شرارتی ہو گیا تھا -فرحان نے اس کی بات پر ایک قہقہ لگایا – فارس نے افسوس اور غصے سے ان دونوں کو دیکھا –

” لعنت ہے تم دونوں پہ …..ہر وقت مراثیوں والی باتیں اور حرکتیں "-

"ہاہاہاہا …..”- حیدر زور سے ہنسا- "

اچھا چھوڑ یہ بتاو کہ ڈائیری واپس کی کہ نہیں ….میں نے پہلے بھی پوچھا ‘- حیدر کو یاد ایا تو پوچھنے لگا – اس کی یادشت واقعی کمال کی تھی – مجال تھی کوئی بات بھول جاتی –

” ہاں لایا ہوں آج دے دوں گا "- وہ مختصر بولا –

"چلو ابھی ڈھونڈتے ہیں اور واپس کر کے اتے ہیں "- حیدر کو اب اس کام کی جلدی پڑ گئی تھی –

” ابھی …. "- وہ حیران ہوا –

” ہاں تو ابھی کیا ….کہیں تیری نیت تو نہیں بدل گئی "- وہ مشکوک ہوا-

” چلو ….”- حیدر نے کچھ کہنے سے خود کو روکا وہ مزید اس کی بکواس نہیں سن سکتا تھا –

” چلو …..اسی بہانے اس حسینہ کا دیدار بھی ہو جائے گا ….کیا پتا میرے ٹائپ کی نکل آئے "‘ وہ اسے آنکھ مارتے ہوئے بولا –

” تو ایک دن بھابھی سے پٹے گا اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے …..یاد رکھنا میری بات "- فارس نے اٹھتے ہوئے کہا تو اس نے ایک بلند قہقہ فضا کی نظر کیا –

                    *********

"بات سنیں پلیز”- فارس نے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے ایک لڑکے کو روکا –

"جی بتائیں "- وہ لڑکا سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا-

” کیا اپ مجھے بتائیں گے کہ فریال حسن کہاں ملیں گی "- فارس نے شائستگی سے پوچھا –

"وہ اس کی فرینڈ کھڑی ہے اس سے پوچھ لیں "- اس لڑکے نے کچھ دور کال پہ مصروف وجیہہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا-     "شکریہ بھائی "- فارس نے مسکراتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا تو وہ موسٹ ویلکم کہہ کہ ایک سمائل دیتا ہوا آگے بڑھ گیا –

"یار اب کیا کریں …وہ تو بزی ہے …اس طرح کسی کو ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگتا "-فارس حیدر کے کان میں منمنایا –

"تھوڑا ویٹ کر لیتے ہیں "- حیدر نے مدھم لہجے میں کہا- فارس کو بمشکل سنائی دیا- وجیہہ کی ان کی طرف پشت تھی لہزا وہ انہیں دیکھ نہیں پائی تھی –

وجیہہ فری ہو کہ مڑی تو کلاس کے سامنے ان تین لڑکوں کو کھسر پھسر کرتے دیکھ کر حیران ہوئی – وہ ان کے ڈیپارٹمنٹ کے تو نہیں تھے – بلکہ وہ ان کو یونیورسٹی میں دیکھ ہی پہلی بار رہی تھی – وہ کلاس میں جانے کے ارادے سے آگے بڑھی –

"ایکسیوز می "- حیدر نے اس کو پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا تو روکا – وہ حیرانگی آنکھوں میں لئے رک گئی اور سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگی – حیدر نے فارس کی طرف دیکھا تو حیران ہوا وہ ٹکر ٹکر اس کی شکل دیکھ رہا تھا – اس نے اپنا سر پیٹ لیا وہ بجائے اس سے بات کرنے کے اس کا گھور گھور کر جائزہ لے رہا تھا-

"آپ فریال حسن کی فرینڈ ہیں "- حیدر نے خود ہی بات شروع کی کیونکہ فارس کو تو چپ لگ گئی تھی – جو فی الوقت تو ٹوٹنے والی نہیں تھی – وجیہہ نے مشکوک انداز میں ان کی طرف دیکھا – یہ فری کو کیسے جانتے ہیں – وہ حیرت سے دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی-

"آپ کون ہیں اور اسے کیسے جانتے ہیں "- دل کی بات زبان پر اتے دیر نہیں لگی تھی- اس نے باری باری تینوں کا جائزہ لیا شکل اور حلیے سے تو شریف لگ رہے تھے-

"کچھ دن پہلے لائبریری میں ان کی ڈائری رہ گئی تھی ہم وہ واپس کرنے آئے ہیں "- حیدر نے اپنے انے کا مقصد بتایا –

” تو وہ آپ نے اٹھائی تھی”- وجیہہ کے منہ سے بے ساختگی میں پھسل گیا-

"میڈم ہم چور نہیں ہیں”- فرحان کو اس کی بات بری لگی تھی – وجیہہ تھوڑی شرمندہ ہوئی –

"وہ غلطی سے چھوڑ گئی تھیں شاید تو ہم نے رکھ لی ….اور اب ہم واپس کرنے آئے ہیں "- حیدر کو بھی برا تو لگا تھا مگر نظرانداز کر گیا تھا-

"آپ مجھے دے دیں میں اس کو دے دوں گی "- وجیہہ نے کہا تو حیدر نے فارس کے ہاتھ سے ڈائری لے کہ اس کو پکڑا دی –

” تھینک یو "- وہ سنجیدگی سے ان کا شکریہ ادا کر کہ کلاس میں داخل ہو گئی –

"چلی گئی بھائی اب واپس آ جاو”- حیدر نے فارس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا تو وہ چونکا-

"ویسے حد ہے یار تم بھی یہ کام کرتے ہو …میں سمجھا تھا کہ شاید میں اور فرحان ہی لڑکیوں کو دیکھتے ہیں آج پتا چلا تجھے بھی یہ مرض لاحق ہے "- حیدر نے طنزا کہا تو وہ شرمندہ ہوا- اپنی بے اختیاری پہ اب افسوس ہو رہا تھا-

” تم لوگوں کا ہی دوست ہوں ۔۔۔۔۔کچھ تو اثر ہو گا ہی نا تم لوگوں کی صحبت کا "- فارس نے اپنی خجلت مٹانے کے لئے کہا-

"یار ڈائری والی تو ملی نہیں ….اس کے دیدار سے محروم ہو گئیے”- فرحان کو یہ افسوس ہو رہا تھا کہ پوئٹری لکھنے والی کی شکل تو دیکھی نہیں-

وہ بنا دیکھے ہی اس سے متاثر تھا – اسے دیکھنے ہی تو وہ آیا تھا مگر وہ تو ملی نہیں- اسکا صدمہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا- "پریاں ہر کسی سے نہیں ملتی ….وہ بہت خاص لوگوں کو نظر اتی ہیں”- حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا- سچ تو یہ تھا کہ اسے خود بھی افسوس ہو رہا تھا- وہ بھی اسی لڑکی کی خاطر آیا تھا-

                    ***********

"یہ لو اپنی ڈائری جان من …”- وجیہہ نے کلاس میں داخل ہوتے ہی مسکراتے ہوئے ڈائری ہاتھ میں لہرائی-

"ہاہ ….! یہ تجھے کہاں ملی”- زنیرہ اور فریال دونوں کے منہ حیرت سے کھل گئیے-

"تین لڑکے دے کے گئے ہیں – انہوں نے لائبریری سے اٹھا لی تھی اس دن …”- وہ ان کے پاس چئیر پہ بیٹھتے ہوئے بولی- فریال نے جھٹ سے اپنی ڈائری اس کے ہاتھ سے چھین لی اور بے تابی سے ساتھ لگا لی- وہ ایک دم خوش ہو گئی تھی- کتنی عزیز تھی اس کو یہ ڈائری کوئی اس کے دل سے پوچھتا-        "کون سے لڑکے تھے”- زنیرہ نے اس کے پاگل پن پر مسکرا کر اسے دیکھا اور وجیہہ سے پوچھنے لگی-

"پتا نہیں میں نے بائیو ڈیٹانہیں پوچھا ان کا”- وہ لاپرواہی سے بولی –

"کب دی تھی تمہیں انہوں نے؟”

فریال نےچمکتے ہوئے چہرے سے پوچھا-

"ابھی کلاس کے باہر دی ہے شاید ابھی بھی وہیں کھڑے ہوں”- وجیہہ نے باہر دیکھتے ہوئے بتایا مگر کچھ نظر نا آیا -کیونکہ اتے ہوئے دروازہ بند ہو گیا تھا-

"چلو ابھی جا کہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں "- فرہال فورا کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی  تھی-  "اب کیا کرنے جانا”- وجیہہ حیرت سے اس کے اتاولے پن پر گویا ہوئی –

” شکریہ ادا کروں گی انکا اور کیا کرنا”-

"میں کر کہ آئی ہوں ڈونٹ وری”-

"ہاں تو وہ تو تم نے کیا تھا نا میں نے تو نہیں نا …مجھے بھی تو کرنا چاہیے نا ….آخر کو ڈائری تو میری ہے نا”- وہ جوش سے بولی تو وجیہہ اس کی طرف دیکھنے لگی- اس کی اتنی خوشی کی وجہ  اس کی سمجھ سے باہر تھی-

"چلو آو”- وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی- وہ باہر آئیں تو کاریڈور خالی تھا- شاید وہ جا چکے تھے-

"ہاہ ….وہ تو چلے گئے”- فریال کو افسوس ہوا- وجیہہ نے آگے ہو کہ ریلنگ سے نیچے جھانکا- وہ تینوں نیچے کھڑے تھے -کوئی لڑکا اب اور بھی تھا انکے ساتھ-

"ادھر آو وہ ہیں نیچے "- اس نے مڑ کے کہا تو وہ دونوں بھی اس کے پاس آئیں- فریال نے نیچے دیکھا تو ساکت رہ گئی- یہ  تو وہی تھے- پر وہ نہیں تھا-

” تمہیں کیا ہوا اب”- زونیرہ نے اسے بت بنے دیکھ کر پوچھا-

وجیہہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی-

"یہ وہی ہیں "- وہ دکھی انداز میں بولی –

” کون ۔۔۔۔!”- وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی –

"ریسٹورینٹ والے ۔۔۔۔”- اس نے بتایا تو دونوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا- یہ بات وہ اتنے عجیب لہجے میں بتا رہی تھی-

” او مائی گاڈ ۔۔۔رئیلی ۔۔۔۔”- وہ خوشی سے چلائی تو فریال کا سر اثبات میں ہل گیا- وہ ہنوز سنجیدہ تھی-

"تو جانی اس میں اتنا دکھی ہونے والی کیا بات ہے …تمیں تو خوش ہونا چاہیے”- زنیرہ نے اسکے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا-

