گُل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو عمر گزری ہے سجاتے ہوئے بام و در کو اس تمنا پہ کہ …

گُل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو

عمر گزری ہے سجاتے ہوئے بام و در کو
اس تمنا پہ کہ وہ جانِ بہار آئے گی
فرشِ رہ دیدہ و دل تھے کہ وہ آسودہ خرام
درد کی آگ کو گلزار بنا جائے گی
اس توقع پہ خرابے رہے آغوش کشا
کھل کے برسے گی اگر اب کے گھٹا چھائے گی
ایک اک لمحہ قیامت کی طرح گزرا ہے
آخر کار وہ محبوبِ نظر بھی آئی
منتظر آنکھیں تو پتھرا ہی چکی تھیں لیکن
کشتگانِ شبِ فرقت کی سحر بھی آئی
جسم کیوں شل ہیں دھڑکتے ہوئے دل کیوں چپ ہیں
جرسِ گل کی تو آواز ادھر بھی آئی

آج پھر کرتے ہو کس زعم پہ زخموں کا شمار
سر پھرو! وادی پُر خار میں یہ تو ہو گا
کیوں نگاہوں میں ہے افسردہ چراغوں کا دھُواں
آرزوئے لب و رخسار میں یہ تو ہو گا
ایک سے ایک کڑی منزلِ جاں آئے گی
رہگزارِ طلبِ یار میں یہ تو ہو گا

ہونٹ سِل جائیں مگر جراتِ اظہار رہے
دل کی آواز کو مدھم نہ کرو دیوانو
ڈھل چکی رات تو اب کہر بھی چھٹ جائے گی
اب بھی امید کی لو کم نہ کرو دیوانو
آندھیاں آیا ہی کرتی ہیں ہر اک حبس کے بعد
گل شدہ شمعوں کا ماتم نہ کرو دیوانو

احمد فراز

جواب چھوڑیں