جہیز ایک لعنت ہے ازسماءچودھری

جہیز ایک لعنت ہے از سماءچودھری

تلخی سفاکی اور حقیقت سے آگاہی شرط ہے

آج ہمارا معاشرہ طرح طرح کی برائیوں کی آماجگاہ بنتا جارہاہے اور اگر یہ کہا جائے کہ بن چُکا ہے تو بات کچھ غلط نہ ہوگی. ان برائیوں کی وجہ سے امن وسکون ،انسانیت ، رواداری ، انسان دوستی ، آپسی الفت و محبت اور بھائی چارگی کی لازوال دولت رخصت ہوچُکی ہے۔ آج ہمارے سماج کو جن داخلی برائیوں کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ان میں سب سے بڑی ”جہیز کی لعنت“ بھی ہے۔ جہیز ایک خطرناک کیڑے اور ناسور کی طرح بڑی تیزی کے ساتھ ہماری سماجی زندگی کی ہڈیوں کو گھلاتاجارہاہے۔ جس کا ہمیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔ رسمِ جہیز نے اپنے ساتھ سماجی تباہ کاری وبربادی کا جو نہ تھمنے والا طوفان برپا کیاہے ، اس نے بر صغیر ہندو پاک کے معاشرہ کا جنازہ نکال کر رکھ دیاہے۔آج ہماری سوسائٹی جہیز کی وجہ سے جن مصیبتوں میں گرفتار ہوتی جارہی ہے، وہ زندگی کے ہر پہلو پہ اثر انداز ہو رہے ہیں اور ہمارا معاشرہ اتنی بُری طرح اس لعنت کی زد میں ہے کہ ہزاروں بچیاں اپنے والدین کی چوکھٹ پہ ہی دم توڑ دیتی ہیں سماج کے طعنے کہاں جینے دیتے ہیں کہاں کوئی اپنے گھر کی ہو پاتی ہے اس سماج میں اگر چلتا ہے تو روپیہ پیسہ زندگی ہے تو امیر کی سہولت ہے تو امیر کو غریب کی کیا زندگی ،کیا عزت ، کیا دولت اور کیا جمع پونجی،
المیہ یہ ہے کہ لڑکی والوں کو اپنا سر بھی نچا رکھنا ہے اور لڑکے والوں کی ہر ناجائز فرمائش بھی پوری کرنی ہے تو بھی وہ سر نہیں اُٹھا سکتے وجہ؟ کیوں کہ لڑکی والے ہیں۔۔۔۔!
اور اگر لڑکے والوں کی فرمائش پہ لڑکی اپنی حیثیت سے زیادہ جہیز لاتی ہے تو لڑکی کے ماں باپ اپنا چین و سکون برباد کرلیتے ہیں دن رات اپنی ساری جمع پونجی کو لگانے میں کہ بیٹی پہ حرف سوال نہ اٹھائے کوئی
کہ کیا دیا تیرے والدین نے ؟
اور اگر ایسا نہ ہو تو طعنہ بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے لڑکی کا سانس لینا محال ہوجاتا ہے اکثر اوقات تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور نوبت طلاق تک آجاتی ہے
اگر لڑکی والے طاقتور ہیں تو پھر مقدمہ بازی کا ایک لامحدود سلسلہ شروع ہوجاتاہے جس میں بسا اوقات کتنے ہی گھر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔مگر لوگوں کا لالچ نہیں جاتا مال روپیہ پیسہ کی ہوس لاعلاج بیماری ہے لیکن اسکا احساس تب ہوگا جب اندھیری قبر میں سوال و جواب ہوں گے یہ جہیز کی لعنت اور جمع کیا مال قبر میں لے کر جاو گے تب؟
ہمارے معاشرے میں رشتہ خاندانوں کے ملنے اچھے رسم و رواج اسلامی روایت پہ ہوتا ہے مگر افسوس تر افسوس اب رشتے جہیز پہ ہوتے ہیں کون ذیادہ دیتا ہے وہاں رشتہ کرنا ہے تاکہ واہ واہ ہوجائے ہماری بھائی بڑے گھر کی لڑکی ہے سامان بہت آئے گا
اسی چکر میں بہتوں کے گھر کی بیٹیاں اپنے گھر کی نہیں ہو پاتی۔۔۔۔!
نکاح سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے مگر معاشرے میں ایک نیا سلسلہ کاروبار کی شکل میں سامنے آیا ہے کہ جتنا ہو جہیز ملے ہم کو ۔۔