"اچھا ان میں سے وہ والا کونسا”- وہ نیچے جھانکتے ہوئے بولی –

"کوئی بھی نہیں ….”- وہ کہہ کہ واپس مڑ گئی – وہ دونوں حیرت سے وہیں کھڑی رہیں –

                  ************

فریال نے واٹس اپ ان کیا تو زونیرہ کے کئی   میسجز تھے-وہ جلدی جلدی کھول کے دیکھنے لگی-ایک ہیلو کا میسج تھا اور باقی تصویریں تھی- وہ ان کوڈاونلوڈ پراسس میں کر کے خود چارجر لینے چلی گئی- واپس آئی تو سب ڈاونلوڈ ہوچکی تھیں- وہ ان کو کھول کر دیکھنے لگی- اچانک ایک تصویر پہ اکہ اس کا ہاتھ ساکت ہوا ۔۔۔ارمی یونیفارم میں فوجی ہیر کٹ کہ ساتھ اپنی تمام تر وجاہت لیے وہ کھڑا تھا چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔اس کے ساتھ ارمی یونیفارم میں کوئی اور بھی کھڑا تھا ۔۔۔مگر اس کی نظریں تواسی چہرے میں الجھ کر رہ گئی تھی وہ یک ٹک اسکرین کی جانب دیکھتی رہی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں چندھیانے لگیں اور ان میں پانی بھر ایا ۔اسکرین پہ اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔اس نے لرزتے ہاتھوں سے دوبارہ ٹچ کیا وہ مسکرا رہا تھا فریال سے اس کی آنکھوں میں دیکھنا دو بر ہو گیا ۔۔۔۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔وہ اپنی سیاہ طلسمی آنکھیں اس پر جمایے ہوئے تھا ۔۔۔

"اب ریپلائی کرو گی کہ نہیں …”- زونیرہ کا میسج آیا وہ آن لائن تھی- فریال کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے – وہ خوش تھی بہت خوش تھی – کب سوچا تھا اس نے کہ وہ اسے دوبارہ دیکھے گی- اور آرمی یونیفارم میں دیکھ کہ تو وہ خوشی سے پاگل ہونے والی ہو گئی تھی- آرمی اسے جنون کی حد تک پسند تھی- اور اب اس سیاہ طلسمی آنکھوں والے سے تو اسے عشق ہو گیا تھا- کتنا خوبصورت تھا وہ – اج اس نے اعتراف کر لیا تھا کہ اپنی پوری زندگی میں اس نے اتنا ہینڈ سم بندہ نہیں دیکھا تھا- اس کی پرسنالٹی کی تو کیا ہی بات تھی اور اوپر سے آرمی یونیفارم وہ کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا-

” زندہ ہو ۔۔”- زونیرہ کو اسکی چپ سے اکتاہٹ ہو رہی تھی-

"زونی ۔۔۔۔”- وہ خوشی سے بمشکل یہی کہہ پائی تھی-

” جلدی سے یہ بتاو کہ اس میں وہ کونسا”- فورا جواب آیا-

"رائٹ سائیڈ پہ جو کھڑا”- وہ ایک بار پھر تصویر کھول کر دیکھنے لگی تھی-

” آکاش آفتاب ربانی نام ہے اس کا ۔۔۔۔اسی شہر میں رہتا ۔۔۔آرمی میں کیپٹن ہے ۔۔۔۔اور آج کل سوات میں ہوتا۔۔۔اس دن یہ اپنے فرینڈز کے ساتھ آیا تھا "- زونیرہ نے اس کا جتنا بائیو ڈیٹا معلوم کیا تھا وہ ٹائپ کر کہ بھیج دیا-

” لیکن تمہیں یہ سب کس نے بتایا اور اتنی ساری انفارمیشن کہاں سے ملی”- وہ حیران تھی بلکہ بہت حیران تھی- ایک ہی دن میں یہ معجزہ کیسے ہو گیاتھا-

"تمہارے جانے کے بعد میں اور وجیہہ ان لوگوں کے پاس گئی تھیں – وہ ان کا فرینڈ ہے اور یہ انفارمیشن انہی سے ملی ہے – باقی کی تفصیلات کل فیس ٹو فیس خود ان سے پوچھ لینا – کل دو بجے کیفے ٹیریا میں ملاقات کروا دیں گے تمہاری ان سے”- زونیرہ نے بنا اسے ستائے سب اس کے گوش گزار دیا-

” تھینک یو میری سوہنی پری”- فریال کا بس نہیں چل رہا تھا اگر وہ سامنے ہوتی تو وہ اس کا منہ چوم لیتی –

"یہ تھینک یو پاس ہی رکھ بہن ۔۔۔کام ہونے کے بعد ٹریٹ لینی ہے ہم نے "- زونیرہ نے کہا تو اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی-

” جان بھی مانگو گی تو دے دوں گی "- وہ شوخ ہوئی –

کمرے میں داخل ہوتی شبنم نے اس کا چمکتا چہرہ دیکھا تو حیران رہ گئی – اتنے دنوں سے جو چہرے پر خوشی کی رمق غائب تھی وہ اس وقت صاف نظر آ رہی تھی-

” کیا بات ہے اپی قارون کا خزانہ لاتھ لگ گیا کیا ۔۔۔اتنی خوش ہیں جو”- وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی تو فریال نے اس کی طرف دیکھا – مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے چپک سی گئی تھی –

"یوں ہی سمجھ لو”- وہ اسی دلکش مسکراہٹ کو ہونٹوں پر سجائے بولی-

فون کو آف کر کہ چارج پہ لگایا اور خود چائے بنانے چلی گئی- کچھ پا لینے کا نشہ اس کی رگ رگ میں سما چکا تھا-

شبنم نے اس کی چہرے کی دائمی مسکراہٹ کی دعا مانگی اور دل ہی دل میں اس کی نظر بھی اتاری-

                 ********

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی کیپٹن آکاش اور ان کے ساتھیوں نے اس آئیریا کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔دشمن اس وقت میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ جب اچانک ہر طرف سے فائرنگ ہونے لگی تو وہ بری طرح سے بوکھلا گیا۔ان کے جو ساتھی رات بھر پہرا دیتے رہے تھے وہ بھی اس وقت اونگھ رہےتھے۔ایسے میں آچانک جب ان پر گولیوں کی برسات ہونے لگی تو اس کی عقل پر پردہ پڑھ گیا۔ ایک تو ابھی پوری طرح سے اندھیرا بھی نہی چھٹا تھا اور اوپر سے وہ سب نیند سے آچانک بیدار ہوئے تھے۔ کیپٹن آکاش نے اس وقت حملہ کر کے عقل مندی کا ثبوت دیا تھا۔کیونکہ ایک تو وہ تعداد میں کم تھے اور دوسرا وہ دشمن کو جلد سے جلد نیست و نابود کرنا چاہتے تھے۔دشمن کے کئی ساتھی ان لوگوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ کر ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہو چکے تھے۔کیپٹن عبداللہ نے اس آئریا کو حراست میں لیا جہاں ان ظالموں نے پھول جیسے نازک بچوں کو قید کر کے رکھا تھا۔انہوں نے جلدی جلدی ان کو ایک محفوظ مقام تک پہنچایا۔شہباز خان ان کے ساتھ تھے۔

دشمن بھی اب کسی حد تک سنبھل چکا تھا۔وہ اپنی بھرپور کوشش کر رہا تھا مگر مقابل وہ لوگ تھے جن کے دلوں میں موت کی دہشت اس کا خوف بلکل ناپید تھا۔ہر کوئی وطن کی محبت میں اپنی جان کا نظرانہ پیش کرنے کے لئے بےتاب تھا۔جب کہ دشمن موت کی دہشت سے ڈر رہا تھا۔ہر کسی کو اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔

صوبیدار فارووق کیپٹن آکاش کے ساتھ تھے۔تبھی فضا میں ایک دھماکہ ہوا دشمن کی طرف سے ایک دستی بم پھینکا گیا تھا۔ہر طرف ایک بدبو دار دھواں پھیل گیا ۔اس دھماکے میں پاک آرمی کے دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

سورج کی روشنی ہر طرف پھیل چکی تھی۔جنگ ابھی زور و شور سے جاری تھی۔دونوں فریقین میں سے کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔پورا جنگل گولیوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔جنگل کے تمام پرندے اپنے اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں لے کہ اپنے گھونسلوں میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے۔

”صوبیدار صاحب چھت پہ جائیں“۔ کیپٹن آکاش نے دور بین کی مدد سے چھت کا جائزہ لیتے ہوئے صوبیدار فارووق کو ہدایت دی۔

وہ فوراََآگے بڑھے ۔مگر اوپر جانے کا موقع ہی نا ملا دشمن کی طرف سے یکے بعد تین چار گولیاں آئیں اور ان کے جسم کو چیرتی ہوئی نکل گئیں۔کیپٹن آکاش نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔وہ بجلی کی سی تیزی سے ان کی طرف بڑھے مگر دیر ہو چکی تھی۔صوبیدار فارووق زمین بوس ہو چکے تھے۔وہ ان کے سامنے کسی کٹےہوئے شہتیر کی طرح گرے تھے۔

”صاب۔۔۔“ کیپٹن آکاش نے انکا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے پکارا۔

“حاضر جناب۔۔۔۔“لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے لبوں سے جدا ہوئے تھے۔کیپٹن آکاش کی آنکھوں میں انسو آگئیے۔کس قدر تکلیف دہ منظر تھا یہ۔صوبیدار فارووق نے ان کی گود میں ہی قلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دم توڑ دیا۔گولیاں بہت نزدیک سے آئیں تھی اس لئے وہ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملے تھے۔شہادت ان کا مقدر بنی تھی۔کیپٹن آکاش کے لئے یہ سب بہت تکلیف دہ تھا۔اگر ان کی جگہ اور ہوتا تو کب کا ہمت ہار چکا ہوتا مگر انہوں نے بہت بہادری سے صوبیدار فارووق کا آخری دیدار کیا ۔صوبیدار فارووق کے چہرے پر بہت گہری مسکراہٹ تھی۔کچھ پا لینے کی چمک تھی۔انہوں نے بہت بہادری سے لڑتے ہوئے مقتل گاہ کو چھوڑا تھا۔

کیپٹن آکاش اپنی پوزیشن پر واپس جا چکے تھے۔انکی آنکھوں میں اب خون اتر آیا تھا۔دشمن کو اب ہر حال میں شکست دینی تھی۔

               **********

یونیورسٹی کا کیفے ٹیریا اس وقت تقریبا سنسان تھا- اس ٹائم ذیادہ تر سٹوڈنٹس کلاسز میں ہوتے تھے- سردیوں کی ایک دوپہر تھی یہ۔۔۔دھوپ کی ہلکی ہلکی تپش سکون دے رہی تھی-وہ چاروں کافی دیر سے انتظار کر رہی تھیں-تبھی وہ تینوں دور سے اتے ہوئےدکھائی دئیے-

"السلام و علیکم! سوری ہم تھوڑے لیٹ آئے ہیں…آپ کو انتظار کرنا پڑا”- حیدر نے شائستگی سے معزرت کی-

