زنگ آلود سوچ – فاطمہ عبدالخالق

جب معاشرے کی سوچ زنگ آلود ہونے لگے تو معاشرہ بیمار پڑنے لگتا ہے، اور بیمار معاشرہ کسی بھی وقت موت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔مقام افسوس ہے کہ آج کل ہماری سوچیں اس قدر زنگ آلود ہو چکی ہیں کہ ہمیں برائی بھی برائی نہیں لگتی ہے، نتیجتا ہمارا معاشرہ اکھڑی ہوئی سانسیں لے رہا ہے اور اس کا مرض کم ہونے کی بجایے دن بہ دن بڑھتا چلا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کے نوجوان ہی اس کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن جب نوجوان ہی بگاڑ کا باعث بن جائیں؟ سرمایہ ہی زنگ آلود ہو تو کیسے ممکن ہے آپ اس سے کوئی نفع حاصل کر سکیں؟ مجھے بچپن کا زمانہ یاد آتا ہے جب ایسی وبائیں عام نہیں تھیں ۔ہم سارے بچے مل کر آدھی آدھی رات تک گلیوں میں کھیلا کرتے تھے سب بہنوں بیٹیوں کی قدر سے بخوبی واقف تھی مگر اب لوگ بہت بدل چکے ہیں کسی کو کسی دوسرے کی عزت کی کوئی پروا نہیں، چند دن پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا پہ ایک گروپ میں کسی نے پوسٹ کی ایک گرل فرینڈ چاہئیے؟ میں نے ان صاحب کو زرا شرم دلانے ہو کہہ دیا کہ پہلے گھر کی عورتوں کے لئے تو انتظام کر لیجئے؟ محترم غصے سے لال پیلے ہو کر اول فول بکنے لگے۔کتنی عجیب سی بات لگتی ہے ایک طرف تو آپ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں دوسری طرف آپ سرعام دعوت گناہ دیتے ہیں۔۔

کیا یہ اسلام کی تعلیم نہیں کہ جو اپنے لئے پسند ہو وہی دوسرے کے لئے پسند ہو؟ پھر آپ جو دوسروں کی خواتین کے لئے پسند کرتے ہیں وہی اپنے گھر کی خواتین کے لئے کیوں پسند نہیں کرتے؟ کیا ہمارا مذہب یہ نہیں کہتا کہ عورت کی عزت کرو؟ خواہ وہ اچھی ہو یا بری؟ کیا ہمارا دین یہ نہیں کہتا کہ اگر تم اپنی عورتوں کا پاک رکھنا چاہتے ہو تو خود کو پاک رکھو؟ سوشل میڈیا ہو یا لوگوں کی عام گفتگو، اکثریت کے الفاظ میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا ذکر ہوتا ہے،مجھے حیرت ہوتی ہے ایسی لڑکیوں پر، جو اپنے لئے یہ لفظ سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ایک غلاظت میں لپٹا ہوا لفظ جسے ہمارا معاشرہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اب ٹرینڈ بنتا جا رہا ہے، اکثر ایسی لڑکیوں پہ حیرانی ہوتی جن کی گفتگو کا پہلا فقرہ ہی یہی ہوتا ہے، کیا آپ کا کوئی بوائے فرینڈ ہے؟ حیرت ہوتی ہے ایسے لڑکوں پر جو دوسروں کے لئے آسانی سے گرل فرینڈ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ،جبکہ یہی لفظ انہیں ان کی بہن بیٹی کے لئے گالی لگتا ہے۔۔ایک اسلام نامی دین ہے جسے سبھی جانتے ہیں لیکن عمل کون کرے؟ بھئی اب جدید زمانہ ہے بیک ورڈ کون بنے؟ کیا آپ نے کبھی بیک ورڈ کی ڈیفینیشن سنی ہے؟ بیک ورڈ مطلب پرانا دور۔۔۔۔۔۔۔ وہی زمانہ جو اسلام سے قبل کا زمانہ تھا وہ بیک ورڈ زمانہ تھا۔۔۔ جب بے حیائی اور برائی عام تھی لیکن پھر اسلام آیا اس نے لوگوں کو جدیدیت عطا کی اور مسلمانوں نے اس جدیدیت کی رسی کوتھاما اور عروج کی منزلیں طے کرتے ہوئے چھا گئے، اور آج بھی وہی دور جیسے واپس لوٹ آیا ہے۔ بالکل اسی طرح بے حیائی اور برائی عام ہو رہی ہے اس پہ عمل کرنے والے ہی بیک ورڈ ہیں جبکہ اللہ کی رسی کو تھامنے والے ہی جدید تھے، ہیں اور رہیں گے ان شاء اللہ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کی بیماری کا سب سے بڑا سبب کون ہے؟

دورجدید کے والدین کی ناقص پرورش اور آزاد میڈیا۔۔۔۔ خصوصا انڈین ڈراموں نے ماوں کو ایسا بنا دیا کہ وہ اولاد کی اچھی پرورش کرنے مین ناکام ہو رہی ہیں۔۔۔۔ مجھے ترس آتا ہے ایسی ماوں پر جو اپنی اولاد کی پرورش کے حوالے غفلت کا شکار ہیں۔ مجھے آنے والی نسلوں پہ ترس آتا ہے کہ وہ بیمار ذہن لوگوں کے زیر تربیت پرورش پائیں گے، مجھے ترس آتا معاشرے کے لوگوں پہ جو اسلام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔مجھے خوف آتا ہے اس وقت سے جب مسلمان پستی میں گر جائیں گے اور پھر سے کفار کی غلامی کا شکار بنیں گے۔اے میری قوم کے نوجوانو! خدارا اپنا اصل مقام پہچانو، تم کیا ہو تمہیں کیا بننا تھا، لیکن تم کس طرف کو رخ موڑے ہوئے ہو؟ ایک غلط سمت میں جو تمہاری ہے ہی نہیں، کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی غلط سمت میں چلتا رہے اور درست منزل پہ بھی پہنچ جائے؟ نہیں نا؟ تو پھر آپ کیسے منزل پہ پہنچ سکتے ہیں پہلا رستہ تو درست کر لیں تاکہ آپ کی محنت اور مشقت کا زیاں نہ ہو۔مجھے امید ہے میرے ساتھ، معاشرے میں پھیلی برائیوں سے بغاوت کرنے کے لئے، کوئی نا کوئی ضرور اٹھے گا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا ان شاء اللہ۔ کیونکہ میں اسی آس پہ لکھتی ہوں کہ شاید کسی کے دل پہ میرے الفاظ اثر کر جائیں جس کے نتیجے میں معاشرے کو ایک اچھا انسان مل جائے تو سوچیں آج سے کوشش کس نے کرنی ہے؟ کیونکہ معاشرے کی بیماری دور کرنے کی دوا آپ ہی کے پاس ہے، آپ ہی اس قوم کے مسیحا ہیں جی ہاں نوجوانو! یہ آپ ہی ہو جو معاشرے کے درد کی دوا ہو۔۔

فاطمہ عبدالخالق

 

جواب چھوڑیں