"تو جب میرے گھر آیا تھا” از ناصر کاظمی

تو جب میرے گھر آیا تھا 

تو جب میرے گھر آیا تھا
میں اک سپنا دیکھ رہا تھا

تیرے بالوں کی خوشبو سے
سارا آنگن مہک رہا تھا

چاند کی دھیمی دھیمی ضو میں
سانولا مکھڑا لو دیتا تھا

تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی
میں بھی کچھ کچھ جاگ رہا تھا

میرے ہاتھ بھی سلگ رہے تھے
تیرا ماتھا بھی جلتا تھا

دو روحوں کا پیاسا بادل
گرج گرج کر برس رہا تھا

دو یادوں کا چڑھتا دریا
ایک ہی ساگر میں گرتا تھا

دل کی کہانی کہتے کہتے
رات کا آنچل بھیگ چلا تھا

رات گئے سویا تھا لیکن
تجھ سے پہلے جاگ اٹھا تھا

ناصر کاظمی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…