اصطلاحاتِ غزل : فرہاد احمد فگارؔ

اردو شاعری میں غزل مقبول ترین صنفِ سخن ہے۔اردو میں غزل دیگر اصناف کی طرح عربی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ ناقدینِ ادب اردو قصیدے کی تشبیب کوغزل کی ابتدائی صورت بتاتے ہیں۔ ہماری زبان میں چوں کہ اکثر اصطلاحات عربی سے آئی ہیں اس لیے طالب علموں کے لیے ان اصطلاحات کو سمجھنا آسان نہیں۔ طالب علموں کی ذہنی سطح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چند اصطلاحات کی تعریفیں درج ہیں جو کہ غزل کے مطالعے میں لازم ہیں۔
غزل: غزل کے لغوی معنی اگر دیکھیں تو غزل عورتوں کی گفتگو یا عورتوں کے متعلق گفتگو ہے۔ہرن کو جب شکاری نشانہ لگاتا ہے تو اس وقت اس کے منہ سے جو درد ناک چیخ نکلتی ہے غزل کہلاتی ہے۔اس مناسبت سے غزل وہ صنفِ شعر ہے جس میں حسن و عشق کے قصے خاص انداز سے رقم کیے جائیں کہ ان میں درد و غم کی بھی فضا قائم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اظہار ِ محبت اور تعلقاتِ عشق کے بیان کے لیے غزل سے بہتر کوئی ذریعۂ اظہار نہیں۔وارثی میرٹھی لکھتے ہیں کہ عرب میں غزل نام کا ایک شخص تھا جس کی تمام زندگی عشق بازی میں گزری ۔وہ عاشقانہ اشعار کہتا لہذا ایسے اشعار کو جن میں عشق و محبت کا ذکر ہو غزل کا نام دے دیا گیا۔ میرٹھی مرحوم کی بات میں کس حد تک صداقت ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا تا ہم غزل میں دکھ درد یا عورتوں کا بیان موجود ہے یہ بات اظہر من الشمس ہے۔ اردو زبان میں بڑے نام ور غزل گو پیدا ہوئے جن میں ولیؔدکنی،میر تقی میرؔ،مرزا رفیع سوداؔ،میر دردؔ،ابراہیم ذوقؔ، مومن خان مومنؔ،آتشؔ، امام بخش ناسخؔ، غالبؔ، اقبالؔ، ناصر ؔ کاظمی، فیض احمد فیضؔ، احمد فرازؔ، غلام محمد قاصرؔ، ظفر اقبالؔ،ڈاکٹر افتخار مغل، عباس تابشؔ، ڈاکٹر عابد ؔ سیال،شہباز گردیزی، حسن ؔظہر راجا، ماجد محمود ماجدؔاور قمر عباسؔ وغیرہ۔
؎ میں ترے ہجر کے موسم کو برا کیسے کہوں
ایسا موسم تو مجھے تازہ غزل دیتا ہے (حسن ؔ ظہیر راجا)

