"اگر تم لوٹنا چاہو” کے شاعر ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا انٹرویو

"اگر تم لوٹنا چاہو” کے شاعر  ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔سعید اقبال رانا

تفکر – قلمی نام؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔ ڈاکٹر سعید اقبال سعدی

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔22/11/1955 کو شیخوپورہ میں پیدا ہوا اور بعد میں گوجرانوالہ شفٹ ہو گئے

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔ابتدائی تعلیم ایف ایس سی تک شیخوپورہ میں حاصل کی۔

تفکر – اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔ایف ایس سی کے بعد علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا اور یونیورسٹی آف ویانا سے ڈپلومہ ان ڈرمالوجی حاصل کیا

تفکر -پیشہ؟ 

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔ڈاکٹری،سکن سپیشلسٹ

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔ادبی سفر کا آغاز میں نے سکول کے زمانے سے ہی کر دیا تھا۔سکول میں بزم ادب کا ہفتہ وار پیریڈ ہوا کرتا تھا جس میں طلبہ اپنی تخلیقات اور دوسروں کی بھی سنایا کرتے تھے۔اسی زمانے میں یہ شوق پروان چڑھا۔ان دنوں میں اپنی تخلیقات بچوں کے رسائل اور اخبارات میں بچوں کے ایڈیشن کو بھیجنا شروع کیں۔وہ چھپنے لگیں تو شوق کو پر لگ گئے۔کالج کے زمانے میں احمد عقیل روبی صاحب ہمارے اردو کے پروفیسر تھے پروفیسر صدیق شاہد ہمیں لیکچر دیا کرتے تھے۔یہ دونوں بہت ادب پرور اور ادبی بڑی شخصیات تھیں۔انہوں نے ہمارے شوق کو مہمیز لگائی اور یہ سلسلہ چلنے لگا۔کالج کے میگزین میں غزلیں چھپی تو خوشی سے نیند نہیں آئی۔علامہ اقبال میڈیکل کالج کے سالانہ میگزین "شاہین”کا پہلا اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوا مگر سیاسی حالات کی وجہ سے شاہین شائع نہ ہوسکا۔ مگر اس کے بعد ہر سال اسی میگزین میں میری تخلیقات شائع ہوتی رہیں۔اسی اثنا میں میں نے ادبی رسائل اور ادبی صفحات کے لیے تخلیقات اخبارات کو بھیجنا شروع کر دی جو چھپنے لگی۔انٹر کالجیٹ مشاعروں میں شرکت شروع کر دی تھی لہٰذا یہ شوق ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اب تک زور و شور سے جاری ہے۔

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔طالب علمی کے دور میں تو میں اپنے اساتذہ احمد عقیل روبی،جناب حفیظ طاہر اور جناب اسلم کولسری سے متاثر تھا اور ان کی رہنمائی میں ادبی سفر جاری رکھے ہوئے تھا۔بعد میں احمد فراز،ڈاکٹر انعام الحق جاوید،محسن احسان سے بہت متاثر ہوا۔مزاح نگاری میں میرے استاد ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہیں۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔غزل ہائیکو اور قطعات

تفکر -شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میری سات شعری تخلیقات چھپ چکی ہیں۔

1: "لغزش پا” غزلیات 1986

2: "تہی دامن” ہائیکو 1987

3: "امراض جلد اور توہمات (کتابچہ) 1989

4: "امراض مخصوصہ اور نوجوان” (کتابچہ) 1990

5: "امراض جلد سے بچاؤ” (کتابچہ) 1991

6: "ایک شعر کی تلاش میں”  ایک ہی بحر میں پورا مجموعہ کلام 1993

7: "قلاب اور طرح کے” غزلیات 1995

8: "کشمکش” ایک ہی بحر میں پورا مجموعہ کلام 1997

9: "سمندر ہوں محبت ہوں” غزلیات 1999

10: "اگر تم لوٹنا چاہو” غزلیات 2003

مسیحائی  نعتیہ کلام زیر ترتیب

مزاحیہ کلام زیر ترتیب

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میرا تعلق راجپوت خاندان سے ہے۔ہمارے بزرگ 1947 میں ہوشیار پور سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔میرے بہت سے رشتہ دار بزرگ اس وقت سکھوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔شادی شدہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔1987 میں میری شادی ڈاکٹر نائلہ سعید سے ہوئی۔میں سکن سپیشلسٹ اور بیگم صاحبہ گائنالوجسٹ ہے۔نہایت مثالی اور آئیڈیل خاتون ہیں۔ہمارے چار بچے ہیں۔بڑی بیٹی نے سی ایس ایس کیا ہے۔اور آج کل انکم ٹیکس ڈیپارمنٹ میں اسسٹنٹ کمشنر کی تربیت لے رہی ہے۔بیٹا ایم ار سی پی کر رہا ہے۔ہارٹ سپشلشٹ بن رہا ہے۔چھوٹی بیٹی ایوے سینا میڈیکل کالج میں تھرڈ ایئر کی طالبہ ہے اور چھوٹا بیٹا پری انجینئرنگ کر رہا ہے۔بچوں کی کامیابی میں اللہ تعالٰی کا کرم اور بیگم کی توجہ کا عمل دخل زیادہ ہے میرا کوئی کردار نہیں۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میں گوجرانوالہ میں اپنا کلینک چلا رہا ہوں۔

