امت سے پیار: – اعلان حق کے بعد مخالفت کی جو آندھیاں اٹھیں، سازشوں کا جو جال بچھا…

امت سے پیار:

اعلان حق کے بعد مخالفت کی جو آندھیاں اٹھیں، سازشوں کا جو جال بچھایا گیا روشنی کی راہ میں جو دیواریں اٹھائی گئیں، کفر و الحاد کے نمائندگان نے پیغامِ توحید کو جس طرح جھٹلا کر نظام باطل کے تحفظ کا عہد نامہ تحریر کیا وہ راہ حق کے مسافروں کے لئے باعثِ ملال ضرور ہوا لیکن پرچم توحید لہرانے والوں کے قدم مشاہدہ ایمان و ایقان پر آگے ہی بڑھتے گئے، ہر طرف پیغمبرانہ بصیرت کے چراغ روشن تھے، عزم و استقلال کے الفاظ کو نیا مفہوم عطا ہو رہا تھا۔ ایثار و قربانی کی نئی داستان لکھی جا رہی تھی، بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریزی کمال بندگی کی مظہر بھی، لب اقدس پر خدائے وحدہ لاشریک کی حمدو ثنا کے پھول کھل رہے تھے، ساری رات انوار بندگی کے جھرمٹ میں گذر جاتی، پرور دگار عالم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ مشقت دیکھ کر ہدایت آسمانی کی آخری دستاویز میں فرمایا:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُO قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًاO نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًاO أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًاO

(المزمل، 73 : 1 – 4)

اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)o آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)o آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیںo یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریںo

اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راتوں کا جاگنا تو کم کر دیا لیکن امت کی فکر کچھ اس طرح دامن گیر ہوئی کہ سوتے میں بھی امت کا غم لئے رہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میرا مقصد تو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کا بوجھ ہلکا کرنا تھا مگر ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔ لہٰذا تو میرے محبوب کو اس کی امت کی بخشش کا مژدہ جانفزا سنا دے۔

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًاO لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ.

(الفتح، 48 : 1 – 2)

بے شک ہم نے تمہیں کھلی فتح دے دیo تاکہ اللہ تمہارے سبب گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔

حضور ختمی مرتبت اولادِ آدم کے ہی نہیں تمام مخلوقات کے نجات دہندہ بن کر آئے تمام جہانوں کے لئے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے غم میں رات رات بھر جاگتے جب خدائے رحیم و کریم کی طرف سے امت کی بخشش کی بشارت مل گئی تو (اس خیال سے کہ امت اپنے گناہوں کی بخشش پر کما حقہ ہو اپنے رب کا شکر ادا نہ کر پائے گی) راتیں سجدوں کی تابانی سے پھر منور رہنے لگیں صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب تو امت کی بخشش کا سامان بھی ہوگیا اب تو آپ راتوں کو نہ جاگا کریں، ارشاد گرامی ہوا۔

أفلا أکون عبداً شکورا.

(صحيح البخاری، 2 : 716، کتاب التفسير،رقم: 4556)

کیا میں اپنے اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

مگر اللہ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشقت میں پڑنا کیسے پسند آ سکتا ہے۔ چنانچہ فرمایا۔

طهO مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىO

(طٰه، 20 : 1 – 2)

طہ (اے محبوب مکرم) ہم نے آپ پر قرآن ( اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائ-

اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم ❤
اللھم ربّنا آمین…

جواب چھوڑیں