بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں مکمل غز…

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
مکمل غزل
رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں
شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے
کیا کہوں آپ دلِ غیر میں گھر رکھتے ہیں

اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر
دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں

کیسے بے رحم ہیں صیاد، الٰہی توبہ
موسمِ گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں

کون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے
سامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں

دل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے
میرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں

چار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی
وہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں

حالِ دل، یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر
مدعی کان اِدھر اور اُدھر رکھتے ہیں

جلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے
دیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں

عاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ
دل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں

(مادھو رام جوہرؔ فرخ آبادی) ​

جواب چھوڑیں