"کوئی بات نہیں”-وجیہہ نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا-

وہ تینوں ان کے سامنے ہی کرسیاں سنبھال کر بیٹھ گئے-

"یہ ہماری دوست فریال ہے”- زنیرہ نے فریال کا تعارف کروایا-

ان تینوں نے زنیرہ کے ساتھ بیٹھی فریال کی طرف دیکھا-سیاہ حجاب میں وہ نظریں جھکائے کچھ کنفوز سی لگ رہی تھی-دھوپ کی چمک اس کے چہرے کو ایک عجیب سا نور بخش رہی تھی-سفید رنگت پر سیاہ حجاب بہت پرکشش لگ رہا تھا- اس نے ایک بار بھی نظریں اٹھا کر انکی طرف نہیں دیکھا تھا-ان تینوں نے بھی جلد ہی نظریں ہٹا لی تھیں- فارس آج کافی سنبھل کہ بیٹھا ہوا تھا- وہ اس دن کی طرح ان کو خود پر ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا-

"آپ لوگوں کو کوئی بات کرنی تھی شاید”- حیدر نے ہی بات شروع کی-

"آکاش کب آئے گا”- زنیرہ نے پوچھا تو وہ تینوں حیرانگی سے انکی طرف دیکھنے لگے-اس دن بھی وہ جس طرح آکاش کے بارے میں معلومات لے رہی تھیں اور پھر ملنے کے لئے کہا یہ بات ان تینوں کو مشکوک بنا رہی تھی- سوچ کے گھوڑے دوڑا دوڑا کے وہ لوگ تھک چکے تھے مگر کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا-آخر معاملہ کیا تھا-

"ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے”- فارس نے سچائی سے انکی بات کا جواب دیا-

"آپ لوگ اس کا کانٹیکٹ نمبر دے سکتے ہیں "- وجیہہ نے ایک نظر فریال پر ڈالی جو شاید گونگے کا گڑ کھا کہ بیٹھ گئی تھی-اس کا دیہان مسلسل اپنی گود میں رکھے پاتھوں پر تھا جن کو مسل مسل کے اس نےسرخ کر لیا تھا-

"سوری لیکن کیا آپ پہلے یہ بتا سکتی ہیں کہ آپ کو کیوں چاہیے”- حیدر نے صاف منع کرنا مناسب نا سمجھا وہ پہلے جاننا چاہتا تھا کہ آخر ان کو آکاش کا نمر کیوں چاہیے-ویسے وہ لوگ اس کا نمبر دے تو نہیں سکتے تھے مگر پھر بھی وجہ جاننا چاہتے تھے-

"فریال کو آکاش سے بات کرنی ہے”- زنیرہ نے صاف گوئی سے کام لیا- وہ معاملے کو الجھانا نہیں چاہتی تھی-

"کیوں ….آئی مین خیریت ہے کوئی کام تھا”- وہ لوگ حیرانگی کی حدوں کو چھو رہے تھے-

فرحان نے ٹیبل پہ پڑی بوتل میں سے پانی گلاس میں نکالا اور ہونٹوں سے لگا لیا-اس کا گلا خواہ مخواہ ہی خشک ہو رہا تھا- وہ اور فارس بلکل چپ تھے-

"فریال اسے لائک کرتی ہے,اور اس سے بات کرنا چاہتی ہے”-زنیرہ نے فریال کو کہنی مارتے ہوئے بتایا جو بت بنی بیٹھی تھی-جو باتیں اسے کرنی چاہیے تھیں وہ ان لوگوں کو کرنی پڑ رہی تھی-

"کیا…..”- پانی پیتے فرحان کو اچھو لگ گیا-وہ پانی پینا بھول گیا- کچھ ایسا ہی حال باقی دونوں کا بھی تھا-

"آپ اس کو جانتی ہیں”- فارس نے اب ڈائریکٹ فریال سے سوال کیا تھا-

زنیرہ نے اسے ہلایا تو وہ اس کی طرف دیکھنے لگی اور پھر سر کو نہیں میں ہلا دیا-

"آپ نے کہاں دیکھاتھا اس کو”- فارس کو وہ لڑکی ابنارمل لگی-

"کچھ دن پہلے ریسٹورینٹ میں…..”- اب اس نے پہلی بار لب کشائی کی تھی-

"کیا آپ جانتی ہیں کہ وہ انگیجڈ ہے”- اب کی بار حیران ہونے کی باری ان چاروں کی تھی- فریال کے اندد چھن سے کچھ ٹوٹا-

"سوری لیکن یہ سچ ہے”- حیدر نے فریال کو اترا ہوا چہرہ بغور جانچا-

"آپ نمبر دے دیں اس کا پلیز ہم بات کر لیں گے”- زنیرہ نے ہمت کر کے پھر کہا ناجانے اسے کیوں لگ رہا تھا کہ جیسے بات نہیں بننی-مگر وہ فریال کے پاگل پن سے واقف تھی-پچھلے دنوں سے جس طرح اس نے اپنا حال بےحال کر رکھا تھا وہ ان تینوں سے مخفی نہیں تھا- وہ جانتی تھی جب تک وہ بات نہیں کرے گی اسی طرح رہے گی-

"سوری بٹ آکاش کی پرمیشن کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے ہم”- حیدر نے اب کی بار سیدھا سیدھا انکار کر دیا-

"آپ پلیز دے دیں آپ لوگوں کا نام نہیں آئے گا "- زنیرہ نے ڈھیٹوں کی طرح کہا اسے اندر سے شرم بھی محسوس ہو رہی تھی- ان کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ دوبارہ مانگ رہی تھی-

"بٹ…”- حیدر نے کچھ کہنا چاہا مگر فارس نے اس کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھ کہ اسے چپ کروا دیا-

"اوکے لکھ لیں …لیکن ہمارا نام نا آئے”- فارس نے کہا تا فرحان اور حیدر کو اسکی عقل پر شبہ ہوا-

"نہیں ائے گا پرامس”-زنیرہ نے اسےیقین دلایا-

فارس نے رجسٹر میں سے تھوڑا سا پیج پھاڑ  کہ اس کے اوپر نمبر لکھ کہ فریال کے سامنے رکھ دیا-

"تھینک یو”-زنیرہ نے اس کا شکریہ ادا کیا-

"ویلکم”- وہ مدھم سی مسکراہٹ چہرے پہ لاتے ہوئے بولا-

فریال نے وہ کاغزاٹھا کہ مٹھی میں دبا لیا-

               ********

میرے خون سے لکھنا پاکستان

میرے کفن پہ لکھنا پاکستان

موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیاہوں میں

میری قبر پہ لکھنا پاکستان

آٹھ گھنٹوں کی مسلسل جنگ کے بعد الله تعالیٰ نے کیپٹن آکاش اور انکے ساتھیوں کو فتح عطا کی- پاکستان آرمی کے لئے یہ بہت بڑی جیت تھی- اس جنگ میں صوبیدار فارووق سمیت چھ نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور تاریخ کے اوراق میں سرخ روشنائی سے اپنے نام ہمیشہ کے لئے درج کروا لیے- پاکستان آرمی کے ان بہادر نوجوانوں نے اپنی بہادری اور ثابت قدمی کی ایک اور بڑی مثال قائم کر دی- تمام شہدا کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر وہیں قریبی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا – اور وہ مٹی اپنی قسمت پر نازاں ہو رہی تھی جہاں وہ شہید ہمیشہ کے لئے سو گئے تھے – کیپٹن آکاش اس جنگ میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اس وقت ان کی حالت بہت سیریس تھی-

               ***********

کرنل عباس اپنے افس میں ٹہل رہے تھے ہر گزرتا لمحہ ان کی پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا –

"مے آئی کم ان سر”- تبھی دروازے پر دستک ہوئی تو وہ فورا اس طرف متوجہ ہوئے – وہاں میجر کاشف کھڑے اجازت طلب نظروں سے ان کو دیکھ رہے تھے – کرنل عباس نے سر کے ہلکے سے اشارے سے انکو اندر انے کو کہا-

"جی کیا سئچوئشن ہے؟ "- کرنل عباس کے لہجے میں بے چین واضح تھی جسے میجر کاشف نے محسوس بھی کر لیا تھا-

"Area is secure sir”-

میجر کاشف نے ان کو اطلاع دی تو انہوں نے شکر ادا کرتے ہوئے ایک سکون والا لمبا سانس لیا-

"باقی سب ٹھیک ہے؟ "- انہوں نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا – کئی گھنٹوں سے مسلسل کھڑے رہنے کی وجہ سے ٹانگیں شل ہو چکی تھی –

"سر ہمارے چھ جوانوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا الحمدلله جن میں صوبیدار فارووق بھی شامل ہیں – میری کچھ دیر پہلے  لیفٹیننٹ شہریار سے بات ہوئی ہے انہوں نے مجھے بتایا”- میجر کاشف نے انکو مختصر تفصیل بتائی –

"اور کیپٹن آکاش ۔۔۔۔۔”- کرنل عباس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی-

"سر وہ کافی زخمی ہوا ہے لیکن اس وقت اس کی حالت خطرے سے باہر ہے- اس لئے پریشانی والی کوئی بات نہیں "- میجر کاشف ان کی ادھوری بات کا مفہوم سمجھ گئے تھے انہیں نے انکو تسلی دی تو وہ کچھ مطمئن نظر انے لگے –

"آپ کی بات ہوئی آکاش سے؟ "- کرنل عباس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا-

"نہیں سر ابھی تو نہیں ہوئی ۔۔۔ابھی اسے ہوش نہیں آیا”- میجر کاشف نے مودب لہجے میں جواب دیا – ان کی نظریں احتراماً جھکی ہوئی تھی –

"کون ہے اس وقت اس کے پاس”- وہ دوبارہ بولے-

"لیفٹیننٹ شہریار ہیں انکے پاس”-

"اوکے ۔۔۔۔باقی لوگوں کو آج ہی واپس ہیڈ کوارٹر بلا لیں”- انہوں نے ٹیک چھوڑتے ہوئے میجر کاشف کو ہدایت دی تو وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئے –

               ***************

"یہ کیا بے وقوفی کی تم نے ہاں ۔۔۔۔میں نے جب منع کر دیا تھا تو کیا ضرورت تھی اتنا مہان بننے کی”- حیدر گھر اتے ہی فارس سے الجھ پڑا- اسے فارس کی اس حرکت پر سخت طیش آرہا تھا –

"نمبر ہی دیا اس کا اڈریس تو نہی دے آیا جو تم اتنا بھڑک رہے ہو”- فارس نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا-

"تم نے وہ بھی دے دینا تھا ۔۔۔۔وہ تو صد شکر کہ انہوں نے مانگا ہی نہیں "- حیدر نے اس کی بے نیازی پر طنزا کہا-

