"خودکش بمبار کے تعاقب میں” رائٹر سید بدر سعید کا انٹرویو

"خودکش بمبار کے تعاقب میں” رائٹر سید بدر سعید کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

سید بدر سعید۔۔سید بدر سعید

تفکر – قلمی نام؟

سید بدر سعید۔۔قلم بزرگوں سے وراثت میں ملا تھا سو قلمی نام بھی وہی ہے جو دادا حضور نے رکھا تھا ، سید بدر سعید

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

سید بدر سعید۔۔1988 میں لاہور میں پیدا ہوا اور نعرہ لگایا کہ جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں

تفکر -تعلیمی قابلیت؟

سید بدر سعید۔۔ایم فل ماس کمیونی کیشن مینجمنٹ

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

سید بدر سعید۔۔ایم سی جونیئر ماڈل پرائمری سکول،اسلامیہ پارک سے کہ اس سے دور جاتا تو یقینا کہیں کھو جاتا

تفکر – اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

سید بدر سعید۔۔ایف سی کالج سے بی ایس آرنرز کی ڈگری لی اور سپیریئر یونی ورسٹی سے ایم فل

تفکر -پیشہ؟ 

سید بدر سعید۔۔صحافت

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

سید بدر سعید۔۔6 ماہ کی عمر میں گھر آنے والا اخبار پھاڑنے کا شغل اختیار کیا تھا،تب گھر دو اخبار آتے تھے ایک پڑھنے کے لئے اور دوسرا میرے شغل کے لئے ۔باقاعدہ لکھنے کا آغاز 2006 میں کیا تب سب کو خیال آیا کہ میں 6 ماہ کی عمر میں  اخبار شہید کرنے کی بجائے پڑھنے کی کوشش کیا کرتا تھا

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

سید بدر سعید۔۔مجید امجد اور ابن انشا

تفکر -کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟

سید بدر سعید۔۔مرشدی عباس تابش ۔غالبا دو دن بعد وہ عالمی مشاعرے میں شرکت کے لئے پاکستان سے چلے گئے اور میں اپنی دنیا میں لوٹ گیا

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

سید بدر سعید۔۔لکھنے میں نثر،پڑھنے میں بارہ مسالحوں کی چاٹ،یعنی جو بھی میسر ہو

تفکر -ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

سید بدر سعید۔۔نثر

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

سید بدر سعید۔۔اب تک بالترتیب یہ دو کتب شائع ہو چکی ہیں
خودکش بمبار کے تعاقب میں( حکومت پنجاب ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے لائبریریز اور کالجز کے لئے منظور شدہ )
صحافت کی مختصر تاریخ ،قوانین و ضابطہ اخلاق
جبکہ تین کتب پائپ لائن میں ہیں جن میں سے "جرائم کی دنیا ” کے عنوان سے کرائم سٹوریز کا مجموعہ اگلے دو ماہ میں شائع ہو گا،اس کے بعد "عنایت اللہ ۔ پاکستانی ادب میں کرائم فکشن کے بنیاد گزار” اور آن لائن جرنلزم منظر عام پر آئیں گی

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

سید بدر سعید۔۔خاندان میں میرے سوا سبھی قابل اور کامیاب لوگ ہیں،دادا مرحوم عالم دین تھے۔مسجد میں فی سبیل اللہ بچوں کو قرآن حفظ کراتے تھےجبکہ سول سروس میں ہونے کی وجہ سے گزر بسرتنخواہ پر ہوتی تھی۔تایا مرحوم ایڈیشنل سیکرٹری کی پوسٹ پر دوران سروس وفات پا گئے۔پھوپھا جی حال ہی میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں،اچا جی سعودی عرب میں بطور ڈاکٹر شاہی خاندان کے معالج رہے۔بچوں کے معروف ادیب سید نظر زیدی مرحوم میرے انکل ہیں۔بچپن میں ان سے بہت متاثر رہا اور لکھنے کی جانب مائل ہوا ہمارا گھرانہ علمی و ادبی   پہچان کے ساتھ ساتھ مذہبی اقدار کے حوالے سے علاقہ میں عزت پاتا ہے۔میرے بھائی اور مجھ سمیت چاچو ، پھوپھا،پھوپھو سمیت لگ بھگ ہر گھر میں حافظ قرآن بچے موجود ہیں،میرے کزنز کی اکثریت بالکل اسی طرح حافظ قرآن ہے جیسے میرے والد محترم کے بھائیوں اور کزنز کی اکثریت نے قرآن حفظ کیا تھا

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

سید بدر سعید۔۔ازلی کنوارہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

سید بدر سعید۔۔والد محترم سول سروس سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں۔مجھے سے چھوٹے تین بھائی ہیں،صبح گھر سے نکلتے وقت  والدہ اور دادی کی دعائوں کا حصار مجھے بھی کامیابیاں دلاتا رہتا ہے

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

سید بدر سعید۔۔والد محترم کی سروس تک سرکاری گھر کا مکین رہا،اب جوڈیشل کالونی میں رہائش پذیر ہیں

