چھوٹا نہ واں تغافل اُس اپنے مہرباں کا اور کام کر چکا یاں یہ اضطراب جاں کا اُٹھت…

چھوٹا نہ واں تغافل اُس اپنے مہرباں کا
اور کام کر چکا یاں یہ اضطراب جاں کا

اُٹھتے ہی دل جگر میں کیا آگ سی لگا دی
خانہ خراب ہووے اس نالہ و فغاں کا

وے دن گئے جو گلشن تھا بود و باش اپنا
اب تو قفس میں بھولے نقشہ بھی گلستاں کا

سامان لے چلا ہے اندوہ کا یہیں سے
کیا جانیے ارادہ دل نے کیا کہاں کا

جانا تو ہم نے چھوڑا پر کیا کریں حسن ہاے
چھُٹتا نہیں ہے دل سے ہرگز خیال واں کا

(میر حسنؔ)​

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…