"تم اتنا ہائپر کیوں ہو رہے ہو آخر ۔۔۔۔آکاش کا نمبر، دے کہ آیا ہوں تمہارا تو نہیں دیا”- وہ صوفے پر نیم دراز ہوا اور ساتھ ہی ریمورٹ سے ٹی وی ان کر لیا مقصد صرف حیدر کو چپ کروانا تھا-

"آکاش آکہ تمہارا ہی نہیں بلکہ ہم دونوں کے بھی سر پھاڑے گا”- حیدر نے آگے بڑھ کہ ٹی وی کاپلگ ہی نکال دیا- فارس نے خاموشی سے اس کی اس کے حرکت کو دیکھا-

"تم ٹینشن نا لو کچھ نہیں ہو گا”- فارس نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی –

"یہ تو جب وہ آئے گا تب ہی پتا چلے گا”- حیدر کا موڈ ہنوز خراب تھا-

"جب آئے گا تب دیکھی جائے گی "- فارس نے بات کو ٹالنا چاہا-

"تمہیں اپنے اس فعل پر زرا بھی شرمنگی نہیں ہے؟ "- حیدر نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا – اس کی یہ بے نیازی اس سے زرا ہضم نہیں ہو رہی تھی – وہ بلکل مطمئن تھا جب کہ دوسری طرف حیدر کا سارا اطمینان غارت کر چکا تھا –

"بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔”- اسی بے نیازی سے پھر جوا آیا تھا-

"جب آکاش کو پتا چلے گا نا تب میں دیکھوں گا کہ تم اتنے ہی مطمئن ہوتے ہو”- حیدر نے غصے سے کہا تو وہ اب کی دفعہ بھڑک اٹھا- آخر برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے-

"یار آخر ایسی کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔۔۔۔اور وہ لڑکا ہے کوئی لڑکی نہیں جو اتنا تماشہ بنے گا ۔۔۔۔تم بات کو فضول میں طول دے رہے ہو ۔۔۔اور دیکھو اگر لڑنے کا موڈ ہے تو پلیز مجھے تو معاف ہی رکھو کیونکہ اس وقت میں اس پوزیشن میں بلکل نہیں ہوں”- فارس نے بدتمیزی سے کہتے ہوئے کشن منہ پہ رکھ لیا اشارہ واضح تھا کہ وہ اب بات نہیں کرنا چاہتا تھا – حیدر کو اس کی بات بہت بری لگی تھی لیکن وہ چپ چاپ کمرے سے نکل گیا- کیونکہ اب کہنے اور سننے کو واقعی کچھ نہیں بچا تھا-

               *************

فارس سات بجے سو کہ اٹھا تو کمرے میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا – اس نے ایک بھر پور انگڑائی لی اور موبائل نکال کہ ٹائم دیکھا سات بج رہے تھے – وہ حیران ہوا اتنی دیر ہو گئی تھی اور کسی نے اسے اٹھایا تک نہیں تھا – پتا نہیں کہاں تھے وہ لوگ ۔۔۔۔وہ تین بجے کا آکر سویا ہوا اب اٹھا تھا – دوپہر کا کھانا بھی آج نہیں کھایا تھا – اب ایک دم بھوک کا خیال آیا تو وہ کسلمندی سے اٹھتا ہوا بیڈ تک آیا – ہاتھ بڑھا کر لائٹ ان کی تو ایک دم پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا – کمرے میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک کہ سوا ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا – اس نے سلیپر پہنے اور کمرے سے نکل آیا – یونیورسٹی سے آکہ وہ بنا چینج کیے سو گیا تھا اور اب بھی چینج کرنے کی زحمت نہیں کی تھی- سونے کے بعد مزید سستی سوار ہو گئی تھی – وہ نیچے آیا تو فرحان ہال میں ٹی وی دیکھ رہا تھا – ٹانگیں سامنے رکھے میز پر تھیں – اس کا تو ہر سٹائل ہی انوکھا تھا – فارس اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا – فرحان گود میں پاپ کارن والا پیالہ رکھ کے بیٹھا ہوا تھا- اس کا دیہان ٹی وی کی جانب تھا اور ہاتھ پاپ کارن والے پیالے میں ۔۔۔۔

"بڑی جلدی اٹھ گئے ہو؟ "- فرحان طنزا کہہ رہا تھا یا یونہی پوچھ رہا تھا فارس سمجھ نہیں سکا تھا-

"تم مجھے اٹھا دیتے”- اس نے میز پہ پڑا ریمورٹ اٹھا لیا اور چینل سرچ کرنے لگا-

"میں گیا تھا تمہیں اٹھانے ۔۔۔۔مگر تم کافی گہری نیند میں تھے اس لئے ایسے ہی واپس آگیا”- فرحان نے پاپ کارن والا پیالہ سامنے میز پر رکھتے ہوئے کہا- وہ کافی سنجیدہ لگ رہا تھا –

"آج واقعی میں کافی دیر سویا ہوں "- فارس نے میز پہ رکھا پیالہ اپنی طرف کھسکا لیا اور پاپ کارن کھانے لگا-

"وہ چلا گیا”- فرحان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا تو پیالے کی طرف جاتا اس کا ہاتھ رک گیا –

"کہاں ۔۔۔۔؟”- فارس نے حیدر کی غیر موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا-

"اپنے گاؤں ۔۔۔”- فرحان ہنوز سنجیدہ تھا-

"شٹ ۔۔۔۔۔تم نے روکا کیوں نہیں "- فارس کو اب تشویش ہوئی – سونے سے پہلے والا سارا منظر اس کی آنکھوں کے آگے گھوم گیا- حیدر ناراض ہو کہ گیا تھا اسے از حد افسوس ہوا- اپنی بدتمیزی بھی یاد آگئی – سمجھ تو، وہ تب ہی گیا تھا جب وہ چپ چاپ کمرے سے نکل گیا تھا مگر تب اس نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا تھا کیونکہ اس وقت وہ خود بھی غصے میں تھا مگر حیدر اتنا برا منائے گا اس کی بات پر اور چلا جائے گا یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا-

"میں نے روکا تھا مگر وہ نہیں رکا”- فرحان نے پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بتایا-

"ویسے تمہیں اس سے اتنی بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی”- حیدر نے اسے شرمندہ کرنے کے لئے کہا تھا یا ویسے ہی ۔۔۔مگر فارس واقعی شرمندہ تھا کیونکہ آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا – وہ لوگ روز لڑتے تھے مگر ایسی نوبت کبھی پیش نہیں آئی تھی کہ ایسا کچھ ہوتا-

"اس وقت غصے میں آگیا تھا میں ۔۔۔۔اور وہ بھی بار بار ایک ہی بات کر رہا تھا”- فارس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے – اس نے پاکٹ سے سیل فون نکالا اور حیدر کا نمبر ملایا مگر اف دیکھ کہ وہ جنجھلا گیا-

"کیا ضرورت تھی تمہیں اس لڑکی کو آکاش کا نمبر دینے کی”- فرحان نے پھر وہی بات شروع کی تو وہ مزید غصے میں آگیا-

"دیکھو اب تم اس بات کو لے کہ مت بیٹھ جانا ۔۔۔۔اس سے بھی میری اسی بات پہ لڑائی یوئی ہے”- وہ دوبارہ نمبر ملاتے ہوئے بولا –

"تو تم نے ایسا کیا کیوں؟ "- فرحان بھی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا –

"تو یار غلطی ہوگئی نا ۔۔۔۔کیا کروں اب ۔۔۔۔تم لوگ تو پیچھے ہی پڑ گئے ہو ۔۔۔اور ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آرہی کہ ایسا کونسا جرم ہو گیا مجھ سے جو تم لوگ طعنے پہ طعنہ مار رہے ہو۔۔۔۔نمبر ہی دے کہ آیا ہوں کوئی قتل تو نہیں کر آیا۔۔۔وہ خود بھی اتنی فضول سی بات پہ ناراض ہو کہ چلا گیا اور جاتے جاتے تمہیں بھی رٹا گیا تب سے وہی بات بار بار ۔۔۔۔حد ہی ہو گئی ہے "- فارس نے سیل فون کو زور سے صوفے پر پٹختے ہوئے کہا-

"اوکے کام ڈاؤن ۔۔۔۔چھوڑو یہ سب ۔۔۔۔کل جائیں گے اس سے ملنے "- فرحان کو اس پر رحم آگیا – اس نے بات کو ختم کرتے ہوئے کہا-

"او گاڈ یار کیا ہو گیا یہ ۔۔۔۔”- فارس نے اپنے بال مٹھیوں میں جھکڑے اور زور سے آنکھیں میچ لیں -وہ سخت پریشان ہو گیا تھا- حیدر کی اس حرکت پر اسے بہت دکھ ہو رہا تھا –

"ڈونٹ وری ۔۔۔۔کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ہم کل جا کہ منا لیں گے اس کو”- فرحان اٹھ کہ اس کے پاس چلا آیا اور اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی-

"میں نے جان بوجھ کہ ایسا نہیں کیا فرحان مجھ سے ہو گیا”- وہ رونے کو ہو گیا تھا اب ۔۔۔۔سر دونوں ہاتھوں پہ گرالیا-

"میں جانتا ہوں ۔۔۔کوئی بات نہیں تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔میں نے کھانا بنایا آو کھاتے ہیں ۔۔تم نے دوپہر کو لنچ بھی نہیں کیا تھا”- فرحان نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا-

"بھوک نہیں ہے مجھے ۔۔۔”- وہ دوبارہ بیٹھ گیا- چہرے پر اداسی واضح تھی-

"دیکھو کوئی ڈرامہ نہیں چلے گا ۔۔۔میں نے آج بنا تم لوگوں کے کہے کھانا بنایا ۔۔۔۔اور کھانے میں بھی مونگ کی دال بنائی ہے۔۔۔۔کھاو اور دعائیں دو- فرحان نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے بات کو مزاح کا رخ دیا-

"ہاں اور تم مونگ کی دال کیسی بناتے ہو یہ مجھ سے بہتر کون جانتا ہے بھلا "- فارس نے مسکراتے ہوئے کہا تو فرحان نے اس کا دیہان بٹنے پر شکر ادا کیا-

"او نہیں یار ۔۔۔۔ایسے مت بول۔۔۔کھا کہ تو دیکھ”- فرحان نے اپنی صفائی دی- اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ فورا لڑنے بیٹھ جاتا –

"ہاہاہاہا ۔۔۔۔دیکھتا ہوں ۔۔۔۔تم زرا کھانا لگاؤ میں تب تک فریش ہو کہ آتا ہوں "- وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا-

"جو حکم سائیں ۔۔۔۔”- فرحان نے اس کے سامنے جھکتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ اس کے شانے پہ مکا مارتے ہوئے مسکراتا ہوا فریش ہونے چلا گیا- فرحان گنگناتے ہوئے کچن میں آگیا-