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میں بچپن میں بہت شرارتی ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ بکرا عید پر بکرا قربانی کے لیے خریدا تو اسے یونہی ڈرانے کے لیے اسی کے انداز میں اسے ٹکر مارنے کا ڈرامہ کرنے لگا۔پھر اس نے ایک بار ٹکر ماری جو اس کا تو ڈرامہ نہیں تھا لہٰذا مجھے ماتھے پر اچھی خاصی چوٹ آئی مگر شکر ہے عید کچھ دن بعد تھی اور تب تک میری شکل ٹھیک ہو گئی تھی۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میرے نزدیک خوبصورت واقعہ یہ ہے کہ میں نے اکیسویں صدی کے اوائل ہی میں ایک ماہنامہ محمود کے نام سے نکالنے کا پروگرام بنایا اور اس کی ساری تیاری بھی کر لی۔شہزاد احمد صاحب میرے بہت مہربان دوست تھے انہوں نے جوش صاحب کو کسی وقت بتایا کہ میں پرچہ نکال رہا ہوں تو جناب اے جی جوش نے مجھے کہا کہ میرا ‘ادب دوست’ بھی تو تمہارا پرچہ ہے اس میں ایڈیٹر بن کر اپنا شوق پورا کر لو۔وہاں اسلم کولری صاحب اس وقت تشریف فرما تھے وہ میرے استاد بھی تھے انہوں نے جوش صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی تو میں راضی ہو گیا۔اس دن کے بعد سے ‘ادب دوست’ میں بطور مدیر مسئول میرا نام آرہا ہے۔جوش صاحب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن جس محبت سے ان کے صاحبزادوں نے جوش صاحب کے لگائے ہوئے پودوں کی آبیاری کی ہے اور کر رہے ہیں ایسا کوئی خوش قسمت والد ہی ہو سکتا ہے۔ورنہ میں نے دیکھا ہے کہ ادھر کسی کی آنکھیں بند ہوئیں اور ادھر پرچہ بند۔نہ رہا ادب اور نہ رہی ادب سے محبت۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔یہ مختلف اصناف میں مختلف ہیں مثلاََ ناول نگاروں میں مجھے عبد اللہ حسین،انتظار حسین،اشفاق احمد،بانو قدسیہ،رضیہ بٹ پسند ہیں۔میں نے ان سب کو پڑھا ہے۔سفر نامہ نگاروں میں مجھے سب سے زیادہ مستنصر حسین تارڑ پسند ہیں۔جناب عطا الحق قاسمی بہت خوبصورت سفر نامہ نگاری کرتے ہیں۔سوانح عمری لکھنے والوں میں مجھے امریتا پریم۔ان کی رسیدی ٹکٹ،کشور ناہید کی بری عورت کی کتھا،جاوید شاہین کا ماہ و سال مجھے بہت پسند آئے تھے۔امان دانش کی بیان دانش،جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔مزاح نگاروں میں انور مسعود،دلاور،شاہد سرفراز،ڈاکٹر انعام الحق جاوید،گل نوخیز اختر،ڈاکٹر یونس بٹ،مشتاق یوسفی،ڈاکٹر محسن کو میں نے بہت دلچسپی سے پڑھا ہے۔آج کل نیلم احمد بشیر بہت دلکش لکھ رہی ہیں۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میں تو ‘ادب دوست’ کا مدیر مسئول ہوں۔کسی وقت میں روزنامہ جنگ کے ‘جنگ کلینک’ سلسلے کے لیے درجنوں مضامین لکھا کرتا تھا۔روزنامہ امروز کے میگزین میں کئی سال رنگین مضامین ہر ہفتے چھپتے رہے ہیں۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔جی ہاں،بہت زیادہ۔بہت سے نام نہاد بڑے نام نئے لوگوں کو آنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن ارتقا بھی کبھی رکا ہے۔ٹانگیں کھینچنے والے ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں۔میں بھی اس صورت حال کا شکار رہا ہوں۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔حکومت کی ہمیشہ سے ایک ہی پالیسی آرہی ہے کہ اپنوں میں ریوڑیاں بانٹو اور موج کرو۔منوپلی بنائے رکھو۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میں نا چیز کیا پیغام دوں گا مگر اپنے جونیئر اور نئے آنے والوں کے لیے پیغام ہے کہ دل لگا کر محنت کریں۔ادب میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔جتنی محنت کرو گے اتنا پھل ملے گا۔اگر چور دروازے سے آنے کی کوشش کرو گے تو پھر ادبی زندگی بہت جلدی ختم ہو جائے گی۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔بہت قابل تعریف اقدام ہے لوگوں میں میل جول بڑھانے اور ان کے خیالات کو آگے پہچانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کے اس کام اور کاوش میں اپنی رحمت خاص معاونت فرمائے۔اور اس کو آگے بڑھانے کی توفیق دے۔ایسی محنت کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

 ڈاکٹر سعید اقبال سعدی۔۔میرا ایک شعر ایف ایس سی کے نصاب میں تشریح کے لیے پڑھایا جاتا ہے۔

تم آتش نمرود سے واقف نہیں سعدی

اس آگ میں کھلتے ہیں گلاب اور طرح کے

جواب چھوڑیں