سالار نامہ – آ ل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا 83واں سالانہ کنونشن

شاہتاب خان عباسی

آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے کل مورخہ 16 نو مبر 2015 کو مظفرآباد میں اپنا 83 واں کنونشن منعقد کیا ۔
حسب سابق اس کنونشن میں لوگوں کی خاطر خواہ تعداد موجود رہی تاہم قائدین و مقررین کی کمیابی کا احساس خود سردار عتیق صاحب کو بھی ھوا ھو گا یہی وجہ ھے کہ پروگرام کے اختتام تک سٹیج پر نشستئں خالی رہی ۔
دور دراز سے آئے ھوہے قافلوں کا بذات خود استقبال کرنا اور گاھے گاھے اپنے آخری خطاب ے قبل ہی اسٹیج سے متعدد بار خطاب کرنا اس بات ثبوت ھے کہ سٹیج پر خاطر خواہ قائدین موجود نہ تھے ۔
حریت کانفرنس کے قائدین کی عدم موجودگی بھی سوالیہ نشان ھے۔
پاکستان سے کسی بھی سیاستدان کا موجود نہ ھونا بھی اجنبھے کی بات ھے۔
سٹیج پر بھی نظم و ضبط کا فقدان نظر آیا ۔
تاہم اس کنونش کو ایک اور نظر ے دیکھتے ھیں آزاد کشمیر کے تمام سیاستدانوں اور جماعتوں اور پاکستان میں موجود حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں نے اپنے اپنے طور پر مسلم کانفرنس کو ختم یا غیر فعال کرنے میں کوئی کسر نئیں چھوڑی ،مسلم کانفرنس کے تمام قائدین اڑان بھر چکے بچے کھچے اڑنے کیلیے مناسب وقت کے انتظار میں ھہیں ۔
مجائد اول کا سایہ بھی اٹھ چکا باقی جماعتوں کی نسبت پاکستان میں کوئی خاطر خواہ حمایت موجود نئیں۔
ان حالات میں اس نوعیت کے اجتماع کا انعقاد بہت مشکل کام تھا لیکن بنظر غائر جائزہ لیں تو یہ آزاد کشمیر میں ماضی قریب میں ھوئے تمام اجتماعات سے بڑا اجتماع تھا جس کیلیے کارکنان اور قئدین مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ھو گی کہ سردار عتیق نے اپنی مشہور زمانہ تھیوری ملٹری ڈیموکریسی سے کسی حد تک رجوع کر لیا ھے ۔بدلتے حالات میں ایسا کرنا ضروری بھی تھا اور بدلتے حالات کا ادراک سردار عتیق سے زیادہ کون کر سکتا ھے۔
اس تھیوری کے خلاف مسلم کانفرنس کے اندر سے اٹھنے والی آوازیں خو ش آئیند ہیں جن کا ذکر خود سردار صاحب نے اپنے خطاب میں کیا ۔
گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف سردار صاحب کی آواز دراصل کشمیریوں کی نمائیدہ آواز ھے ۔جموں کشمیر میں انسانی حقوق کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی درست اور بر محل ھے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی خرد برد اور اس کو مہاجرین انکم اسپورٹ پروگرام میں تبدیل کرنے کی بات بھی قابل توجہ ھے ۔
اپنے زمانہ اقتدار میں کوئی 14 اداروں کی جزوی عدم تکمیل کی بات سمجھ نہ آسکی تاہم اداروں کے ہی قیام کو سامنے رکھے تو ہیپلز پارٹی کی آذاد کشمیر میں موجودہ حکومت نے ممکن حد تک نئے کالجز اور یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جو حقیقت ھے، جبکہ سردار صاحب کے زمانہ اقتدار میں چند ھائی اسکولز کو اپ گریڈ کرنے کے سوا اور کوئی خاطر خواہ منصوبے یا ادارے کا قیام نظر نیں آتا ۔
بحثیت مجموعی اس کنونشن کو کامیاب ہی تصور کیا جانا چاہیے تاہم لوگوں کی تعداد سے زیادہ قائدین کی کمیابی قابل توجہ ھے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…