             **************

کیپٹن آکاش بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے – ان کی آنکھیں نیم وا تھیں – ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھے لیفٹیننٹ شہریار کرسی پر بیٹھے اپنے موبائل میں گم تھے – کیپٹن آکاش نے ایک دو دفعہ آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھا مگر وہ ہنوز اپنے کام میں مگن نظر آرہے تھے – انہوں نے بے بسی سے اپنے موبائل کی طرف دیکھا جو ان کی پہنچ سے بہت دور تھا – کچھ دیر پہلے لیفٹیننٹ شہریار نے اسے چارجنگ پہ لگایا تھا- ان کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئے چوتھا دن تھا- اب انکی حالت کافی سنبھل گئی تھی – وہ بہت جلدی ری کور کر رہے تھے – ان کی پندرہ دن کی چھٹی منظور ہو چکی تھی اس لئے وہ جلد سے جلد گھر جانا چاہتے تھے – اور اس وقت وہ سخت بوریت محسوس کر رہے تھے -ڈاکٹرز نے ان کو سیل فون کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہوا تھا- مگر آج انہوں نے ضد کر کے اپنا فون چارج کروایا تھا جو کافی دن سے ڈیڈ پڑا تھا-

کتنے ہی لمہے یوں ہی گزر گئے – پھر اسی اثنا، میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی- لیفٹیننٹ شہریار نے فورا سیل فون اف کر کے پاکٹ میں رکھا- آنے والے میجر بابر، میجر کاشف، کیپٹن علی اور کرنل عباس تھے- لیفٹیننٹ شہریار نے فورا سلیوٹ مارا- کیپٹن آکاش نے بھی اٹھنے کی کوشش کی مگر کرنل عباس نے فورا منع کر دیا-

"لیٹے رہو ینگ مین۔۔۔۔اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے "- وہ ان کے قریب آئے –

"ہیلو سر…!”- کیپٹن آکاش نے چہرے پر جاندار مسکراہٹ لئے کہا-

"کیسے ہو۔۔۔۔پریشان کر دیا تھا تم نے تو سب کو”- وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئے- ہاتھ میں پکڑا بکے جو وہ انکے لئے لائے تھے سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا- تازہ سرخ گلابوں کی مہک ہر طرف پھیل گئی –

"لیفٹیننٹ شہریار نے ان لوگوں کو بیٹھنے کے لئے کرسیاں پیش کی- میجر بابر ،میجر کاشف اور کیپٹن علی نے بھی باری باری ان سے مصافحہ کیا- ان سب نے بھی اپنے اپنے بکے ان کے پاس ٹیبل پر رکھ دیے کمرے میں یوں محسوس ہوا جیسے بہار آگئی ہو –

"کیسی طبیعت ہے آپکی”- میجر کاشف نے ان کے کمزور مگر پرعزم چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا-

"الله کا شکر ہے سر میں بلکل ٹھیک ہوں”- انہوں نے ان کی بات کا جواب دیا اور ساتھ ہی اپنے بائیں طرف وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کی- کیپٹن علی نے فورا آگے بڑھ کے انکو ایسا کرنے میں مدد دی- انہوں نے مسکراتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا- میجر بابر بڑے غور سے تب سے ان کا جائزہ لے رہے تھے – ناجانے وہ ان کے چہرے پر کیا کھوجنے کی کوشش کر رہے تھے – وہ کافی چپ چپ تھے-

"ویل ڈن آکاش ۔۔۔۔۔ہمیں فخر ہے تم پہ ۔۔۔۔بلکہ پوری قوم کو فخر ہے تم پہ ۔۔۔۔ماشاء الله تم نے جو کیا ہے اس کے لئے بہت ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے "- میجر کاشف نے ان کے روشن چہرے کو بڑے رشک سے دیکھتے ہوئے کہا –

"آئی ایم پراؤڈ آف یو آکاش”- کرنل عباس نے بھی انکی تعریف کی تھی- اس وقت ان کی آنکھوں میں جو عزت تھی کیپٹن آکاش نے خود کو بہت خوش نصیب محسوس کیا- ہر کیسی کو ایسی عزت اور مقام کہاں ملتا وہ واقعی الله کے پسندیدہ لوگوں میں سے تھے جن پر الله اپنا خاص کرم کرتا ہے-

"تھینک یو سو مچ سر”- وہ فرطِ جزبات سے بمشکل اتنا ہی کہہ پائے تھے –

لیفٹیننٹ شہریار نے ان سب لوگوں کے لئے چائے منگوائی تھی اور وہ اب انکو چائے پیش کر رہے تھے –

"آکاش تم واقعی اس قوم پر الله کا انعام ہو ۔۔۔۔تمہارے جیسے بہادر نوجوان جس وطن کے بیٹے ہوں اس پر کوئی دشمن کبھی میلی نظر ڈال ہی نہیں سکتا”- میجر بابر نے پہلی بار لب کشائی کی تھی- ان کے ایک ایک لفظ میں کیپٹن آکاش کے لئے رشک تھا- کیپٹن علی زیرِ لب مسکرائے تھے اور یہ مسکراہٹ لیفٹیننٹ شہریار سے مخفی نہیں رہی تھی – کیپٹن علی نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا-

"آئی ایم ویری سوری سر..! "- کیپٹن آکاش نے ان سے معزرت کی وہ تب سے ان سے آنکھیں نہیں ملا پارہے تھے-

"اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”- وہ مسکراتے ہوئے بولے اور سامنے رکھا اپنا کپ اُٹھا لیا-

"سر میں جانتا ہوں آپ سب لوگوں کو مجھ پر بہت غصہ آیا ہو گا ۔۔۔۔آخر کو میں نے رولز کی خلاف ورزی کی ۔۔۔۔لیکن میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ میں اپنا وعدہ نبھاؤں گا میں ہر قیمت پر اپنے مشن میں کامیاب ہوں گا ۔۔۔اور دیکھ لیں میں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے”- کیپٹن آکاش پر اس وقت وہاں بیٹھے ہر شخص کو فخر محسوس ہو رہا تھا – جس دھرتی کی حفاظت کا بیڑا ایسے نوجوان اٹھاتے ہیں اس دھرتی پر کوئی دشمن بری نظر ڈال ہی نہیں سکتا – کیپٹن آکاش جیسے نوجوان واقعی الله کی طرف سے قوم پر انعام ہوتے ہیں ۔۔۔۔جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کہ اپنی قوم کی جانیں بچاتے ہیں – ان کی طرف آنے والی ہر مشکل خود برداشت کرتے ہیں –

کرنل عباس نے ان کے اس عزم اور حوصلے کو سراہا تھا – ماحول کافی خوشگوار ہو گیا تھا- کچھ دیر پہلے والی ساری بوریت ختم ہو گئی تھی – لیفٹیننٹ شہریار اب ان کو پوری تفصیل بتا رہے تھے کیپٹن آکاش لبوں پر دھیمی سی مسکان سجائے باقی لوگوں کے ساتھ ان کو سن رہے تھے –

وہ لوگ کافی دیر بیٹھے رہے پھر کرنل عباس نے جانے کی اجازت طلب کی –

"گیٹ ویل سون آکاش”- انہوں نے جاتے جاتے ان کو ڈھیروں دعاؤں سے نوازا –

کیپٹن آکاش نے مسکراتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا-

     *************

"سر آپ کا فون چارج ہو گیا”- لیفٹیننٹ شہریار نے اُن لوگوں کے جانے کے بعد فون چارجنگ سے اُتار کہ اُن کو پکڑایا تو کیپٹن آکاش نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پکڑ لیا – لیفٹیننٹ شہریار مسکراتے ہوئے باہر نکل گئے –

انہوں نے آن کیا ہی تھا کہ فارس کی کال آگئی یوں جیسے وہ فون کے آن ہونے کے انتظار میں بیٹھا ہو-

انہوں نے مسکراتے ہوئے یس کا بٹن پریس کر کہ کان سے لگا لیا-

"ہیلو جگر ۔۔۔۔کیسے ہو”- شوخ لہجے میں پوچھا گیا-

"تیرے ہیلو کی تو میں ایسی کی تیسی ۔۔۔۔تو آ سہی ایک دفعہ دیکھ تیرا کیا حشر کرتے ہیں ہم ۔۔۔۔شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے مگر تم۔۔۔۔بس تم آؤ ایک دفعہ… "- فارس تو جیسے بھرا بیٹھا تھا – کیپٹن آکاش کا ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا تھا- انہیں پہلے سے ہی اسی کی اُمید تھی – اِتنے دن کی غیر حاضری وہ بھی بِنا بتائے ۔۔۔۔بہت کچھ ہونا تھا ابھی تو-

"میری جان اتنا غصہ ۔۔۔۔”- انہوں نے اسے پھر چھیڑا-

"قسمے کاشی بس تو آجا ایک دفعہ ۔۔۔۔خدا کا خوف نا آیا تمہیں اتنے دن تک کوئی خیر خبر نہیں دی- جب بھی فون کرو فون آف ۔۔۔ہماری یہاں جان پہ بنی ہوئی تھی اور تو وہاں عیش کر۔۔۔۔”- فارس کے جو منہ میں آیا وہ بولتا گیا-

کیپٹن آکاش نے اُسے روکا بھی نہیں تھا بلکہ انہیں یہ سب اچھا لگ رہا تھا – وہ سب اُن کی اتنی پرواہ کرتے تھے بلکہ جان چھڑکتے تھے اُن پر ۔۔۔۔-

"کہاں کی عیش یار بندھا پڑا ہوں یہاں میں ۔۔”- بے ساختہ ہی منہ سے نکل گیا اور دوسری طرف فارس چونکا تھا –

"کیا مطلب۔۔۔۔؟کہاں بندھے ہو ۔۔۔۔میں سمجھا نہیں "- وہ اگلے ہی لمہے فوراً پوچھنے لگا تو انہوں نے دانتوں تلے زبان دبائی – مگر اب کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔۔کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کبھی واپس نہیں آتے-

"کچھ، نہیں مزاق کر رہا ہوں۔۔۔تم بتاؤ حیدر اور فرحان کیسے ہیں "- انہوں نے بات کا رُخ پلٹنا چاہا مگر دوسری طرف بھی فارس تھا – جو اُن کی رگ رگ سے واقف تھا اس لئے یہ کوشش ناکام تھی –

"دیکھو اب کوئی ڈرامہ نہیں چلے گاسچ سچ بتاؤ کہاں تھے اتنے دن ۔۔۔۔ا؟اور کیا ہوا ہے تمہیں ؟”- فارس نے اب کسی صورت جان نہیں چھوڑنی تھی-انہیں سب اُگلنا پڑنا تھا –

"اپریشن تھا ایک چھوٹا سا یار اُسی میں لگا ہوا تھا ۔۔۔۔تو بس تھوڑا سا زخمی ہوا ہوں ۔۔۔لیکن اب میں بلکل ٹھیک ہوں "- اُنہوں نے اُسے مختصر بتاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اپنی طرف سے مطمئن بھی کرنے کی کوشش کی- کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب وہ پریشان ہو جائے گا یہ سب سُن کے-