کوئی مسلمان اس طرح کا مطالبہ نہیں کر سکتا اگر وہ نکاح کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے طور پہ پورا کرئے نہ کہ کاروبار سمجھ کے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہمارے نبی محبوب دونوں جہاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنه کو جہیز دیا تو یہ بات سراسر غلط ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو چار چیزیں عنایت فرمائی تھیں، جیساکہ صحیح احادیث میں ہے ﴿اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمَّا زَوَّجَ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَہَا بِخَمِیْلَةٍ وَ وِسَادَةٍ مِنْ أدَمٍ حَشْوُہَا لِیْفٌ وَ رَحَیَیْنِ وَسِقَاءً وَجَرَّتَیْنِ﴾(مسند احمد، الحاکم، والنسائی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت فاطمہ کانکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی چادر ، چمڑے کا تکیہ جس کے اندر کھجور کی چھال بھری تھی، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو چھوٹے گھڑے۔ جہاں تک معاملہ اس کے سنت ہونے کا ہے تو کسی طورپر اسے سنت کہنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں حضرت رقیہ اور ام کلثوم کو حضرت عثمان کے نکاح میں دیاتھا اور ان دونوں کو کوئی جہیز دینااحادیث میں وارد نہیں ہے؛ البتہ حضرت خدیجہ کا ہار حضرت ز ینب کودینا احادیث میں آتا ہے، اگر جہیز دینا سنت ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیٹیوں کوبلاتفریق جہیز سے نوازتے۔ حضرت علی کے نکاح کے وقت نہ آپ کا اپنا کوئی ذاتی گھر تھا اور نہ ہی کوئی سازو سامان ۔جب آپ کے نکاح کی خبر حضرت حارث بن نعمان نے سنی تو بخوشی اپنی سعادت سمجھتے ہوئے، اپنا ایک گھر حضرت علی کو رہنے کے لیے پیش کردیا۔ حضرت علی اور فاطمہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے۔ عبد اللہ بن عباس، حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کا نکاح فرمایا تومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یارسول اللہ!مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ھل عندک شیء تعطیھا؟ اسے مہر میں دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ ہے۔ میں نے عرض کیا: جی نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیاکہ میرے پاس ہے، تو فرمایا وہ اسے مہر میں دے دو (رواہ احمد، ابوداود ، بیہقی) حضرت علی  نے اپنی زرہ حضرت عثمان سے۴۸۰ درہم میں فروخت کردی اور جاتے وقت حضرت عثمان  نے وہ زرہ حضرت علی  کو ازراہِ محبت تحفے میں مرحمت کردی۔ اسی زرہ کے پیسے سے حضرت فاطمہ  کے گھر گرہستی کا سامان خریدا اور حضرت عائشہ اور ام سلمہ  کو حکم دیاکہ حضرت علی اور فاطمہ  کے ساتھ ان کے گھر تک جاوٴ۔ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ سارے سامان حضرت علی کے پیسے سے خریدے گئے تھے، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو جہیز میں دیاتھا اس کو جہیزلینے اور دینے کے لیے کسی طرح حجت نہیں بنایا جاسکتاہے ۔جولوگ داماد اور اس کے گھر والوں کو بغیرمطالبہ کے اپنی استطاعت کے مطابق بیٹی کو جو سامان دیتے ہیں وہ تحفہ اور ہدیہ ہے ۔ مہرکے ساتھ جہیز میں دیے گئے تمام سامان کی مالک لڑکی ہے،اسے بلاشرکت غیر تصرف کا حق ہے۔
بشرطیکہ لڑکی والے خود تحفہ کے طور پہ دیں مانگ کر لینا بھکاری ہونے کی نشانی ہے
مسلمانوں میں جو لوگ بااثر ، دین دار اور قومی جذبہ رکھنے والے ہیں انھیں حتمی طور پر اس جہیزکی لعنت کے خلاف صف آرا ہونا پڑے گا اور خصوصاً نوجوانوں کو اس راہ میں قربانی دینی پڑے گی کیوں کہ کل وہ بھی ایک بیٹی کے باپ ہوں گےاور ان حالات سے جہیز کی لعنت کا شکار ہوں گے تو مل کر جہیز خوروں کومانگ سے روکنا پڑے گا؛ تاکہ بہت ساری دوشیزائیں بن بیاہی اپنے والدین کے کمزور کاندھوں پر بوجھ بن کر بیٹھی نہ رہ جائیں ، آ ئیے ہم سب اس لعنت سے توبہ کریں اور اپنے گھر کو نمونہ عمل بنائیں! و ما علینا الاّ البلاغ
تحریر سماءچودھری

Leave your vote

1 point
Upvote Downvote

Total votes: 1

Upvotes: 1

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…