مطلع: عربی زبان کا لفظ ہے۔مطلع کا لغوی مطلب طلوع ہونے کی جگہ ہے۔اصطلاح میںغزل یا قصیدے کا ہر پہلا شعر جس میں دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں ’’مطلع ‘‘ کہلائے گا۔مثال کے طور پر:
؎ جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے (حکیم ناصرؔ)
حسنِ مطلع: اکثر شعرا کے ہاں ایک سے زائد مطلعوں کی غزلیات بھی موجود ہیں۔مطلع کے بعد آنے والا دوسرا شعر جس میں مطلعے کی طرح قافیہ و ردیف دونوں مصرعوں میں موجود ہو ’’حسنِ مطلع‘‘کہلاتا ہے۔حسنِ مطلع کے لیے ’’ذیبِ مطلع‘‘ یا ’’مطلعِ ثانی‘‘ کی اصطلاحات بھی مستعمل ہیں۔مثال کے طور :
کل جو رخ عرق فشار یار نے ٹک دکھا دیا
پانی چھڑک کے خواب سے فتنے کو پھر جگا دیا
اس کے شرارِ حسن نے جلوہ جو اک دکھا دیا
طور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا،جلا دیا (نظیر ؔاکبر آبادی)
مقطع: مقطع کا لغوی مطلب ’’قطع کرنا یا بات کاٹ دینا ہے۔شان الحق حقی مرحوم کے مطابق مقطع کا مطلب قطع کرنے کی جگہ ہے،غزل یا قصیدے کا وہ آخری شعر جس میں شاعر کا تخلص آئے۔یہاں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ اکثر لوگ آخری شعر کو مقطع سمجھ بیٹھتے ہیں اس میں تخلص موجود ہو یا نہ ہولیکن جس آخری شعر میں تخلص نہ ہو گا وہ غزل کا آخری شعر تو کہلائے گا مگر مقطع نہیں ہو گا ۔دوسری صورت میں کئی شعرا کے ہاں تخلص آخری شعر سے پہلے استعمال ہوا ملتا ہے وہ مطلعے میں بھی ہو سکتا ہے یا درمیان کے کسی شعر میں بھی تو اس صورت میں بھی وہ بیت تو کہلائے گا مگر اسے مقطع کہنا غلط ہو گا۔ میر ؔ کی غزل کا مقطع دیکھیے:
؎ سرہانے میر ؔ کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا گیا
(درج بالا شعر کے مصرع اولیٰ میں عام طور پر تصرف ’’کوئی نہ بولو‘‘کر کے غلط پڑھا جاتا ہے )
تخلُص: شاعر حضرات اپنی ادبی پہچان کے لیے اکثر اوقات اپنے حقیقی نام کی بہ جائے علاحدہ سے ایک نام رکھ لیتے ہیں۔ یہ نام تخلص کہلاتا ہے۔ تخلص شاعر کے حقیقی نام کا حصہ بھی ہو سکتا ہے اور اس سے ہٹ کر بھی ہوتا ہے۔ مثلاً فیض احمد فیضؔ نے اپنے نام ہی سے تخلص اخذ کیا۔اسی طرح اقبالؔ،غالبؔ، میر ؔ نے بھی حقیقی نام کو بہ طور تخلص استعمال کیا۔لیکن بیشتر شعرانے ایسے تخلص استعمال کیے جو ان کی ایسی پہچان بنے کی لوگ ان کے حقیقی نام بھول گئے۔مثلاً قتیل ؔ شفائی نے اپنے نام اورنگ زیب خاں کو چھوڑ کر تخلص سے شہرت پائی اسی طرح شوکت علی خاں نے فانی ؔبدایونی کے نام سے اپنی پہچان بنائی۔
؎ یاد ہیں غالب ؔتجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں
زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
شاعرانہ تعلی: تعلی عربی میں شیخی ،ڈینگ یا اپنی بڑائی بیان کرنا کہلاتا ہے۔ شاعری کی اصطلاح میں اس کے ساتھ شاعرانہ لگا کر مرکب بنا دیا گیا ہے۔ ’’شاعرانہ تعلی‘‘ سے مراد کسی بھی شاعر کی طرف سے شعری انداز میں اپنی تعریف کرنا یا برتری ظاہر کرنا ہے۔ شاعر جب تخلقی لمحوں میں کوئی تخلیق کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ انا کی اس سرشاری میں جی رہا ہوتا ہے جس کا مرکز و محور صرف شاعر کی ذات ہی ہوتی ہے۔اس لمحے میں اس کے سامنے ایک ایسی منزل ہوتی ہے جس پر پہنچنا دوسرے کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔شاعر جو کچھ سوچتا ہے اسی کو ایک خاص انداز میں لفظیات کا جامہ پہنا کر اپنی فن کاری کا اعتراف کرتا ہے۔ شاعرانہ تعلی میں شاعر اپنی زبان و بیان پر قدرت اور اپنی وجودی قوت کے ساتھ ساتھ اپنی عظمت کا بھی اعتراف کرتا ہے۔وہ اس بات کا بھی اظہار کرتا ہے کہ کوئی اس کا مد مقابل نہیں اور وہ جو کام کر رہا ہے وہ منفرد ہے جسے دوسرا کوئی کرنے سے قاصر ہے۔ مثال کے طور پر فراق ؔ گورکھ پوری کا شعر دیکھیں:
؎ غالب و میر،مصحفی
ہم بھی فراق ؔ کم نہیں
یا کومل ؔجوئیہ کا شعر دیکھیں
؎ شاعری میرا ہنر
جرم تسلیم شدہ

فرہاد احمد فگارؔ

جواب چھوڑیں