"واٹ۔۔۔۔؟ "- فارس دوسری، طرف چیخا تھا-

"تم نے ہمیں بتانا، بھی گوراہ نہیں کیا۔۔۔۔کاشی کتنی بُری بات ہے ویسے”- فارس کو تو جیسے صدمہ لگ گیا تھا اِس بات سے –

"ریلکس بھائی ریلکس ۔۔۔۔میرا فون ڈیڈ پڑا تھا آج ہی چارج کیا”-انہوں نے اس کو سچائی سے بتایا-

"تم کیسے ہو اب ۔۔۔۔؟یار ہم اتنے پریشان تھے سب قسم سے ۔۔۔۔تمہارا فون بند تھا ۔۔۔۔نا کوئی کال نا کوئی میسج ۔۔۔۔بہت برا حال ہو گیا تھا میرا تو سوچ سوچ کہ کے سب ٹھیک ہو”- فارس پریشانی سے گویا ہوا-

"میں اب بلکل ٹھیک ہوں ڈئیر ڈونٹ وری۔۔۔۔اور بنا بتائے غائب ہونے کے لئے سوری کیونکہ بتانے کا موقع ہی نہیں ملا”- انہوں نے اسے تسلی دی-

"اچھا بتاؤ کہاں ہو ۔۔۔۔؟ہم لوگ ملنے آتے ہیں "- فارس کی پریشانی جوں کی توں تھی-

"نہیں فارس اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔میں آج کل میں بس ڈسچارج ہونے والا ہوں ۔۔۔پھر خود ملنے آؤں گا ۔۔۔اور اب میں بلکل ٹھیک ہوں”- انہوں نے اُسے فوراً منع کر دیا کیونکہ وہ ان لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے –

"پکا نا۔۔۔۔”- فارس اب بھی بے یقین تھا-

"ہاں بلکل پکا۔۔۔۔تم یہ بتاؤ باقی سب کیسا وہاں؟”-

"سب ٹھیک ہے کاشی بس تمہاری کمی ہے ۔۔۔۔جلدی آجاؤ پلیز "-

"حیدر لوگ کیسے ہیں؟ "-

"سب ٹھیک ہیں”- فارس نے اپنی حیدر کی بات چھپاتے ہوئے کہا –

پھر وہ دونوں تقریباً آدھا گھنٹہ کال پہ باتیں کرتے رہے –

                *************

رات کے سیاہ ناگ کو اپنے اندر نکل کر صبح کی رانی اپنا تخت سنبھالنے آچکی تھی -ہر طرف اجالا پھیل گیا تھا – پرندے اپنی مخصوص آوازوں میں ہمیشہ کی طرح چہچا رہے تھے فضا میں ہر طرف ایک عجیب سا شور پھیلا ہوا تھا- لان میں لگے پودوں پر پڑی اوس موتیوں کی طرح چمک رہی تھی اور اس سے نکلنے والی سنہری شعائیں اِدھر اُدھر پھیل رہی تھیں -سپتمبرکا مہینہ سٹارٹ ہو چکا تھا- سردی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا- مگر ابھی دھوپ میں بیٹھنے کے دن نہیں آئے تھے – لویل نے دلچسپی سے یہ سارا منظر دیکھا- قدرتی مناظر ہمیشہ اُسے اٹریکٹ کرتے تھےروز صبح گھر کے لان میں سورج نکلنے کا منظر دیکھنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا- اِس دوران ماما اسے کئی آوازیں دیتیں مگر وہ اپنے مخصوص ٹائم سے پہلے ہلتی بھی نہیں تھی وہاں سے چاہے کچھ ہو جائے ۔۔۔اِس لئے ماما کی نظر میں اُس کے اِس کام کہ پیچھے ایک ہی لاجک تھا اور وہ تھا کام نا کرنے کے بہانہ ۔۔۔وہ مسلسل اُس کو آوازیں دی رہی تھیں اب بھی مگر وہ نظرانداز کئے بیٹھی اپنے شغل میں مصروف تھی-

"ہیلو مستقبل کی ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔۔کیا حال احوال ہیں آپ کے؟ "- دانش نا جانے کب اس کے پاس آ کہ بیٹھ گیا تھا – وہ اپنے آپ میں اِس قدر گم تھی کہ خبر ہی نا ہوئی-

"بہت پیارے حال ہیں ہمارے”- وہ شرارت سے بولی-دیہان کچھ فاصلے پہ پھدکتی چڑیا پر تھا – بس ایک نظر دانش کو دیکھتے ہوئے جواب دیا-

"جی جی وہ تو ہم دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔”- دانش نے اُس کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اِس وقت بہت ذیادہ کِھل رہا تھا ۔۔۔وہ جہاں بیٹھی ہوئی تھی وہاں گلاب کی پھولوں کی کیاری بنی ہوئی تھی اور اِس وقت وہ اُن کھلتے گلابوں کا ہی حصہ معلوم ہو رہی تھی –

"آپ سنائیں آپ کیسے ہیں؟ "- لویل نے اپنے شغل کو ترک کرتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا وہ اب مکمل طور پر اُس کی طرف متوجہ ہو گئی –

"ہم آپ سے ذیادہ پیارے ہیں "- دانش نے بھی اُسی شوخی سے جواب دیا -لویل کھلکھلائی اُن کی بات پہ۔۔۔۔اور دانش کو لگا جیسے وہاں موجود تمام پھولوں نے اُس کا ساتھ دیا ہو-

"بھائی ویسے آپ کو اِس خوش فہمی میں کِس نے مبتلا کیا کہ آپ پیارے ہیں ؟”- لویل نے اُن کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا-

"سب کہتے ہیں کہ میں بہت پیارا ہوں ماشاء اللّٰه ۔۔۔۔”- دانش نے اُسے چڑانے کے لئے فرضی کالر جھاڑے-

"سب کی نظر کمزور ہے نا اِس لئے ۔۔۔”-لویل نے اُس کی خوش فہمی دور کرنے کی کوشش کی-

"سب کی تو نظر کمزور ہے نا مگر مجھے لگتا آپ کی سماعت کمزور ہے ۔۔۔۔”- دانش کی بات پر وہ حیران ہوئی-

"آپ کو یہ غلط فہمی کیونکر ہوئی بھائی”-

"بس دیکھ لیں ساری غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں مجھے ہی ہوتی ہیں "- دانش نے تیسری بار اُس چڑیا کو دیکھا جو مسلسل اُن کے آس پاس چہک رہی تھی –

"بھائی بتائیں نا”- لویل نے ضد کی –

"آپ کو اماں جی صبح سے کوئی بیس پچیس آوازیں تو دے ہی چکی ہیں مگر مجال ہے آپ کے کانوں میں ایک بھی آواز پڑی ہو”- دانش کی بات پر ایک لمہے کو وہ چُپ ہوئی تھی –

"اماں کو تو بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے مجھے آوازیں دینا۔۔۔۔صبح سے لے کہ رات تک یہ سلسلہ جب تک میں گھر رہوں ایک تواتر سے جاری رہتا ہے "- وہ منہ بناتے ہوئے بولی تو دانش کی ہنسی نکل گئی –

"کیا چیز ہو تم ویسے ۔۔۔۔ماما تمہیں آوازیں اِس لئے لگاتی ہیں کیونکہ وہ تمہیں اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔پیار بہت ہے اُن کو تم سے”- دانش نے اُس کے سلکی بالوں کی لَٹ کھینچتے ہوئے شرارتاً کہا-

"ایکسکیوز می ۔۔۔۔پلیز اپنی یہ غلط فہمی دور کر لیں وہ مجھے اپنے آس پاس صرف کام کرتا ہوا دیکھنا چاہتا ہیں اِس لئے ۔۔۔۔آپ پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتے ہیں "- لویل کی بست پر دانش کا قہقہ ابھرا-

"کافی سمجھدار ہو گئی ہیں ویسے آپ”-دانش مسلسل اُسے چڑانے کے لئے آپ آپ کہہ رہا تھا-

مگر حسبِ معمول وہ آج چُپ ہی تھی اِس بات پر اور دانش کے لئے یہ کافی حیران کُن بات تھی-

"بس کاشی کی صحبت کا اثر ہے اُس کے ساتھ رہ رہ کہ میں بھی سمجھدار ہو گئی ہوں”-

"ارے ہاں سچ یاد آیا ۔۔۔۔کاشی سے بات ہوئی تمہاری ۔۔۔کہاں غائب ہے وہ آجکل؟”- دانش کچھ یاد آنے پر بولا-

"اُس سے تو میں پکی والی ناراض ہوں ۔۔۔آئے سہی ایک دفعہ ۔۔۔۔کتنے دن سے آن لائن نہیں ہے اور نا ہی میسج کا جواب دیتا ہے "- کاشی کی بات پر ایک غصہ، عود آیا – جس کو میسج کر کر کہ اُس کی انگلیاں گھس گئیں تھی مگر وہ جواب ہی نہیں دے رہا تھا وہ سخت ناراض تھی اُس سے… –

"لویل "۔۔۔۔۔اندر سے اماں کی پھر آواز آئی تو وہ چونکی –

"اوپس ۔۔۔۔اما-

بلا رہی ہیں میں جا رہی ہوں نہیں تو اب اُنہوں نے خود آجانا میری کلاس لینے”- وہ اُٹھ کہ اندر بھاگی-

"لویل تمہاری یہ چڑیا ۔۔۔”- دانش نے پیچھے سے شرارت سے آواز لگائی – اُس کا اشارہ اُس چڑیا کی طرف تھا جو لویل کے یوں بھاگنے پر فوراً اُڑ کر دور جا کھڑی ہوئی تھی –

"اِس کو آپ کمپنی دیں ۔۔۔میں تب تک اندر حاضری لگوا لوں”- وہ وہیں سے کہتی ہوئی یہ جا وہ جا-

دانش نے مُسکراتے ہوئے چڑیا کی طرف دیکھا جو اب اُڑ کہ دیوار پر جا بیٹھی تھی شاید ذیادہ ہی ڈر گئی تھی – وہ کپڑے جھاڑتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اُس کا رُخ بھی اندر کی جانب تھا-