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

سید بدر سعید۔۔بچپن کی کوئی بدصورت یاد تو ہے ہی نہیں لہذا ہر یاد بہت خوبصورت ہے۔میرا بچپن معصومیت سے بھرپور رہا

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

سید بدر سعید۔۔بہت سارے ہیں،کسی ایک کا نام لینا ممکن نہیں ہے

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

سید بدر سعید۔۔ ماہنامہ حکایت،نوائے وقت،روزنامہ دنیا،روزنامہ جناح،چینل فائیو سمیت دیگر اداروں میں تو ملازمت بھی کرتا رہا ہوں،اس کے علاوہ بچوں اور بڑوں کے درجنوں رسائل میں لکھتا رہا ہوں،روزنامہ نئی بات میں ہفتہ وار کالم لکھ رہا ہوں۔میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز ماہنامہ چاند اور ماہنامہ آداب عرض سے کیا تھا اور یہیں سے پہلی ادبی پہچان ملی

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

سید بدر سعید۔۔ایک زمانے میں تو یار دوستوں نے باقاعدہ میرے قتل کا ایس ایم ایس تک چلا دیا تھا،بہرحال مخالفت مزید اونچا اڑنے کا سبق سکھاتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہوا کا دباؤ زیادہ ہو تو پائیلٹ اپنے جہاز کو مزید بلندی پر لے جاتا ہے

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

سید بدر سعید۔۔مطمئن تو نہیں لیکن شکرگزار ضرور ہوں کہ یہ جو کبھی کبھار کوئی فیسٹیول نظر آ جاتا ہے اگر یہ بھی نہ ہوتا تو ہم کیا بگاڑ لیتے۔میرے خیال میں قدرت اللہ شہاب کی طرح ان ادیبوں کو مل کر پھر ایک رائیٹر گلڈ بنانی ہو گی جو سرکاری عہدوں پر فائز ہیں تاکہ سرکاری پالیسی کو اسی بہانے بہتر کیا جا سکے

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

سید بدر سعید۔۔اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ،لہذا اردو کو باعث فخر سمجھیں

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

سید بدر سعید۔۔تفکر نے جس طرح اردو ادب کو زندہ رکھا ہے اور جس طرح شاعروں ادیبوں کو ان کی شناخت فراہم کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کر رہی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔یہ وہ کام ہے جس کا صلہ شاید کچھ بھی نہیں لیکن مشکلات اور مسائل بے پناہ ہیں۔میں اس سفر میں نہ صرف آپ کے ساتھ ہوں بلکہ مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں۔اب ہمیں بے بنیاد گروہ بندیوں سے نکل کر عملی کام کرنا ہی ہو گا

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

سید بدر سعید۔۔

نثر پارہ

میں نے مورچے میں بیٹھے سپاہی سے کہا..
تم کتنا کما لیتے ہو…؟
اس نے حیرت سےمجھے دیکھا اور بولا …
صاحب کیا میں یہاں ہتھیار تھامے کمائی کرنے بیٹھا
ہوں…؟
سنو…! میرا دادا سپاہی تھا اور دشمن سے لڑتا ھوا مارا گیا۔ میرا باپ بھی سپاہی تھا اور ایک دن اس کی بھی لاش گھر آ گئی ۔ اب میں نے یہ مورچہ سنبھال لیا ہے۔۔
ایک دن کوئی گولی اس مورچے کو میرے خون سے سرخ کرے گی اور پھر میرا بیٹا یہاں آ کر میری جگہ سنبھال لے گا۔
صاحب…!
ہم وطن کے لیے سر کٹانے آتے ہیں دھندہ کرنے نہیں ۔
دھندا کرنے والے تو ووٹ کی بھیک مانگا کرتے ہیں ۔ ۔
ان سے پہلے یہ کام ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی یہی کرے گی۔ ۔ ۔
ہم نے کام بانٹ رکھا ہے۔وہ تخت پر بیٹھتے ہیں اور ہم مورچے میں۔
یہ نسلوں کے سودے ہیں…
سپاہی دم لینے کو رکا اور پھر کچھ سوچ کر تلخی سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا…
صاحب نیچے ہو کر بیٹھو کہیں میرے نام کی کوئی گولی تمہیں اپنا شکار نہ سمجھ لے ۔
ابھی تو تم نے جا کر یہ بھی سوچنا ہے کہ شہید کون ہوتا ہے۔ ۔ ۔
سوچنے کا ٹھیکہ جو لے رکھا ہے تم لوگوں نے۔ ۔
ہماری تین نسلیں مورچوں میں ماری گئی ہیں اور تم مہنگی گاڑیوں والے آج تک یہی نہیں سوچ سکے کہ شہید کون ہوتا ہے(سید بدر سعید)

شعر
فیس بک سے باہر بھی بات کیجئے گا
لاہور آئیے تو ملاقات کیجئے گا

جواب چھوڑیں