                     ***********

کبھی یہ سوچا تم نے

کہ تمہارے دل گرفتہ

تمہیں کتنا چاہتے ہیں

تمہیں زندگی سے بڑھ کر

جو عزیز ہم نے سمجھا

سو کوئی تو سبب ہو گا

کبھی سوچا تم نے

سرِ شام منتظر تھے

کہیں نیلمی اُجالے

کہیں تتلیاں لبوں پر

کہیں پھول جیسے عارض

کہیں قمقوں سی آنکھیں

یہ جو چارہ گر ہمارے

کوئی ساعت رفاقت

سرِ شام مانگتے ہیں

اِنہیں کیا خبر کہ ہم نے

تمہیں سونپ دی ہیں یہ راتیں

تمہیں دان کی ہیں آنکھیں

کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ

تمہارے دل گرفتہ

پسِ دام دور اکیلے

کبھی شمع سوختہ سے

یہ جو کر رہے ہیں باتیں

تمہیں کتنا چاہتے ہیں

انہی روز و شب کی دھن میں

تو کبھی نا بھول پائیں

کہ عہدِ زندگی ہے

جِسے توڑنا بھی چاہیں

تو کبھی توڑ نا پائیں

تمہیں زندگی سے بڑھ کر

یہ جو عزیز ہم نے جانا

سو کوئی تو سبب ہو گا

کبھی تم نے یہ بھی سوچا؟

میسج کی ٹون بجی تو کیپٹن آکاش نے ہاتھ بڑھا کر تکیے کے نیچے سے سیل فون نکالا – دوسرے ہاتھ کی مدد سے خود کو سہارا دے کر زرا اونچا کیا اور ٹیک لگا کے بیٹھ گئے – انہوں نے فون چیک کیا تو فاطمہ کہ نمبر سے میسج موصول ہوا تھا وہ مسکرائے اور زیرِ لب موصول ہوئی نظم پڑھنے لگے –

"ویری نائس”- انہوں نے نظم پڑھنے کے بعد اس کے ریپلائی میں سمائل والے آئی کون کے ساتھ مختصر سا میسج سینڈ کر دیا-

"ویری فنی”- کچھ ہی دیر میں اسکرین چمکی دوسری طرف شاید ان کے جواب کا ہی انتظار تھا- انہوں نے کھول کہ چیک کیا ۔۔میسج غصے والے آئی کون کے ساتھ بھیجا گیا تھا –

"کیا ہوا۔۔۔”- انہوں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا-

"آپ سے مطلب۔۔۔۔”- ناراضگی سے جواب آیا-

"کیسی ہو۔۔۔”- وہ ان کا میسج نظر انداز کر گئے –

"بڑی جلدی یاد آگیا”- ناراضگی ہنوز قائم تھی- وہ پھر مسکرائے –

افف کتنی ضدی لڑکی ہے یہ ۔۔۔۔انہوں نے دل میں سوچا مسکراہٹ مسلسل ہونٹوں پر رقصاں تھی -مسکراتے وقت ان کے گال میں ابھرنے والا گڑھا اپنی قسمت پہ نازاں ہو جاتا- آخر کو وہی تو تھا اِس خوبصورت ہنسی کی وجہ ۔۔۔سیاہ طلسمی آنکھیں بھی اس مسکراہٹ میں اُن کا ساتھ دے کر اپنا طلسم بکھیر رہی تھیں – کچھ لوگ واقعی بہت زندہ دل ہوتے ہیں مشکل سے مشکل حالات کا بھی بہادری سے سامنا کرتے ہیں – حتٰی کہ مصیبت بھی ایسے لوگوں سے گھبرا جاتی ہے مصیبت کو شکست دینے کے لئے تو اُن کی ایک مسکراہٹ ہی کافی ہوتی ہے –

"آتو گیا نا۔۔۔۔تمہیں تو وہ بھی نہیں آیا”- انہوں نے مصنوعی خفگی والے انداز میں پیار بھرا طعنہ مارا-

"میں آپ سے ناراض ہوں”-اسکرین پہ ناراضگی والا آئی کون ابھرا-

"لیکن کیوں بھئی ۔۔۔۔میں نے ایسا کیا کر دیا”- انہوں نے زیرِ لب بولتے ہوئے میسج ٹائپ کیا-

"کیونکہ آپ نے مجھے ریپلائی نہیں کیا اتنے دنوں سے ۔۔۔میں نے اتنے میسج کیے آپ نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔اُلٹا فون آف رکھا”- فاطمہ کا لمبا چوڑا میسج موصول ہوا-

"سوری ڈئیر میں بزی تھا ۔۔۔۔”- کیپٹن آکاش نے اصل بات چھپاتے ہوئے کہا تو مقابل کا موڈ پل بھر میں صحیح ہو گیا- ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا وہ ایک بار سوری کرتے تو وہ جھٹ مان جاتی-

"گھر کب آئیں گے؟ "- خوشگوار موڈ کے ساتھ پوچھا گیا –

"بہت جلد ۔۔۔”-انہوں نے اسے بِنا تنگ کیے بتا دیا-

"پکا پرامس۔۔۔۔”- فاطمہ نے تصدیق چاہی-

"ایک دم پکا پرامس”- کیپٹن آکاش اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کتنے دنوں بعد تو بات ہو رہی تھی –

"میں ویٹ کروں گی آپ کا۔۔۔۔پلیز جلدی آئے گا۔۔۔۔سب آپ کو بہت یاد کرتے ہیں "- وہ اب اداس نظر آرہی تھی – انہوں نے تصور میں اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا-

"میں بھی سب کو بہت مس کرتا ہوں ۔۔۔۔جلدی آؤں گا”-

"یہ ہوئی نا بات”- وہ بہت پُر جوش ہوئی تھی –

"اچھا سنو کسی کو بتانا مت ابھی یہ بات "- وہ کچھ یاد آنے پر بولے –

"کیوں؟ "- حیرت سے استفسار کیا گیا-

"ارے بھئی سرپرائز بھی تو کسی چڑیا کا نام ہے نا”- انہوں نےشرارتی سے آئی کون کے ساتھ میسج بھیجا-

"ہاہاہاہا ۔۔۔۔اوکے جی نہیں بتاؤں گی”-

"گڈ گرل”- وہ اُس کے مان جانے پر شرارت سے بولے –

            ***************

"آج حیدر سے ملنے جائیں گے۔۔۔۔کل یونیورسٹی بھی نہیں آیا ۔۔۔۔ایک تو ڈرامے ہی ختم نہیں ہوتے اس کے”- فارس نے ٹائی کی ناٹ لگاتے ہوئے فرحان کو کہا جو اپنی شرٹ پریس کر رہا تھا -کانوں میں اس نے ہینڈ فری بھی لگائے ہوئے تھے –

"اوئے ۔۔۔۔”- فارس نے اپنی بات کا جواب نا پاکر زرا اونچی آواز میں اُس کو مخاطب کیا جو بڑے مست انداز میں کپڑے پریس کرتے ہوئے جھوم رتھا- اس نے ایک تاسف بھری نگاہ اُس پہ ڈالی-

"اِس کا کچھ نہیں ہو سکتا "- وہ بڑبڑاتا ہوا شوز پہننے لگا-

"کچھ کہا تم نے؟”- فرحان نے انجان ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے پوچھا-

"کتنی بار منع کیا کہ صبح صبح گانے مت سنا کرو ۔۔۔بندہ اگر اچھے کام نہیں کر سکتا تو برُے بھی تو نا کرے”- وہ اب شوز کے تسمے باندھ رہا تھا – فرحان نے شرافت سے ہینڈ فری اتار کر وہیں سے بیڈ پہ پھینک دیے اور شرٹ پہننے لگا –

فارس نے اُس کی طرف دیکھا اور اُس کے اتنی جلدی مان جانے پہ قدرے حیران ہوا-

"میں کہہ رہا ہوں کہ آج حیدر کو منانے جائیں گے۔۔۔۔جا کہ بیٹھ ہی گیا اُدھر ۔۔۔۔میرا بلکل دل نہیں لگ رہا اُس کے بغیر”- وہ اداسی سے بولا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگا-

"تو کس نے کہا تھا کہ لڑائی کرو”- فرحان نے پھر اُس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا-

"کائنڈلی لڑاکا عورتوں کی طرح طعنے مت مارا کرو ۔۔۔۔بہت ہی بُرے لگتے ہو "- وہ اِس کو ایک گھوری سے نوازتا ہوا واش روم میں چلا گیا-

"ہاہاہاہا۔۔۔۔”- فرحان کے زوردار قہقے نے اُس کا پیچھا کیا-

"کل میری کاشی سے بات ہوئی تھی”- فارس نے گھڑی باندھتے ہوئے اُسے بتایا- وہ اپنی گھڑی لینے ہی گیا تھا جو منہ دھوتے ہوئے اتار کر رکھی تھی اور پھر وہیں رہ گئی تھی-

"رئیلی ۔۔۔۔”- فرحان نے بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھا-

"ہاں ۔۔۔۔کہہ رہا تھا کہ جلدی آؤں گا”- فارس نے اُس کے زخمی ہونے والی بات چھپاتے ہوئے مختصر بتایا-

"یاہو ۔۔۔۔۔”- فرحان ایک دم پُرجوش ہوا تھا- فارس اُسے دیکھ کر مسکرایا-

"یار اکتوبر بھی آرہا ہے”-وہ اب بیڈ پہ بیٹھا اپنی اسائنمنٹس ترتیب دے رہا تھا –

"ہاں تو پہلی دفعہ آرہا کیا جو تم ایسے بتا رہے ہو "- فرحان نے اُس کی بات پر حیرانی سے کہا-

"نہیں میرا مطلب ہے کہ کچھ تیاری وغیرہ بھی تو کرنی ہے نا”- فارس نے تمام اسائنمنٹس کو فائل میں رکھا-

"پاگل ہو گئے ہو کونسی تیاری کرنی ہے ۔۔۔۔اکتوبر میں کوئی خاص واقع ہوا ہے کیا ویسے جہاں تک مجھے یاد ہے ایسا تو کچھ نہیں ہوا”- فرحان اب ناشتہ کر رہا تھا بیٹھ کہ وہ ہمیشہ تیار ہونے کہ بعد ناشتہ کرتا تھا جب کہ فارس اور حیدر دونوں ہی ناشتہ کر کے تیار ہوتے تھے-

"ابے گھامڑ ۔۔۔۔کاشی کا برتھ ڈے ہے "- فارس کا دل چاہا اُس کی عقل پہ ماتم کرے وہ ہمیشہ بونگیاں ہی چھوڑتا تھا- ہر فضول بات اس کو یاد ہوتی تھی اور ہر کام کی بات بھول جاتا –

"او تیری ۔۔۔۔میں تو بھول ہی گیا تھا”- فرحان نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا تو فارس سر جھٹک کر پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا-

"ویسے اچھا کیا یاد کروا دیا ۔۔۔اِس بار ہم کاشی کو سرپرائز دیں گے "-وہ پھر سے فارم میں آچکا تھا- ناشتہ اُدھر ہی رہ گیا-

"تمہیں تو خیر خود سرپرائز مل گیا”- فارس نے طنزاً کہا تو وہ بنا شرمندہ ہوئے ہنسنے لگا-

"نہیں سیریسلی اِس بار کچھ ڈیفرینٹ ہونا چاہیے”- وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا –

"ہممم میرا بھی یہی خیال ہے "- فارس پُرسوچ انداز میں بولا اُس کا دِماغ کچھ پلانز کر رہا تھا –

"چلو ڈن ہوا ۔۔۔آج حیدر سے مل کہ کچھ فائنل کریں گے "- فرحان نے کہا تو وہ سر ہلاتا ہوا کمرے سے نکل گیا اور ساتھ ہی اُسے جلدی آنے کی تائید بھی کی کیونکہ دیر ہو رہی تھی نو بجے کلاس تھی-

فرحان اُس کے جانے کے بعد جلدی جلدی تیار ہونے لگا-اگر وہ لیٹ ہو جاتا تو فارس نے اُسے چھوڑ جانا تھا- بسوں میں دھکے کھانے سے بہتر تھا کہ وہ ابھی جلدی کر لیتا-وہ چند ہی لمہوں بعد بیگ اور لیپ ٹاپ لے کہ اُس کے پیچھے ہی بھاگا-

              ***************

بارش کے بعد آسمان پر چھوٹی چھوٹی سفید بدلیاں آپس میں اٹھکلیاں کر رہی تھی-نیلے آسمان پر وہ دور سے بلکل روئی کی طرح لگ رہی تھی-ٹھنڈی ٹھنڈی خنک ہوا بھی فضا میں اپنا طلسم بکھیر رہی تھی -فریال کو نیچر ہمیشہ اٹریکٹ کرتی تھی-وہ کافی کا کپ اور موبائل لے کر چھت پر آگئی ایسے موسم اس کی جان تھے وہ دیوانی تھی بارشوں کی… سردیوں میں چھت پر بیٹھ کر کافی پینا میوزک سننا اور ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا- جب سورج غروب ہوتا اور اُس کی نارجی کرنیں چاروں طرف پھیل جاتیں تو ایک عجیب سا فسوں پیدا ہو جاتا وہ حیرت کدوں میں ڈوب جاتی کیا دنیا میں اِس سے خوبصورت منظر کوئی ہو گا وہ اُس کو دیکھتے ہوئے سوچتی- دنیا اور اِس کے رنگ کتنے خوبصورت ہیں انسان کو اپنے طلسم سے باہر انے ہی نہیں دیتے وہ ان رنگینیوں میں کھو کر سب کچھ بھول جاتا- ہر رنگ دوسرے سے ذیادہ خوبصورت اور دلکش ہے -ایک کشش ہے اِن رنگوں میں جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے- بے اختیار یہ سب دیکھ کر خودبخود ہی منہ سے تعریف نکل جاتی ہے اور دیہان یہ سب رنگ بنانے والے کی طرف چلا جاتا- اور انسان کہہ اٹھتا واقعی وہ اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائے گا-

فریال نے کافی کا آخری سپ لیا اور خالی کپ اپنے دائیں جانب رکھ دیا- اُس نے مٹھی میں دبایا کاغز کھولا- اُس پہ لکھے وہ ہندسے اُس کا دل دھڑکانے کے لئے کافی تھے- وہ کیسے بات کرے گی اُس سے کیا کہے گی۔۔۔۔اُس کا دماغ سوچوں کی لہروں کے ساتھ بہت دور تک چلا گیا تھا- وہ کتنی ہی دیر اُس کاغز کو دیکھتی رہی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے-

"فری نیچے آؤ کتنی بار منع کیا کہ شام کے وقت چھت پر نا جایا کرو مگر تم سنتی کب ہو کسی کی۔۔۔۔جلدی آؤ نیچے”- دادی کی آواز بھی کسی صور کی طرح تھی جب مرضی جہاں مرضی آجاتی -اُس نے غصے سے کاغز کو مٹھی میں دبا لیا مگر وہاں سے ہلی نا-

"دادی کو پتہ نہیں کیوں لگتا کہ مجھ پہ کوئی جن وغیرہ عاشق ہو جائے گا۔۔۔اتنی حسین تو میں ہوں نہیں "- وہ بڑبڑائی-

"جس کے عاشق ہونے کی میں منتظر ہوں وہ تو ہوتا نہیں”- اُس نے دل ہی دل میں سوچا-

"آج میں اُس کو فون کروں گی کیا بھی ہو جائے گا آخر ۔۔۔کھا تو نہیں جائے گا مجھے وہ ۔۔۔”- اُس نے دل میں مصمم ارادہ کیا اور گود میں رکھا سیل فون ہاتھ میں لے کر نمبر ڈائل کیا-

"بیل جا رہی تھی دوسری طرف ۔۔۔۔اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔

"ہیلو۔۔۔!”- پانچویں بیل پہ فون اُٹھا لیا گیا تھا – بھاری گھمبیر لہجہ اس کی سماعت سے ٹکراکا۔۔۔فریال کا دل ہلق میں آگیا۔۔۔اُس نے بے ساختہ سینے پہ ہاتھ رکھا-

"جی کون؟ "- دوسری طرف سے مسلسل خاموشی کے بعد دوبارہ پوچھا گیا تھا- آواز، میں شائستگی کا عنصر شامل تھا-

وہ چپ چاپ اپنی دھڑکنوں کا شور سُن رہی تھی –

"اگر بات نہیں کرنی تھی تو فون کیوں کیا؟”- مقابل اب کی بار جنجھلا گیا تھا شاید ۔۔۔

"السلام و علیکم ۔۔۔!”- وہ ساری ہمت مجتمع کر کہ بولی لہجہ اتنا مدھم تھا کہ دوسری طرف بمشکل آواز سنائی دی گئی –

"وعلیکم السلام ۔۔۔۔!اِس طرح فون کر کہ دوسرں کے صبر کا امتحان لینا بیڈ مینرز میں آتا”- آکاش نسوانی آواز پر تھوڑا حیران ہوا تھا-

"سوری۔۔۔۔”- وہ دھیرے سے بولی-

"اٹس اوکے ۔۔۔خیر یہ بتائیں کہ کیوں فون کیا؟  اور کون ہیں آپ؟ "- آکاش نے مطلب کی بات پوچھی-

"مجھے آپ سے بات کرنی ہے "-

"کیوں؟ "- وہ حیران ہوا

"ویسے ہی "-

"ویسے ہی سے کیا مطلب ہے ۔۔۔۔کوئی وجہ تو ہو گی نا؟ "- آکاش اُس کی آواز پر غور کرنے لگا کیا وہ پہلے اِس لڑکی سے بات کر چکا تھا مگر ایسا یاد نہیں آیا تھا- شاید پہلی بار سُن رہا تھا وہ اُس کی آواز…

"مجھے نہیں پتہ.. "- اُس کی مدھم سی آواز آکاش کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ حیران ہوا کان سے فون ہٹا کر ایک دفعہ فون کو گھورا – وہ لڑکی اُسے ابنارمل لگی ناجانے کون تھی-

"تو کس کو پتہ پھر۔۔۔”- اُس نے اب کی بار اپنے لہجے کو زرا سخت بنانے کی کوشش کی-

"اچھا اپنا نام تو بتاؤ۔۔۔؟”- وہ آگے سے کچھ نا بولی تو اُس نے خود ہی پوچھ لیا-

"میرا نام۔۔۔۔”‘ فریال نے ایسے پوچھا جیسے تصدیق چاہ رہی ہو کہ وہ اُسی کا نام پوچھ رہا ہے "-

"نہیں ہے تمہارا کوئی نام؟ "- آکاش کو وہ لڑکی بہت ہی عجیب لگ رہی تھی –

"ہے نا ۔۔۔”-

"تو بتاؤ پھر”- وہ اب کی بار اکتاہٹ سے بولا-

"فریال حسن”- اُس نے پہلا راز بالاآخر اُگل ہی دیا-

"مجھے جانتی ہوں؟ "- وہ متجسس ہوا تھا-

"آپ کا نام پتہ بس۔۔۔”- وہ معصومیت سے بولی-

"کس نے بتایا تھا”- آکاش دوبارہ گویا ہوا-

"میری دوست نے”- وہ بلکل کسی بچے کی طرح رٹے رٹائے مختصر جواب دے رہی تھی –

"نمبر کہاں سے لیا ہے میرا؟ "- آکاش اصل بات پہ آگیا-

"وہ بھی میری دوست نے دیا تھا”- وہ بس اُتنا جواب دے رہی تھی جتنا وہ پوچھ رہا تھا –

"اب اِس مہان دوست کا نام بتانا گوارہ کرو گی”- وہ زچ ہوتا جارہا تھا –

"زونیرہ”- اُس نے پھر اُسی معصومیت سے بتایا-

"اِن محترمہ کو الہام ہوا تھا میرے بارے ميں ۔۔۔۔اتنا کچھ کیسے جانتی ہیں یہ ؟”-

"یہ نہیں مجھے پتہ”- وہ بولی تو آکاش نے اپنے بال مٹھیوں میں جھکڑ لیے۔۔۔۔کس پاگل سے پالا پڑ گیا تھا-

"آپ کو بھی کچھ پتہ ہے یا نہیں؟ "- وہ دانت پیس کر بولا- اگر وہ سامنے ہوتی تو وہ ناجانے کیا کر ڈالتا- وہ بہت کول ٹائپ کا انسان تھا- غصہ اُسے بہت کم آتا تھا مگر اِس وقت وہ کی حدوں کو چھو رہا تھا –

"خیر یہ بتاؤ کہ مجھے فون کس لئے کیا؟ "- اُس نے خود کو ریلکس کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر کچھ دیر پہلے والا سوال دہرایا-

"ویسے ہی”- فریال اُس کی حالت سے شاید انجان تھی-

"دیکھئے محترمہ میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ ویسے ہی لوگوں سے باتیں کرتا رہوں۔۔۔آپ کو سیدھی طرح بات کرنی ہے تو ٹھیک ورنہ خدا حافظ "- وہ اِس وقت پیکنگ کر رہا تھا – کل صبح گھر کے لئے نکلنا تھا- کچھ دیر پہلے اتنا اچھا موڈ تھا مگر اب خراب ہو چکا تھا-

"نہیں نہیں فون مت بند کیجیے گا پلیز”- فریال اچانک گھبرا گئی اصل بات تو کہی نہیں تھی ابھی-

"مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے”-وہ فوراً بولی مبادا وہ فون سچ میں ہی نا بند کر دے-

"بہت شکریہ ۔۔۔۔پلیز یہ، تکلف کریں”- وہ طنزاً بولا-

"ایکچوئلی۔۔۔”- وہ عجیب سی الجھن کا شکار ہونے لگی تھی- سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہے اور کیسے کہے-

"ہاں جی پلیز آگے بھی بولیں”-

"آئی لو یو”- فریال کے منہ سے یہ تین لفظ کیسے نکلے تھے اُسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی- خود اپنے منہ سے یہ سب کہنا بہت عجیب لگا تھا مگر اب کیا ہو سکتا تھا تیر کمان سے نکل چکا تھا اور وہ بھی اصلی نشانے پہ لگا تھا-

دوسری طرف آکاش بلکل ساکت ہو چکا تھا- شاید وہ اتنی بولڈ اور فضول بات ایکسپکٹ نہیں کر رہا تھا -ایک ایسی لڑکی جس کو وہ جانتا تک نہیں تھا کبھی دیکھا نہیں تھا وہ اُس سے اظہارِ محبت کر رہی تھی –

ربیعہ امجد

جاری ہے

پہلی قسط پڑھیئے

جواب چھوڑیں